Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir NovelR50700 Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 03)
Rate this Novel
Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 03)
Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir
فرقان صاحب بولے اوہو یہ تو مسئلہ ہو گیا ہے اچھا میں بات کرتا ہوں ایمان سے جا کے۔
جی ٹھیک ہے اور یہ کھانا بھی لے جائیں ایمان کے من پسند کوفتے بناے تھے کہ شاید یہ دیکھ کے ہی موڈ بہتر ہو جائے۔ لیکن اس نے تو کھانے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔
اچھا دے دو میں کھلاتا ہوں اپنی بیٹی کو۔ فرقان صاحب محبت سے بولے۔وہ جانتے تھے کہ ایمان کو جس دن بھی پتا چل گیا وہ کچھ ایسا ہی کرے گی ۔
وہ کھانا لے کے دروازہ کھولنے لگے تو کمرہ اندر سے بند تھا۔ وہ دروازہ کھٹکھٹاتے ہوے بولے ایمان بیٹا اپنے بابا کی بات نہیں سنو گی دروازہ تو کھولو۔
مجھے آپ سے بات نہیں کرنی۔ ایمان بہت زیادہ ناراض تھی.
بیٹا ایک دفعہ اپنے بابا کی بات تو سن لو۔ انہوں نے محبت سے کہا تھا..
ایمان نے روتے ہوے دروازہ کھول دیا۔ اس کی سوجی ہوئی مترم آنکھیں اور سرخ ناک دیکھ کے فرقان صاحب دھک سے رہ گے اور ایمان کو گلے لگاتے ہوئے بولے میرا بچہ بابا سے ناراض ہے۔
با با اب مجھے چھوڑ کر دوبئی کیوں جارہے ہیں؟ آپ جانتے ہیں نہ میں آپ کے بغیر کتنی اکیلی ہو جاؤں گی اور میرا تو آپ کے علاوہ کوئی دوست بھی نہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آئے گا تو میں کس سے پڑھوں گی پلیز آپ نہ جا ئیں نا۔
ایمان روندھے ہوئے لہجے میں بولی تھی..
بیٹا میں کب ہمیشہ کے لئے جا رہا ہوں ہر چھ ماہ بعد مابعد آتا رہوں گا۔
بابا… آپ کے بغیر ایک رات نہیں رہ سکتی آپ 6 مہینے کی بات کر رہے ہیں۔
فرقان صاحب ایمان کو سمجھانا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔
بیٹا میں آپ کے بہتر مستقبل کے لئے باہر جانا چاہتا ہوں۔میں چاہتا ہوں کے میری بیٹی بہت قابل ڈاکٹر بنے اس کے لیے وسائل کی ضرورت ہے اور آپ اب جانتی ہو کہ میری نوکری کا کانٹریکٹ ختم ہونے والا ہے اور پاکستان میں انجینئرز کے لیے نئی نوکری تلاش کرنا کتنا مشکل کام ہے ایسے میں اگر مجھے دبئی میں اچھی جاب کی آفر مل رہی ہے تو اسے ٹھکرانا بے وقوفی ہو گی۔
ایمان کا دل تو نہیں مان رہا تھا پر وہ مزید کوئ بات نہیں کر پائی۔ اور اس واقعے کے دو ہفتے بعد فرقان صاحب دبئی روانہ ہوگئے۔
ان دنوں ایمان نویں جماعت کے طالب علم تھی۔اسے فزکس کے نمیریکل کرنے میں مسئلہ ہوتا تو وہ اپنے بابا کو یاد کرتی اسے روز شام کے وقت اپنے بابا کے ساتھ گزارا جانے والا وقت بھی یاد اتا۔ان دونوں کے معمول تھا کہ اگر بابا جلدی آ جاتے تو وہ پارک میں جاتے جہاں ایمان اپنے بابا کو اپنے سارے دن کی روداد سناتی اور اگر لیٹ ہو جاتے تو چھت پر چہل قدمی کرتے۔ ماما اکثر چڑکر کہتی کی بیٹیوں کو اتنا سر پر نہیں چڑھانا چاہیے انہیں آگلے گھررخصت کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس پر ایمان برے برے منہ بناتی۔شگفتہ بیگم آپ کیوں ہم باپ بیٹی کے پیار سے جلتی ہیں۔اس پر ایمان بابا کے گلے لگتے ہوئے بولتی بابا میں آپ کو کہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گی
سلطان صاحب پیار سے اس کے سر پر چپت لگاتے میری پاگل بیٹی
بابا کے جانے کے بعد ایمان بہت اداس رہتی کھانا بھی شگفتہ بیگم ہونے اسے زبردستی کھلاتیں۔انہی دنوں اشعر جو اپنی ممانی شگفتہ اور مامو ں علی کے بہت قریب تھااور ابھی میٹرک کے امتحانات دے کر فارغ تھا ایمان کے گھر چھٹیاں گزارنے ایا۔
انہی دنوں ایمان جو آٹھویں جماعت کے بوڑد کے امتحان دے کے فارغ تھی بابا کے ساتھ نا ہونے کی وجہ سےبیت اداس رہتی۔ ماما نے بھی اس کا پہلے سے زیادہ خیال رکھنا شروع کر دیا تھا تاکہ اس کا دل بہل جائے
تبھی اشعر اور حرا کی آمد کو انہوں نے غنیمت جانا کہ اب اس کا دل بہل جائے گا۔ اشعر بہت شرارتی تھا اس کے دماغ میں ہر وقت کوی نا کوی کھچڑی بنتی رہتی۔ اور علی جو ایمان سے بس 7 سال ہی بڑا تھا اور اشعر سے 5 سال بڑا تھا اور BBA کے پہلے سمسٹر میں تھا چھٹیوں کی وجہ سے ایمان کے گھر موجود تھا اس کی چھٹیوں میں ابھی مہینہ باقی تھا۔ وہ پہلے دو ماہ گاؤں گزار کے آیا تھا۔ فرقان صاحب جانے سے پہلے اسے گاؤں سے لے اے تھے کیونکہ اسے بھی اپنی بھتیجی سے بہت پیار تھا۔ شروع شروع میں تو ایمان ان کے کسی بھی کھیل میں حصہ نہیں لیتی تھی لیکن اشعر اسے زبردستی ہر کھیل میں دھکیلتا۔ شگفتہ بیگم بھی ایمان کو کہتی رہتی بیٹا جاؤ اپنے چاچو اور اشعر اور حرا کے ساتھ کھیلو۔ حرا اور اشعر اپنی دوستانہ طبیعت کی وجہ سے ایمان سے بہت جلدی دوستی کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ اشعر کو اپنی یہ معصوم اور قدرے بیوقوف کزن سے بہت انسیت محسوس ہوتی۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اشعر کی ہی طرح وہ بھی اپنے بابا کے بہت قریب تھی۔ اور اسے اپنا وقت یاد اجاتا کہ 2 سال پہلے وہ بھی بابا کے کراچی جانے کی وجہ سے اسی طرح اداس تھا وہ صرف 15 دنوں کے لیے گئے تھے لیکن واپسی پہ حادثہ کا شکار ہو کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اور وہ کئی مہینہ گمصم رہا پھر گھر والوں کے بہت خیال رکھنے پر زندگی اور اپنی پڑھائی کی طرف متوجہ ہوا کیونکہ وہ اب اپنے بابا کا اسے ڈاکٹر بنانے کی خواہش پوری کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے وہ جب بھی ایمان کو اداس دیکھتا اس کا دل بہلانے کی کوشش کرتا۔
فرقان صاحب کو دبئی گئے ہوئے 2 ماہ ہونے والے تھے۔ایمان پہلے سے کچھ سنبھل گئی تھی مگر ابھی بھی اپنے بابا کو بہت یاد کرتی۔ اس کا سکول شروع ہونے میں ابھی دو ہفتے باقی تھے اور وہ آج اپنے بابا کو بہت یاد کر رہی تھی کیونکہ اس کی سالگرہ آنے میں محض 3 دن رہ گئے تھے اور وہ اس بات پہ اداس تھی کہ اس دفعہ وہ اپنی سالگرہ اپنے بابا کے ساتھ نہیں منا پائے گی۔ اور اپنے کمرے کے ٹیرس پے بیٹھے رونے میں مشغول تھی۔ تبھی وہاں بغیر آواز کیے اشعر آیا اور اس کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ اووو یہاں تو رونے کا شغل جاری ہے۔ کیوں رو رہی ہو ایمی؟
ایمان اشعر کو اسے روتا ہوا دیکھ کے بوکھلا گئی کیونکہ اسے کسی کے سامنے رونے کی عادت نہیں تھی۔
ویسے ہی اشعر بھائی اس نے انسسو صاف کے تھے..
میں نے آج تک کسی کو بلاوجہ روتے نہیں دیکھا۔ تو تمھارے بھی رونے کی کوئ نا کوئی وجہ تو ہے۔
ماموں کو مس کر رہی ہو؟ اس نے خود ہی اندازہ لگایا تھا.
ایمان جسے اپنی باتیں کسی سے کہنے کی عادت نہیں تھی اس کے صحیح گیس کرنے پر اشعر کو دیکھنے لگی۔
حیران ہو رہی ہو کہ مجھے کیسے پتا چلا؟ اصل میں میں ابھی ممانی کے پاس بیٹھا تھا تو مجھے پتا چلا کہ 4 دن بعد 14جولائ کو تمھاری سالگرہ ہے اور یہاں تمھیں روتے دیکھا تو مجھے سمجھ آگئ کہ تم ماموں کو ہی مس کر رہی ہو گی۔
تم جانتی ہو 2 سال پہلے جب میرے بابا وفات پاے تو میں بھی بہت ٹوٹ گیا تھا کئ مہینے ہر انسان سے دور رہا
کسی چیز میں دلچسپی نہیں لے پاتا تھا پھر ایک دن میں نے بابا کو خواب میں دیکھا۔
وہ بہت دکھی تھے مجھ سے بات بھی نہیں کر رہے تھے میں نے پوچھا تھا ، آپ مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہے۔
ٹیب انہوں نے کہا بیٹا آپ نہیں جانتے میں کیوں ناراض ہوں۔ بیٹا میں تو سمجھتا تھا کہ میرا بیٹا بہت بہادر ہے لیکن تم نے مجھے بہت مایوس کیا۔ میں نے روتے ہوے بولا بابا آپ مجھے کیوں چھوڑ گئے میں بہت اکیلا ہو گیا ہوں۔
اور بابا کہنے لگے بیٹا اللہ تعالیٰ نے میری زندگی اتنی ہی لکھی تھی۔ آپ تو میرے بہت بہادر بیٹے ہو اور مجھے آپ سے بہت امیدیں ہیں کہ آپ میرے بعد سب کا خیال رکھو گے اور میرا آپ کو بہت بڑا ڈاکٹر بننتے دیکھنے کی خواہش پوری کو پورا کرو گئے.. میری دعائیں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں۔
اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئ۔۔ ایمان تم نے دیکھا بابا کو اس دنیا میں نا ہونے کے باوجود میری تکلیف بیچین کرگئی تھی تو تمھارے بابا بھی بیشک تمھارے پاس نہیں ہیں لیکن تمھارے آنسو انہیں وہاں بھی بیچین رکھتے ہو گے وہ وہاں تمھارے بہتر مستقبل کیلئے ہی گے ہیں نا۔ تمھارے پاس تو یہ امید بھی ہے کہ تم ان سے مل سکتی ہو بات کر سکتی ہو میرے پاس تو ایسی کوئ امید بھی نہیں ہے پھر بھی دیکھ و میں نے اس دکھ کو خود پہ سوار نہیں کیا۔ تم بھی بس ہی سوچو کہ تمھارے پاس یہاں سب ہیں ماما چاچو ہ سب ماموں وہاں اکیلے ہیں اور تمھارے بہتر مستقبل کے لیے باہر ہیں پلیز اس طرح رو کے انہیں تکلیف نا دو۔ تمہیں تکلیف میں دیکھ کےماموں جہاں بھی رہیں گے پریشان رہیں گے۔ وہ تمھیں ڈاکٹر بنتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں اپنی پڑھائی پہ توجہ دو۔ یوں بے مقصد زندگی نا گزارو۔
بابا کےجانےکے بعد پہلی دفعہ ایمان خود سے شرمندہ تھی کہ وہ بابا کو مسلسل اپنے رویے سے پریشان کیے ہوئے تھی۔ اکثر ان سے بات کرتے ہوئے رونے لگ جاتی تھی اور انہیں واپس آنے کا کہتی۔ اس کے بعد اکثر ایسا ہوتا کہ جب بھی ایمان پریشان ہوتی اشعر کسی نا کسی طرح اس کی پریشانی دور کر دیتا۔ اور اشعر کی انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ ایمان اب بابا سے نارمل انداز میں بات کرتی لیکن وہ پہلے کی طرح اپنی ہر خوشی تو بابا سے بانٹتی لیکن پریشانی بانٹٹنا کم کر دیا کیونکہ وہ اپنی وجہ سے اپنے بابا کو پریشان نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اس سارے عرصے میں وہ غیر محسوس طریقے سے اشعر کے قریب ہوتی چلی گئی…
_______
ایمان کافی دیر سے ماضی کے خیالات میں مگن تھی۔ اس دوران وہ اپنے فون کی مسلسل بجتی ہوئ گھنٹی بھی نہیں دیکھ پائ۔ اسی وقت کمرے میں فریحہ داخل ہوئ اور اس کو آواز دی ایمی اپنا فون دیکھو کب سے بج رہا ہے پر ایمان کا دھیان ہوتا تو سنتی نا۔ تو مجبوراََ فریحہ کو ایمان کا بازو جھنجھوڑ کر اسے متوجہ کرنا پڑا۔ اور فون اس کے ہاتھ میں تھما کے بولی یار تمھاری ماما کی کب سے کال آ رہی ہے تم کن خیالات میں گم ہو۔ پریشانی میں آنٹی نے مجھے فون کیا کہ بیٹا دیکھو ایمان کہاں ہے کافی دیر سے کال کر رہی ہوں اٹھا ہی نہیں رہی۔
اب اپنے خیالات سے باہر آؤ اور آنٹی کو فون کر کے ان کی پریشانی کم کرو۔۔
ایمان سر پہ ہاتھ مارتے ہوئے بولی یار ماری گئ ماما کی 5 مسڈکالز۔ پہلے نہیں بتا سکتی تھی۔
اچھا جی اب خیالی پلاؤ آپ پکاؤ اور نا بتانے کا الزام میرے سر
اچھا اچھا بعد میں کر لینا میں ماما سے بات کر کے آ تی ہوں۔اور ساتھ ہی ایمان نے شگفتہ بیگم کو کال ملائ متوقع دانت کی امید کرتے ہوئے۔
اسلام علیکم ماما کیسی ہیں؟
وعلیکم اسلام بیٹا میں ٹھیک ہوں اللہ کا شکر۔ بیٹا کہاں تھی میں کافی دیر سے تمہیں کال کر رہی تھی۔
ماما سوری فون سایلنٹ پہ تھا اس لیے دیکھی نہیں آپ کی کال۔
کتنی دفعہ تمہیں سمجھا چکی ہوں کہ فون سایلنٹ پہ مت لگایا کرو۔ لیکن تمھارے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی مجال ہے جو کوئ بات سیدھی طرح مان لو۔
اچھا نا ماما بس آپ مجھے گھر ہوں یا باہر ڈانتتی ہی رہتی ہیں۔ سوری نا اب سے نہیں لگاؤں گی سایلنٹ پہ فون۔ اچھا آپ کیا کر رہی تھیں اور طبیعت ٹھیک ہے آپ کی؟
ایمان بات بدلتے ہوئے بولی۔
ہاں بیٹا اب ٹھیک ہوں ۔ پچھلے دنوں بلڈ پریشر بڑھ گیا تھا۔
ایمان پریشانی سے بولی ماما آپ اپنا بالکل خیال نہیں رکھتی نا
پچھلی دفعہ جب میں گھر آئ تھی تو آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ دوائ وقت پر نہیں لیتی اور ہر وقت سوچ سوچ کے پریشان ہوتی رہتی ہیں۔
بیٹا میں اپنا خیال کیا رکھوں دونوں باپ بیٹی تو مجھے چھوڑ کر اپنے کام دھندوں میں مصروف ہو میری کسے پرواہ۔
ماما اب ایسے تو نا کہیں کہ ہمیں آپ کی پرواہ نہیں۔۔ میں بس اس ہفتے آتی ہوں تو آپ کی ساری شکایتیں دور کر دوں گی۔
شگفتہ بیگم بولیں موبائل سے فرصت ملے گی تو میری شکایتیں دور کریں گی آپ بیٹا جی۔
اچھا نا ماما آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے
او ہاں ایمان بیٹا یاد آیا کہ فریدہ آپا نے حرا کی شادی کی تاریخ طے کرنے کیلئے بلایا ہے اس اتوار کو۔
او واو ماما کتنا مزا اے گا ناں۔ میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی۔ جمع کو آجاؤں گیں گھر پھر اکٹھے چلیں گیں۔ ایمان اور حرا ہم عمر تھیں۔ مزاجوں کے فرق کے باوجود دونوں کی بہت بنتی تھی۔
ماما سے بات کرنے کے بعد ایمان کی ساری غائب دماغی اڑھن چھو ہو گئی۔
کیا ہوا میڈم آپ کے چہرے پہ کچھ دیر پہلے تو باراں بجے ہوئے تھے اب بتیسی ہی نہیں اندر جا رہی۔ فریحہ بولی۔
ہاں یار بات ہی ایسی ہے حرا کی شادی کی تاریخ طہ کرنے بلایا ہے پھپھوفریدہ نے۔ تو اس جمعے کو میں گھر جا رہی ہوں پھر ماما کے ساتھ پھپھو کی طرف جاؤں گی۔
اوہو۔
ماما سے بات کرنے کے بعد ایمان کی ساری غائب دماغی اڑھن چھو ہو گئی۔
کیا ہوا میڈم آپ کے چہرے پہ کچھ دیر پہلے تو باراں بجے ہوئے تھے اب بتیسی ہی نہیں اندر جا رہی۔ فریحہ بولی۔
ہاں یار بات ہی ایسی ہے حرا کی شادی کی تاریخ طہ کرنے بلایا ہے پھپھوفریدہ نے۔ تو اس جمعے کو میں گھر جا رہی ہوں پھر ماما کے ساتھ پھپھو کی طرف جاؤں گی۔
اوہو۔ تو یہ بات ہے؟
کیا مطلب؟ ایمان بولی
بیٹا جی تھوڑی دیر پہلے آپ دکھی روح بنی ہوئ تھیں اب اپنے سسرال جانے کے نام سے ہی بتیسی اندر نہیں جا رہی۔
ایمان جھینپتے ہوئے بولی۔
نہیں یار ایسی کوئ بات نہیں ہے۔ کافی دیر سے سب سے ملاقات نہیں ہوئی نا تو۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ ایمان بات پوری کرتی فریحہ بولی
باقی سب لوگوں سے یا اشعر بھائ سے ملاقات ہوے کافی وقت ہو گیا۔؟ ایمان فریحہ کو اپنے اور اشعر کے بارے میں سب کچھ بتا چکی تھی۔ تب سے وہ اسے جب موقع ملتا تنگ کرتی رہتی تھی۔
یار ایسی کوئ بات نہیں ہے تم تو بال کی کھال ہی ادھیڑ دیتی ہو۔ مجھے کیا پتا وہ وہاں ہو گا یا نہیں۔ میری تو اتنے دنوں سے بات ہی نہیں ہوئ۔
اچھا تو اس لیے مراقبے میں تھی اتنی دیر سے؟ فریحہ اسے تنگ کرتے ہوئے بولی۔
اچھا یار چھوڑو ان باتوں کو کچھ پڑھ لیں۔ پرسوں فزیولجی کا ٹیسٹ ہے اور ابھی تک کچھ خاص پڑھا نہیں ہے۔
بڑا جلدی نہیں خیال آگیا پڑھنے کا؟
یار شکر کرو آ تو گیا نا۔ اب پڑھ لیں تمھاری تو ٹرٹر ہی نہیں بند ہوتی۔ پھر مجھے بابا سے بھی بات کرنی ہے۔
انہیں پڑھتے پڑھتے 3 گھنٹے ہو گئے تھے۔ جب ایمان سر پکڑتے ہوئے بولی یار بس ہو گئی ہے اب تو ۔ سر بھی دکھ رہا ہے اور دیکھو۔ 12 بج گئے ہیں بابا بھی سونے والے ہیں۔ میں نہیں پڑھ رہی اور اب۔
اچھا بہن بہت مہربانی آپ کی اتنا بھی پڑھنے کے لیے۔ میں تو یہ چیپٹر مکمل کر کے سوؤں گی۔مجھ سے نہیں آپ کی طرح آخری دن رٹے مارے جاتے۔
ہاہاہا پھر بھی دیکھ لو نمبر تو تمھارے سے زیادہ ہی آتے ہیں یر دفعہ۔ ایمان اسے زبان چڑاتے ہوئے بولی۔
ہاں اسی بات کا تو رونا ہے آخری دن تک تم نے شور ڈالا ہوتا ہے کچھ نہیں آتا اور نمبر ہمیشہ تمھارے اچھے آ جاتے ہیں۔
اچھا اب جلو تو نہیں نا مہنت کرو مہنت بیٹا۔ میں تو چلی۔
ایمان اسے زبان دیکھاتے ہوئے باہر بھاگ گئی اس سے پہلے اسے فریحہ کا ہاتھ پڑتا۔ اور لان میں جاتے ہی بابا کو نیٹ سے کال ملائ۔
ہیلواسلام علیکم بابا کیسے ہیں؟
فرقان صاحب اپنے مخصوص شفقت بھرے لہجے میں بولے جو ایمان کو ساری پریشانی بھلا دیتا تھا۔۔ میں ٹھیک اللہ کا شکر میرا بیٹا کیسا ہے۔؟
بابا میں بھی ٹھیک الحمدللہ۔ آپ سنائیں کب آ رہے ہیں۔ دو س ہونے والے ہیں آپ کو پاکستان اے ہوئے اور آپ اتنے عرصے سے کہ رہے ہیں کہ جلد آ ئیں گے۔
بیٹا بس اس عید سے پہلے آ جاؤں گا
سیمان خوشی سے اچھلتی ہوئ بولی سچی بابا ؟
جی بیٹا جانی۔ آپ بتائیں آپ کو کچھ چاہیے تو نہیں؟
بابا بس آپ آجائیں اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔
پھر بھی بیٹا۔
بس بابا آپ میرے لیے اچھی سی گھڑی لے آئے گا۔ اور کٹ کیٹ چاکلیٹ۔
ہاہاہا بیٹا میں جانتا ہوں میری بیٹی کو چاکلیٹ کتنی پسند ہے آپ نہ بھی کہتی تو میں لے آتا اور کچھ نہیں بابا بس یہ ہی چیزیں چاہیں۔
اور بیٹا گھر کب جا رہی ہے؟
بابا جمعے کو جاؤں گی۔
اچھا ہے بیٹا میں بھی یہ ہی کہنے والا تھا کہ اس ہفتے آپ لازمی گھر جانا۔ تمھاری ماما تمھاری پھپھو کی طرف جا رہی ہیں آپ بھی سب سے مل لینا ماما کے ساتھ جا کے۔
جی بابا ارادہ تو میرا بھی تھا۔
اوکے بیٹا آپ آ رام کرو پھر بات کریں گے کافی وقت ہو گیا۔
اوکے اللہ حافظ بابا۔ بس آپ اب آنے کی تیاری کریں میں ابھی سے انتظار کر رہی ہوں آپ کا۔
ابھی کال بند ہی ہوئ تھی کہ اشعر کی کال آگئی۔
اسلام علیکم کیسی ہو ایمان؟
میں ٹھیک آپ سنائیں؟
میں بھی ٹھیک بس کافی عرصے بعد رابطہ کیا آپ نے؟
چلو میں نے تو پھر رابطہ کر لیا۔ تمہیں تو ایک میسج کرنے کی بھی فرصت نہیں ملی۔
ایمان بہت کم اشعر سے رابطہ کرتی تھی اشعر اکثر ہی اس بات کی شکایت کرتا اسے زیادہ رابطہ کرنا مناسب نہیں لگتا تھا۔ وہ تو اشعر کے بھی زیادہ رابطہ کرنے کے حق میں نہیں تھی لیکن اسے منع نہیں کرتی تھی کہ کہیں اسے برا نا لگ جائے۔ لیکن وہ ہر دفعہ اشعر کی کال کے بارے میں ماما کو بتا ضرور دیتی تھی۔
ابھی بھی ایمان سے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔ اور جھوٹ بولنے کی اسے عادت نہیں تھی۔ اسلیئے بات ٹالتے ہوئے بولی بس ویسے ہی۔ ماما بتا رہی تھیں کہ اس ہفتے سب لوگ حرا کی تاریخ طہ کرنے کیلئے اکٹھے ہو رہے ہیں۔
اشعر ایمان کی بات کاٹتے ہوئے بولا ہاں میں نے بھی یہ ہی جاننے کیلئے کال کی ہے کہ تم آ رہی ہو کوئ ٹیسٹ تو نہیں؟
نہیں کوئی ٹیسٹ نہیں ہے میں جا رہی ہوں ہوں اس ہفتے گھر۔
اشعر شرارتی آواز میں بولا۔کہو تو ماما سے کہ کے اپنی اور تمھاری بھی نا تاریخ طے کروا لوں۔؟
اگر آپ نے ایسی ہی باتیں کرنی ہی تو میں کال کاٹ رہی ہوں
اچھا نا یار مزاق کر رہا تھا ابھی تم فاینل پراگ دے لو پھر بات کروں گا اس سے پہلے تو ماموں نے ماننا بھی نہیں۔
ایمان اس طرح کی باتیں سن کے بیچین ہو جاتی تھی۔ اب بھی بس “اچھا” ہی بول پای۔
ایک دو اور باتیں کر کے اشعر نے فون بند کر دیا۔وہ اس بات پہ خوش تھا کہ ایمان سے ملاقات ہونے والی ہے۔ وہ ایمان کی محتاط طبیعت سے واقف تھا اسلیے اس کے زیادہ رابطہ نہ کرنے کو زیادہ محسوس نہیں کرتا تھا بس ہلکا پھلکا شکوہ کر دیتا۔ اسے ایمان کی محتاط طبیعت اچھی لگتی تھی۔ کیونکہ وہ زیادہ تر اپنے دوستوں میں موجود رہتا تھا اور ایسے میں اسے خود مناسب نہیں لگتا تھا کہ وہ دوستوں میں ہو اور ایمان سے بات کرے اس لیے وہ ہمیشہ اپنے دوستوں اور ہوسٹل سے دور جا کے ایمان سے بات کرتا۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایمان کسی کے بھی سامنے اس کی وجہ سے شرمندہ ہو۔ اس لیے اس نے اس بات کا ذکر کسی سے بھی نہیں کیا ہوا تھا۔ وہ بس مناسب وقت کا انتظار کر رہا تھا۔ اور اسے پورا یقین تھا کہ ایمان اور اس کے درمیان کوئ رکاوٹ نہیں پیدا ہو گی۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ ہر کام انسان کی سوچ کے مطابق نہیں ہوتا۔ جو کام انسان کو بہت آسان لگ رہا ہوتا۔ وہ اتنا بھی آسان نہیں ہوتا۔
بالآخر ایمان ماما کے ساتھ پھپھو کے گھر پہنچ گئی۔ وہاں پہنچے تو ایمان کی خوشی کا کوئ ٹھکانہ نا رہا جب اس نے وہاں علی چاچو پھپھو غزالا اور ان کی بیٹیاں فاطمہ اور عالیہ بھی موجود تھیں۔ سب سے ملنے کے بعد وہ اپنی دادی کے پاس جا کے بیٹھ گئ۔ بلقیس بیگم اپنی مخصوص کڑک انداز میں بولیں ہاں تے تینوں ٹیم مل گیا ۔ بڈھی دادی نوں ملن دی۔
ایمان جسے پنجابی زیادہ نہیں بولنی آتی تھی لیکن دادی کے سامنے روٹی پوتھی پنجابی میں بات کرنے کی کوشش کرتی تھی۔
