Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir NovelR50700
Last updated: 25 May 2026
Tum Sa Nahi Koi Acha (Last Episode)Part 1,2Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 01)Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 02)Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 03)Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 04)Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 05)Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 06,07)Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 08)Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 09,10)Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 11)Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 12)
Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir
ایمان کی غائب دماغی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فریحہ اپنے ساتھ ایمان کابھی کیک فریج سے نکال کر کھا گئی اور خالی پلیٹ لاکرام ان کے سامنے رکھ دی۔اور بولی ایمان یار کیک کھا لو۔اور زور سے ایمان کا کندہ ہلادیا ۔
ایمان زور سے کندھا ہلائے جانے پر بڑبڑاتے ہوئے غصے سے بولی کیا آفت آگئی ہے کبھی تو تھوڑی دیر سکون سے بیٹھنے دیا کرو۔میں پہلے ہی پریشان ہوں۔
اب اس کی نظر سامنےپڑی خالی پلیٹ پر پڑی تو فریحا کو بولی بھوکڑ میرا کیک کہاں ہے؟
وہ تو میں کھا گئی۔کب سے فریج میں پڑا، کسی کے کھائے جانے کا انتظار کر رہا تھا میں نے سوچا کھاہی لوں یہ نہ ہو ضائع ہو جائے۔ فریحہ نے اطمینان سے بتایا تھا.
بہت کمینی ہو تم ہر دفعہ ایسا ہی کرتی ہو۔ ایمان نے اس کو گھورا تھا.
یار مجھےتمہارا خیال آجاتا ہے کہ کہیں تم کیک کھا کھا کے اورموٹی نا ہو جاو۔ اس نے ہنسی دبائی تھی..
اچھا چھوڑو اس بات کو یہ بتاؤ کہ کس بات پر پریشان ہو اور کیا سوچ رہی ہو اتنی دیر سے ؟
کچھ نہیں یار ویسےہی... میں بس سونے کا سوچ رہی ہوں۔ طبیت عجیب لگ رہی ہے.. ایمان نے بہانہ کیا تھا.
اس سے پہلے کہ فریحا اور کچھ بولتی اس کے موبائیل پر گھر سے فون آیا اور وہ یہ کہتے ہوئے با ہر چلی گئی
مما کا فون ھے سن کے آتی ہوں۔
فریحہ جب کال سن کے واپس آئ تو ایمان بڑبڑا رہی تھی کہ بات سمجھنے کی کوشش کیے بغیر بلاوجہ ناراض ہو گیا ہے.
اب میں کیا کروں اور یہ بات اندر آتی ہو ئ فریحہ نے سن لی کون ناراض ہے؟ اس نے ایمان کو دیکھا تھا جو کہی اور ہی تھی..
اشعر... ایمان ٹرانس میں تھی..
اشعر کون؟ فریحہ حیران تھی..
میرا کزن۔ ایمان ابھی بھی سوچوں میں گم تھی...
اوووو۔۔ فریحہ اونچے نے شرارت سے کہا تھا.
ایمان کو اب ہوش آیا کہ وہ کیا بول گئ ہے۔ اس لئے اس نے ناظرین چرائیں تھیں.
آپ مجھے بتانا پسند کریں گی کہ یہ کیا معاملہ ہے۔شک تو مجھے پہلے سے ہی تھا۔ فریحہ نے آنکھیں مٹکا کر کہا تھا.
کچھ نہیں ہے.. یار کچھ بھی تو نہیں... ایمان کی آواز میں بیزاری تھی.
مجھے ٹالنے کی کوشش نہ کرو میں جانتی ہوں تم پچھلے ایک ہفتے سے پریشان ہو اور جب سے گھر سے آئی ہوئی یونہی کھوئی کھوئی ہو۔ اس شرافت سے بتاؤ کیا بات ہے... فریحہ نے اس کا چہرے دیکھا تھا جو اس کی پریشانی ظاہر کرنے کے لئے کافی تھا.
