The Ice King By Sumyia Baloch Readelle50180 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
“اے بلندیوں کے بادشاہ !!
اے اللہ ! تو ہی انسان کے دلوں کا حال جانتا ہے تو ہی انسان کی ہر غلطی کو معاف کرنے والا میری بھی غلطیوں کو معاف کر دے اے میرے رب مجھے میری فریحہ سے ملا دے مجھے اس کا محرم بننا نصیب فرما اے میرے رب تعالی میرے دل کو شیطان کے شر سے بچانا_ رب پاک!! ہمیں ہمشیہ خوشحال اور آباد رکھنا” آمینوہ آسمان کی بلندیوں کی جانب دیکھتے ہوئے دعا کی صورت میں ہاتھ اٹھائے رب تعالی سے اپنی آن ساری غلطیوں کی معافی مانگ رہا تھا اور فریحہ کی زندگی اور اسکا ساتھ مانگ رہا تھا اور وہ رب تعالی اپنی بندے کو آزمایش دیتا ہے تو اس بندے کی صبر کو دیکھتا بھی ہے اور اس بندے کی آزمایش ختم ہونے کے بعد اسے ایک روشن اور چمکدار دن بھی عطا کرتا ہے وہ رب تعالی_
“یہ پرنس کس کا نام ہے آپ میں سے_ ڈاکٹر ایمرجنسی وارڈ سے نکلتے ہی ان سب کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو ماریانہ جو سامنے کھڑی ڈاکٹر کی بات سن رہی تھی تو اس نے اپنے قدم ہسپتال کے چھوٹے سے مسجد کی جانب بڑھائے اور جاکر اس چھوٹے سے مسجد کے اندر داخل ہو کر سامنے دیکھنے لگی تو فاردان سجدے میں گرا ہوا تھا “بھائی خوشی کی بات ہے فریحہ بھابھی نے ہوش میں آتے ہی پہلا نام آپ کا لیا ہے” جب اس نے نماز ادا کرتے ہی اس نے ادب سے جائے نماز سامنے ٹبیل پر رکھ کر اس کی جانب دیکھا تو ماریانہ نے بھی خوشی سے چور لہجے میں اس سے کہا تو اس کی باتیں سن کر اسکی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگی “کیا تم ٹھیک کہہ رہی ہوں ماریانہ“فاردان نے خوشی سے ماریانہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے گھوماتے ہوئے کہا تو ماریانہ نے ہنستے ہوئے اپنا سر ہاں میں ہلایا خدا کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے تم__ یہ لفظ فاردان کو یاد آتے ہی وہ ایک بار پھر سجدے میں گر کر اللہ کا شکر ادا کرنے لگا
“پرنسس اگر آج تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں جیتے جی مر جاتا“فاردان نے فریحہ کی جانب دیکھا جو آسے حیرت سے دیکھ رہی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کے یہ شخص اب کونسا نیا ڈراما رچا رہا تھا “پہلی بات مسٹر پرنس میرا نام فریحہ ہے پرنسس نہیں سمجھے اور مجھے کچھ ہوتا بھی تو تم کس خوشی میں جیتے جی مرتے ہاں بولوں مجھے مسٹر پرنس” فریحہ اس حالت میں بھی اس سے لڑنے سے باز نہ آئی اور فاردان آسکی چلتی زبان کو حیرت سے دیکھنے لگا اور فاردان کو حیرانی سے فریحہ کی جانب تھکتے ہوئے پاکر ماریانہ ہنسی ضبط کیے باہر کی جانب بڑھ گئی تھی
“میں کسی بھی فریحہ سریحہ کو نہیں جانتا میں صرف اپنی پرنسس کو جانتا ہوں جو کے اس حالت میں میری وجہ سے پہنچی ہے اور رہی بات جیتے جی مرنے کی یہ میرا اور میری پرنسس کا معاملہ ہے“فاردان نے بھی اسی کے انداز میں کہا اور اب حیرانی کی باری فریحہ کی تھی “ایک ۔۔ منٹ۔ منٹ مسٹر پرنس تو پھر یہ تم کب سے پاگلوں کی طرح پرنسس پرنسس کر رہے تھے وہ سب کیا تھا ہاں“فریحہ نے غصے سے فاردان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
“وہ سب میرا محبت بھرا انداز تھا مائے پرنسس“فاردان نے فریحہ کی جانب دیکھتے ہوئے شرارتأ کہا “تم کیا کسی ریاست کے شہزادے ہوں جو اس طرح مجھے بار بار پرنسس کہہ رہے ہو اب تو مجھے بھی فیل ہو رہا ہے کہ میں ایک شہزادی ہوں“فریحہ نے فاردان کی جانب دیکھ کر کہا
“ملکہ ہوں لیکن میرے دل کی اور شہزادہ تو نہیں بہت جلد بادشاہ ضرور بن جاؤ گا کسی ریاست کا“فاردان نے محظوظ کن انداز میں فریحہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا “بڑے آئے خود کو کسی ریاست کا بادشاہ ماننے والے“فریحہ نے اسکا مذاق اڑاتے ہوئے کہا
“آج میں آپکو اتنا خوش دیکھ رہی ہوں جو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا آپکو اتنا خوش ہم نے خیر ہے آج کیا کوئی بڑی محفل جمائی گئی ہے یہاں” آج اس ریاست میں خوشیوں کے موسم کھل اٹھے تھے ہر طرف پھول ہی پھول اور خوشبو ہی خوشبو پھیلی ہوئی تھی اور یہ سب اپنے نئے بادشاہ کی تاج پوشی کے لیے اس ریاست کے لوگوں نے اپنی خوشی کے لیے اتنا خوبصورت اہتمام کیا تھا اور وہ اپنے شاہی کمرے کی بلند کھڑکی کے سامنے کھڑا باہر کا منظر دیکھ رہا تھا اور تبھی اسے اپنے کندھے پر ایک نرم سی چیز محسوس ہوئی تو اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے اسکی ملکہ کھڑی مسکرا رہی تھی
“آج ہمارے لیے اعزاز کا دن ہے ہماری پیاری سی ملکہ ایک آپکو پانے کی اور اس ریاست کے لوگوں کی محبت پانے کی” اس نے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھامتے ہوئے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے اس سے کہا تو وہ اسکی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنی نظریں نیچے جھکا گئی اور اسکی اس حرکت پر وہ جاندار قہقہہ لگا کر سامنے لگے شیشے پر نظر آتے عکس کو دیکھنے لگا “اب اور کتنا مجھے فورمل بننا ہوگا پرنس ایڈورڈ“فریحہ نے شرارت سے اسے ایڈورڈ کہتے ہی اسکی جانب دیکھا جو کے اسکی جانب آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا اور اسے اس طرح اپنی جانب دیکھتے پا کر وہ یکدم سے قہقہہ لگانے لگی اور فاردان کو لگا جیسے اس کے آس پاس روشنی بکھری گئی ہوں کوئی ہنستے ہوئے بھی اتنا خوبصورت لگ سکتا ہے یہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا اور جس فیلڈ میں وہ اس دنیا میں تھا اس فلیڈ میں اس نے خوبصورت اور دلکش لڑکیاں اپنے آس پاس دیکھی تھی مگر اس کی طرح معصومیت اس نے کسی میں نہیں پائی تھی جو پہلی ملاقات میں اس میں فاردان کو دکھائی دی تھی اور وہ جو کیسی بھی احساسات سے کو محسوس نہیں کرتا تھا اور اس ایک لمحے میں اس نے جانا کے عشق ایک ایسی احساس ہے جس سے انسان خود کا بھی نہیں رہتا بلکہ اپنے محبوب کا ہو کر رہ جاتا ہے
کہاں کھو گئے میرے سلطنت کے بادشاہ” آسکے آنکھوں کے سامنے ہاتھوں کو لہراتے ہوئے فریحہ نے معصومیت سے اپنی موٹی آنکھوں کو پھٹپھٹاتے ہوئے کہا اسکے میرے سلطنت کے بادشاہ کہنے پر اس کے لبوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ آ کر ٹہر گیا جیسی پلکیں جھپکائے وہ مہبوت زده رہ کر دیکھنے لگی “اے کہاں کھو گئی میری سلطنت کی ملکہ“فاردان نے اسی کی طرح شرارت سے آنکھیں پھٹپھٹاتے ہوئے کہا تو اس نے گھور کر آسے دیکھا جو کے اسکے اس طرح گھورنے پر قہقہہ لگانے لگا “اگر آپ لوگوں کا یہ میلوں ڈراما ختم ہوگیا ہے تو کیا میں اندر آ سکتی ہوں“وہ دونوں جو ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے کے اس آواز پر ہوش کی دنیا میں آتے ہی ان دونوں نے دروازے کی جانب دیکھا جہاں دروازے کے بیچوں بیچ ماریانہ کھڑی ان دونوں کو اپنی خوبصورت آنکھوں سے شرارتی انداز میں دیکھ رہی تھی “چڑیل تم جب بھی آنا غلط وقت پر ہی آنا تھوڑی دیر بعد نہیں آسکتی تھی تم“فاردان کا سارا موڈ اسکے آنے سے خراب ہوگیا تھا اور ماریانہ کی جانب دیکھ کر اس نے غصے سے کہا “اگر میں تھوڑی دیر بعد آتی تو پھر میں اکیلے نہیں بلکہ بادشاہ سلامت آپ کی اس سلطنت کے لوگوں کے ساتھ یہاں تشریف لاتی“ماریانہ نے سامنے بلند کھڑکی کی جانب اشاره کرتے ہوئے کہا تو ان دونوں نے نیچے بہت سے لوگوں کا ھجوم دیکھا جو کے اس سلطنت کے بادشاہ کے تاج پوشی کے لیے آئے ہوئے تھے “میری پیاری سی چڑیل بہنا تم آئی ہوئی ہوں وہی کافی ہے اب میں خود ہی جا رہا ہوں ورنہ اصل میں یہ پیارے سے لوگ یہاں آ جائے گے اپنے بادشاہ کی دیدار کرنے کے لیے“فاردان نے اپنی شاہی پوشاک کو آئینے میں تنقیدی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا “بھائی یاد ہے ناں کیا کہاں تھا میں نے آگ سے“ماریانہ نے اسے کچھ یاد ڈلاتے ہوئے کہا تو اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا جہاں فریحہ اور ماریانہ کھڑی تھی تو اس نے ماریانہ کی جانب قدم بڑھائے اور جاکر ماریانہ کے سامنے کھڑا ہو کر اسے محظوظ کن انداز میں دیکھنے لگا “چڑیل بہنا ڈرانا اسے جو تم سے ڈرتا ہے میں نہیں سمجھی میری چڑیل بہنا“اس کے گالوں کو کھینچتے ہوئے فاردان نے مسکراتے ہوئے کہا اور بھائی بہن کی محبت کو فریحہ مسکراتے ہوئے دیکھنے لگی “اب تم دونوں یہ بھائی بہن والا ڈراما ختم ہوا ہے تو میں بھی کچھ بولوں“فریحہ نے ان دونوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا “کیوں نہیں بھابھی محترم“ماریانہ نے فریحہ کی جانب دیکھتے ہوئے شرارتی انداز میں کہا تو اس نے چڑ کر اس کی جانب دیکھا “یہ محترم تم نے کس کو کہاں لڑکی” فریحہ نے لڑاکا عورتوں کی طرح ہاتھوں کو نچاتے ہوئے کہا تو فاردان نے اسکے اس روپ کو بڑی محبت سے دیکھا_
“بھابھی محترم آپکو اور کس کو بھائی کیا آپ نے دوسری شادی بھی رچا لی اور مجھے بتایا بھی نہیں یہ ٹھیک نہیں کیا آپ نے“ماریانہ نے بڑے دکھ سے فاردان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا “چڑیل میں نے صرف ایک شادی جیسی غلطی کی ہے اور یہ غلطی بہت ہی زبردست تھی میرے لیے“فریحہ کو اپنی جانب گھورتے ہوئے پاکر آخر میں اس نے سنبھل کر کہا اور اسے پینترا بدلتے دیکھ کر ماریانہ اپنی ضبط سے ہنسی روکتے ہوئے فاردان کی جانب دیکھا جو اسے گھورنے میں مصروف تھا
“بھائی میں تو چلی__”ماریانہ نے دروازے کی جانب مڑتے ہوئے کہا تو فاردان اسکی جانب بڑھ گیا مگر بہت دیر ہوچکی تھی وہ نیچے سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی تھی جہاں بادشاہ کے استقبال کے لیے بہت سے لوگ کھڑے ہوئے تھے
