Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

پرنسس !!
کیوں کیا تم نے ایسا کیوں ” ایک شخص نہایت ہی خوبصورت مورت کے سامنے کھڑا اسے چھو کر جیسے اس مورت کے اندر احساس سے عاری وجود کو محسوس کرنے لگا ہوں مگر وہ احساس سے عاری وجود اسے محسوس کر سکتی تھی دیکھ سکتی تھی مگر اسے چھو نہیں سکتی تھی اسے اس چیز کا اندازہ ہوتا تو وہ کبھی بھی اس شخص سے ضد نہ کرتی اس چیز کے لیے، جو کہ اس شخص کے ساتھ ساتھ اس کے لیے بھی نقصان کا باعث بن چکا تھا پرنسس !یہ دوری تم نے ہی قائم کی ہے تو اب یہ آنسو کیوں
اس مورت کے آنکھوں سے سیل رواں بہتے دیکھ کر وہ کہنے لگا جو کہ اس مورت کی آنکھوں سے بہہ کر پھر سے برف کہ شکل اختیار کرنے لگے تھے
📝📝📝📝📝📝📝📝📝📝📝
شیشے سے ٹکراتے بارش کے پانیوں کو کب سے وہ دیکھ رہی تھی جیسے ان بوندوں میں وہ کسی کو ڈھونڈ رہی ہوں تبھی وہ برش ہاتھ میں پکڑے کینوس تک آئی جب بھی اسے وہ شخص شدت سے یاد آتا تو وہ برش لے کر ایسے ہی رنگوں سے کھیلتی تھی اپنے احساس ان رنگوں میں بھر دیتی تھی
برش کو تھوڑی پر ٹکائے وہ بغور رنگوں سے بھری تصویر کو محبت سے دیکھنے لگی نا جانے یہ تصویر کب مکمل ہو کر اس کے سامنے جیتا جھاکتا کھڑاہوگا ناجانے کب، وہ جب بھی اس تصویر کو دیکھتی تو وہ کتنی دیر تک اس تصویر کو اپنے آنکھوں کے ذریعے دل میں اتار لیتی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موم ، ڈیڈ ،
Where are you
گھر کے چاروں کونے سے یہ آواز گھونجنے لگی یہ آواز اس محل نما گھر کی اکلوتی شہزادی کی تھی جو کب سے ادھر ادھر اپنے موم ، ڈیڈ کو ڈھونڈ رہی تھی لیکن وہ اسے کہیں بھی نظر نہیں آ رہے تھیں آخر تھک ہار کر وہ سامنے پڑے ایک صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی یہ جانے بغیر کہ ملازمہ کب سے اس کے پیچھے بولائی پھر رہی تھی اس کے بیٹھتے ہی اس کے سامنے مینگو شیک پیش کرتے ہوئے کہنے لگی
“بی بی جی آپ کی من پسند مینگو شیک ” ” جینی
وہ جو مڑ کر جانے ہی والی تھی کہ اس کی پکار پر ایک بار پھر رک کر اس کی جانب مڑ کر ناسمجھی سے دیکھنے لگی جو جلدی جلدی شیک پی رہی تھی
“جینی موم ، ڈیڈ کہاں ہے نہیں دکھائی دے رہے ہیں وہ دونوں ” اس نے جینی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا میم !! مسٹر جوزف نے ایک پارٹی ارینج کی ہے میڈم اور سر کے لیے اس لیے وہ وہاں گئے ہیں
جینی نے ادب سے سر جھکائے ہوئے اس سے کہا
“ٹھیک ہے اب تم جاسکتی ہوں ” اس نے جینی کو وہاں سے جانے کی اجازت دی اور خود کچھ سوچتے ہوئے باہر کی جانب بڑھ گئی 💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞 “جینی
سویٹی کہاں ہے نظر نہیں آ رہی ” ازابیلا نے کھانے کی میز پر اسے نہ پاکر جینی سے استفسار کیا تو جینی نے ایک چھوٹی سی کارڈ ان کی جانب بڑھایا “مس ازابیلا میں اس لائف اسٹائل سے تنگ آچکی ہوں ،بےزار ہوچکی ہوں میں آپکی روک ٹوک سے آئے دنوں آپ کے یہ نہ کروں وہ کروں یہ سہی نہیں ہے لوگ کیا کہیں گے یہ ہمارے اسٹینڈرڈ کے خلاف ہے ‘اس لیے میں مس ازابیلا تمہاری اس روک ٹوک سے بہت دور جارہی ہوں جہاں میں ہونگی اور میرے خواب
ازابیلا کے ہاتھوں سے وہ کارڈ پھسل کر نیچے گر گئی تھی وہی ہوا جس کا ازابیلا کو ڈر تھا
⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦
سر !!
آج فائنلی آپکی اس ملک میں اس ڈرامے سیریل کی سوٹنگ کا آخری دن تھا تو آپ نے اس ملک میں آ کر سب سے زیادہ کیا محسوس کیا ہے ” ابھی وہ اس ڈرامے کی شوٹنگ سے فارغ ہوا ہی تھا کہ بہت سارے صحافی اس کا راستے روک کر اس سے مختلف سوال پوچھنے لگے اور وہ نہایت ہی بے زاری سے ان کہ سوالوں کہ جواب دینے لگا ” میں جہاں بھی جاتا ہوں تو مجھے ویسا ہی محسوس ہوتا ہے جو مجھے اپنے ملک میں محسوس ہوتا ہے یہ نئی بات نہیں ہے
تمسخرانہ انداز میں صحافی کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اس شخص نے اپنے سیکرٹری کو اشارہ کیا سیکریٹری نے اس کے اشارے کو سمجھ کر گارڈز کی جانب کچھ اشارہ کیا تو سبھی گارڈز اس کی جانب بڑھ کر گھول دائرے میں کھڑے ہوکر اسے صحافیوں کے بیچ میں سے نکالنے لگے
وہ ایسا ہی تھا مغرور اپنے آپ سے محبت کرنے والا اور دوسروں کو دکھی دیکھ کر خوشی محسوس کرنے والا قسمت کو نا ماننے والا ، اور انتہا کاخودسر ،غصیلا مزاج کا انسان، جو کہ یہ برداشت نہیں کرسکتا تھا کہ اس کے چیزوں کو کوئی اور ہاتھ لگائیں اور اس کے اسی مزاج کی وجہ سے اس فیلڈ میں اسے مغرور مانا جاتا تھا اور اس کے اس ہی عادت کی وجہ سے ہر کوئی اس سے دوری ہی قائم کرنے میں خود کو اس سے محفوظ خیال کرتا تھا

⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩
یار !
کون ہے یہ شخص ؟؟؟
اس نے مہبوت ہو کر میگزین کے پہلے کور پر اس سرد برف جیسے نیلی آنکھوں والے نواجوان کی تصویر کو دیکھ کر پاس بیٹھی اپنی دوست سے پوچھا
کیا !!
تمہیں اس انسان کا پتہ نہیں ہے ” اس کی دوست نے چلاتے ہوئے کہا “پتا تو ہے مجھے کہ یہ کون ہے
اس نے مزے سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
“کیا مطلب تمہیں پتہ تھا تو پھر کیوں پوچھ رہی تھی مجھ سے ” اب کے اس کی دوست نے حیرت سے پوچھا “وہ اس لیے کہ تین سالوں سے اس شخص نے مجھے خوابوں میں بڑا ستایا تھا
اس نے تصویر پر نظریں جمائے ہوئے کہا
“سچ میں یار یہ وہی شخص ہے جس کی تم نے بغیر دیکھے پینٹنگ بنائی تھی ” اس کی دوست نے حیرت سے چلاتے ہوئے اس سے پوچھا “ہاں یار یہ شخص وہی ہے میرے خوابوں کا شہزادہ
وہ چہکتے ہوئے بولی
“وہی مغرور لمبی ناک ، وہی مسکراتے ہوئے ہونٹ لیکن یار اس اسٹائلش گلاسز نے سارا کام بھگاڑ دیا ہے ” اس شخص کی آنکھوں میں خوبصورت گلاسز کو دیکھ کر اس نے اپنی دوست کی جانب دیکھ کر کہا “یہ گلاسز کبھی بھی نہیں اترے گا اس کے آنکھوں سے یار
اس کی دوست نے اس شخص کے بارے میں اسے اور معلومات فراہم کی تو اس نے حیرت سے اس شخص کی تصویر کی جانب دیکھا
وہ کیوں یار ؟؟؟
اس نے پوچھا
“وہ اس لیے یار کہ آج تک پرنس کی آنکھیں کسی نے نہیں دیکھی ہے حتکہ یہ کہ پرنس کی آنکھیں کس رنگ کی ہے یہ بھی کسی کو معلوم نہیں ” اس کی دوست نے کہا “لیکن اب پتہ چل جائے گا کہ اس کی آنکھیں کس رنگ کی ہے
اس نے پر سوچ انداز میں کہا
وہ کیسے یار ؟
اس کی دوست نے پوچھا تو اس نے اپنا سارا پلان اسے بتایا اور اس کی دوست شاک کہ عالم میں اس کی جانب دیکھنے لگی
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
فریحہ!!
میں نے اصل میں یہاں کچھ عجیب و غریب مخلوق دیکھی تھی ” یہ منظر ایک بہت ہی بڑے جنگل کا تھا ہر طرف جنگلی جانوروں کہ رونے کی کرلانے کی اور ہر طرف عجیب و غریب شکل کے درخت ادھر ادھر پھیلے ہوئے تھے اور یہ ڈراونی جگہ کا انتقاب اور کون کرسکتی تھی ہماری علینہ ہی کرسکتی تھی اسے ایسے ہی خوفناک پرسرار جگہوں کا کریز تھا “کہاں یار تم نے عیجب و غریب مخلوق دیکھی ہے
فریحہ ایکسائٹڈ زاده انداز میں ماریانہ کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
یار !!
یہاں میری خوف سے جان جا رہی ہے اور تم مزے سے پوچھ رہی ہوں کہ ” ماریانہ نے جل کر اس سے کہا تبھی سامنے جھاڑیوں میں اچانک سے ہل چل ہونے لگی تو دونوں اس جھاڑیوں کی جانب متوجہ ہو کر دیکھنے لگے تبھی اس جھاڑیوں سے ایک چھوٹا سا عجیب کہنا اس کی خوبصورتی کی توہین ہوگی وہ نہایت ہی خوبصورت چھوٹی سی سفید بلکل کوئی پپی جیسی دکھتی تھی مگر وہ پپی نہیں تھی کیونکہ اس کہ نہایت ہی دو سفید چھوٹے پر بھی تھے جو کہ فریحہ کو بہت ہی زیادہ خوبصورت لگ رہے تھے ہلیو!! چھوٹے سے بیوٹی فیری
فریحہ نے نیچے بیٹھتے ہوئے اس کا کوئی نام سوچتے ہوئے آخر میں اسے اسی نام سے بلا کر کہا
ہہہہ ہہہہم _
فریحہ نے ناسمجھی سے اس کی آواز سنی جو کہ اس کی جانب مصومیت سے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا جیسے کہ اس سے کچھ کہہ رہا ہوں لیکن فریحہ اس کی باتوں کو بےوقوفانہ انداز میں سننے لگی
“تم کچھ کہنا چاہتے ہوں ” فریحہ گھٹنوں کہ بل بیٹھ کر اس سے پوچھنے لگی تو اس نے اڑتے ہوئے پیچھے مڑتے ہوئے فریحہ کی جانب دیکھا اور اسے مخالف سمت اشاره کرتے ہوئے اسے اپنے پیچے آنے کے لیے کہا اور خود مخالف سمت بڑھنے لگا فریحہ !! یہ مجھے کچھ عجیب لگ رہا ہے پلیز چلو یہاں سے چلتے ہے
ماریانہ نے جب فریحہ کو اس کے پیچھے بڑھتے ہوئے دیکھا تو کہہ بغیر نہ رہ سکی
“عجیب یار وہ تمہیں عجیب لگ رہا ہے وہ دیکھوں کتنا کیوٹ ہے اور معصوم بھی ” فریحہ نے ماریانہ کو اس کی جانب متوجہ کیا تو ماریانہ نے اس کی جانب دیکھا تو اسے ایسا لگا کہ وہ اس کی اس حرکت پر مسکرا رہا ہوں یار !! یہ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہا ہے جیسے میں اس کی کوئی بچھڑی ہوئی محبوبہ ہوں
ماریانہ نے اس کی جانب گھورتے ہوئے فریحہ سے کہا
“شاید تمہاری شکل اس کی محبوبہ سے ملتی ہوں اس لیے وہ تمہیں اتنی محبت سے دیکھ رہا ہوں ” زو زو زو _
تبھی اس نے اکتائے ہوئے انداز میں ان دونوں کی جانب دیکھتے ہوئے اپنی زبان میں کہا
یار !! ایک تو اس کی اس زو سوں سے میں بےزار ہوگئی ہوں ” ماریانہ نے بےزاری سے کہا “مجھے لگتا ہے ماریانہ یہ ہمیں کچھ دیکھانا چاہتا ہے
فریحہ نے پرسوچ انداز میں اس چھوٹی سی لیکن نہایت ہی خوبصورت مخلوق کی جانب دیکھ کر ماریانہ سے کہا
“تو چلو دیکھتے ہیں کہ یہ مخلوق ہمیں کیا دیکھانا چاہتا ہے ” ماریانہ اور فریحہ نے اس مخلوق کی پیروی کرتے ہوئے اس کے پیچھے چلنے لگے اور وہ دونوں جب اس جگہ پہنچے تو ان دونوں کے منہ کھولے کے کھولے رہ گئے وہ ایک نہایت ہی خوبصورت جگہ تھی اور حیرت کی بات یہ تھی کہ یہاں دور دور تک برفیلے علاقے نہیں تھے ان کا حیران ہونا بنتا تھا فریحہ شاک کے عالم میں آگے بڑھ کر سامنے سفید روئی کے گالوں کے جیسے برف کو ہاتھوں میں لے کر چھونے لگی اور ماریانہ بھی مبہوت زدہ انداز میں آگے بڑھ کر برف کو اٹھا کر دیکھنے لگی “amazing ” یار میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ایسا خوبصورت منظر
ماریانہ نے فریحہ کی جانب دیکھ کر کہا
“لیکن یار حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہاں دور دور تک ایسے برفیلے علاقے نہیں پائے جاتے تو پھر یہ “فریحہ نے ماریانہ کی جانب دیکھ کر حیرت سے پوچھا یار ! تبھی فریحہ کو سامنے ایک چیز چمکتی ہوئی نظر آئی تو وہ آگے بڑھ کر اس چمکتی ہوئی چیز کی جانب بڑھی اور نیچے بیٹھ کر ہاتھ آگے بڑھا کر اس نے وہ چمکتی چیز اٹھا کر اپنے آنکھوں کے سامنے کیا اور اسے غور سے دیکھنے لگی وہ ایک نہایت ہی خوبصورت لاکٹ تھی بلکل برف جیسی دکھتی تھی اس لاکٹ پر صاف عرف میں لکھا ہوا k نظر آ رہا تھا اور فریحہ کے چھونے سے وہ لاکٹ اور چمکنے لگی “یار یہ کتنا خوبصورت ہے
فریحہ نے ماریانہ کی نظروں کے سامنے وہ لاکٹ لہراتے ہوئے کہا ماریانہ کی آنکھوں میں بھی اس لاکٹ کے لیے پسندگی جھلک رہی تھی
⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩