Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

فریحہ !!
یہ تم کیسے کروں گی ؟؟ میں نے سنا ہے کہ وہ بہت ہی مغرور شخص ہے کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتا ” ماریانہ نے سامنے خوبصورت عمارت کی جانب دیکھ کر فریحہ سے پوچھا جو کہ اس عمارت کی خوبصورتی کو دلچسپی سے دیکھنے میں مصروف تھی یار !! اس عمارت کو دیکھ کر پتہ ہے مجھے کیا فیلنگ محسوس ہو رہا ہے
فریحہ نے مہبوت ہو کر ماریانہ سے کہا
وہ کیا یار ” ماریانہ نے مختصراً اس سے پوچھا وہ یہ کہ میں اس وقت فیری ٹیل میں کھڑی خود کو محسوس کر رہی ہوں بلکل اسی کی طرح یہ پھول ، اور یہ خوبصورت جھیل نما جھڑنا ، اور یہ بطخوں کے جھنڈ ، فریحہ نے خوبصورت سفید رنگوں کی بطخوں کے جھنڈ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا جو کہ اس خوبصورت جھیل کے اندر اٹکھیلیاں کرنے میں مصروف تھے ہاں یار یہ تم نے ٹھیک کہا !! ماریانہ نے بھی اس کی بات پر سامنے دیکھتے ہوئے کہا یہ کیا کر رہی ہوں ؟؟ ماریانہ نے جب اسے مکمل اپنے چہرے کو چھپاتے ہوئے دیکھا تو پوچھ بیٹھی وہ اس سے ایڈونچر!! اس کی آنکھیں ایک دم سے چمکنے لگی تو ماریانہ یہ دیکھ کر ڈھنگ رہ گئی تھی ⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩ پرنس ، پرنس !! ہر طرف اس کا نام گھونج رہا تھا اور وہ بلیک کلر کے جیکٹ میں وائٹ کلر کے جینس میں کتنوں کہ دل ڈھرکا کہ رکھ چکا تھا اور اسی اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ کون اس کہ بارے میں کیا سوچتا ہے وہ اس فیلڈ میں ایسے ہی مغرور کے نام سے جانا نہیں جاتا تھا اس فیلڈ میں رہ کر بھی اس کا آج تلک کوئی افئیر کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا تھا کتنی حسینائیں اسے اپنے زلف کا اسیر کرنے میں ناکام ہو کر مایوس ہوگئی تھیں آج اس ایوارڈ شو پر جب اس کا نام پکارا گیا تو کتنی آوازیں پرجوش ہو کر اس کا نام پکارنے لگی Prince is the emerging star of this field, his dialogue brings a very beautiful and natural feeling to everyone. (پرنس اس میدان کا ابھرتا ہوا ستارہ ہے، اس کا ڈائیلاگ ہر ایک کو نہایت خوبصورت اور فطری احساس ڈلاتا ہے۔) ایک نہایت ہی خوبصورت ہوسٹ اسٹیج پر کھڑی پرنس کی تعریف کر رہی تھی اور پرنس کب سے بےزار اس ہوسٹ کی تعریفیں سن رہا تھا (Prince is one of the brilliant artists, so I want to call prince on stage in all of you.) (پرنس ایک بریلنٹ فنکاروں میں سے ایک ہے سو میں آپ سب کی تالیوں میں پرنس کو اسٹیج پر بولانا چاہتی ہوں) آخر کار پرنس کا انتظار ختم ہوا اور وہ اٹھا اور مغرورانہ چال چلتا اسٹیج کی جانب بڑھا اور جب وہ اسٹیج پر پہنچا ہی تھا کہ وہ خوبصورت سی ہوسٹ خوشی سے اس کی جانب بڑھ کر اسے گلے لگانے کہ لیے آگے بڑھی ہی تھی کہ پرنس نے اپنے ہاتھ سے اس ہوسٹ کو وہی رکھنے کا اشاره کیا اور خود آگے بڑھنے لگا اور یہ دیکھ کر وہ ہوسٹ خوشی سے پاگل ہونے لگی کہ تبھی پرنس نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر اس کی جانب دیکھ کر کچھ اشاره کیا تو اس ہوسٹ نے ناسمجھی سے پرنس کی جانب دیکھا (Can I get a mic) کیا مجھے مائک مل سکتا ہے!! پرنس کی اس بات پر اس ہوسٹ نے منہ بناتے ہوئے پرنس کی جانب مائک بڑھایا اور اس سے دور کھڑی ہوگئی ٹھینکس !! پرنس نے اس ہوسٹ کو ٹھینکس کرتے ہوئے سامنے متوجہ ہو کر سب کو دیکھنے لگا جو کہ کب سے اس کی خوبصورت آواز سننے کے لیے بےتاب تھیں “مسٹر پرنس آپ اس ایوارڈ کو پا کر کیا محسوس کر رہے ہیں
پرنس کی جانب دیکھتے ہوئے اس ہوسٹ نے کہا
“آپ سب لوگوں کو میری بات شاید مذاق لگیں کہ میں بہت ہی اچھا مذاق کرتا ہوں لیکن یہ سچ ہے کہ میں ہر اس ایوارڈ کو پاکر کچھ بھی محسوس نہیں کرتا حتکہ خوشی بھی نہیں ” وہ بےتاثر انداز میں کہتا چلا گیا ،ایک لمحہ کو سب اس کی بات کو مذاق سمجھے لیکن اس کے سنجیده چہرے کی جانب دیکھ کر انہیں یقین آگیا کہ وہ جو بھی کہہ رہا تھا سچ کہہ رہا تھا “اور اب میں یہاں سے اجازت چاہتا ہوں
پرنس یہ کہہ کر اسٹیج سے نیچے اتر کر ہال کے باہر جانے والے راستے کی جانب بڑھ گیا اور اسے وہاں سے اس طرح جاتے دیکھ کر سب لوگوں کے چہرے اتر گئے تھے
⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩
کک۔۔کون ؟؟؟
ہوں تم ۔۔۔۔
وہ جو آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک چلتی طوفانی ہواؤں کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر خوف سے اس نے اپنے قدم پیچھے لیے ہی تھے کہ اس نے جو سامنے دیکھا تو ڈھنگ رہ گیا سامنے ایک شخص بلیک کلر کی لونگ ہوڈی میں اس کی جانب دیکھتے ہی دیکھتے آ کھڑا ہوا تھا
“تمہارا خیر خواه !!
اس شخص نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
“میں نے تمہیں آج پہلی بار دیکھا ہے ” اس نے بنا ڈرے اپنے ہٹ درم انداز میں کہا مجھے پتہ ہے تم اس شخص سے بہت نفرت کرتے ہوں
اور جس شخصیت کی تصویر اس شخص نے آسے دیکھائی تو اسے دیکھ کر آگے بڑھ کہ اس نے وہ تصویر اس شخص سے لے کر دو ٹکروں میں تقسیم کیا
“نفرت سے گہرا رشتہ ہے مجھے اس سے ” اس نے نفرت سے چور لہجے میں اس شخص کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ہاہاہاہاہا!! مجھے ایسے ہی نفرت کا انتظار تھا جس سے وہ شخص تباہ و برباد ہوں
اس شخص نے بے ہنگم قہقہ لگاتے ہوئے اس سے کہا
⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩
کار تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی کہ تبھی کار ایک ہی جھٹکے میں اس سنسان سڑک پر رک گئی اور اندر بیٹھے پرنس نے اس آفات پر اسٹیرنگ وہیل پر بڑی شدت سے ہاتھ مارا ۔اور آس پاس دیکھنے لگا تو کار کے سامنے پانچ افراد پر مشتمل گروپ کو دیکھتے ہوئے وہ سب کچھ سمجھ گیا اور تبھی پرنس کہ چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ چھا گئی ۔۔۔ جیسے دیکھ کر ایک قد و قامت شخص آگے بڑھ کہ اس کی کار کے کھڑکی سے سر اندر ڈال کہ پرنس کی آنکھوں میں آنکھیں گھاڑتے ہوئے کہنے لگا
“تم بلکل بھی نہیں بدلے ہوں وہی چمکتی آنکھیں کسی شکار کو اپنی سامنے دیکھتے ہوئے چمکنا ،وہی مسکراہٹ اپنے دوشمن کہ غصے کو بڑھانے کے لیے تیار ، اور آخر میں وہی کالا چشمہ، درست کہتے ہیں لوگ کہ تم پر یہ بے نیازی کافی جچتا بھی ہے اور یہ مغرورانہ انداز ” اس شخص نے آخر میں خوبصورت مسکراہٹ اچھالتے ہوئے پرنس سے کہا تو آج اتنے برسوں بعد پرنس کہ خوبصورت لبوں سے ایک جاندار خوبصورت قہقہہ نکلا جیسے دیکھ کر وہاں موجود سب لوگ مہبوت رہ گئے تھے “اور تم بھی نہیں بدل سکتے ، وہی فنی باتیں جس سے مجھ جیسا آدم بےزار شخص بھی قہقہہ لگائے بغیر نہ رہ سکے
پرنس نے مسکرا کہ اس شخص کی جانب دیکھا جو کہ اس کی جانب محبت سے دیکھ رہا تھا
“اور یہ فنی بنده کبھی بھی خود بدلنے نہیں دے گا ، ہاں تمہیں ضرور بدل کر رکھ دے گا ” اس شخص نے آخر میں شرارت سے پرنس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو پرنس نے پہلے اسے گھورا پھر مسکراتے ہوئے دیکھ کر اس بغل گیر ہو کر اس سے ملنے لگا “احسان ، تمہاری گلابوں کیسی ہے
پرنس نے کچھ یاد کرتے ہوئے اس سے پوچھا
“مجھے کیا پتہ کیسی ہوگی ” اس شخص نے ناراضگی سے کہا ہاہاہاہاہا!! مطلب ٹھیک نہیں ہے
قہقہہ لگاتے ہوئے پرنس نے کہا تو اچانک سے احسان نے اس کے مضبوط بازوؤں پر پنچ رسید کرتے ہوئے بھاگنے لگا تو وہ بھی اس کے پیچھے آسے بھاگنے کے لیے بھاگنے لگا ہی تھا کہ اچانک سے اسکا سر چکرانے لگا اور اس نے اوپر آسمان کی جانب دیکھا تو اسے لگا کہ سارا آسمان گھول گھول گھومنے لگا ہوں
⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩
یہاں آؤں ۔۔ یہ ہی تمہارا منزل ہے !!
وہ ایک نہایت ہی بلند سفید برفوں سے دھکا دروازے کی شکل کی جانب دیکھ رہا تھا کہ تبھی اس دروازے کے دوسری جانب سے ایک گھمبیر آواز گھونجی تو اس نے ناسمجھی سے اس دروازے کی دوسری جانب دیکھا تو اچانک سے آسمان سے چھوٹے سے شیشے نما برف اس کے اوپر گرنے لگے اور اس نے آسمان کی جانب دیکھنے کی کوشش کی تو اسے ایک دم سے شدید جھٹکا لگا آسمان پر دو چھوٹے نما شخص اس کے اوپر اڑتے ہوئے برف کی برسات کر رہے تھے
“تم بھی ہم جیسے نایاب ہوں بلکہ ہم سے کہیں زیادہ نایاب ہوں تم ” اچانک سے وہ خواب سے جھاگ کہ اپنے آرد گرد دیکھنے لگا تو خود کو اپنے شاندار روم میں پاکر اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھا تو اسے ایسا لگا کہ اس نے ٹھنڈے چیز کو چھو لیا ہوں اور حیرت کی بات یہ تھی کہ اسے بلکل بھی ٹھنڈک محسوس نہیں ہوئی تھی “باہر تو بلکل بھی برفباری نہیں ہو رہی تو یہ سب کیسے
تبھی آسے اپنے روم میں کچھ ہل چل محسوس ہوا تو اس نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے اپنے قدم کھڑکی کی جانب بڑھائے اور ایک ہی جھٹکے سے اس پر گرے پردے ہتائے تو سامنے مکمل اپنے چہرے کو نقاب سے چھپائے ایک لڑکی کھڑی تھی
“اے کون ہوں تم اور یہاں کیا کر رہی ہوں ” پرنس نے آگے بڑھ کہ اس کے چہرے پر ہاتھ رکھا اور اسکا چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے غرا کر اس سے پوچھا تو اس لڑکی نے ڈرتے ہوئے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھول کہ پرنس کی جانب دیکھا تو پرنس نے اس کی خوبصورت غزالی آنکھوں کی جانب دیکھا تو مہبوت رہ گیا اور یہ سوچنے لگا کہ یہ غزالی آنکھیں اس نے آخر کہا دیکھی ہونگی “میں تو آپ کی ایک چھوٹی سی فین ہوں
اس نے اپنی خوبصورت غزالی آنکھوں کو پھٹپھٹاتے ہوئے کہا تو پرنس نے یہ خوبصورت منظر مہبوت ہو کر دیکھا۔۔۔ہیلو کہاں کھو گئے آپ ۔۔۔یو میں آپ سے کہہ رہی ہوں ۔۔۔تبھی پرنس نے ناسمجھی سے دیکھا جو آسے کب سے اشارہ کرتے ہوئے اپنی جانب متوجہ کر رہی تھی
اوہ سوری ۔۔
پرنس نے سوری کرتے ہوئے پھر سے اس کی جانب دیکھا جو کہ اب وہاں سے جانے کے لیے بے تاب تھی
“سنو! تم جو کوئی بھی ہوں ۔۔۔ تمہاری یہ غازالی آنکھیں قیامت ہے۔۔۔۔۔ اور میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں ان پر کوئی شاعری کروں۔۔۔۔۔
دیکھتا رہتا ہوں میں تیری غزالی آنکھیں
دیکھ تو بھی تو ذرا میری سوالی آنکھیں!
چشم آہو سے نہ نرگس سے ہے تشبیہ درست
ہیں مثال آپ ہی وہ اپنی نرالی آنکھیں!
برہمی حسن کو کچھ اور جلا دیتی ہے
وہ جمالی تیرا چہرہ وہ جلالی آنکھیں!
آ کے ہر روز تصور میں بنا جاتی ہے
ایک رنگین سی تصویر خیالی آنکھیں!
خط پڑھے یا نہ پڑھے , آئے نہ آئے وہ شوخ
خارؔ کیوں بھیج نہ دیں دیکھنے والی آنکھیں!
آخر میں پرنس نے شعر پڑھ کہ اس کی جانب دیکھا جو کہ حیرانی سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی اور اسے اس طرح اپنی جانب دیکھتے پاکر اس نے شرارتی انداز میں اس کہ خوبصورت غزالی آنکھوں کی جانب اپنے ہاتھ بڑھائے تو پرنس کی اس حرکت پر اس نے جلدی سے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے سختی سے بھینج لی اور اس کی اس مصومانہ حرکت پر پرنس مسکرا کر رہ گیا!!!!