No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
ششش !!خاموش !!
صمت للحظة ، الآن صوتك مسموع ، وإلا سأعاقبك أسوأ.
ایک دم خاموش اب تمہاری آواز آٸی نہ تو میں اس بھی بری سزا دوں گا تمہیں “ پرنس نے اس سامنے بیٹھتے ہوۓ آتشی ملکہ کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ فریحہ سے کہا تو فریحہ نے آتشی ملکہ کی جانب دیکھا جو کے اب خود کو مکمل سنبھالے غضبناک تیوروں سے ان کی جانب دیکھ رہی تھی فاردان !! پرنس نے مڑتے ہوۓ آتشی ملکہ کی جانب دیکھا جو کے نہایت ہی تیش سے اس کی جانب دیکھنے میں مشغول تھی لن اسمح لك النجاح ”میں تمہیں کامیاب ہونے نہیں دونگی“ یہ کہہ کر آتشی ملکہ وہاں سے غاٸب ہوٸی اور اس کے ساتھ ہی پرنس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا فریحہ جو ناسمجھی سے پرنس کی جانب دیکھ رہی تھی اسے ایک دم سے نیچے بیٹھتے دیکھنے لگی تبھی پرنس اپنے ہوش و حواس کھو کر نیچے گرتا چلا گیا 💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫 ”لیکن مجھے کچھ بھی یاد نہیں “
پرنس نے اپنے ذہن پر زور دیتے ہوٸے کل کے واقعہ کو یاد کرنا چاہا لیکن اسے کچھ بھی یاد نہ آیا تو فریحہ کی جانب دیکھنے لگا
”ایک منٹ – ایک منٹ تم میرا پیچھا کر رہی تھی اس وقت ہاں “ پرنس نے اسکی جانب مشکوک نظروں سے دیکھا ”مم۔۔۔۔ میں کیوں ایسا کروں گی “
فریحہ نے ہٹکتے ہوٸے کہا
”تو پھر تم کیا کر رہی تھی وہاں “ پرنس نے اس سے دوٹوک انداز میں پوچھا “وہ کالے کپڑوں والی لڑکی مجھے گھر سے اغوا کر کے یہاں اس خوفناک جنگل میں لے کر آئی اور تب ہی تھوڑی دیر بعد ویمپائر تم آئے تھے وہاں “
فریحہ کے پھر سے ویمپائر کہنے پر پرنس نے گھور کر اس کی جانب دیکھا تو ڈر کے مارے فریحہ پیچھے کھسکتی ہوئی درخت سے جا کر ٹکرا گئی تھی
آ ۔ہہ۔ہ۔ہ ۔ہ
“سنوں لڑکی !اب اگر تم نے پھر سے ویمپائر لفظ نکالا تو میں سچ میں ویمپائر بن کر تمہارا خون پی جاؤں گا ” پرنس نے دونوں ہاتھوں کو فریحہ کی جانب بڑھاتے ہوئے چیخ کر کہا تو فریحہ ڈر کر اس سے پیچھے ہو کر کھڑی ہوگئی “ننہیں ۔ بولوں گی آپ کو ویمپائر “
فریحہ نے ڈرتے ہوئے پرنس کی جانب دیکھا جو کہ دوبارہ اپنے منہ سے ویمپائر نکال گئی تھی
“پھر ویمپائر ” پرنس نے چلاتے ہوئے کہا “وہ غلطی سے نکل گیا وئمپ اوہ سوری “
اس کے گھور کر دیکھنے سے فریحہ کے منہ سے نکلتے لفظ وہی دم توڑ گئے تھے
“لڑکی بہت شوق ہے نہ تمہیں ویمپائر کے دیدار کا ” پرنس نے آگے بڑھتے ہوئے کہا “نن نہیں مجھے نہیں شوق ویمپائر دیکھنے کا بلکل بھی نہیں“
فریحہ ڈر کے مارے ہٹک کر بولی
“لڑکی تمہیں شوق ہو نہ ہو مجھے تو ہے ویمپائر دیکھنے کا ” کہتے ہی پرنس نے فریحہ کے ہاتھوں کو تھاما اور دوسری سمت بڑھنے لگا اور فریحہ کسی بے جان سی چیز کی طرح پرنس کے ساتھ چلنے لگی ♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️ آ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ “اچھا نہیں کیا تم نے فاردان“
آتشی ملکہ اپنے ہاتھوں کو بلند کر کے چلاتے ہوئے کہنے لگی اور سامنے کھڑے شیطانی طاقت اسے اس طرح چلاتے ہوئے دیکھ کر اس کے سامنے جا کر اپنے ہاتھوں کو اس چہرے پر رکھ کر آنکھیں بند کرکے کچھ پڑھنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے آتشی ملکہ اپنے پہلے روپ میں آگئی تھی
“میری شہزادی جب میں ہو تو تم کیوں پریشان ہو رہی تھی ” شیطان نے آتشی ملکہ کی پیشانی پر اپنے سیاہ ہونٹ رکھ دیئے شیطان کے اس طرح کرنے سے آتشی ملکہ کی آنکھوں کا رنگ بلیو سے سیاہ ہوگیا تھا “اب شہزادی ہم کچھ نہیں کرے گے بلکہ اب ہمارا شیر کرے گا “
شیطان نے آتشی ملکہ کی جانب دیکھا
“تمہیں جو بھی کرنا ہے کروں لیکن وہ فاردان مجھے زندہ چاہیے اس کی موت میرے ہاتھوں لکھی ہے ” آتشی ملکہ کے لہجے میں ایک جنون پناہ تھا ایک آگ بھڑک رہی تھی جیسے وہ سب کچھ ابھی ختم کرنا چاہتی ہوں 😈😈😈😈😈😈😈😈😈😈😈😈😈😈😈 “نہیں مجھے نہیں دیکھنا ویمپائر “
پرنس اسکا ہاتھ تھامے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا اور وہ کب سے اپنا ہاتھ اس سے چھڑانے کی کوشش میں مصروف تھی اور مسلسل مجھے نہیں دیکھنا کی رٹ لگائے جا رہی تھی مگر پرنس اس کی سنے بغیر آگے بڑھ رہا تھا
ڈم۔ڈم ۔ڈم
تبھی زمین شدت سے ہلنے لگی اور وہ دونوں وہی کھڑے ہو گئے تبھی پرنس کو کچھ گڑبڑ محسوس ہوئی تو اس نے فریحہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر آگے بنے عجیب و غریب درخت کے اندر داخل ہو گئے تھے
“یہ ۔۔ یہ کیا تھا ” فریحہ نے ڈرتے ہوئے اس سے پوچھا تو پرنس نے سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا “ویمپائر “
پرنس نے اس کے خوف سے سفید پڑھتے چہرے کی جانب دیکھا تو آگے بڑھ کر اپنے ہاتھ اس کے گال پر رکھے کہنے لگا
“دیکھوں ڈروں نہیں ویمپائر وغیرہ کچھ نہیں ہوتا اور تمہاری طرح مجھے خود نہیں پتہ کہ یہ کیا ہیں ” پرنس نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر نرمی سے اسے سمجھایا “تم سس سچ کہہ رہے ہوں کہ یہ ویمپائر نہیں ہے “
فریحہ کے پوچھنے پر اس نے ہاں میں سر ہلا دیا تو فریحہ نے ایک سکھ کا سانس لیا لیکن یہ سکون صرف ایک لمحے کا تھا جب فریحہ کی نظر سامنے کی جانب گئی تو اسکی چیخ گلے میں پھنس گئی ہوں جیسے پرنس نے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو سامنے ایک ڈائناسور کے قد جنتا قد عجیب و غریب انسان نما درندہ کھڑا ہوا تھا
“اب یہ کونسی نئی نسل کا عجوبہ ہے _”
پرنس نے بے زاری سے فریحہ کی جانب دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
