Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

آقا !!
اگر ہمارا فاردان ” اس عورت نے سامنے تخت پر بیٹھے شخصیت سے کہا جو کے کب سے سوچوں میں الجھے ہوئے تھے انہیں اپنی جانب متوجہ نہ پا کر اس عورت نے اپنے قدم اس شخص کی جانب بڑھائے آقا !! اس عورت نے اس شخص کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرایا ہاں ! آپ نے کچھ کہا ہم سے _ انہوں نے چونکتے ہوئے کہا
” آپ ہمیں یہ بتائیں کہ آپ کیا سوچ رہے تھے جو ہمارا آنا بھی محسوس نہیں کیا آپ نے ” اس عورت نے ان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا “ہم یہ سوچ رہے تھے کہ اگر وہ نایاب چیز اس شیطانی طاقتوں کے ہاتھ لگ گئی تو آپ کو بھی پتہ ہے کہ یہ ہمارے لیے ہی نہیں اس دنیا کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوگا
انہوں نے پریشانی سے اس عورت کی جانب دیکھا
آقا !!
اب ہماری مدد صرف زمین و آسمان کے مالک کرسکتا ہے ، هم دعا کرتے ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے
آمین ” انہوں نے بھی آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے آمین کہا ⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦ “اس سے خوبصورت جگہ میں نے پہلے کبھی بھی نہیں دیکھا
پہاڑوں سے جھڑنا بہتے دیکھ کر اس نے خود سے کہہ کر اپنے قدم آگے بڑھائے اور آگے جا کر رک کر سامنے دیکھنے لگا تو سامنے اس سفید رنگ کے بھیڑیئے کو دیکھ کر وہ اس کی جانب بڑھنے لگا
“کہاں جا رہے ہوں دوست رک جاؤں ” بھیڑیئے کے پیچھے بھاگتے ہوئے وہ اسے آوازیں دینے لگا مگر وہ بھیڑیا آگے ہی بڑھ رہا تھا تو اس نے کچھ سوچ کر اس بھیڑیئے کا پیچھا کیا اور جب وہ بھیڑیا ایک بہت ہی بڑے درخت کے سامنے جا کر رکتا ہے اور وہ بھی اس کے پیچھے رک کر اس کی جانب حیرت سے دکھتا ہے جو کے اب ایک انسانی شکل اختیار کر کے اس کی جانب بڑھنے لگا اور اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر وہ پیچھے ہٹنے ہی لگا تھا کہ وہ مخلوق بلکل اس کے سامنے آ کر احترام سے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اپنے ماتھے سے لگاتے ہوئے کہنے لگا آقا !! “میں اس پل کا کتنے برسوں سے انتظار کر رہا تھا کہ کب آپ میرے سامنے ہونگے اور کب میں آپ کے ان خوبصورت ہاتھوں کو اپنے آنکھوں سے لگاؤں گا
اس نے کہتے ہی اس کے ہاتھوں کو اپنے آنکھوں پر رکھا اور اس کے سامنے نیچے بیٹھ کے احترامن سر جھکائے آہستگی سے وہ ایک الگ زبان میں کچھ کہہ رہا تھا جو کے اس کی سمجھ سے بلکل باہر تھا
آقا !!
یہ وہ نقشہ ہے جہاں آپ اس نایاب چیز تک پہنچ سکتے ہے ” ایک درخت کے سامنے اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا تو اس نے اس درخت کو دیکھا جو کے کافی گھنا درخت تھا جس کی شاخیں نیچے کی جانب جھول رہی تھی یار !! خواب میں وہ بھیڑیا مجھے کچھ دیکھانا چاہتا تھا کچھ ایسا جو کے بہت ہی خاص تھا میرے لیے
اس نے سامنے بیٹھے احسان کو اپنے سب خوابوں کے بارے میں بتایا جو کہ کچھ دنوں سے اسے دکھائی دے رہے تھے جو کہ نہایت عجیب تھے کسی خواب میں وہ بلیک کلر کے شاہی لباس میں ملبوس کسی سے لڑ رہا تھا تو کسی خواب میں وہ ایک چمکتی چیز کو چھونے کی کوشش کر رہا تھا اور سب سے اہم چیز اس لڑکی کا خوابوں میں آنا جو کے اسے کچھ دن پہلے ملی تھی وہ لڑکی ،جیسے دیکھ کر اسے خاصی حیرانگی ہوئی تھی، اور اسے اس قسمت پر یقین آیا جو کہ پہلے خود اس قسمت کا مذاق آڑایا کرتا تھا
“تم نے مجھ سے کہا تھا کہ اس دن میں اچانک سے بہکی بہکی باتیں کرنے لگا تھا ” احسان بھی اس دن کو یاد کرنے لگا
⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦
هل تعتقد أنني ذاهب إلى التخلي!
تم سمجھتے ہوں میں ایسے ہار مان جاؤ گا !
پرنس سر نیچے جھکائے بیٹھا مسلسل یہی دوڑائے جا رہا تھا اور اس سے تھوڑے فاصلے پر کھڑا احسان اسے حیرت سے دیکھنے لگا اس کی حیرانگی بے وجہ نہیں تھی اسے پتہ تھا کہ اسے عربی کا ا ی تک نہیں آتا تو یہ سب ، احسان نے اپنے قدم اس کی جانب بڑھائے اور جاکر اس کے سامنے کھڑا ہوا تبھی اس نے اپنا چہرہ اوپر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا
من أنت؟؟؟
تم کون ہوں ؟؟
احسان نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا
سألت من أنت ؟؟
میں نے پوچھا تم کون ہوں ؟؟
احسان نے اپنے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھا جو کہ ہمشیہ اس سے نرم لہجے میں بات کرتا تھا اور آج اتنے زور سے اور وہ بھی الگ زبان میں بات کر رہا تھا جو کے اس کی سمجھ سے باہر تھا
اچانک سے اس کا چہرہ سفید رنگ میں بدلنے لگا اور یہ دیکھ کر احسان خوف سے پیچھے ہٹنے لگا اور اسے پیچھے ہٹتے دیکھ کر اس نے اپنے قدم آگے ایک چھوٹی سی جھیل کی جانب بڑھائے اور جاکر اس جھیل میں اپنے عکس کو بلیک کلر گلاسز کی قید میں چھپے نیلی آنکھوں سے دیکھنے لگا تبھی اس نے اپنے ہاتھ اس جھیل پر پڑتے اپنے عکس پر رکھے اور اس کے اس طرح کرنے سے وہ جھیل آہستہ آہستہ برف میں بدلنے لگا
یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔۔ نہیں ہوسکتا ” اس منظر کو دیکھتے ہی احسان کو یکدم سے جھٹکا لگا جھٹکا تو پرنس کو بھی لگا تھا یہ سب دیکھتے ہوئے ⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️ یار ! ہم یہاں کیوں آئے ہیں
پرنس جو سامنے نظریں دوڑا رہا تھا اس کی بات سن کر اس کی جانب دیکھنے لگا اور پھر سے اپنی نظریں سامنے اس پہاڑ کی جانب مرکوز کئے دیکھنے لگا
“سچ کا پتہ لگانے ” پہاڑ کی بلندی ناپتے ہوئے اس نے کہا تو احسان نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا جو کہ اب اس پہاڑ کی جانب بڑھ رہا تھا یار ! تم اکیلے کیسے میں بھی تمہارے ساتھ آنا چاہتا ہوں
احسان نے آگے بڑھتے ہوئے کہا تو اس نے رک کر اس کی جانب دیکھا
میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچے میرا یہ راستہ نہایت ہی خاردار اور کانٹوں سے بھرا ہے جیسے میں خود پار کرنا چاہتا ہوں” پرنس نے نہایت ہی دوٹوک انداز میں اسے انکار کرتے ہوئے کہا تو احسان نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگاتے ہوئے کہا یار ! میں تمہیں بہت مس کروں گا
احسان نے الگ ہوتے ہوئے آنسو پونچھ کر کہا
“تو ایسے محبوبہ کی طرح روئے گا تو میں نہیں جا رہا یار ” پرنس نے ہنستے ہوئے کہا تو احسان نے اس کے کندھوں پر ایک دھموکا جھڑ دیا آہ ۔۔۔ یار تمہیں کب عقل آئے گا ، پرنس نے مصنوعی خفگی سے کہا “جب تمہیں آئے گی تب
احسان نے آگے جا کر رکتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر کہا اور آگے کی سمت بھاگ کھڑا ہوا اور پرنس بھی اسے پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے بھاگنے لگا اور آخر تھک ہار کر وہ دونوں وہی نیچے زمین پر گر کر آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے بہت زور سے قہقہہ لگانے لگے