Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

اے شیطانی طاقتیں مجھے اتنا طاقت دے کہ میں اس سے مقابلہ کر سکوں ” اچانک سے سیاه زمین دو حصوں میں تقسیم ہونے لگی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے زمین کے اندر سے بہت بڑا پہاڑ نما برف نکلنے لگا اور سامنے کھڑا ایک نہایت ہی عجیب و غریب شکل والا شخص یہ دیکھ کر شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے اپنے ہاتھ اور بلند کرنے لگا “اے شیطانی طاقتیں مجھے اس بھی زیادہ طاقتور بنا
اچانک سے اس شخص کی آنکھیں سیاه اور نیلی رنگ میں بدلنے لگی اور اس کا جسم بہت زیادہ بڑا ہونے لگا اور اسے دیکھ کر اس کے ساتھی خوفزدگی کہ عالم میں اس سے دور ہونے لگے
“اے شیطانی جناتیں مجھے اتنا طاقت دے کہ میں اسے اپنا غلام بناؤں ” تبھی وہ بلند آواز میں کوئی منتر پڑھنے لگا اور تبھی اس نے ایک شخص کو سامنے کرتے ہوئے کہا “اے شیطانی طاقتیں میں اس انسان کو پیش کرتا هوں آپ کی خدمت میں جو کہ گناہوں میں ہی پلا بڑا تھا
اس شخص نے ایک شخص کو اس مجسمے کہ سامنے کھڑا کرتے ہوئے بلند آواز میں کہا
وہ شخص ساکت سامنے کی جانب دیکھ رہا تھا اگر اسے پتہ ہوتا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے تو وہ خوف کہ مارے بے ہوش پڑا ہوتا مگر وہ اپنے ہوش میں ہوتا تو سمجھتا اسے اس شخص نے اپنی جادو کہ زور پر ہپنوٹائز کر کہ اس کا دماغ اپنے قابو میں کیا تھا اب وہ جو چاہے کرسکتا تھا اس کے ساتھ
“تم وہاں اس دنیا میں جاؤ گے اور اس کو یہاں میرے پاس لے کر آؤں گے ” اس شخص نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کچھ منتر پڑھ کہ آخر میں اس سے کہا جو حکم آقا ! میں ایسا ہی کروں گا
اس شخص کی آنکھیں بلکل سیاہ ہوگئی تھی
شاباش !
میرے شیر اب جاؤں یہاں سے اور اس کو لے کر ہی یہاں آوں گے تم ” اس شخص نے پھر دوڑاتے ہوئے کہا “اہ تو یہ تم ہوں جو میری سلطنت کو بردباد کرنے والے شیطان اب دیکھوں میں تمہاری کیا حالت بناتا ہوں _ ” پرنس عرف فاردان کی آنکھیں کہر سے نیلی اور لہجہ سرد وسپاٹ ہونے لگا جیسے دیکھ کر سامنے کھڑے شخص کے ڈر کے مارے ماتھے سے پیسنہ چھوٹ گیا جیسے دیکھ کر پرنس طنزیہ مسکرانے لگا_ “آتشی ملکہ تم کھڑی کیوں ہوں ختم کروں اس نا ہونے والے بادشاہ کو ۔۔۔ تمہیں کیا لگا فاردان بادشاہ میں تم سے ڈر جاؤ گا یہ میرے جیتے جی ناممکن ہے کے میں ڈروں گا وہ بھی تم جیسے برف زادے سے ۔۔۔۔ ہاہاہاہاہا ” آخر میں مکروہ ہنسی ہنستے ہوئے وہ شاطرانہ انداز میں کہنے لگا “تو فاردان بھائی جان آپ کو کس طرح مارنا پسند ہے جل کر یا جلا کر آہستہ آہستہ اپنے قدم پرنس کی جانب بڑھاتے ہوئے اس نے سامنے کھڑے پرنس سے مخاطب ہوئی مخاطب وہ پرنس سے تھی لیکن دیکھ اس شیطان صفت انسان کو طنزیہ انداز میں رہی تھی
“میری پیاری بہنا مجھے تو برف سے کھیلنا زیادہ پسند ہے چلوں آج کچھ نیا کھیل دیکھنے کو ملے گا مجھے بہنا اسی بہانے “پرنس نے اپنے سامنے کھڑی اپنی اس بہن کی جانب دیکھا جو کے اس مشکل گھڑی میں بھی اس کے ساتھ ہر جگہ موجود تھی
“کیوں ڈئیر شیطان صاحب کیسا لگا ہمارا ڈرامہ ہمیں تو بہت اچھا اور بہت شاندار لگا ” آتشی ملکہ نے شرارتی انداز میں اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا “تم اس نا ہونے والے بادشاہ کی بہن ہوں “اس شیطان شخص نے اپنی آنکھیں حیرت سے پھیلاتے ہوئے کہا اس طرح آنکھیں پھیلاتے ہوئے وہ انتہائی مذائقہ خیز لگ رہا تھا “کیوں کیا تمہیں کوئی شکایت ہے اس بات سے کے میں اس نا ہونے والے بادشاہ کی بہن نکلی ” آتشی ملکہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے اس کی جانب دیکھا جو اب کے دونوں کو اپنی سیاہ آنکھوں سے گھور رہا تھا ” تو چلوں تمہارے پاس صرف آدھا گھنٹہ ہے ہمارا ڈراما سننے کا۔۔۔۔ میری پیاری سی چڑیل بہنا اسے ڈراما میں سناؤ یا تم سناؤ گی ” پرنس نے شیطان سے کہتے ہی آخر میں شرارتی انداز میں آتشی ملکہ کی جانب دیکھ کر پوچھا
“بھائی آپ بلکل بھی نہیں بدلیں گے پہلے بھی چڑیل اب ” آتشی ملکہ نے منہ بناتے ہوئے کہا تو پرنس نے اس کے منہ پھلانے پر ایک زور دار قہقہہ لگایا چلوں بہنا شروع کروں ہم اس مہمان کو اور انتظار کی سولی پر لٹکا نہیں سکتے کیونکہ یہ اچھا سلوک نہیں ہے مہمان کو برا بھی تو لگ سکتا ہے ” پرنس نے آتشی ملکہ سے کہہ کر اس شیطان کی جانب دیکھا جو ان دونوں کو بری طرح سے گھورے جا رہا تھا
⁦⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦
“بھائی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے چلے چل کر بابا جان سے اس بات کا ذکر کرتے ہیں ” اس وقت وہ دونوں کھیل کے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے تبھی فاردان کی جانب دیکھتے ہوئے اس کی بہن نے ڈرتے ہوئے کہا ” میری پیاری بہنا ککچھ نہیں ہوگا میں ہوں ناں پھر ڈر کس بات کی ” ڈر اسے بھی لگ رہا تھا مگر اس کے سامنے ظاہر کئے بنا وہ اسے تسلی دینے لگا کے تبھی انہیں ساتھ والے کمرے سے عجیب سی آوازیں سنائی دینے لگی جیسے سن کر فاردان تو اٹھ کر آہستہ سے ساتھ والے کمرے کی جانب بڑھا اور وہ بھی ڈر کے مارے جلدی سے فاردان کے پیچھے بڑھنے لگی
“ببھائی یہ یہ کس چچ چیز کی آواز تھی ” فاردان کی جانب دیکھتے ہوئے ماریانہ نے ڈرتے ہوئے کہا تو فاردان نے اسکی خوف سے سفید پڑھتی رنگت کی جانب دیکھا
“ماری‌ سویٹی ! بابا نے کیا کہا تھا یاد ہے آپکو کے جب انسان کو ڈر محسوس ہونے لگے تو پہلے وہ کس کو یاد کرنا چاہیے ہمیں ظاہر سی بات ہے ماری ہمیں اپنے اس پاک ذات کو جس کا کوئی شریک نہیں “فاردان نے اپنی چھوٹی بہن کی جانب دیکھتے ہوئے اسے بابا کے کہہ گئے لفظوں کو دھرایا تو اس کی بات کو سن کر وہ بھی پرسکون ہوگئی تھی
“بلکل بھائی ہمیں اس پاک ذات کو یاد کرنا چاہیے وہ پاک ذات ایک سچ ہے اور باقی سب کچھ فانی ہے سب کچھ بھائی انسان آخر یہ کیوں نہیں سمجھتا کے یہ دنیا فانی ہے ایک ناں ایک دن یہ دنیا فنا بھی ہو جائے گی یہ پہاڑ منوں مٹی تلے ڈب جائے گے اور سمندروں کے پانی سوکھ جائے گے انسان بے وقوف ہے ناسمجھ ہے کچھ بھی نہیں سمجھ سکتا یہ سب باتیں وہی انسان سمجھ سکتا ہے جو اس پاک ذات کے قریب ہوں ہے ناں بھائی میں نے ٹھیک کہاں ناں
” اپنی بات پوری کر کے آخر میں اسکی جانب دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا
“مجھے بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کے میری بہن اتنی بڑی ہوگئی ہے اور اتنی اچھی باتیں بھی کرنا جان گئی ہے “فاردان نے کہتے ساتھ ہی آخر میں شرارت سے اسکی جانب دیکھتے ہوئے کہا ” اچھا گھوروں مت اب ہمیں اس کمرے میں اس آواز پتہ بھی لگانا ہے کے کس کی چیز کی آواز ہے آخر یہ ” فاردان نے ایک دم سے سنجیدہ ہوتے ہوئے اس کمرے کی جانب دیکھ کر کہا
“اے شیطانوں کے شیطان مجھے طاقتور سے بھی زیادہ طاقتور بنا
“جب فاردان نے اس کمرے کا دروازه وا کیا تو سامنے ایک شخص سیاہ لباس میں اپنا چہرہ سیاہ کپڑے سے چھپائے عجیب طرح سے آوازیں نکالیں کہہ رہا تھا
“بھائی یہ آواز “ماریانہ نے حیرت سے فاردان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا حیرانگی تو اسے بھی ہوئی اس آواز کو سن کر بے یقینی سے کیفیت میں مبتلا وہ اس شخص کی جانب بڑھا “اتنا بڑا دھوکا کیوں کیا آپ نے یہ سب ہاں بولیں کیوں کیا ” فاردان نے آگے بڑھتے ہوئے اس شخص کے چہرے سے نقاب ہٹاتے ہوئے زور سے چلاتے ہوئے کہا اور وہ شخص جو اپنی آنکھیں بند کیے اپنا پورا جسم ہلائے کوئی منتر پڑھنے میں مصروف تھا فاردان کے نقاب ہٹانے سے جٹ سے اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے اس کی جانب دیکھنے لگا جو کہ دکھ سے اس شخص کی جانب دیکھ رہا تھا اور وہ شخص کوئی اور نہیں انکا اپنا باپ تھا اس ریاست کا بادشاہ جس کی بادشاہت فاردان کے بیسویں سالگرہ کے موقعے پر ختم ہونے والی تھی
ہاہاہاہا !!
اچھا ہوا میرے دونوں بچوں نے اپنے اس شیطان باپ کا شیطانی چہرہ دیکھ لیا اب مجھے کسی کا بھی ڈر نہیں ہے اور تم میرا کچھ بھی نہیں بھگاڑ سکتے ” قہقہہ لگاتے ہوئے آخر میں فاردان کی جانب دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا فاردان نے ان کی آنکھوں کی جانب دیکھا تو اسے وہاں کچھ الگ نظر آ رہا تھا ان آنکھوں میں کسی کا عجیب و غریب چہرہ نظر آ رہا تھا “تم ہمارے بابا نہیں ہوسکتے بلکل بھی نہیں بولوں کہا ہے ہمارے بابا بولوں شیطان انسان ہمیں کیوں بدگمان کرنے کی کوشش کر رہے ہوں ان سے بولوں مردود “فاردان نے غصے سے اس شخص کو پیچھے کی جانب دھکیل کر نفرت سے دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا
ہاہاہاہا !
بہت ہوشیار نکلے تم چھوٹے بادشاہ ہاں میں تم لوگوں کا باپ نہیں ہوں بلکہ اس محل میں جتنے بھی افراد رہتے ہیں ان سب کا سب سے بڑا دشمن ہوں چھوٹے بادشاہ تمہیں وہ نوکر تو یاد ہوگا نا جس کو تمہارے اس نام نہاد باپ نے یہ کہہ کر اس محل سے کیا اس ریاست سے بھی نکلنے کا حکم دیا تھا صرف اس لیے کے اس نوکر نے ایک چھوٹی سی چوری کی تھی ” اس شخص نے نفرت سے فاردان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو فاردان کو وہ نوکر یاد آیا جس نے انکے خاندانی قیمتی پتھر کو چوری کرنے کی کوشش کی تھی اور اسی کوشش میں جب وہ پکڑا گیا تو اسے اس محل سے بھی اور اس ریاست سے بھی نکلنے کا حکم اس ریاست کے بادشاہ نے دیا تھا “تم اسے ایک چھوٹی سی چوری قرار دے رہے ہوں شیطان انسان وہ اس ریاست کا سب سے قیمتی پتھر ہے جس کسی کے بھی ہاتھوں میں بھی گیا وہ قیمتی پتھر تو وہ ایک طاقتور جنگجو بن جائے گا ” فاردان نے نفرت سے اس شخص کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو اس شخص نے اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے ہوئے ماریانہ کو اوپر اٹھایا فاردان کی نظریں جب ماریانہ کی جانب پڑی تو اس نے غصے سے اس شخص کی جانب بڑھتے ہوئے اسے اپنے چھوٹے ہاتھوں سے پیچھے دھکا دیا تو فاردان کے اس طرح کرنے سے وہ شخص سنبھل نہ سکا اور دور جا گرا اور ماریانہ اس شخص کے لگائے گئے آگ پر گر گئی جو اس شخص نے اس گھٹیا کام کے لیے بھڑکایا تھا اور یہ دیکھ کر فاردان چلاتے ہوئے ماریانہ کی جانب بڑھا ہاہاہاہا !! اب یہ لڑکی تمہیں پہچان نہیں پائی گی کیونکہ یہ ایک معمولی آگ پر نہیں بلکہ کالے جادو کے ذریعے بنائی گئی آگ پر گری ہے اب یہ لڑکی اپنی یاداشت کھو چکی ہے جو کہ نا آنے کے لئے ” اس شخص نے مکروہ ہنسی ہنستے ہوئے فاردان کے سامنے کھڑے ہو کر کہا اور اب چھوٹے بادشاہ تمہاری باری ہے یاداشت کھونے کی _ ہاہاہاہا _” آخر میں شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے اس شخص نے فاردان کے ماتھے پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کچھ بربرانے لگا اور اس کے اس طرح کرنے سے فاردان کی آنکھیں بوجھل ہونے لگی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیچے گرتا چلا گیا اور اسے نیچے گرتے ہوئے دیکھ کر اس شخص نے طنزیہ انداز میں کہا چھوٹے بادشاہ اب میری کالی شیطانی طاقت تمہیں ایک ایسے جگہ پر چھوڑ دیں گا جہاں تم صرف اس دنیا کے بادشاہ ہوں گے اور میں تمہارے اس نا ہونے والے ریاست کا بادشاہ ہاہاہاہا ” اس شخص فاردان کو اپنے کالے جادو کے زور پر اٹھاتے ہوئے اس دروازے کی جانب بڑھایا جو فاردان کے آگے بڑھنے سے اور بھی روشن ہونے لگی تھی


“تم آج پھر آئی ہوں مجھے پریشان کرنے میں تمہیں کتنی بار سمجھاؤں کے میں تمہارا بھائی فاردان نہیں ہوں میرا نام پرنس ایڈورڈ ہے تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتا اگر یقین نہیں آتا تو یہ نیوز دیکھو تمہیں سب پتہ چل جائے گا کے میں تمہارا فاردان بھائی نہیں بلکہ پرنس ایڈورڈ ہوں جو کے اس فلم انڈسٹری کا بادشاہ بھی مانا جاتا ہے مجھے ” یہ لندن کا ایک سنسان سڑک تھا جہاں پرنس اپنی کار کے سامنے اس پاگل لڑکی کو آتے ہوئے دیکھ کر کار کا دروازه غصے سے کھولتے ہوئے باہر نکل کر اس پاگل لڑکی کے سامنے کھڑے ہو کر چیخنے والے انداز میں کہنے لگا “آپ میرے بھائی فاردان ہوں اگر آپ کو یقین نہیں آ رہا تو اپنی کلائی پر بنے اس نشان کو دیکھے تو آپکو یقین آ جائے گا کے آپ میرے فاردان بھائی ہی ہے ” اس لڑکی نے اپنی کلائی اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا تو پرنس نے غصے سے سرخ نظریں اس کی کلائی پر جمائی جہاں ایک تاج نما ٹیٹو کا نشان تھا اور وہ ٹیٹو بھی عام ٹیٹو کی طرح نہیں تھی وہ ٹیٹو بلکل مختلف بنی ہوئی تھی تبھی اس لڑکی نے اپنی کلائی پرنس کے ماتھے کی جانب لے جاتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے کچھ پڑھنے لگی اور پرنس پہلے اسے گھوڑنے لگا پھر اسے غور سے دیکھنے لگا اور اسی دیکھا دیکھی میں وہ بے ہوش ہو کر نیچے گرتا چلا گیا
“فاردان بھائی اس سے آپکی یاداشت پھر سے واپس آ جائے گی اور اس شیطان شخص کو یہ بھی اندازہ نہیں کے ہم دونوں معمولی انسان نہیں بلکہ ہم دونوں طاقتور انسان ہے اور اس شیطان کے اس معمولی جادو سے ہم اپنا اصل کھو دے گے یہ سوچ کر اس شیطان نے اپنے لیے ٹھیک نہیں کیا ” پرنس کی پیشانی پر بھکڑتے بالوں کو ہٹاتے ہوئے اس لڑکی نے پرنس کی کلائی کو تھام کر اس نشان کو مسکراتے ہوئے دیکھا اب تمہاری خیر نہیں شیطان شخص اب میرا شیر بھائی اپنے ہوش و حواس میں جو آ چکا ہے اب ہمارے ریاست میں تم جیسے غدار زنده نہیں بچے گے ایک ایک کر ہے ہم بدلہ لیں گے تم سے مردو انسان ایک ایک کر کے بس بھائی جھاگ جائے تو تمہاری خیر نہیں ” اس لڑکی نے کسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جیسے وہ شخص اس کے سامنے کھڑا اسکی باتیں سن رہا ہوں__