Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

“اب یہ کونسی نئی نسل کا عجوبہ ہے ” پرنس نے بے زاری سے فریحہ کی جانب دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا فریحہ کو یکدم سے اپنے پاؤں پر کچھ رینگنتا ہوا محسوس ہوا تو اس نے نیچے دیکھا تو ڈھنگ رہ گئی اپنے پاؤں پر موٹا تازه سانپ دیکھ کر اس کی چیخ نکل گئی اور آسکی چیخ اس عجیب و غریب مخلوق کے کانوں تک بھی پہنچ گئی تھی “پاگل لڑکی متوجہ کر لیا نا اس بلا کو
پرنس نے غراتے ہوئے کہا اور اس کے ہاتھوں کو تھام کر اس درخت سے نکلتے ہی سامنے کی جانب ڈور لگا دی اور اس عجیب و غریب مخلوق کی نظر بھی ان پر پڑ چکی تھی وہ بھی ان لوگوں کے پیچھے بھاگنے لگا
“اب کیا ہوگا ” فریحہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس مخلوق کو اپنی جانب آتے ہوئے دیکھ کر اس نے پرنس سے پوچھا ” یا تو ہم اس عجوبہ کا خوارک بن جائے گے یا پھر کسی اور جانور کا خوراک
وہ پہلے سے ڈری ہوئی تھی پرنس کی اس بات نے اسے اور ڈرایا تبھی پرنس نے سامنے ایک بہت بڑا سا غار دیکھ کر ایک سکھ کا سانس لیتے ہوئے اس غار کی جانب بڑھا
” Thanks God ” فریحہ نے جب خود کو صحیح سلامت دیکھ کر خدا کا شکر کرتے ہوئے پرنس کی جانب دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا “تمہاری وجہ سے میں اس حال میں ہوں لڑکی ، کبھی وہ باجی اور اب یہ عجوبہ
پرنس نے جلتے ہوئے کہا اور جا کر سامنے بہت بڑے سے پتھر پر بیٹھ گیا
⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦
ہاہاہاہاہا !
اب اس چیز سے تم لوگ کیسے بچ سکوں گے ” شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے آتشی ملکہ نے سامنے قد آوار شیشے کی جانب دیکھا جہاں ان دونوں کے عکس نظر آ رہے تھے “آتشی ملکہ یہ تو نہایت ہی خطرناک اور چالاک بادشاہ ہے تم نے دیکھا نہیں اس نے میرے شیر کو کیسے بڑی چالاکی سے ڈاچ دے کر وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور اس چیز کو دیکھتے ہوئے مجھے لگتا ہے وہ آسے بھی بڑی چالاکی سے شکشت دے گا
شیطان نے آتشی ملکہ کی اس خطرناک چیز کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
“یہ نظروں سے چھوٹا دکھائی دیتا ہے مگر ہے انتہائی خطرناک ” آتشی ملکہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے شیطان کی جانب دیکھا ⁦💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀 “کک کیا کر رہے ہوں تم
فریحہ کو نیند میں اپنے اوپر ایک وزنی سی شے محسوس ہوئی تو اس نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے اپنے اوپر جھکے پرنس کو دیکھا
“یہ کیا کر رہے تھے تم ، میری بے خبری کا فائدہ اٹھا رہے تھے ” فریحہ اسے اپنے اوپر سے ہٹانے کی کوششوں میں ہلکان ہو کر آخر میں چیخ اٹھی پر اس پر اسکی چیخوں کا کوئی اثر نہ ہوا وہ اسی طرح اس کے اوپر جھکے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھ رہا تھا “ششش چپ
تبھی پرنس نے اسکے بولتے لبوں پر اپنی انگلی رکھ کر اسے چپ رہنے کو کہا اور پھر خود سامنے دیکھ کر اپنے ہاتھ آہستہ سے اس کے سر کی جانب لے جانے لگا جہاں ایک نہایت ہی خطرناک کالا سانپ پھن پھلائے بیٹھا ہوا تھا اسے پکڑ کر پرنس نے ڈور اچھال کر اس کی جانب دیکھا جو کہ شاک کے عالم میں خود سے ڈور ہوتے سانپ کو دیکھ رہی تھی
“تو کیا کہہ رہی تھی تم کے میں تمہاری بے خبری کا فائدہ اٹھا رہا تھا ” پرنس نے اس کی جانب دیکھا جو کے اب بھی اسی حالت میں سامنے دیکھ رہی تھی “اے لڑکی ” چہرے کے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے اسے اپنی جانب متوجہ کیا تو فریحہ نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا “میں تم سے کچھ کہہ رہا ہوں لڑکی
پرنس نے بےزاری سے اس کی جانب دیکھ کر کہا
اگر اگر وہ سس سانپ مجھے کاٹتا تو _
تو سے آگے وہ نہیں سوچ سکتی تھی پرنس نے آب غور سے اس کی جانب دیکھا جو بری طرح سے کانپ رہی تھی
تو یہ ہوتا کے ایک ناگن نے دوسری ناگن پر حملہ کرتے ہوئے دوسری ناگن کو مار دیا تھا کل اخباروں میں یہی خبر چھپا ہوتا ” پرنس نے اس کے ڈر کو کم کرنے کے لیے مزایا انداز میں کہا کیا تم نے مجھے ناگن کہاں
فریحہ چیختے ہوئے کہنے لگی
“ناگن کو ناگن نہیں کہوں گا تو کیا ایک حیسنہ کہوں گا ” پرنس نے شرارت سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تم ہوگے ناگن تمہارا پورا خاندان ہوگا
فریحہ نے اس کی جانب غصے سے دیکھ کر کہا
کیا میں ناگن ناگ ہی بولتی تو میں کچھ نہیں کہتا تمہیں۔۔۔تم نے تو میری جینڈر ہی بدل دی ” پرنس نے غصے سے اس کی جانب دیکھا تو فریحہ کو جب اپنی بات سمجھ آئی تو اس کی جانب دیکھ کر ہنسنے لگی اور پرنس اپنا سارا غصہ بھولائے اس کی جانب دیکھ کر رہ گیا 💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟 “مجھ سے آب اور چلا نہیں جاسکتا
وہ دونوں برف پر مشکل سے چل پا رہے تھے دونوں کے پاؤں برف کے اندر دھنس رہے تھے مگر وہ دونوں احتیاط سے اپنے پیر برف پر جما رہے تھے کے تبھی پرنس کو اپنی گردن پر کچھ چھبن محسوس ہوئی جیسے پیچھے سے کسی نے اس کی گردن پر سوئی چھبو دی ہوں اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا تو اپنے پیچھے کسی نہ پاکر اپنے ساتھ چلتی فریحہ کی جانب دیکھا جو کے احتیاط سے اپنے قدم آگے بڑھا رہی تھی وہ آہستہ آہستہ سے نیچے بیٹھتا چلا گیا اور تبھی فریحہ کی نظر اس پر پری تو اس نے اس کی جانب بڑھ کر اسے گرنے سے بچانے کی اپنی کوشش مگر وہ اس میں ناکام ہو کر اس کے ساتھ نیچے گرتی چلی گئی
“یہ کک کیا ہو رہا ہے تمہیں تم ٹھیک تو ہوں نا ” فریحہ نے پرنس کا چہرے تھپتھپاتے ہوئے کہا تو پرنس نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا “میری شہزادی تم آگئی مجھے بچانے مجھے یقین تھا کے تم ضرور آؤں گی اپنے شہزادے کو بچانے
پرنس کی بہکی بہکی باتیں سن کر فریحہ پیچھے ہٹنے ہی لگی تھی کے پرنس نے غصے سے اٹھ کر آسے کندھوں سے تھامتے ہوئے غرا کر کہا
“شہزادی ہم یہ راویہ برداشت نہیں کرسکتے ہم تمہاری یہ دوری برداشت نہیں کرسکتے ” پرنس نے کہتے ہی اسے شدت سے اپنے ساتھ لگاتے بازوں کا گیرا تنگ کرتے ہوئے کہنے لگا ” چھوڑو چھوڑو مجھے میں نے کہا چھوڑو مجھے
فریحہ مسلسل اس سے خود کو چھڑا رہی تھی مگر اس کی گرفت سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی
پلیز !!
ہر طرف برف ہی برف پھیلی ہوئی تھی بھاگتے بھاگتے فریحہ نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا جو اس کی طرف بڑھ رہا تھا بھاگتے بھاگتے وہ ایک بہت ہی بڑے برف سے ٹکرا کہ نیچے گر کہ سامنے کھڑے پرنس کو دیکھنے لگی
جانے دوں مجھے ” فریحہ نے روتے ہوئے پرنس سے کہا نہیں ! میں تمہیں خود سے جدا نہیں کرسکتا بلکل بھی نہیں
پرنس کی گھمبیر آواز سے سامنے بنے چھوٹے پہاڑ نما برف نیچے گر گئے تھے اور یہ دیکھ کر وہ فریحہ اور زور سے چلانے لگی
“دیکھوں ڈروں نہیں مجھ سے میں تمہارا کچھ نہیں بیگاڑ سکتا ” پرنس نے ہاتھ آگے بڑھائے ہی تھے کہ یہ دیکھتے ہی وہ فریحہ بے ہوش ہو کر نیچے گرتی چلی گئی اور اس کے ساتھ ہی پرنس بھی ہوش میں آ گیا اس کی سفید رنگ کی آنکھیں آہستہ آہستہ اپنی اصل رنگ میں تبدیل ہونے لگی “یہ کیا ہوا تھا مجھے اور یہ لڑکی بے ہوش کیوں ہے
پرنس نے آگے بڑھ کر فریحہ کا چہرہ تھپتھپایا مگر اس سے فریحہ کو کچھ فرق نہیں پڑا وہ ویسے ہی بےسد پڑی ہوئی تھی
ہاہاہاہاہا ” تبھی پرنس کو اپنے آس پاس ایک جناتی قہقہہ سنائی دینے لگا جیسے کوئی اس کی اس حالت پر مزا لے رہا ہوں پرنس نے اٹھ کر غصے سے آرد گرد دیکھتے ہوئے کہا کون ہوں تم اور ایسے جناتوں کی طرح ہنس کیوں رہے ہوں سامنے آؤں میں کہتا ہوں سامنے آؤں
پرنس نے غراتے ہوئے کہا
“یہ اب ٹھیک نہیں ہوگی ” پرنس کو اپنے پیچھے ایک بیانک اور خوفناک آواز سنائی دی تو پرنس نے مڑ کر پیچھے دیکھا تو ایک چھوٹا سا بونا نما انسان کھڑا شرارت سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا “شہزادے وہ دیکھوں اپنی شہزادی کی جانب
اس بونے نے پرنس کو فریحہ کی جانب متوجہ کیا تو پرنس نے مڑتے ہوئے فریحہ کی جانب دیکھا
یہ کک کیا !!
پرنس نے فریحہ کے جسم کو برف میں بدلتے ہوئے دیکھ کر بہت زور سے چلاتے ہوئے کہا
شہزادے ! یہ تمہاری خود کی غلطی ہے تم جانتے بھی تھے کے اگر تمہاری ان خوبصورت نیلی آنکھوں کی جانب کوئی بھی انسان دیکھتا ہے تو وہ برف کی مورت بن جاتا ہے ” اس بونے نے پرنس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا “روہین بابا یہ میں نے کیا کر دیا
پرنس نے سامنے درخت کی جانب دیکھتے ہوئے اس بونے سے کہا تو وہ بونا پرنس کی جانب حیرت سے دیکھنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس بوڑھے بونے کی آنکھوں میں سے آنسو پھسل کے نیچے برف پر گر ژالہ باری کی شکل اختیار کرنے لگے
فاردان بابا !!
بوڑھے بونے نے آنسوٶں کو صاف کرتے ہوٸے پرنس کی جانب دیکھ کر کہا تو پرنس نے ہاں میں سر ہلاتے ہوٸے ان کو یقین ڈلایا
😉😉😉😉😉😉😉😉😉
اس دن روہین بابا میں اور سارا شہزادی کھیل والے کمرے میں تلوار بازی کھیل رہے تھے کے تبھی سامنے کمرے سے ایک عجیب و غریب آواز سناٸی دینے لگی ہمیں جیسے اس کمرے میں کوٸی کچھ پڑھ رہا ہوں تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہم اور سارا اس کمرے کے اندر گٸے تو وہاں انہیں دیکھ کر ہم دونوں ڈھنگ رہ گٸے
”کون کس کی بات کر رہے ہیں آپ شہزادے “ روہین بونے نے فاردان کی جانب دیکھتے ہوٸے پوچھا نہیں روہین بابا یہ میں وقت آنے پر اس غدار کا چہرہ میں خود ایک بادشاہ کی حیثیت سے سب کے سامنے لاؤں گا لیکن ابھی مجھے اس نایاب چیز کو ڈھونڈنا ہے روہین بابا لیکن پرنس عرف فاردان نے فریحہ کی جانب پریشانی سے دیکھا تو روہین بونے نے پرنس کے پریشان چہرے کی جانب مسکراتے ہوئے دیکھا “آہ تو شہزادے یہ ہماری ملکہ ہے مگر
روہین بونے نے شرارت سے پرنس جانب دیکھتے ہوئے آخر میں مایوسی سے پرنس کی جانب دیکھا
“مگر کیا روہین بابا بولے ” پرنس نے بے چینی سے روہین بونے کی جانب دیکھا “مگر یہ شہزادی کے یہ انسان ہے اور اوپر سے اس حالت میں ہے
مایوسی سے روہین بابا نے پرنس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
“مگر کچھ حل تو ہوسکتا ہے روہین بابا ” پرنس نے روہین بونے کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا “صرف ایک حل ہے شہزادے
روہین بونے نے شرارت سے پرنس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
“وہ کیا روہین بابا جلدے بولیں ” پرنس نے جلدے سے کہا اور اس کے جلد بازی کو دیکھ کر روہین بونا مسکرانے لگا “اس کا حل نکاح ہے شہزادے
روہین بونے نے پرنس کو اپنی جانب متوجہ پاکر کہا