Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

ماریانہ !
اسے ہوش آتے ہی جو شخصیت سامنے کھڑی نظر آئی اسے دیکھ کر اس کے ہونٹوں سے یہ نام ادا ہوا جیسے سن کر سامنے کھڑی شخصیت کی آنکھوں سے سیل رواں بہنے لگا اور اسے روتے ہوئے دیکھ کر وہ جھٹ سے اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کی جانب بڑھا_ “آج کے بعد میں اپنی چھوٹی سی چڑیل بہن کے آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب بھی نہیں آنے دوں گا“فاردان عرف پرنس نے ماریانہ کی آنکھوں سے بہتے عشکوں کو صاف کرتے ہوئے آخر میں شرارت سے اس کی جانب دیکھ کر کہا “بھائی آپ کبھی نہیں بدلیں گے اور نا ہی بدلنا ہے آپکو سمجھے ورنہ میں نا آپکو جلا دوں گی قسم سے“ماریانہ نے اسکے مضبوط بازوؤں پر ایک مکا جھڑتے ہوئے کہا تو اس نے مصنوعی کراہ بڑھتے ہوئے کہا “ہائے میری ظالم چڑیل بہن بہت زور سے مارا تم نے اپنے اس معصوم بھائی کو ” کیا !! “معصوم یہ ہو ہی نہیں سکتا بھائی اس دن جب میں آپ کے اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تو مجھے آپ کے کمرے میں پتہ ہے آپکی بےشرمی کا سامان ملا“ماریانہ نے شرارت سے آنکھیں پھٹپٹھاتے ہوئے پرنس عرف فاردان کی جانب دیکھا جو کے اسکی جانب آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا اور وہ اس طرح ماریانہ کو دیکھتے ہوئے بہت ہی کیوٹ لگ رہا تھا ماریانہ کو تبھی فاردان نے اپنے قدم اس کی جانب بڑھائے
“تم چور بھی ہوں میری چھوٹی سی چڑیل“وہ بھی آخر اس ہی کا بھائی تھا کیسے اپنی حیرت اس پر ظاہر کرنے دیتا بلہ وہ اس نے بھی بلکل ماریانہ کی طرح شرارتی انداز میں اسی چڑیل کہا وہ جانتا تھا کہ ماریانہ چڑیل لفظ سے کتنی چھڑتی ہے
بھائی آپ نے مجھے چڑیل کہاں اب میں آپ کو نہیں چھوڑوں گی اب میں اسکو آپ کے خلاف کر کے رہوں گی دیکھنا آپماریانہ نے چلاتے ہوئے فاردان سے کہا “چڑیل کس کو میرے خلاف کروں گی” صوفے پر بیٹھتے ہوئے مسکرا کر فاردان نے ماریانہ کے غصے سے سرخ پڑتے چہرے کی جانب دیکھ کر پوچھا
“وہی جو آپکی معصومیت کی گواہ جو آپ کے کمرے میں آپکی دیوار پر بہت ہی شان سے آویزاں ہے اور بھائی ویسے آپکی پسند کو داد دینی پڑے گی واللہ کیا قدرت کی حسین شاہکار ہے وہ بھائی” ماریانہ نے فاردان کی جانب دیکھتے ہوئے اس سے کہا چڑیل بہن تم کس شاہکار کی بات کر رہی ہوں میں نہیں سمجھا ایک منٹ تم کہیں اس تصویر کی بات تو نہیں کر رہی چڑیل بہنا فاردان نے چیختے ہوئے کہا تو ماریانہ نے ہنستے ہوئے ہاں میں سر ہلایا_

اور آپ بے فکر رہیں بھائی میں اس شاہکار کو ڈھونڈ کر آپ کے سامنے کھڑی کروں گی انشاء اللہ__” ماریانہ نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا


پرنسس !!
کیوں کیا تم نے ایسا کیوں ” ایک شخص نہایت ہی خوبصورت مورت کے سامنے کھڑا اسے چھو کر جیسے اس مورت کے اندر احساس سے عاری وجود کو محسوس کرنے لگا ہوں مگر وہ احساس سے عاری وجود اسے محسوس کر سکتی تھی دیکھ سکتی تھی مگر اسے چھو نہیں سکتی تھی اسے اس چیز کا اندازہ ہوتا تو وہ کبھی بھی اس شخص سے ضد نہ کرتی اس چیز کے لیے، جو کہ اس شخص کے ساتھ ساتھ اس کے لیے بھی نقصان کا باعث بن چکا تھا پرنسس !یہ دوری تم نے ہی قائم کی ہے تو اب یہ آنسو کیوں
اس مورت کے آنکھوں سے سیل رواں بہتے دیکھ کر وہ کہنے لگا جو کہ اس مورت کی آنکھوں سے بہہ کر پھر سے برف کہ شکل اختیار کرنے لگے تھے
تمہیں پتہ ہے پرنسس جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تو مجھے کیا فیلنگ محسوس ہوئی تھی مجھے ایسا لگا تھا کے مجھے ایک حسین زندگی سے اس پاک ذات نے پھر سے نوازا تم یقین نہیں کروں گی کے مجھ جیسا شخص جو اس عشق کو وقت کا ضائع سمجھتا تھا اور آج دیکھوں وہی شخص محبوب کے سامنے کھڑا اسے اس حالت میں دیکھتے ہوئے تکلیف محسوس کر رہا ہے بے انتہا تکلیف ہو رہی ہے مجھے تمہیں پرنسس اس طرح دیکھتے ہوئے اور میں اس ریاست کا بادشاہ فاردان اور تمہارا پرنس بے بسی سے کھڑے صرف یہ سب دیکھ رہا ہوں” فاردان نے فریحہ کے چہرے کی جانب اپنے ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کا چہرہ چھوتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کرکے جیسے اسے محسوس کرنے لگا اور فاردان کے چھونے سے اس مورت میں کچھ ہل چل ہونے لگی جیسے محسوس کر کے فاردان نے اپنی آنکھیں کھول کر فریحہ کی جانب دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا وہ مورت آہستہ آہستہ سے پگھلنے لگی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ گرنے والے انداز میں اس کے کندھوں سے آ لگی


“تمہیں کیا لگا کے میں سب کچھ بھول چکا ہوں اپنا اصل اپنا نام تک اور اپنی بہن ماریانہ کو بھی تو یہ تمہاری پہلی غلطی اور اس لڑکی کو معمولی تصور کر کے یہ تمہاری دوسری غلطی اور دوسری غلطی میں تمہیں بتاؤں گا کے کس وجہ سے وہ لڑکی خاص ہے اور سب سے آخر میں تمہاری غلطی یہ تھی کے تم ماریانہ کو سہی سے پہچان نہ پائے” فاردان نے اس شیطان کو وہ سب چیزیں کلئیر کرتے ہوئے آخر میں اپنی اور ماریانہ کی یاداشت کیسے آئی یہ راز بھی بتا دیا اس نے اور یہ سب سن کر وہ شیطان حیرت زدہ سا ان کی جانب دیکھنے لگا
“تمہیں کیا لگتا ہے کے میں پھر بھی ہار مان جاؤں گا تم سے نا ہونے والے بادشاہ_ تو یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہے نا کبھی شیطان ہار مانتا ہے اور نا ہی کسی کو جیتنے دیتا ہے“شیطانی مسکراہٹ لبوں پر لاکر اس شیطان نے فاردان کو اوپر کی جانب دیکھنے کا اشارہ کیا تو فاردان کی جب نظریں اوپر اٹھی تو اٹھتی ہی چلی گئی فریحہ کو اوپر آسمان کی بلندیوں پر دیکھ کر اس نے غصے سے اس شیطان کی جانب دیکھا جو مکروہ ہنسی ہنستے ہوئے اسکی جانب دیکھ رہا تھا “یہی ہے نا میری دوسری غلطی نا ہونے والے ریاست کے بادشاہ” فاردان کی جانب دیکھ کر اس شیطان نے فریحہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا تو فاردان نے غصے سے آگے بڑھتے ہوئے اس شیطان کی جانب ایک برف کا طوفان بنایا اور وہ شیطان اس اچانک آفات کے لیے بلکل بھی تیار نہیں تھا
“یہ تمہاری سب سے بڑی غلطی ہے جو تم نے اس کا استعمال کر کے تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے اور اس کا سزا میری طرف سے یہ تھا تمہارے لیے ۔۔۔چچ چچ اب تم پاگلوں کی طرح گلیوں میں بچوں کے چھیڑنے پر ہی گزاروں گے اور میں نے کہا تھا ناں کے دوسری غلطی تم نے اس لڑکی کو معمولی جان کر کی ہے جو کے بلکل بھی معمولی انسان نہیں ہے بلکہ ایک نایاب تحفہ ہے اس ریاست کے لیے اور میرے لیے۔۔۔ یہ وہی نایاب چیز تھی جسکا ہمارے علاؤہ تم جیسے شیطان بھی تلاش کر رہے تھے جو کے آخر کار ہم جیسے نیک فطرت کے ہاتھوں میں آگئی ہے__” فاردان نے اپنے نیلے برف جیسے سرد آنکھوں کو اس شیطان کے آنکھوں سے ٹکراتے ہوئے سرد لہجے میں کہا اور وہ شیطان جو اسکی آنکھوں کو یکدم سے اپنی آنکھوں کی جانب آتے ہوئے دیکھ کر ابھی وہ اپنی آنکھیں بند کر ہی رہا تھا کے اپنے جسم میں جلن محسوس کرتے ہی اپنی آنکھیں پوری طرح سے کھولے فاردان کی جانب دیکھنے لگا اور اس طرح دیکھنے سے وہ برف کے مورت کی صورت اختیار کرنے لگا اور اسکے ساتھ ہی ایک شیطان کا سایہ اس ریاست سے ختم ہونے لگا جس کی وجہ سے ہر طرف سفید رنگ چھا گیا اندھیرا آہستہ آہستہ سے چھٹنے لگا


“فریحہ فریحہ مائے پرنسس پلیز اپنی آنکھیں کھولوں پلیز ورنہ میں مر جاؤں گا اس صدمے سے جان پلیز اپنی آنکھیں کھولوں“فاردان اپنے شاندار کمرے کے جہازی سائز بیڈ کی جانب بڑھتے ہوئے فریحہ کے بے جان وجود کی جانب دیکھتے ہوئے زور سے چلاتے ہوئے کہنے لگا ” بھائی ڈاکٹر نے کہا ہے کے اب دعا ہی فریحہ بھابھی کے لیے دوا کی طرح کام آئیں گی اب ہمیں صرف انکی صحت و تندرستی کے لیے اس باری تعالیٰ سے رجوع کرنا چاہیے“ماریانہ نے اسکے مضبوط کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا “تم ٹھیک کہہ رہی ہوں ماریانہ مجھے اس پاک ذات سے ہی رجوع کرنا چاہیے__”یہ کہہ کر فاردان آٹھ گیا اور وضو کرنے واش روم کی جانب بڑھ گیا اور ماریانہ نے فریحہ کی جانب دیکھا جو بے خبر موت کی وادی کی جانب بڑھ رہی تھی


چھوٹا سی ایپی آپ سب کے لیے میری جانب سے یہ چھوٹا سا تحفہ جشن آزادی کے موقع پر !!! تو کیا فریحہ بچ پائے گی یا پھر موت کی وادی میں چلی جائے گی بتائیں آگے کیا ہونے والا ہے 🤔
آخری قسط انشاء اللہ بہت جلد پوسٹ کروں گی!!!