Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

ماریانہ !!
کہاں ہوں تم دیکھوں مجھے تنگ مت کروں ورنہ میں تم سے ناراض ہو جاؤ گی ” فریحہ اور ماریانہ کو نجانے آج کیا سوجھا تھا کہ رات کے اس پہر گھر سے تھوڑی دور ایک چھوٹی سی جنگل نما پارک میں چہل قدمی کرنے نکل پڑے تھے وہ دونوں اور اس وقت وہاں خوف طاری کر دینے والا سناتا چھایا ہوا تھا ہر طرف کتوں کہ بھونکنے کی آوازیں سنائی دیں رہی تھی اور فریحہ نے اپنی چاروں اطراف میں نظر ڈورائی اور پھر ماریانہ کی جانب دیکھا تو اسی وہاں نہ پاکر وہ خوفزدگی کے عالم میں ماریانہ کو آوازیں دینے لگی “ماریانہ پلیز اب مجھے سچ میں ڈر لگ رہا ہے
فریحہ نے چاروں اطراف میں نظر ڈالی تو اسے لگا کہ سامنے ایک ہیولہ کھڑا اسے گھورنے میں مصروف تھا تو اس نے ڈر کے مارے پیچھے ہٹتے ہوئے ڈور لگانے کی کوشش کی کہ تبھی اس ہیولہ نے بھی حرکت کیا اور اس کے پیچھے بھاگنے لگا اور فریحہ سے جب ڈورنا محال ہوا تو وہ ایک گھنے درخت کے پیچھے چھپ کر گہرے گہرے سانس لینے لگی تھی تبھی اسے اپنے آس پاس قدموں کی آہٹ سی محسوس ہوئی تو اس نے اپنے ہاتھوں کو سختی سے منہ پر رکھ کر اپنے آوازوں کا گلہ گھونٹ کر درخت کے اوپر چڑھنے کی کوشش کرنے لگی مگر یہ اس کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی
“کہاں چھپ رہی ہوں بلبل ” تبھی اسے اپنے پیچھے ایک طنز سے بھرپور آواز سنائی دی تو اس نے ڈرتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسے اپنے بلکل پیچھے کھڑے پایا جس نے مکمل اپنے چہرے کو چھپایا ہوا تھا صرف اس کی چمکتی ہوئی آنکھیں نظر آ رہی تھی “کک۔۔۔۔۔ کون ہوں تم
اس نے ڈر کے مارے ہکلاتے ہوئے اس شخص سے پوچھا
ڈارلنگ تمہاری موت !!
اس شخص نے یہ کہتی ہی اپنے قدم اس کی جانب بڑھائے اور یہ دیکھ کر فریحہ کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکل کر اس پورے جنگل میں پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے فریحہ بے ہوش ہو کر نیچے گرتی چلی گئی اور وہ شخص فریحہ کی جانب دیکھتے ہوئے طنزیہ انداز میں بربراتے ہوئے کہنے لگا
ہاہاہاہا !!
“بس اتنی سی بات پر تم بے ہوش ہوگئی ڈارلنگ ابھی آگے تو بہت بڑا امتحان تمہاری راہوں میں کھڑا تمہارا انتظار کر رہا ہوگا ” قہقہہ لگاتے ہوئے اس شخص نے اس کی جانب دیکھ کر کہا ⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦☠️⁩⁦ “یہ جگہ تمہارے خیال سے اس شوٹنگ کے لیے ٹھیک رہے گا
پرنس نے اس ہرے بھرے جنگلات کی جانب اپنی نظریں گھوماتے ہوئے پروڈیوسر سے کہا تو پروڈیوسر نے چاپلوسانہ انداز میں اس سے کہا
“دیکھوں پرنس یہ لوکیشن اس ملک کی سب سے خوبصورت جگہوں میں سے ایک ہے اور اگر اس فلم کی ایک شوٹنگ بھی ہم نے یہاں کی تو سوچوں ہم کتنے کامیاب ہونگے ” پروڈیوسر نے چاروں اطراف میں نظریں دوڑاتے ہوئے کہا “کامیابی کے لیے مسٹر روبن محنت کرنی پڑتی ہے اور تم اچھے سے جانتے ہوں کہ میں بنا محنت کے کبھی بھی وہ کام نہیں کرتا جس سے بعد میں مجھے کوئی پچھتاوا ہوں مسٹر روبن اگر مجھے تمہارے اندر ایک بھی لالچ کی بات نظر آئی نہ تو سمجھ لینا اس دن تمہارا زاوال میرے ہی ہاتھوں لکھا ہوگا
پرنس نے ٹہر ٹہر کر پروڈیوسر سے کہا اور پھر اپنی نظریں ارد گرد گھوماتے ہوئے اس جنگل کا جائزہ لینے لگا تبھی اسے گھنے درختوں کے سامنے ایک سفید رنگ کی نہایت ہی نایاب نسل کا ولف ڈاگ زخمی حالت میں پڑا درد سے کراہ رہا تھا
“پرنس آگے مت جاؤ وہ ایک جنگلی بھیڑیا ہے کچھ بھی کر سکتا ہے ” پرنس جو بنا ڈرے اس بھیڑیئے کی جانب بڑھ رہا تھا روبن کی اس بات پر غصے سے روبن کو گھورنے لگا تو اسے اپنی جانب گھورتے ہوئے پاکر روبن چپ چاپ کھڑا اسے دیکھنے لگا “تم بے حس لوگوں کی طرح مجھے یہ اس حالت میں نقصان نہیں پہنچا سکتا اور تمہیں میرے ہر معاملات میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے پروڈیوسر ہوں تو پروڈیوسر تک ہی محدود رہوں تم سمجھے
پرنس نے اتنے روڈلی انداز میں کہا کہ روبن ڈھنگ رہ گیا وہ ایسا ہی تھا اپنے معاملے میں کسی کو بولنے کا موقع کبھی بھی نہ دینے والا اور اگر غلطی سے بھی کسی نے اس کے معاملے میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تو وہ شخص اس کی ڈکشنری میں دشمن اؤل کے نام سے جانا جاتا تھا
“دیکھوں میں تمہیں بلکل بھی نقصان نہیں پہنچاؤں گا ” اب وہ بلکل بھی بدلہ ہوا پرنس لگ رہا تھا روبن کو جو کہ کچھ دیر پہلے اس کے ساتھ اتنی سختی سے پیش آ رہا تھا اور اب اس جنگلی جانور کے ساتھ ایسے پیش آ رہا تھا جیسے وہ اسکا کوئی سگا ہوں جسکہ درد سے وہ تکلیف میں مبتلا ہو کر اس کی جانب بڑھ گیا ہوں اور حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ جانور بھی اس کے ساتھ ایسے پیش آ رہا تھا جیسے وہ اسکا کوئی ہمدرد ہوں، پرنس اس بھیڑیئے کہ زخم کا معائنہ جائزہ لینے لگا “اے بے حس انسان کیا مجھے فرسٹ ایڈ باکس مل سکتا ہے یا پھر اسکا انتظام بھی مجھے ہی کرنا ہوگا
پرنس نے روبن کو ایسے کھڑے دیکھ کر طنزیہ انداز میں پوچھا
“ہاں ۔۔۔ ہاں مل سکتا ہے روفی تم ایسے کیوں کھڑے ہو جاؤ فرسٹ ایڈ باکس لے کر آؤ جلدی سے ” روبن نے سارا غصہ روفی پر نکالا اور اسے وہاں سے فرسٹ ایڈ باکس لانے کے لیے کہا تمہیں پتہ ہے یہ جو انسان ہے نا جانوروں کے معاملے میں ہی نہیں انسانوں کے معاملے میں بھی بڑا بے حس بنا پھرتا ہے
پرنس اس بھیڑیئے کی آڑ میں روبن پر واضح طور پر طنز کر گیا اور یہ دیکھ کر روبن کا غصے سے چہرہ سیاہ پڑنے لگا
💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥
“یہ روزانہ کون شیطان میرے خوابوں میں آکر مجھے ڈراتا ہے یار ” ابھی تلک فریحہ اس خواب کے زیر اثر خوفزدہ تھی کل رات اس نے ایک نہایت ہی بھیانک خواب دیکھا تھا اور اب ماریانہ کو ڈرتے ہوئے وہ بھیانک خواب بتانے لگی جسے سن کر ماریانہ بھی خوف سے اس کے ساتھ جھپک کے بیٹھ گئی تھی یار !! مجھے سن کر ڈر لگ رہا ہے اور تم نے وہ خواب
اس سے آگے ماریانہ سے کہا نہ گیا
یار !!
وہ نقاب پوش شخص جو بھی تھا مجھے اس سے بہت ہی ڈر محسوس ہوا تھا، یار اس شخص کی آواز سن کر مجھے ایسا لگا کہ میں نے کسی شیر کی دھاڑ سنی ہوں
اس شخص کی ڈھار نما آواز ابھی تلک فریحہ کے کانوں میں گونج رہی تھی
یار !
اب مجھے پکا یقین ہوگیا ہے کہ یہ ہو نہ ہو پرنس ہوسکتا ہے اسے ہی تو تم دن رات اچھے نہیں تو برے انداز میں سوچتی رہتی تھی تم اسی وجہ سے وہ تمہارے خوابوں میں آکر تمہیں ڈراتا ہے اور ساتھ میں مجھے بھی ” ماریانہ نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦ کون ہوں تم اور یہاں کیا کر رہی ہوں ؟؟ پرنس جو ابھی اپنے اپارٹمنٹ میں داخل ہوا ہی تھا کہ سامنے کھڑے نفوس پر نظر پڑتے ہی پہلے تو اسے اس لڑکی کے عجیب و غریب حلیے پر حیرت بھری نظر ڈالی جو کہ بہت بڑی بلیک کلر کی فراک جو کے اس پاؤں تک آ رہی تھی اور سب سے عجیب بات اس کی آنکھیں تھی جو کہ بلکل آگ کی طرح لگ رہی تھی پرنس کو، تبھی اس لڑکی نے اپنے قدم پرنس کی جانب بڑھائے “حیرت انگیز بات ہے یہ کے تم مجھے نہیں پہچانے
اس لڑکی نے اپنے ہاتھوں کو گھول گھوماتے ہوئے ایک آگ کا گولا بنا کر پرنس کی جانب پھینکتے ہوئے کہا
“یہ کیا کر رہی ہوں لڑکی مار ڈالوں گی کیا مجھے اس بھری جوانی میں ” پرنس نے صوفے کے پیچھے جمپ لگاتے ہوئے اس سے پوچھا “یاداشت چلے جانے کے باوجود بھی تم ویسے ہی طاقتور ہوں بادشاہ
اس لڑکی نے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا
اب یہ بادشاہ کون ہے _ میں تو ایک بادشاہ کو جانتا ہوں ، اور وہ میں فلم انڈسٹری کا ہوں ” پرنس نے ہنستے ہوئے کہا تو اس لڑکی نے غصے سے پرنس پر ایک اور وار کیا اب کے اس کا یہ وار خالی نہ گیا، پرنس کے بازوؤں سے چھو کر وہ آگ کا گولا پیچھے دیوار سے ٹکرایا پرنس درد سے کراہتے ہوئے نیچے بیٹھتا چلا گیا اور تبھی ایک شخص پرنس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے پرنس کا چہرہ اوپر اٹھائے کچھ پڑھ کر پرنس کے چہرے پر پھونک مار کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہنے لگا بولوں تم کون ہوں ؟؟ اور تمہارا نام کیا ہے
اس شخص نے پرنس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا پرنس ہیپنوٹائز ہو کر اس شخص کی آنکھوں میں دیکھنے لگا
میں ایک عام سا انسان ہوں ، اور میرا نام پرنس ہے ” پرنس نے سب کچھ اس شخص کے گوش گزار کیا تو اس شخص نے حیرت سے اس لڑکی کی جانب دیکھا “یہ نہیں ہوسکتا ، یہ بلکل اسی کی طرح دکھائی دیتا ہے اور میرا یہ جادو ہر طاقتور یا کمزور لوگوں کو اپنے دام میں پھنساتا ہے مگر یہ ناممکن
اس لڑکی نے بھی حیرت سے پرنس کی جانب دیکھا جو کہ ساکت اس شخص کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
“یہ بھی ہوسکتا ہے کے اس کی یاداشت واقع میں چلی گئی ہوں ، اور اگر ایسا ہے تو یہ ہمارے لیا بہت اچھا ثابت ہوگا ” اس لڑکی نے آخر میں شیطانی انداز میں مسکراتے ہوئے کہا ہاہاہاہا !! “آتشی ملکہ” تم واقعی میں میرے لیے ڈیوی ثابت ہوئی ہوں
اس شخص نے ہنستے ہوئے کہا
“اور جب تک ہمیں وہ نایاب چیز نہیں ملتی ہمیں اس پر نظر رکھنی ہوگی _”
اس شخص نے سنجیدگی سے پرنس کی جانب دیکھ کر کہا