Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

ایک گیارہ سالہ لڑکی ہاتھوں میں موم بتی پکڑے اس خوفناک جنگل میں آگے ہی بڑھتی جا رہی تھی کہ تبھی اپنے پیچھے کچھ احساس ہوتے ہی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ڈھنگ رہ گئی ایک سفید کلر کا نہایت ہی بڑا بھیڑیا کھڑا اسے گھورے جا رہا تھا اور یہ دیکھ کر اس گیارہ سالہ لڑکی کے ہاتھوں سے موم بتی چھوٹ کر نیچے گر گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس لڑکی کے چاروں اطراف آگ پھیلنے لگی اور تبھی اس لڑکی نے اپنی نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا اور اب ڈھنگ رہنے کی باری اس بھیڑیئے کی تھی
“کیوں تمہیں کیا لگا کہ تم مجھے نقصان پہنچاؤں گے تو میں ایسے ہی چپ چاپ تمہیں دیکھتی رہوں گی تو یہ تمہاری بھول ہے ڈئیر بھیڑیئے ” اس لڑکی نے بھیڑیئے کی جانب بڑھتے ہوئے کہا اور اسے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ بھیڑیا پیچھے ہٹنے لگا اور جب وہ اس بھیڑیئے تک پہنچتی وہ بھیڑیا وہاں سے مخالف سمت دوڑنے لگا “بہت خوب آتشی ملکہ
تبھی وہاں اس کے آس پاس کے ایک آواز گونجنے لگی تو اس نے اپنے چاروں اطراف نظریں ڈورائی مگر اسے وہاں کوئی بھی نظر نہ آیا
“تمہارے امتحان کا پہلا باب ختم ہوگیا ہے اب انتظار کروں دوسرے باب کا ” ⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦ “are you mad” “دیکھ کر نہیں چل سکتی تھی تم پاگل لڑکی
پرنس نے جب اس خوبصورت عمارت کی خوبصورتی سے ڈیزائن شیشے نما دروازے کو کھولا تو وہ دروازہ ایک ہی جھٹکے میں کھول گیا اور وہ جو دروازے کو اندر سے کھولنے کی کوششوں میں کب سے مصروفے عمل تھی دروازے کے کھولتے ہی وہ اندر آتے شخص سے بری طرح ٹکرا کر ابھی وہ نیچے گرتی کہ تبھی اس نے اس شخص کے کالر کو پکڑا تو اس کے اس طرح کرنے سے وہ شخص سنبھل نہ سکا اور سیدھا اس کے ساتھ نیچے گرتا چلا گیا
کیا پاگل !!
فریحہ نے اپنی خوبصورت نیلی آنکھیں اٹھاتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر چلاتے ہوئے کہا ، پرنس جو غصے سے اس کی اس حرکت پر لال پیلا ہو رہا تھا اس کہ چلانے سے پرنس نے اس جانب دیکھا اور یہ پرنس کی سب سے بڑی غلطی تھی کہ اس نے فریحہ کی آنکھوں کی جانب دیکھا اور پھر دیکھتا ہی چلا گیا بلکل وہی آنکھیں جو کل رات اس نے دیکھی تھی اور جس کا وہ اسی لمحے اسیر ہوگیا تھا لیکن کل رات تو اس غزالی آنکھوں والی حسینہ کے چہرے پر مکمل نقاب تھا پرنس سوچتے ہوئے سامنے فریحہ کی جانب دیکھنے لگا
“اے یوں پاگلوں کی طرح کیوں دیکھ رہے ہوں کیا کبھی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی تم نے ” فریحہ کو اس کی نظروں سے الجھن ہونے لگی تو اس نے چیختے ہوئے کہا تو اس چیخنے سے وہ سنبھل کر دوسری جانب دیکھنے لگا “میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں
پرنس کو اس طرح دوسری جانب رخ کرتے ہوئے دیکھ کر اس نے چڑتے ہوئے کہا
بس !!
“بہت ہوگئی تمہاری بکواس اب ایک لفظ بھی نہیں سمجھے ” اچانک سے اس کی چلتی زبان کو بریک لگا “کب سے تمہاری بکواس سن رہا ہوں میں
پرنس نے اس کہ ہونٹوں پہ سے اپنا انگھوٹا ہٹاتے ہوئے بےزاری سے کہا ایک تو اسکا سارا سحر بھگا کر اس کے سارے موڈ کا ستیا ناس کر دیا تھا اور اوپر سے اس کے بکواس کو وہ کب سے برداشت کر رہا تھا
“میں بکواس کر رہی تھی ” روہانسی ہو کر اس نے پرنس کی جانب دیکھ کر کہا ہاں ! بکواس ۔۔۔۔ کب سے کر رہی تھی تم مجھ سے کبھی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی تم نے
آخر میں اس کی نقل اتارتے ہوئے پرنس نے بےزار انداز میں اس کی جانب دیکھ کر کہا
“اب کیا سارا دن ایسا ہی رہنا چاہتی ہوں تم پاگل لڑکی ” اسے اپنے اوپر گرے ہوئے دیکھ کر اس نے بے زاری سے کہا تو تبھی فریحہ کو اپنے اور اس کے پوزیشن کا خیال آتے ہی جٹ سے اس کے اوپر سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور اس کے اس انداز پر نا چاہتے ہوئے بھی پرنس کے لبوں پر مسکراہٹ چاہ گئی ⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦ “آج تمہاری خونخواری بھی تو دیکھنی ہے مجھے آتشی ملکہ
سیاہ رنگ کے ہڈ والے شخص نے اس لڑکی کے زلپوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے کہا تو یکدم اس لڑکی نے اپنے گرم آگ جیسے ہاتھوں کو اس شخص کے ہاتھوں کے اوپر رکھا تو اس شخص نے درد محسوس کرتے ہی ایک ہی جھٹکے میں اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں کے نیچے سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگا کہ اس لڑکی نے اس شخص کی آنکھوں کی جانب دیکھا تو وہ شخص ساکت رہ کر اس لڑکی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگا
“تمہیں کیا لگا تم میرے ساتھ کھیلتے رہوں گے ، اور میں ایسے چپ چاپ تمہیں کھیلتے ہوئے دیکھتی رہوں گی ” لڑکی نے اس شخص کے پورے ہاتھوں کی انگلیوں کو جلاتے ہوئے کہا ہاہاہاہا!! “پسند آئی تمہیں میری خوانخوار دہشت
آتشی ملکہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے اس شخص کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
“کیا خاک مزا آیا مجھے میرا سارا ہاتھ جلا دیا تم نے جنگلی لڑکی ” اس شخص نے طنزیہ انداز میں اس کی جانب دیکھ کر کہا تو اس نے ہنستے ہوئے کہا “مجھے پتہ ہے کہ تم اپنے دشمن کو تباہی کے دہانے تک پہنچانے کی جلدی چاہتے ہوں لیکن یہ بھی یاد رکھنا کہ اسی جلدی نے تمہیں کہیں کا نہیں رہنا دیا تھا اور اب تم پھر سے وہی غلطی کر رہے ہوں
آخر میں سنجیدگی سے اس شخص کی جانب دیکھتے ہوئے اس نے کہا
مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں اس کی تمہیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ تم اپنے اس امتحان کی تیاری کروں جو میں نے تم سے لینا ہے ” اس شخص نے بات ختم کر کے اس کی بولتی بند کردی اور خود وہ یکدم سے وہاں غائب ہوگیا جب بھی دیکھوں اپنی حکم نامہ جاری کرتا ہے ، اس امتحان کی تیاری کروں جو میں نے تم سے لینا ہے آیا بڑا استاد
آتشی ملکہ نے منہ بھگاڑتے ہوئے اس شخص کی نقل اتاری اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ کی شکل اختیار کرنے لگی
⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦
ٹھرکی لفنگا !!
وہ کب سے ادھر سے اُدھر نجانے کس کو یہ القابات نوازے جا رہی تھی اور ماریانہ اپنی جمائیاں روکنے میں مصروف تھی اور آخر تنگ آکر اس نے پوچھ ہی لیا
“اب یہ کون بےچارہ ہے جس نے میری پھول جیسی دوست کو چھیڑنے کی غلطی کی ہے مجھے بھی تو پتہ چلے ” ماریانہ نے بےزاری سے اس کی جانب دیکھ کر کہا “ہیں ایک لفنگا ٹھرکی سڑک چھاپ عاشق
فریحہ نے پرنس کے خوبصورت چہرے کو یاد کرتے ہوئے نہایت ہی غصے سے کہا
“اس سڑک چھاپ عاشق کا کوئی نام بھی تو ہوگا ” ماریانہ نے خفگی سے اسے دیکھا “وہی ٹی وی ایکٹر پرنس
اب کے ماریانہ جھٹکے سے اس کی جانب دیکھنے لگی
کیا !!
پرنس !!
ماریانہ نے چیخ کر فریحہ سے پوچھا
“ہاں وہی پرنس جیسے میں اپنے خوابوں کا شہزادہ سلیم سمجھ بیٹھی تھی
اور وہ تو سلطان راہی نکلا ” فریحہ نے جل کر کہا تو ماریانہ اس کی اس بات پر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئی اور اسے اس طرح ہنستے ہوئے دیکھ کر اس نے جل کر کہا میں تمہیں کوئی لطیفہ سنا رہی ہوں جو تم اس طرح جناتی قہقہے لگا رہی ہوں ۔۔۔۔ہاہاہاہا !! آخر میں اس کی ہنسی کی نقل اتارتے ہوئے فریحہ نے کہا یار !! ہنسوؤں نہیں تو کیا رو دوں تمہاری اس بات پر
ماریانہ نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا
“روئے گا تو وہ سڑک چھاپ عاشق _”
فریحہ نے شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے کہا
⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦