Sehar Hone Tak by Sara Rehman NovelR50623 Sehar Hone Tak (Last Episode)
No Download Link
Rate this Novel
Sehar Hone Tak (Last Episode)
Sehar Hone Tak by Sara Rehman
اپنے ماؤف ہوتے دماغ کو ایک ہاتھ سے سنبھلاتے ہوئے۔۔۔جھٹکے سے دوسرے ہاتھ سے زینی نے کیپ اتار کر ڈیش بورڈ پر پھینکی۔۔اور داؤد کو غصے سے گھورنے لگی۔۔۔
داؤد معاملے کی نزاکت سمجھتے ہوئے قدرے نرمی سے بولا تھا۔۔۔۔
دیکھیں زینیہ میم۔۔۔۔!! اس میں آپ کا ہی فائدہ ہے۔۔۔اگر یہ کیپ پہن لیں گی آپ۔۔ تو شاید ہم کسی نء مصیبت سے بچ جائیں گے۔
اگر پھر بھی آپ کو مصیبت مول لینے کا شوق ہے تو میں آپ کو یہیں اتار دیتا ہوں۔۔۔داؤد کار کا دروازہ کھولتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔۔
داؤد کی بات سن کر زینی نے خوف زدہ انداز میں کیپ اٹھائی اور پہننے لگی۔۔۔زینی کے انداز پر داؤد نے بمشکل اپنی ہنسی روکی تھی۔۔۔
تیزی رفتاری سے کافی دیر گاڑی بھگانے کے بعد جب داؤد کو اچھی طرح تسلی ہوگئی کہ گاڑی کا تعاقب نہیں ہورہا تو۔
۔۔ایک سنسان سڑک پر گاڑی روک کراس نے زینی کو اتارا اورخود گاڑی کی سپیڈ بڑھا کر گاڑی بھگا کے لے گیا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ داؤد کی اس حرکت پر زینی چونکتی اورکسی ردعمل کا اظہار کرتی۔۔۔زینی نے داؤد کو چلتی گاڑی سے چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔۔داؤد کسی ماہر ایکروبٹ کی طرح گھومتا ہوا گاڑی سے باہر نکلا گاڑی نے دو سوگز کا فاصلہ ہی طے کیا ہوگا کہ داؤد نے پسٹل سے گاڑی کی ٹینکی پر فائر کیا۔
۔۔ دھماکا ساہوا گاڑی کوآگ لگ گئی۔۔۔۔زینی خوف اور دہشت کی شدت سے بے ہوش ہو کر گر گئی۔۔۔۔۔
زینی کو گرا ہوا دیکھ کر داؤد اس کا چہرہ تھپتھانے لگا۔۔۔۔چند سیکنڈ تک بھی زینی کو ہوش نہ آیا تو داؤد وقت ضائع کیئے بغیر زینی کو دونوں ہاتھوں میں اٹھائے۔۔ایک سمت بھاگنے لگا۔۔۔
اس کارخ آکسفورڈ کے کسی قریبی قصبے کی طرف تھا۔۔دریاکے کنارے بھاگتے ہوئے اسے تقریباً بیس منٹ گزر چکے تھے کہ اسے آبادی کے آثار نظر آنا شروع ہوئے۔
۔۔ایک جگہ رک کر اپنی طرف ہی آتے ہوئے ایک سیاہ فام سے اس نے قریبی کلینک کا پوچھا۔سیاہ فارم اسے کلینک تک لے گیا۔۔۔
ڈاکٹر ابتدائی طبعی امداد دینے کے بعد داؤد کے پاس آیا اور کہنے لگا ان کیسر پر گہری چوٹ آئی ہے اس وجہ سے بے ہوش ہیں۔۔ان کو یہ چوٹ کیسے لگی۔؟۔ہم ہسبینڈ وائف ہیں حال ہی میں شادی ہوئی ہے۔۔گھومنے کی غرض سے نکلے تھے کہ اچانک گاڑی درخت سے ٹکرا گئی۔
داؤد نے جلدی جلدی ڈاکٹر کو کہانی بنا کر سنائی۔۔کب تک ہوش آجائیے گا انہیں۔۔زینیہ کو اس حالت میں دیکھ کر داؤد کی اپنی کنڈیشن خراب ہو رہی تھی۔۔۔ایسے لگتا تھا۔۔۔دل ہر لمحہ ہر پل بس زینیہ کو پکار رہا ہو۔۔۔یہ دھان پان سی نازک سی لڑکی ایک پتھر کو پگھلا رہی تھی۔۔۔۔موم میں بدل رہی تھی۔۔۔
انجیکشنز لگائے ہیں۔۔کچھ دیرمیں ہوش آجائے گا سر کی چوٹ گہری ہے جو ٹھیک ہونے میں چند دن لگیں گے جیسے ہی انہیں ہوش آئے گا آپ لوگ جاسکیں گے۔
۔ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں مسکراتے ہوئے زینیہ کی طبیعت کے بارے میں بتاتے ہوئے روم سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
داؤد زینی کے بیڈ کے قریب ہی رکھے اسٹول پر بیٹھ گیا اور زینی کا سرد ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کر نم آنکھوں سے لبوں سے لگاتے ہوئے زینی کی اذیت اپنے دل پرمحسوس کر رہا تھا۔۔۔۔زینیہ کے درد کا احساس اس کا دل چیررہا تھا۔۔۔
محبت دل پر وحشت بن کر اترتی ہے۔
۔۔۔تو من کی دنیا کو عجیب و غریب اذیت سے روشناس کراتی ہے۔۔ایک ایسا احساس ایک ایسی اذیت جس میں سانس لینا دو بھر ہوجاتا ہے۔۔۔دل اک نئے لے پر دھڑکنا شروع کردیتا ہے۔۔یہ محبت کا پہلا سٹیج ہوتا ہے۔دل کرتا ہے محبوب بس ہر وقت آنکھوں کے سامنے ہو۔۔اور ہر شے ہر احساس زماں ومکاں کی قید سے آزاد ہو جائے۔۔۔داؤد کے دل پر بھی محبت کا نزول ہو چکا تھا۔
۔ویک ٹک نم آنکھوں سے زینی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
کیسی محبت تھی کہ دل قفس میں قید پنچھی کی طرح پھڑ پھڑا رہا تھا۔لیکن خرد کو اجازت ہی نہیں تھی کہ وہ اس وحشت کو لفظوں کا روپ دے سکتی۔
زینی کی پلکوں میں جنبش ہوئی تھی۔۔داؤد نے زینی کا ہاتھ دھیرے سے دوبارہ بیڈ پر رکھا۔اپنی نم آنکھیں صاف کی تھیں اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔
زینی نے آنکھیں کھولیں اور چند لمحے ناسمجھی کے عالم میں ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
۔
داؤد نے خاموشی کو توڑا اور بولا۔۔۔
اب کیسی طبیعت ہے آپکی۔۔۔؟آپ نے تو ڈرادیا ہمیں۔زینیہ۔۔۔۔!!!! زینیہ کی آنکھوں کے سامنے داؤد کاچلتی گاڑی سے چھلانگ لگانا گھوم گیا۔۔اور جلدی سے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کرنے لگی تو سرمیں اٹھتی ٹیسوں کی شدت سے آنسوبہہ نکلے تھے۔۔۔۔
آپ ٹھیک ہیں۔۔۔آپ نے چ۔۔۔چھ۔۔چھلانگ لگائی تھی۔۔۔۔داؤد زینی کی بات پر قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔
۔۔
یس آئی ایم فائن۔۔ زینیہ صاحبہ۔۔۔چھلانگ لگانے سے توکچھ نہیں ہوا لیکن شاید 20 منٹ مسلسل کسی کو اٹھا کر بھاگنے کی وجہ سے ادھ مرا ہو گیا ہوں۔۔۔
داؤد کی بات سن کر زینیہ شرمندگی کی وجہ سے سر جھکا گئی۔۔۔۔
زینیہ پر ایک مسکراتی نظر ڈال کر وہ فون پر کسی کوکوڈ ورڈز میں کچھ کہنے لگا تھا۔۔۔۔
دس منٹ کے بعد ایک سفید ٹیکسی اس چھوٹے سے ہسپتال کے باہر آرکی تھی۔
۔۔۔داؤد سارے بل کلیئر کروا کرزینی کولیئے اس سفید ٹیکسی کی طرف بڑھ گیا۔۔ تقریباً نصف گھنٹہ مسلسل چلنے کے بعدگاڑی ایک جگہ پررکی تھی زینی نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا ٹیکسی ایک فارم ہاؤس کے گیٹ پر جا کر رکی تھی۔۔۔
داؤد نے زینیہ کو اترنے میں مدد کرنے کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا تو زینیہ کہنے لگی۔۔بہت شکریہ داؤد صاحب آئم فائن ناؤ۔۔۔۔میں چل سکتی ہوں۔
داؤد بے نیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے اندر جانے والے راستے کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
زینیہ اورداؤد جیسے ہی اندر پہنچے ایک بوڑھا فارمرجوشکل سے پاکستانی لگ رہا تھا۔۔۔اوراسکے ساتھ ایک خوش شکل سی لڑکی کھڑی تھی۔مسکراتے ہوئے دونوں نے ان کا استقبال کیاتھا۔۔داؤد نے لڑکی کو اشارے سے زینیہ کوان کا کمرہ دکھانے کیلئے کہا۔۔۔۔میرا نام جویریہ ہے آپ مجھے جیا بھی کہہ سکتی ہیں۔
۔۔لڑکی نے مسکراتے ہوئے زینیہ کا ہاتھ تھاما تھا اور اس سے اپنا تعارف کرواتے ہوئے اسے اس کے کمرے میں لے آئی۔۔۔۔اور وہ میرے بابا ہیں۔۔۔یہ فارم ہاؤس ہمارے نانا کا ہے۔۔۔داؤد صاحب ہمارے محسن ہیں۔۔۔اور آپ ان کی وائف ہیں تو اس لحاظ سے آپ بھی ہماری محسنہ ہوئیں۔۔۔وہ لڑکی بڑے شائستہ اور صاف لب ولہجے میں اردو بول رہی تھی۔
وائف والی بات پر زینی نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔لیکن مصلحت کے تحت خاموش رہی۔۔۔
اتنے میں داؤد بھی روم میں داخل ہوا ۔۔۔
داؤد بھائی آپ لوگ فریش ہو لیں میں تب تک کھانا لگواتی ہوں۔۔۔جیا خوش دلی سے کہتی جانے کیلئے مڑی تو داؤد نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سرہلایا تھا۔۔۔۔
