Sehar Hone Tak by Sara Rehman NovelR50623 Sehar Hone Tak (Episode 04)
No Download Link
Rate this Novel
Sehar Hone Tak (Episode 04)
Sehar Hone Tak by Sara Rehman
سوچوں میں گھری زینی نے سامان سیٹ کیا فریش ہونے کے بعد۔۔۔ کمرے کے ساتھ اٹیچ کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔کچن میں ایک چھوٹے سائز کافریج بھی موجود تھا۔۔ایک اوون اور چولہا بھی موجود تھا۔۔کچن کو بڑے اچھے انداز سے سیٹ کیا گیا تھا۔۔ہورے کچن کا سرسری جائزہ لینے کے بعد زینی فریج کی طرف بڑھی۔۔۔فریج میں انڈے سلائس اور دودھ موجود تھا۔۔۔جہاز میں کھانے کی وجہ سے بھوک محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
تھکاوٹ کی وجہ سے کافی کی طلب محسوس ہورہی تھی۔۔ زینی نے اپنے لیئے کافی بنائی اور ٹیرس پہ آگئی۔۔بابا اورماں کو اپنے خیریت سے پہنچ جانے کی اطلاع دے کر کافی سے لطف اندوز ہونے لگی۔۔۔اب اس کی سب سے بڑی فکر اپنے لیئے رہائش کا مناسب انتظام تھا۔۔۔کچھ دیر کے بعد کمرے میں آئی اور آرام کی غرض سے لیٹ گئی۔
۔۔۔زینی کی آنکھ کھلی تو عصر کا وقت ہورہا تھا۔
۔۔زینی اُٹھی وضو کر کے آئی اور نماز پڑھی۔۔۔ اور اپنے آپ سے مخاطب ہوئی، پہلے کی نسبت طبیعت فریش محسوس ہو رہی ہے۔۔۔۔ چل زینی اُٹھ ہمت کر باہر کا چکر لگا کیا بد روحوں کی طرح مردم بیزار بن کے رہنا ہے۔۔۔
زینی باہر گراؤنڈ میں چلی آئی تھی۔۔۔گراؤنڈ میں بہت کم تعداد میں لوگ موجود تھے۔۔۔زینی اردگرد کا جائزہ لینے لگی۔۔
بلیک کلر کے ڈھیلی ڈھالی لونگ شرٹ کے ساتھ بلیک جینز پہنی ہوئی تھی۔
۔ اور بلیک اسکارف کے ساتھ حجاب اس کی سنہری رنگت کو عجیب سا نور بخش رہا تھا۔۔۔زینی ناریل کے درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر آسمان پر اُڑنے والے پرندوں کو اُداس نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔اس کی حسین کالی آنکھیں دیکھ کر یوں محسوس ہورہا تھا۔۔جیسے سمندر میں شام اُتر رہی ہو۔۔ اور دیکھنے والوں کو ایک دفعہ اُسے رُک کر دیکھنے پر ضرور مجبور کر رہی تھیں۔
۔۔
داؤد وہ لڑکی دیکھو پاکستانی لگتی ہے۔۔لگتا ہے نئی آئی ہے۔اکیلی بھی لگ رہی ہے اور اُداس بھی۔۔مریم نے اپنے ساتھ بیٹھے داؤد کی توجہ زینی کی جانب مبذول کروائی۔۔۔داؤد کی نظر جیسے ہی زینی پر پڑی چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔۔۔ہے ناں میں تو لڑکی ہو کے چونک گئی ہوں پر لگتا ہے داؤد تم گئے کام سے اس کو دیکھتے ہی۔۔۔ مریم نے داؤد کا کندھا زور سے ہلایا تو داؤد چونکا۔
۔اور مریم کی بات پر اُسے گھور کے دیکھنے لگا۔۔۔
تمہارا تو غصہ ہی ناک پہ دھرا رہتا ہے۔۔۔تم کچھ دیر بیٹھ کے سڑڑو میں آتی ہوں مریم نے داؤد سے کہا اور اس کے قدم زینی کی طرف بڑھنے لگے۔
O Hello..!
sweet girl listen to me!
۔۔۔?which country۔۔۔۔
?Are you from pakistan
?I mean it’s just here..
? Which country’s princess you are
مریم نے اس کا بازو ہلایا اور ایک ہی سانس میں اپنی بات دہرائی۔
۔
زینی نے چونک کے مریم کی طرف دیکھا۔۔۔ اسے کچھ اپنائیت کا احساس ہوا اورتسلی بھی اس کے پاس کھڑی لڑکی پاکستانی لگ رہی تھی۔۔
زینی مسکرائی اور کچھ سوچ کر کہا۔۔۔(ویسے بھی اس کا ڈومیسائل اور آئی ڈی کارڈ سب انڈیا کا تھا اس کے بابا نے ایڈریس بھی ممبئی شہر کا لکھوایا تھا اس کے آئی ڈی کارڈ پہ۔۔اس کی تعلیمی اسناد بھی وہیں کی تھیں اس کے مشن کا تقا ضہ بھی یہی تھا کہ وہ اپنے آپ کو انڈیا کا ظاہر کرتی)
no l’m not from Pakistan.Iam from India.
مریم نے پھر پوچھا
Oh well…
?!then why, do you know Urdu
زینی اپنائیت سے مسکرائی اور اثبات میں سر ہلایا۔
پھر تو بہت اچھا ہے یاررر۔۔۔انگریزی بول بول کہ منہ ٹیڑھا ہو گیا تھا میرا مریم کھلکھلائی۔۔۔۔۔کوئی تو ملا۔۔۔۔میں مریم ہوں حال ہی میں فزکس ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ ہوا ہے یہاں اور جس پروگرام میں داخلہ ہوا اس کے بارے میں بھی بتایا۔۔کل آئی ہوں پاکستا ن سے وہ جو سامنے بیٹھا ہے وہ میرا کزن ہے یہاں ہوتا ہے مجھ سے ملنے آیا ہے۔۔۔مریم نے داؤد کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
۔
زینیہ نے مسکراتے ہوئے مریم کو اپنے بارے میں بتایا۔۔۔اور یہ بھی کہ زینیہ نے بھی اسی کورس میں داخلہ لیا ہے جس میں مریم کا ایڈمشن ہوا ہے۔۔۔
میں تو خوشی سے پاگل ہو رہی ہوں کہ شکر ہے تم مجھے مل گئی۔۔۔۔نہیں تو میں بہت پریشان تھی زینیہ۔۔۔۔مریم نے زینیہ کو گلے لگا لیا تھا۔۔۔زینیہ مریم کے اس انداز پر مسکرا دی۔۔۔
کوئی مسئلہ تو نہیں ہے نہ یہاں آپ کو۔
۔مریم نے اس سے پوچھا۔۔۔زینی کہنے لگی باقی سب تو ٹھیک ہے۔۔۔بس ایک مسئلہ ہے اب تم ہو نہ مل کے حل کر لیں گے۔۔۔میرا روم میٹ ایک لڑکا ہے وہ دو دن کے بعد آئے گا۔۔میں ایک نا محرم کے ساتھ نہیں رہ سکتی اوہ۔۔میں داؤد سے کہتی ہوں ہم دونوں کو ایک روم میں ایڈجسٹ کرا دے۔۔تم پریشان نہ ہو مریم نے زینی کو تسلی دی۔۔ میں داؤد سے بات کر کے آتی ہوں ویسے بھی اُسے جلدی ہے اس نے جانا ہے۔
۔۔۔ بلکہ تم بھی چلو میں تمہیں داؤد سے ملوا دوں۔مریم زینی کا ہاتھ پکڑ کر اُسے لے گئی۔ داؤد یہ زینی ہے۔۔میرے ہی ڈیپارٹمنٹ کی ہے۔۔۔اور زینی کا مسئلہ داؤ د کو بتایا۔آپ پریشان نہ ہوں زینی۔ آج آپ مریم کے روم میں رہ لیں کل صبح ہی آپ کا کام ہو جائے گا۔۔
زینی نے داؤد کا شکریہ ادا کیا۔۔اٹس اوکے آپ بھی میرے لیئے مریم جیسی ہیں۔۔۔داؤد نے زینی سے کہا۔۔اور مریم کو چند نصیحتیں کر کے جانے کیلئے مڑ گیا۔۔۔مریم برے برے منہ بناتی زینی کا ہاتھ تھامے روم میں واپس آگئی۔۔۔
