Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sehar Hone Tak (Episode 09)

Sehar Hone Tak by Sara Rehman

زینی کشمیر کے حالات سے تو واقف آج کی دنیا کا ہر انسان ہے۔۔۔۔۔لیکن جو کچھ میں تمہیں بتاؤں گا امید ہے تم اس سب کا بہادری سے سامنہ کرو گی۔۔۔۔معاذ نے تمہید باندھی۔۔۔

اب تو اتنا سب کچھ سن اور دیکھ چکی ہوں۔۔۔۔آگے بھی جو ہو گا برداشت کر لو کی معاذ۔۔۔۔۔ہم کشمیری ہیں ہی برداشت کرنے کے لیئے۔۔۔۔تم بولو میں سن رہی ہوں۔۔۔

زینی تمہارے بابا پکڑے گئیں۔

۔۔۔۔وہ درپردہ کشمیریوں کے حامی تھے۔۔۔یہ بات ’را‘ کو معلوم ہو چکی ہے۔۔۔اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔۔اب تو انڈین فوج ہر ایک پر شک کر رہی ہے۔۔۔۔کشمیر میں دوبارہ کرفیو لگ چکا ہے۔۔۔

معاذ نے ایک فائل زینی کیطرف بڑھائی اور مزید کہنے لگا۔۔۔یہ کچھ چیزیں انکل نے مجھے امانت کے طور پر دی ہیں۔

۔۔۔تاکہ میں تم تک پہنچا سکوں۔

۔۔۔اورانکل نے ایک خط بھی تمہارے نام دیا ہے۔۔۔۔۔وقت کم ہے زینی ہے۔۔۔۔میں خود شرمندہ ہوں۔۔۔تم اپنے بابا کے کارناموں سے واقف نہیں ہو ۔۔۔۔۔میری طرف سے بھی اپنا دل صاف کر لینا۔۔۔۔ہم کشمیری ہیں۔۔۔غداری کا سوچ بھی نہیں سکتے۔۔۔۔۔

######

معاذ ’را‘ کے کتوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر جیسے زینی کو لے کر گیا تھا ویسے ہی واپس بھی چھوڑ گیا۔

۔اور کسی کو خبر بھی نہ ہوئی۔۔۔زینی جب روم میں واپس آئی تو مریم سو رہی تھی۔۔۔

رات کے تین بج رہے تھے۔۔۔آج کی رات زینی پر مزید بھاری ہو چکی تھی۔۔۔زینی صبح ہونے سے پہلے پہلے سارے حقاتق جان لینا چاہتی تھی۔۔۔

زینی اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھی ٹیبل لیمپ آن کیا۔۔۔اور سامان چیک کرنے لگی۔۔۔سامان سے زینی کی بچپن کی چند تصویریں بھی نکلیں۔

اس کے علاوہ ایک اور تصویر بھی تھی۔۔۔جو ایک مکمل فیملی کی تھی۔۔۔ایک خوبصورت کپل کی تصویر تھی۔۔۔سامان میں سے ایک ڈائری بھی ملی تھی۔۔ایک سی ڈی۔۔زینی نے فوراً لیپ ٹاپ میں ڈال کر اسے چیک کیا تو۔۔وہی نغمہ گونجنے لگا تھا۔۔جس کے گانے والا شخص گمنام تھا۔۔۔لیکن اس کی آواز سے وادی کا چپہ چپہ آشنا تھا۔۔۔۔جیسے ہی وہ نغمہ ختم ہوا تو۔۔۔اور جس شخص کی آواز گونجی۔

۔۔اس آواز نے اس کی دھڑکنیں روک دیں تھیں۔۔۔۔جان بابا۔۔۔۔جب جب میں تمہاری آنکھوں میں اپنے خلاف امڈنے والی نفرت دیکھتا تھا۔میرا دل چیخ چیخ کر بین کرتا تھاکہ بتا دے زینی کو اپنی اصلیت۔۔۔لیکن حقیقت بتانے کا وقت نہیں آیا تھا۔۔۔زینی جب تک تمہیں حقیقت پتہ چلے گی۔۔۔میں اپنی دھرتی پہ شاید قربان ہوچکا ہوں گا۔میری شہادت پر تم دکھی مت ہونا۔۔رونا مت۔۔کیونکہ تمہاری بھی یہی خواہش تھی کہ تمہارے بابا ایک غدار نہیں۔۔۔بلکہ ایک مجاہد ہوتے۔۔زینی نے دونوں ہاتھوں سے سر کو تھاما تھا۔۔۔۔۔زاروقطار روتے ہوئے بس وہ یہی کہہ رہی تھی۔۔۔میں کتنی بے وقوف تھی بابا میں اپنوں کو نہ پہچان سکی میں آپ کو نہ پہچان سکی۔۔۔۔

آئم سوری بابا۔۔۔آئم سوری۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *