Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sehar Hone Tak (Episode 03)

Sehar Hone Tak by Sara Rehman

سری نگر ائر پورٹ پر بابا ماں کے ساتھ معاذ بھی زینی کو سی آف کرنے آیا تھا۔۔۔وہ معاذ کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی اس نے آنکھوں پر گلاسز چڑھا لیئے تھے بلیک سکارف میں اس کی سنہری رنگت دمک رہی تھی۔۔۔۔ہونٹوں پہ زبردستی کی مسکراہٹ سجائے وہ پہلے ماں سے ملی تھی۔۔۔فضیلہ بیگم کی آنکھیں مسلسل برس رہی تھیں۔۔۔ماں میرے لیئے دعا کریں۔۔اپنے آنسوؤں کو میرے پیروں کی زنجیر مت بنائیں۔

۔۔۔۔۔

میں تو کچھ عرصے کیلئے آپ لوگوں سے بچھڑ رہی ہوں۔۔۔

ان لاکھوں والدین کا دکھ۔۔۔کشمیر کا دکھ محسوس کریں جن کی حوروں جیسی بیٹیوں کی معصومیت چھین کے درندے آئے روز موت کے گھاٹ اُتار دیتے ہیں۔۔ اور ہم بے حس اور بے ضمیروں کی طرح اپنی زندگیوں میں ایسے مگن رہتے ہیں جیسے کچھ ہوتا ہی نہیں۔

۔کچھ ہوا ہی نہیں۔۔

یہ سب اس نے بابا اور معاذ کو سنایا تھا پرویز نے تو اپنے چہرے کا رخ موڑ لیا تھا جبکہ معاذ کے چہرے پہ آکے گزر جانے والا نادیدہ رنگ کوئی نہیں دیکھ سکا تھا۔

۔۔اتنے میں اناؤسمنٹ ہونے لگی تھی۔۔زینی سب کو الوداع کہہ کر آگے کو بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔

سیٹ پر بیٹھتے ہی۔۔۔کب سے رُکے آنسو اس کے سنہری گالوں پر بکھر گئے تھے۔۔۔۔

کبھی کبھی دل بلکل خالی ہو جاتا ہے۔۔۔۔ہر احساس مر جاتا ہے۔۔۔۔یوں محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔جیسے ہم مر گئے ہوں۔ہمارے مرتے ہی دُکھ درد خوشی۔۔۔یہ ساری دنیا مر گئی ہو۔۔۔۔یہ احساس تب ہوتا ہے۔

۔جب درد سہنے کی اور ہمت نہیں رہتی۔۔

زینی بھی تو سہہ رہی تھی غلامی کی اذیت

جان سے پیارے لوگوں کا کھوکھلا ہونا۔۔۔خاندان کا غدار ہونا۔۔۔

اپنی جیسی لڑکیوں کی آروز اور عزتیں برباد ہوتا دیکھنا بابا جیسے مردوں معاذ جیسے نفس پرست ہی کشمیر کی آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ محسوس ہوتے تھے۔۔

اذیت کے یہ خوفناک اژدھے اس کے سارے احساسات پتھر کر رہے تھے۔

۔۔

ہاں زینی کو پتھر ہونا ہے۔۔۔تاکہ میرے مقصد کی راہ میں کوئی کانٹا کوئی پتھر نہ آئے۔۔۔۔اس کا مقصد واقعی بہت بلند اور بڑا تھا۔۔وقت سے پہلے اس کے مقصد کی کسی کو خبر بھی لگ جاتی تو کفر کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہو جاتا۔۔۔۔خبر لگتی بھی کیسے اس کا یہ مقصد اور مشن کشمیر کیلئے تھااور کشمیر کی جان پاکستان کیلئے تھا۔۔۔اپنے مقصد کو سوچ کے زینی کے لب خود بخود مسکرانے لگے تھے۔

۔۔۔اس کا مشن اور پروجیکٹ آنے والے وقتوں میں دشمن دنیا کو ہلا کے رکھ دینے والا تھا۔۔۔۔

ہر دکھ اور درد کے احساس کو دفنا کر اسے وہ زینیہ پرویز آج پتھر کی ہو گئی تھی۔۔۔زینی نے سیٹ پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔۔۔وہ سوچ رہی تھی اچھا تعلیمی بیک گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے اُسے کسی بھی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں پارٹ ٹائم جاب مل سکتی ہے۔۔۔۔آگے پڑھنے کیلئے آنا تو اک بہانہ تھا۔

۔۔یہاں انگلینڈ آکر وہ اپنے پروجیکٹ پر بہتر انداز میں کام کر سکتی تھی۔۔۔

جیسے ہی وہ ائر پورٹ پر اُتری اُسے دیکھتے ہی ایک لڑکی اس کی طرف لپکی۔۔اور اُسے اپنے ساتھ آنے کا کہا۔۔ وہ لڑکی اُسے ہاسٹل چھوڑ کر ہر چیز کے بارے گائیڈ کر کے جا چکی تھی۔۔۔لڑکی نے اُسے بتایا۔۔۔ایک ترک لڑکا بھی اس کا روم میٹ ہے اور اس کے ساتھ روم شیئر کرے گا اور وہ بھی دو دن تک آجائے گا۔۔ایک نامحرم کے ساتھ وہ روم شیئر نہیں کر سکتی تھی۔۔۔اُسے اس لڑکے کے آنے سے پہلے پہلے کہیں قریب کے ایریا میں کوئی گھر ڈھونڈنا تھا جہاں وہ ایک پیئنگ گیسٹ کے طور پر رہ سکے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *