Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sehar Hone Tak (Episode 01)

Sehar Hone Tak by Sara Rehman

معاذ بھاگتا ہوا آیا اور اپنے کمرے میں گھس گیا۔۔نائلہ اس کی اس حرکت پر مسکرائی زینی نے بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا اور خود معاذ کے کمرے کی طرف چل دی۔۔

13 سالہ معاذ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا تھا۔یہ کیا حرکت ہوئی معاذ جب بھی زینی آتی ہے تم ایسی حرکتیں کرنے لگ جاتے ہو۔۔بیٹا وہ چھوٹی ہے آپ سے۔ آس پاس کوئی ہم عمر نہیں اس لیئے آپ کے ساتھ کھیلنے آ جاتی ہے۔

۔اور تم ہو کہ لفٹ کرانا تو دور کی بات مجھ سے بھی بات کرے تو آپ کو برا لگتا ہے۔۔۔کیوں کرتے ہیں آپ ایسا۔۔؟ماں اُسے دیکھتے ہی مجھے بابا یاد آجاتے ہیں۔۔۔کیسے انہوں نے کشمیر کی آزادی کے لیئے اپنی جان دے دی۔۔میں تو بابا کو آخری ٹائم مل نہیں پایا دیکھ نہیں پایا۔۔۔اور آپ کہتی ہیں میں ایک غدار ہوں جو اپنی ماں جیسی دھرتی کا محافظ نہیں، میں کیسے اس کی بیٹی کو دوست مانوں بتائیں ماں۔

۔۔آج پھر میں نے زینی کے گھر سے کیپٹن شرما کو نکلتے دیکھا ہے۔۔۔معاذ شدّت غم وغصے سے سرخ ہوتی آنکھیں لیئے ماں سے پوچھ رہا تھا۔۔۔ماں زینی کے بابا سے کیا مجھے غدار سے تعلق رکھنے والے ہر رشتے سے نفرت محسوس ہوتی ہے اور آپ کہتی ہیں بابا کے قاتلوں سے دوستی کر لوں؟

نائلہ بیٹے کو دیکھ رہی تھی شدت غم سے اس کی آنکھیں برسنے کو بیتاب تھی لیکن وہ بیٹے کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔

۔

معاذ کی آواز بلند تھی 10 سالہ زینی نے ساری باتیں سن لی تھیں اور روتے ہوئے گھر بھاگ آئی۔۔۔

اس دن کے بعد سے شوخ وچنچل زینی بلکل خاموش ہو گئی تھی۔اس میں اتنی ہمت نہ تھی نہ ہی اتنی بڑی تھی کہ وہ اپنے بابا سے کوئی سوال کر سکتی۔۔۔۔

معاذ اور زینی سرینگر شہر میں رہتے تھے گھر پاس پاس تھے۔۔۔زینی کے والد پرویز ایک ڈاکٹر تھے اور کٹھ پتلی حکومت کے سیاسی کارکن بھی تھے۔

۔۔انڈین آرمی کے ساتھ ان کے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہ تھے۔۔۔دوسرے لفظوں میں لوگ انہیں انڈیا کا وفادار کتا سمجھتے تھے۔معاذ کے والد تحریک آزادی کے کارکن تھے ،آزادی کی خاطر وہ دشمن کی بربریت کی نظر ہو گئے تھے۔۔دشمن نے انہیں گرفتار کرکے زندہ جلا ڈالا تھا۔۔۔۔۔۔

معاذ کے دل میں دشمن کے خلاف نفرت مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔

9دسمبر 2001

پیاری ڈائری جب سے میں نے ماں کو اپنی نفرت کی وجہ بتائی تب سے زینی دور ہو گئی ہے۔

۔اگر وہ ایک غدار کی بیٹی نہ ہوتی تو پھر میں اُسے ضرور دوست بنا لیتا۔۔

اپریل2010

بابا کے مشن کو تکمیل تک پہنچانا ہے۔۔پیاری ڈائری تم جانتی ہو خالی جذبہ کبھی بھی ہمیں ان کافروں سے جیت نہیں دلا سکتا۔۔۔۔میں ایک کامیاب ڈاکٹر بن گیا ہوں۔۔اور میں چاہتا ہوں کسی طرح انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کروں اور ان کی جڑیں کاٹوں۔۔۔۔بابا سے کیا عہد میں ہر حال میں نبھاؤں گا۔

۔۔۔

10 سال بعد

پرویز زینی کی پڑھائی مکمل ہو گئی ہے۔۔۔ایک دو بہت اچھے رشتے ہیں جو میری نظر میں ہیں۔۔میں چاہتی ہوں اب ا س کے ہاتھ پیلے کر دوں رات کے کھانے کے دوران زینی کی ماں فضیلہ نے پرویز سے کہا۔۔۔۔ماں بابا مجھے شادی نہیں کرنی میں مزید پڑھنا چاہتی ہوں آپ مجھے مزید پڑھنے کیلئے باہر بھجوادیں۔۔۔

اکلوتی بیٹی نے زندگی میں پہلی دفعہ کوئی فرمائش کی تھی یہ فرمائش جائز بھی تھی۔

۔پرویز جانتے تھے کہ ان کی یہ ذہین بیٹی ضرور کچھ الگ کرے گی۔

ضرور بیٹا اگر آپ پڑھنا چاہتی ہیں تو ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔۔۔پرویز نے بیٹی کے سر پر پیار کرتے ہوئے کہا۔۔۔زینی کی آنکھیں محبت کے اس انداز پر نم ہو گئیں، زینی باپ کا شکریہ ادا کر کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔وہ کبھی کبھار معاذ کو دیکھ لیتی تھی۔۔6 انچ سے نکلتا قد چوڑے شانے نیلی آنکھیں۔

۔۔۔۔گوری رنگت۔وہ واقعی کسی سلطنت کا شہزادہ لگتا تھا۔۔۔۔بچپن کی یہ پسندیدگی پتہ نہیں کب زینی کے دل میں محبت کا بیج بو گئی تھی جو گزرے برسوں میں ایک مضبوط درخت کی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔۔۔

کیا ہوتا بابا جو آپ ایمان فروش نہ ہوتے۔۔۔۔بچپن میں کہی گئی معاذ کی باتیں اس کے دل کو چھلنی کر دیتی تھیں۔۔۔بابا میں چاہ کر بھی آپ سے نفرت نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔۔ہاں یہ میرا اس دھرتی سے وعدہ ہے کہ میں ایک ایمان فروش باپ کی بیٹی نہیں بلکہ کشمیر کی بیٹی بن کے دکھاؤں گی۔۔

اے کشمیر میں تیری بیٹی ہوں ہاں یہ وعدہ ہے میرا تجھ سے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *