Sehar Hone Tak by Sara Rehman NovelR50623

Sehar Hone Tak by Sara Rehman NovelR50623

Last updated:

3.0(2 ratings)
Episodes
19
Views
589.4K
Status
Completed

About this novel

Sehar Hone Tak by Sara Rehman

اے کشمیر تیری خاطر میں جاں لٹا کے آیا ہو
تیری قسمت میں لکھے سب اندھیرے مٹا کے آیا ہو۔
اے کشمیر تیری خاطر۔۔ اے کشمیر تیری خاطر
آگ اور خون کی یہ ہولی میں اپنے جسم پہ کھیل آیا۔۔
دشمن کا اک اک وار میں اپنے دل پہ سہہ آیا۔۔
زینی جب بھی یہ الفاظ سنتی تھی۔۔۔اس کے دل کی ہر دھڑکن اس عہد پہ لبیک کہتی تھی۔۔نغمہ تو کب کا ختم ہو گیا تھا لیکن ان الفاظ کی گہرائی اُسے کسی اور دنیا میں لے گئی تھی۔
۔۔فضیلہ کی آواز اُسے سوچوں کی دنیا سے باہر لے آئی تھی۔۔۔بیٹا زینی نائلہ آنٹی کا بیٹا آیا ہے تمہارے بابا کے ساتھ ان کی لائبریری میں ہے۔۔۔چائے تیار کر لو ساتھ میں شامی تل لو او ر بسکٹ نمکو بھی رکھ لینا۔۔۔
نائلہ آنی کا بیٹا ماں۔۔۔؟ زینی نے حیرت سے پوچھا۔۔ہاں وہی اب جلدی کرو۔۔۔مجھے باقی کام دیکھنے ہیں۔۔فضیلہ شائد جلدی میں تھی بیٹی کے چہرے پہ پھیلنے والی حیرت نہ دیکھ پائیں۔
معاذ اور پرویز باتیں کر رہے تھے جب زینی چائے کی ٹرالی دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوئی اور وہ دونوں خاموش ہوگئے۔۔۔۔زینی نے سلام کیا اور خاموشی سے چائے سرو کرنے لگی۔۔۔کمرے میں چھائی خاموشی کو پرویز نے توڑا۔۔۔
اور معاذ کو بتایا کہ یہ زینیہ ہے۔۔۔حال ہی میں ماسٹرز کمپلیٹ کر کے آئی ہے ممبئی سے۔۔۔اب مزید تعلیم حاصل کرنے باہر جا رہی ہے۔
معاذ نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا۔۔یہ تو اچھی بات ہے انکل اور آج کے دور کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ہماری قوم اعلی تعلیم حاصل کرے۔۔۔زینی انہیں چائے دے کر باہر نکل گئی۔۔۔
زینی دھڑام سے بستر پر گری۔۔یہ یہاں بابا کے ساتھ۔۔۔۔ کیا یہ بابا کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچانا چاہتا۔۔۔؟اللہ نہ کرے۔۔۔لیکن معاذ کو توہماری فیملی سے نفرت تھی۔
۔۔کئی سوال زینی کے دماغ میں سر اٹھارہے تھے۔لیکن کوئی سِرا ہاتھ نہ آیا۔۔۔۔۔زینی بد دل ہو کر ماں کے ساتھ کچن میں کام کرانے لگی۔۔
ماں یہ انیلا خالہ کا بیٹا کیوں آیا تھا۔؟ کیا اسے کوئی کام تھا بابا سے ۔۔۔زینی نے ماں سے پوچھا۔
ہاں بیٹا معاذ برطانیہ سے اسپیشلائزیشن کر کے آچکا ہے وہ ایک کامیاب ڈاکٹر ہے۔۔۔وہ چاہتا ہے تمہارے بابا اسے انڈین آرمی میں کمیشن دلوادیں۔
۔اگر یہ نہ ہوا تو ممبئی میں ہی کسی بڑے ہاسپٹل میں لگوا دیں۔۔وہ یہاں سے اپنی ماں کو بھی لے جانا چاہتا ہے۔۔۔فضیلہ بیگم پھرتی سے کام نمٹا نے کے ساتھ ساتھ زینی کو معاذ کے آنے کا سبب بتانے لگیں۔۔۔یہ بات سنتے ہی زینی کو زوردار چکر آیا اس نے پاس کھڑی ماں کو تھاما اور اپنے آپ کو گرنے سے بچایا۔۔۔فضیلہ زینی کی اچانک طبیعت خراب ہونے پر گھبرا گئیں۔
۔کیا ہوا زینی تم ٹھیک تو ہو نا؟ فضیلہ زینی کو جلدی سے روم میں لے گئیں اور پرویز کو فون کرنے لگیں۔۔۔۔
جلدی آئیں پرویز ۔۔وہ ززززینی۔۔۔۔۔زینی کو چکر آیا اور وہ گرتے گرتے بچی ہے۔۔۔اس کا رنگ ہلدی کی طرح پیلا ہورہا ہے۔۔آپ جلدی سے گھر آجائیں۔۔
زینی کا بلڈپریشر لو ہوا ہے۔۔۔۔کھانے پینے کا خیال نہیں رکھتی کمزوری بھی ہے۔۔۔دوا دی ہے۔
۔۔ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔ڈاکٹر پرویز نے فضیلہ کو تسلی دی۔
کیا دنیا کی محبت اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ آپ اپنے آپ کو اور اپنے خدا کو بھول جائیں۔۔۔طلبِ دنیا ضمیر کو مار دیتی ہے۔۔۔معاذ بھی غداروں میں سے ہو گیا۔۔اپنے بابا کی جلی لاش بھول گیا۔۔کشمیر میں بہتا لہو بھول گیا۔۔۔اپنا فرض بھول گیا۔۔۔۔معاذ تمہیں تو غدار کی بیٹی سے بھی نفرت تھی۔
۔اور اب تم خود ایک۔۔۔اس سے آگے زینی نہ سوچ سکی اور سن ہوتے دماغ کے ساتھ نیند کی گہری وادی میں کھوگئی۔۔
اب کیسی طبیعت ہے زینی بیٹا۔۔۔ڈاکٹر پرویز نے زینی کے سر پہ ہاتھ رکھا اورپوچھا۔۔۔بیٹا آکسفورڈ یونورسٹی میں ایڈمشن ہو چکا ہے۔ پاسپورٹ بھی آگیا ہے۔۔۔دو دن بعد کی ٹکٹ بھی کنفرم ہے۔۔باقی سب انتظامات بھی ہو چکے ہیں۔۔اب جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ میرا بیٹا۔بابا کی ان محبتوں پہ وہ ہمیشہ موم ہو جاتی تھی جو بھی تھے جیسے بھی تھے وہ اس کے بابا تھے۔۔اس کے لیئے تپتی دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں تھے۔زینی اپنے بابا کے گلے لگ گئی اور اور مسکرائے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرنے لگی۔

Episodes

Sehar Hone Tak (Episode 01)

Sehar Hone Tak by Sara Rehman

معاذ بھاگتا ہوا آیا اور اپنے کمرے میں گھس گیا۔۔نائلہ اس کی اس حرکت پر مسکرائی زینی نے بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا اور خود معاذ کے کمرے کی طرف چل دی۔۔

13 سالہ معاذ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا تھا۔یہ کیا حرکت ہوئی معاذ جب بھی زینی آتی ہے تم ایسی حرکتیں کرنے لگ جاتے ہو۔۔بیٹا وہ چھوٹی ہے آپ سے۔ آس پاس کوئی ہم عمر نہیں اس لیئے آپ کے ساتھ کھیلنے آ جاتی ہے۔

۔اور تم ہو کہ لفٹ کرانا تو دور کی بات مجھ سے بھی بات کرے تو آپ کو برا لگتا ہے۔۔۔کیوں کرتے ہیں آپ ایسا۔۔؟ماں اُسے دیکھتے ہی مجھے بابا یاد آجاتے ہیں۔۔۔کیسے انہوں نے کشمیر کی آزادی کے لیئے اپنی جان دے دی۔۔میں تو بابا کو آخری ٹائم مل نہیں پایا دیکھ نہیں پایا۔۔۔اور آپ کہتی ہیں میں ایک غدار ہوں جو اپنی ماں جیسی دھرتی کا محافظ نہیں، میں کیسے اس کی بیٹی کو دوست مانوں بتائیں ماں۔

۔۔آج پھر میں نے زینی کے گھر سے کیپٹن شرما کو نکلتے دیکھا ہے۔۔۔معاذ شدّت غم وغصے سے سرخ ہوتی آنکھیں لیئے ماں سے پوچھ رہا تھا۔۔۔ماں زینی کے بابا سے کیا مجھے غدار سے تعلق رکھنے والے ہر رشتے سے نفرت محسوس ہوتی ہے اور آپ کہتی ہیں بابا کے قاتلوں سے دوستی کر لوں؟

نائلہ بیٹے کو دیکھ رہی تھی شدت غم سے اس کی آنکھیں برسنے کو بیتاب تھی لیکن وہ بیٹے کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔

۔

معاذ کی آواز بلند تھی 10 سالہ زینی نے ساری باتیں سن لی تھیں اور روتے ہوئے گھر بھاگ آئی۔۔۔

اس دن کے بعد سے شوخ وچنچل زینی بلکل خاموش ہو گئی تھی۔اس میں اتنی ہمت نہ تھی نہ ہی اتنی بڑی تھی کہ وہ اپنے بابا سے کوئی سوال کر سکتی۔۔۔۔

معاذ اور زینی سرینگر شہر میں رہتے تھے گھر پاس پاس تھے۔۔۔زینی کے والد پرویز ایک ڈاکٹر تھے اور کٹھ پتلی حکومت کے سیاسی کارکن بھی تھے۔

۔۔انڈین آرمی کے ساتھ ان کے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہ تھے۔۔۔دوسرے لفظوں میں لوگ انہیں انڈیا کا وفادار کتا سمجھتے تھے۔معاذ کے والد تحریک آزادی کے کارکن تھے ،آزادی کی خاطر وہ دشمن کی بربریت کی نظر ہو گئے تھے۔۔دشمن نے انہیں گرفتار کرکے زندہ جلا ڈالا تھا۔۔۔۔۔۔

معاذ کے دل میں دشمن کے خلاف نفرت مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔

9دسمبر 2001

پیاری ڈائری جب سے میں نے ماں کو اپنی نفرت کی وجہ بتائی تب سے زینی دور ہو گئی ہے۔

۔اگر وہ ایک غدار کی بیٹی نہ ہوتی تو پھر میں اُسے ضرور دوست بنا لیتا۔۔

اپریل2010

بابا کے مشن کو تکمیل تک پہنچانا ہے۔۔پیاری ڈائری تم جانتی ہو خالی جذبہ کبھی بھی ہمیں ان کافروں سے جیت نہیں دلا سکتا۔۔۔۔میں ایک کامیاب ڈاکٹر بن گیا ہوں۔۔اور میں چاہتا ہوں کسی طرح انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کروں اور ان کی جڑیں کاٹوں۔۔۔۔بابا سے کیا عہد میں ہر حال میں نبھاؤں گا۔

۔۔۔

10 سال بعد

پرویز زینی کی پڑھائی مکمل ہو گئی ہے۔۔۔ایک دو بہت اچھے رشتے ہیں جو میری نظر میں ہیں۔۔میں چاہتی ہوں اب ا س کے ہاتھ پیلے کر دوں رات کے کھانے کے دوران زینی کی ماں فضیلہ نے پرویز سے کہا۔۔۔۔ماں بابا مجھے شادی نہیں کرنی میں مزید پڑھنا چاہتی ہوں آپ مجھے مزید پڑھنے کیلئے باہر بھجوادیں۔۔۔

اکلوتی بیٹی نے زندگی میں پہلی دفعہ کوئی فرمائش کی تھی یہ فرمائش جائز بھی تھی۔

۔پرویز جانتے تھے کہ ان کی یہ ذہین بیٹی ضرور کچھ الگ کرے گی۔

ضرور بیٹا اگر آپ پڑھنا چاہتی ہیں تو ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔۔۔پرویز نے بیٹی کے سر پر پیار کرتے ہوئے کہا۔۔۔زینی کی آنکھیں محبت کے اس انداز پر نم ہو گئیں، زینی باپ کا شکریہ ادا کر کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔وہ کبھی کبھار معاذ کو دیکھ لیتی تھی۔۔6 انچ سے نکلتا قد چوڑے شانے نیلی آنکھیں۔

۔۔۔۔گوری رنگت۔وہ واقعی کسی سلطنت کا شہزادہ لگتا تھا۔۔۔۔بچپن کی یہ پسندیدگی پتہ نہیں کب زینی کے دل میں محبت کا بیج بو گئی تھی جو گزرے برسوں میں ایک مضبوط درخت کی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔۔۔

کیا ہوتا بابا جو آپ ایمان فروش نہ ہوتے۔۔۔۔بچپن میں کہی گئی معاذ کی باتیں اس کے دل کو چھلنی کر دیتی تھیں۔۔۔بابا میں چاہ کر بھی آپ سے نفرت نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔۔ہاں یہ میرا اس دھرتی سے وعدہ ہے کہ میں ایک ایمان فروش باپ کی بیٹی نہیں بلکہ کشمیر کی بیٹی بن کے دکھاؤں گی۔۔

اے کشمیر میں تیری بیٹی ہوں ہاں یہ وعدہ ہے میرا تجھ سے۔۔۔۔۔

Enjoying this novel?

Tap a star to share your rating

Choose a rating from 1 to 5 stars

Choose your rating

3.0 / 5 · 2 ratings

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Innocent HeroineRevenge Based NovelsRomantic Urdu NovelsSocial IssuesUrdu Novels

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *