Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sehar Hone Tak (Episode 02)

Sehar Hone Tak by Sara Rehman

آج تمہارے بابا کے ساتھ کچھ مہمان آرہے ہیں تم ڈرائنگ روم سیٹ کر دینا زینی۔۔فضیلہ نے زینی سے کہا۔

زینی ماں پھر کافروں کی دعوت ہو گی گھر خوب گلچھڑے اُڑیں گے۔۔۔بابا کو جلتا ہوا کشمیر کیوں نظر نہیں آتا ماں۔۔۔؟ جو انڈین آرمی کی پشت پناہی کرتے ہیں۔۔۔آج زینی پھٹ ہی تو پڑی تھی۔ زینی کی بات سن کے فضیلہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔۔اور وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔

۔۔آگ اور خون کے اس کھیل میں کون غدار ہے اور کون اپنا۔۔۔اس بات کا فیصلہ کرنے کا وقت نہیں آیا تھا۔پرویز جو زینی کا پاسپورٹ اور ضروری چیزیں دینے آئے تھے بیٹی کی بات سن کر اُلٹے قدموں واپس لوٹ گئے۔

ہاں لوٹتے وقت اس کی آنکھوں میں اُتری خون کی سرخی کوئی نہ دیکھ سکا تھا۔۔۔

کہیں دور اب بھی آزادی کا نغمہ گونج رہا تھا، درد بھری آواز میں گانے والے اس شخص کو آج تک کوئی نہ جان سکا تھا ہاں اس کی آواز سے کشمیر کا بچہ بچہ واقف تھا۔

۔

اے کشمیر تیری خاطر میں جاں لٹا کے آیا ہو

تیری قسمت میں لکھے سب اندھیرے مٹا کے آیا ہو۔

اے کشمیر تیری خاطر۔۔ اے کشمیر تیری خاطر

آگ اور خون کی یہ ہولی میں اپنے جسم پہ کھیل آیا۔۔

دشمن کا اک اک وار میں اپنے دل پہ سہہ آیا۔۔

زینی جب بھی یہ الفاظ سنتی تھی۔۔۔اس کے دل کی ہر دھڑکن اس عہد پہ لبیک کہتی تھی۔۔نغمہ تو کب کا ختم ہو گیا تھا لیکن ان الفاظ کی گہرائی اُسے کسی اور دنیا میں لے گئی تھی۔

۔۔فضیلہ کی آواز اُسے سوچوں کی دنیا سے باہر لے آئی تھی۔۔۔بیٹا زینی نائلہ آنٹی کا بیٹا آیا ہے تمہارے بابا کے ساتھ ان کی لائبریری میں ہے۔۔۔چائے تیار کر لو ساتھ میں شامی تل لو او ر بسکٹ نمکو بھی رکھ لینا۔۔۔

نائلہ آنی کا بیٹا ماں۔۔۔؟ زینی نے حیرت سے پوچھا۔۔ہاں وہی اب جلدی کرو۔۔۔مجھے باقی کام دیکھنے ہیں۔۔فضیلہ شائد جلدی میں تھی بیٹی کے چہرے پہ پھیلنے والی حیرت نہ دیکھ پائیں۔

۔۔

معاذ اور پرویز باتیں کر رہے تھے جب زینی چائے کی ٹرالی دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوئی اور وہ دونوں خاموش ہوگئے۔۔۔۔زینی نے سلام کیا اور خاموشی سے چائے سرو کرنے لگی۔۔۔کمرے میں چھائی خاموشی کو پرویز نے توڑا۔۔۔

اور معاذ کو بتایا کہ یہ زینیہ ہے۔۔۔حال ہی میں ماسٹرز کمپلیٹ کر کے آئی ہے ممبئی سے۔۔۔اب مزید تعلیم حاصل کرنے باہر جا رہی ہے۔

۔۔

معاذ نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا۔۔یہ تو اچھی بات ہے انکل اور آج کے دور کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ہماری قوم اعلی تعلیم حاصل کرے۔۔۔زینی انہیں چائے دے کر باہر نکل گئی۔۔۔

زینی دھڑام سے بستر پر گری۔۔یہ یہاں بابا کے ساتھ۔۔۔۔ کیا یہ بابا کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچانا چاہتا۔۔۔؟اللہ نہ کرے۔۔۔لیکن معاذ کو توہماری فیملی سے نفرت تھی۔

۔۔کئی سوال زینی کے دماغ میں سر اٹھارہے تھے۔لیکن کوئی سِرا ہاتھ نہ آیا۔۔۔۔۔زینی بد دل ہو کر ماں کے ساتھ کچن میں کام کرانے لگی۔۔

ماں یہ انیلا خالہ کا بیٹا کیوں آیا تھا۔؟ کیا اسے کوئی کام تھا بابا سے ۔۔۔زینی نے ماں سے پوچھا۔

ہاں بیٹا معاذ برطانیہ سے اسپیشلائزیشن کر کے آچکا ہے وہ ایک کامیاب ڈاکٹر ہے۔۔۔وہ چاہتا ہے تمہارے بابا اسے انڈین آرمی میں کمیشن دلوادیں۔

۔اگر یہ نہ ہوا تو ممبئی میں ہی کسی بڑے ہاسپٹل میں لگوا دیں۔۔وہ یہاں سے اپنی ماں کو بھی لے جانا چاہتا ہے۔۔۔فضیلہ بیگم پھرتی سے کام نمٹا نے کے ساتھ ساتھ زینی کو معاذ کے آنے کا سبب بتانے لگیں۔۔۔یہ بات سنتے ہی زینی کو زوردار چکر آیا اس نے پاس کھڑی ماں کو تھاما اور اپنے آپ کو گرنے سے بچایا۔۔۔فضیلہ زینی کی اچانک طبیعت خراب ہونے پر گھبرا گئیں۔

۔کیا ہوا زینی تم ٹھیک تو ہو نا؟ فضیلہ زینی کو جلدی سے روم میں لے گئیں اور پرویز کو فون کرنے لگیں۔۔۔۔

جلدی آئیں پرویز ۔۔وہ ززززینی۔۔۔۔۔زینی کو چکر آیا اور وہ گرتے گرتے بچی ہے۔۔۔اس کا رنگ ہلدی کی طرح پیلا ہورہا ہے۔۔آپ جلدی سے گھر آجائیں۔۔

زینی کا بلڈپریشر لو ہوا ہے۔۔۔۔کھانے پینے کا خیال نہیں رکھتی کمزوری بھی ہے۔۔۔دوا دی ہے۔

۔۔ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔ڈاکٹر پرویز نے فضیلہ کو تسلی دی۔

کیا دنیا کی محبت اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ آپ اپنے آپ کو اور اپنے خدا کو بھول جائیں۔۔۔طلبِ دنیا ضمیر کو مار دیتی ہے۔۔۔معاذ بھی غداروں میں سے ہو گیا۔۔اپنے بابا کی جلی لاش بھول گیا۔۔کشمیر میں بہتا لہو بھول گیا۔۔۔اپنا فرض بھول گیا۔۔۔۔معاذ تمہیں تو غدار کی بیٹی سے بھی نفرت تھی۔

۔اور اب تم خود ایک۔۔۔اس سے آگے زینی نہ سوچ سکی اور سن ہوتے دماغ کے ساتھ نیند کی گہری وادی میں کھوگئی۔۔

اب کیسی طبیعت ہے زینی بیٹا۔۔۔ڈاکٹر پرویز نے زینی کے سر پہ ہاتھ رکھا اورپوچھا۔۔۔بیٹا آکسفورڈ یونورسٹی میں ایڈمشن ہو چکا ہے۔ پاسپورٹ بھی آگیا ہے۔۔۔دو دن بعد کی ٹکٹ بھی کنفرم ہے۔۔باقی سب انتظامات بھی ہو چکے ہیں۔۔اب جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ میرا بیٹا۔بابا کی ان محبتوں پہ وہ ہمیشہ موم ہو جاتی تھی جو بھی تھے جیسے بھی تھے وہ اس کے بابا تھے۔۔اس کے لیئے تپتی دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں تھے۔زینی اپنے بابا کے گلے لگ گئی اور اور مسکرائے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرنے لگی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *