Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sehar Hone Tak (Episode 13)

Sehar Hone Tak by Sara Rehman

پپ۔۔۔۔پانی۔۔۔۔۔۔پانی بابا۔۔۔۔پانی۔۔۔۔۔۔داؤد موبائل پر مصروف تھا۔۔۔مریم کافی بنانے گئی ہوئی تھی۔۔۔اچانک زینی غنودگی کے عالم میں بابا کو بلانے لگی تھی۔۔۔۔داؤد فوراً اٹھا اور زینی کو سہارا دے کر بیٹھایا اور پانی اس کے منہ سے لگایا۔۔۔۔چند گھونٹ پانی پینے کے بعد زینی کو عجیب سا احساس ہوا تو سر اٹھا کر دیکھا۔۔۔اور ایکدم پیچھے ہٹی۔

۔۔۔آ۔۔آپ۔۔ داؤد۔۔۔۔مریم کہاں ہے۔؟مریم کافی بنا رہی ہے۔۔۔آپ پانی مانگ رہیں تھی۔۔تو میں نے پلا دیا۔۔۔زینی شرمندہ سی ہو کر نظریں جھکا گئی۔۔۔۔اور کہنے لگی۔۔۔سوری آپ کو ڈسٹرب کیا۔۔۔۔۔ لیکن میں تو ڈسٹرب نہیں ہوا زینی۔۔۔داؤد گھمبیر لہجے میں بولا۔۔۔داؤد کی مسلسل اپنی طرف دیکھتی آنکھیں زینی کو عجیب کوفت میں مبتلا کررہی تھیں۔

۔۔۔زینی نے اکتا کر بلینکٹ سر تک لے لیا۔

۔۔اب کیسی طبیعت ہے زینی۔؟داؤد ابھی تک وہیں کھڑا تھا۔۔طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔نیند بھی آرہی ہے مجھے۔۔۔زینی اکتائے ہوئے لہجے میں بلینکٹ سر پر لیے ہوئے بولی۔۔۔زینی میں تمہیں بلکل فورس نہیں کروں گا۔۔۔لیکن درخواست کرتا ہوں۔۔۔

تم ہمیں سب کچھ بتا دو۔۔۔کہ وہ کون لوگ جو تمہاری نگرانی کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں۔؟لیکن ایک بات میں تمہیں ضرور یاد دلا دوں۔

۔۔خطرے میں صرف تم نہیں ہو تمہارے ساتھ ساتھ مریم کو بھی خطرہ ہے۔۔۔میں ہر ممکن کوشش کروں گا کا تمہارا مسئلہ حل کر سکوں۔۔۔تم کشمیری ہو۔۔۔تو پاکستانی ہی سمجھو خور کو تم صرف کشمیر کی ہی نہیں پاکستان کی بھی بیٹی ہو۔۔۔کیونکہ کشمیر ہماری شہہ رگ ہے۔زینی۔۔۔چند لمحے داؤد وہی کھڑا زینی کے جواب کا انتظار کرتا رہا۔۔۔اور پھر مایوس ہو کر مریم کے پاس ہی کچن میں چلا گیا۔

۔۔۔

#####

کچھ تو تھا جو بہت غلط تھا۔۔۔مریم تم ریڈی رہنا۔۔۔ہم کل کی فلائٹ سے واپس جا رہے ہیں۔۔۔داؤد نے مریم کے سر پر بم پھوڑا۔۔۔کیا دماغ ٹھیک ہے تمہارا۔۔۔؟ زینی کو اکیلا۔۔۔وہ اکیلی نہیں ہے۔۔جو کہا وہ کرو۔۔۔کل ٹھیک صبح چار بجے تیار رہنا۔۔۔داؤد اپنی بات کر کے رکا نہیں تھا۔۔۔یہ کافی تو پی کر جاؤ داؤد۔۔۔داؤد کوئی بھی جواب دیئے بغیر روم سے جا چکا تھا۔

۔۔مریم پریشانی سے زینی کے پاس چلی چلی آئی تھی۔۔۔

زینی۔۔۔۔تم نے داؤد سے کچھ کہا۔۔۔۔؟۔مریم پلیز مجھے سونے دو۔۔۔اگر تمہیں یا تمہارے کزن کو مجھ سے مسئلہ ہے تو میں کل ہی اپنی کوئی دوسری رہائش ڈھونڈ لوں گی تمہیں میرے لیئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔زینی نے مضبوط لہجے میں کہا تھا اور بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔زینی کی بات سن کر مریم دکھ سے چند لمحے زینی کو دیکھتی رہی تھی۔

۔پھر نم لہجے میں کہنے لگی۔۔۔زینی تم کوئی رہائش مت دھونڈو۔۔۔داؤد مجھے کل واپس لے جائے گا۔۔۔شاید مجھ میں ہی کوئی کمی ہے مجھے لوگ راس نہیں آتے دوست راس نہیں آتے۔۔۔تم بھی لوگوں جیسی نکلی۔۔اگر بہن سمجھا ہوتا تو آج پل بھر میں غیر نہ کر دیتی۔۔

مریم کیلئے یہی بہترتھا۔۔۔۔مریم کو اتنا کچھ کہنے کے بعد زینی کا دل کٹ رہا تھا۔۔۔لیکن وہ اپنی جنگ میں مریم کو حصہ دار نہیں بنا سکتی تھی۔

۔۔اس کی وجہ سے مریم کسی نقصان سے دوچار ہوتی۔۔یہ زینی کو منظور نہیں تھا۔۔۔زینی سے بات کیئے بنا مریم پیکنگ میں مصروف ہو گئی تھی۔۔۔۔۔

######

پاکستان پہنچ کر گھر خرید لیا گیا تھا۔۔۔۔گھر ڈیکوریٹ کرنے کے بعد وہ سب گھر شفٹ ہو گئے تھے۔۔۔۔حبیبہ بہت خوش تھیں۔۔کیونکہ وہ اپنے ملک واپس آگئی تھی۔۔۔علیشہ بھی خود کو ایڈجسٹ کرنے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔

۔۔

اففف ماما۔۔۔میں تو بہت بور ہو گئی ہوں۔۔۔یہاں پر۔۔مانو بھی نہیں ہے۔۔اور علی کو بھی فرصت نہیں کہ بہن کو بھی ٹائم دے لے۔۔۔۔علیشہ بہت اداسی سے حبیبہ کی گود میں سر رکھ کر کہہ رہی تھی۔۔حبیبہ نرمی سے اس کے بال سہلاتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔میری جان۔۔۔تم اب یہاں فرینڈز بناؤ۔۔۔ویسے بھی چند دن میں تم نے مصروف ہو جانا ہے۔۔۔تم مختلف ہوسپٹلز میں اپلائے کر دو۔

۔۔۔کچھ مصروف بھی ہو جاؤ گی۔۔ایک اور بات مانو بھی کل کی فلائٹ سے آرہی ہے۔۔۔۔

کیا ماما۔۔۔۔مانو آرہی ہے۔۔۔۔علیشہ خوشی سے اٹھ کر بیٹھ گئی اور مانو کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔۔۔

مانو نے نمبر بزی کر دیا تھا۔۔۔علیشہ نے منہ بسورتے ہوئے دوبارہ حبیبہ کی گود میں سر رکھ آنکھیں موند لیں ۔۔

احمد بیٹا کیسے ہو۔۔۔کیسے یاد کیا بیٹا۔

۔خیریت تو ہے نا۔۔۔۔ماما آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔آپ کہاں ہیں اس وقت۔۔میں روم میں ہوں بیٹا اور علیشہ پاس ہے میرے۔۔۔خیریت تو ہے ناں۔۔۔حبیبہ پریشان ہو گئیں تھی۔۔۔۔

جی خیریت ہے ماما۔۔۔۔تیمور انکل کیسے ہیں۔۔اور ماہا آنٹی۔۔ ٹھیک ہیں بیٹا۔۔۔۔حبیبہ دُکھی انداز میں بولیں۔۔۔ماما کیا انہوں نے مانو کے بارے میں پوچھا بھی نہیں۔۔

ان کو نہیں پتہ کہ ان کی کوئی اولاد بھی ہے۔۔۔احمد دکھی انداز میں حبیبہ سے پوچھنے لگا۔۔۔۔نہیں میرے بچے عریشہ اور فاطمہ کے بعد وہ تو جیسے بھول ہی گیا ہے کہ اس کی کوئی اور اولاد بھی ہے۔۔۔اس سب میں مانو کا کیا قصور۔۔۔۔عریشہ احمد سے بات کرتے کرتے ٹیرس پر آگئی تھیں۔۔۔لیکن ماما آپ کو پتہ ہے کل کی فلائٹ سے میں مریم کے ساتھ آرہا ہوں واپس۔

۔مجھے نہیں پسند مریم وہاں اکیلی ہوسٹل میں رہے۔۔مجھے وہاں کا ماحول اور حالات نہیں پسند۔۔۔آپ مریم کو سمجھائیں کہ وہ پاکستان میں پڑھ لے۔۔۔باقی باتیں جب میں کل آؤں گا تب کریں گے۔۔۔اوکے ماما۔۔۔احمد بے حد پریشان تھا۔۔۔احمد کی بات سن کر حبیبہ بھی پریشان ہو گئیں تھی۔۔۔احمد نے کبھی بھی کسی معاملے میں اتنی تفصیل سے کبھی بات نہیں کی تھی۔۔۔حبیبہ نے بھی ذیادہ کچھ پوچھنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔۔۔

اور احمد کو بہت سے دعائیں دے کر فون رکھ دیا تھا۔۔۔اور کچھ سوچتے ہوئے۔۔۔وہی ٹیرس پر بیٹھ گئیں تھی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *