Sehar Hone Tak by Sara Rehman NovelR50623 Last updated: 9 April 2026
No Download Link
342.1K
19
Rate this Novel
Sehar Hone Tak (Episode 01)Sehar Hone Tak (Episode 02)Sehar Hone Tak (Episode 03)Sehar Hone Tak (Episode 04)Sehar Hone Tak (Episode 05)Sehar Hone Tak (Episode 06,07)Sehar Hone Tak (Episode 08)Sehar Hone Tak (Episode 09)Sehar Hone Tak (Episode 10)Sehar Hone Tak (Episode 11)Sehar Hone Tak (Episode 12)Sehar Hone Tak (Episode 13)Sehar Hone Tak (Episode 14)Sehar Hone Tak (Episode 15)Sehar Hone Tak (Episode 16)Sehar Hone Tak (Episode 17)Sehar Hone Tak (Episode 18)Sehar Hone Tak (Episode 19)Sehar Hone Tak (Last Episode)
Sehar Hone Tak by Sara Rehman
اے کشمیر تیری خاطر میں جاں لٹا کے آیا ہو
تیری قسمت میں لکھے سب اندھیرے مٹا کے آیا ہو۔
اے کشمیر تیری خاطر۔۔ اے کشمیر تیری خاطر
آگ اور خون کی یہ ہولی میں اپنے جسم پہ کھیل آیا۔۔
دشمن کا اک اک وار میں اپنے دل پہ سہہ آیا۔۔
زینی جب بھی یہ الفاظ سنتی تھی۔۔۔اس کے دل کی ہر دھڑکن اس عہد پہ لبیک کہتی تھی۔۔نغمہ تو کب کا ختم ہو گیا تھا لیکن ان الفاظ کی گہرائی اُسے کسی اور دنیا میں لے گئی تھی۔
۔۔فضیلہ کی آواز اُسے سوچوں کی دنیا سے باہر لے آئی تھی۔۔۔بیٹا زینی نائلہ آنٹی کا بیٹا آیا ہے تمہارے بابا کے ساتھ ان کی لائبریری میں ہے۔۔۔چائے تیار کر لو ساتھ میں شامی تل لو او ر بسکٹ نمکو بھی رکھ لینا۔۔۔
نائلہ آنی کا بیٹا ماں۔۔۔؟ زینی نے حیرت سے پوچھا۔۔ہاں وہی اب جلدی کرو۔۔۔مجھے باقی کام دیکھنے ہیں۔۔فضیلہ شائد جلدی میں تھی بیٹی کے چہرے پہ پھیلنے والی حیرت نہ دیکھ پائیں۔
معاذ اور پرویز باتیں کر رہے تھے جب زینی چائے کی ٹرالی دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوئی اور وہ دونوں خاموش ہوگئے۔۔۔۔زینی نے سلام کیا اور خاموشی سے چائے سرو کرنے لگی۔۔۔کمرے میں چھائی خاموشی کو پرویز نے توڑا۔۔۔
اور معاذ کو بتایا کہ یہ زینیہ ہے۔۔۔حال ہی میں ماسٹرز کمپلیٹ کر کے آئی ہے ممبئی سے۔۔۔اب مزید تعلیم حاصل کرنے باہر جا رہی ہے۔
معاذ نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا۔۔یہ تو اچھی بات ہے انکل اور آج کے دور کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ہماری قوم اعلی تعلیم حاصل کرے۔۔۔زینی انہیں چائے دے کر باہر نکل گئی۔۔۔
زینی دھڑام سے بستر پر گری۔۔یہ یہاں بابا کے ساتھ۔۔۔۔ کیا یہ بابا کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچانا چاہتا۔۔۔؟اللہ نہ کرے۔۔۔لیکن معاذ کو توہماری فیملی سے نفرت تھی۔
۔۔کئی سوال زینی کے دماغ میں سر اٹھارہے تھے۔لیکن کوئی سِرا ہاتھ نہ آیا۔۔۔۔۔زینی بد دل ہو کر ماں کے ساتھ کچن میں کام کرانے لگی۔۔
ماں یہ انیلا خالہ کا بیٹا کیوں آیا تھا۔؟ کیا اسے کوئی کام تھا بابا سے ۔۔۔زینی نے ماں سے پوچھا۔
ہاں بیٹا معاذ برطانیہ سے اسپیشلائزیشن کر کے آچکا ہے وہ ایک کامیاب ڈاکٹر ہے۔۔۔وہ چاہتا ہے تمہارے بابا اسے انڈین آرمی میں کمیشن دلوادیں۔
۔اگر یہ نہ ہوا تو ممبئی میں ہی کسی بڑے ہاسپٹل میں لگوا دیں۔۔وہ یہاں سے اپنی ماں کو بھی لے جانا چاہتا ہے۔۔۔فضیلہ بیگم پھرتی سے کام نمٹا نے کے ساتھ ساتھ زینی کو معاذ کے آنے کا سبب بتانے لگیں۔۔۔یہ بات سنتے ہی زینی کو زوردار چکر آیا اس نے پاس کھڑی ماں کو تھاما اور اپنے آپ کو گرنے سے بچایا۔۔۔فضیلہ زینی کی اچانک طبیعت خراب ہونے پر گھبرا گئیں۔
۔کیا ہوا زینی تم ٹھیک تو ہو نا؟ فضیلہ زینی کو جلدی سے روم میں لے گئیں اور پرویز کو فون کرنے لگیں۔۔۔۔
جلدی آئیں پرویز ۔۔وہ ززززینی۔۔۔۔۔زینی کو چکر آیا اور وہ گرتے گرتے بچی ہے۔۔۔اس کا رنگ ہلدی کی طرح پیلا ہورہا ہے۔۔آپ جلدی سے گھر آجائیں۔۔
زینی کا بلڈپریشر لو ہوا ہے۔۔۔۔کھانے پینے کا خیال نہیں رکھتی کمزوری بھی ہے۔۔۔دوا دی ہے۔
۔۔ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔ڈاکٹر پرویز نے فضیلہ کو تسلی دی۔
کیا دنیا کی محبت اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ آپ اپنے آپ کو اور اپنے خدا کو بھول جائیں۔۔۔طلبِ دنیا ضمیر کو مار دیتی ہے۔۔۔معاذ بھی غداروں میں سے ہو گیا۔۔اپنے بابا کی جلی لاش بھول گیا۔۔کشمیر میں بہتا لہو بھول گیا۔۔۔اپنا فرض بھول گیا۔۔۔۔معاذ تمہیں تو غدار کی بیٹی سے بھی نفرت تھی۔
۔اور اب تم خود ایک۔۔۔اس سے آگے زینی نہ سوچ سکی اور سن ہوتے دماغ کے ساتھ نیند کی گہری وادی میں کھوگئی۔۔
اب کیسی طبیعت ہے زینی بیٹا۔۔۔ڈاکٹر پرویز نے زینی کے سر پہ ہاتھ رکھا اورپوچھا۔۔۔بیٹا آکسفورڈ یونورسٹی میں ایڈمشن ہو چکا ہے۔ پاسپورٹ بھی آگیا ہے۔۔۔دو دن بعد کی ٹکٹ بھی کنفرم ہے۔۔باقی سب انتظامات بھی ہو چکے ہیں۔۔اب جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ میرا بیٹا۔بابا کی ان محبتوں پہ وہ ہمیشہ موم ہو جاتی تھی جو بھی تھے جیسے بھی تھے وہ اس کے بابا تھے۔۔اس کے لیئے تپتی دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں تھے۔زینی اپنے بابا کے گلے لگ گئی اور اور مسکرائے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرنے لگی۔
