Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sehar Hone Tak (Episode 15)

Sehar Hone Tak by Sara Rehman

رات کے کسی پہر زینی کی آنکھ کھلی مریم کو کمرے میں موجود نہ پا کر اس نے کمرے کی لائٹ آن کی تھی۔۔۔وقت دیکھا تو تین بج رہے تھے۔۔طبیعت بھی پہلے سے بہتر تھی۔۔مریم دیر سے واپس آئی تھی مسلسل رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں تھیں۔اور سوج گئیں تھیں۔۔۔ آتے ہی بستر پر لیٹ گئی۔۔۔۔کیا ہوا مریم۔۔۔۔تم ٹھیک تو ہو؟زینی پر تشویش لہجے میں پوچھتے ہوئے مریم کے پاس آئی۔

۔پلیز زینی مجھے سونے دو۔۔اور جاؤ یہاں سے۔۔مریم غصے سے بولی۔زینی کندھے اچکاتے ہوئے۔۔۔کچن میں چلی آئی تھی۔۔تاکہ مریم اور داؤد کیلئے کافی اور اور کچھ ہلکا پھلکا ناشتہ بنا سکے۔۔۔

#####

سینڈوچز اور کافی بنا کر زینی مریم کو ٹھانے لگی۔۔۔اٹھ جاؤ، جانا نہیں ہے تم نے مریم۔۔۔۔ابھی داؤد بھائی بھی آجائیں گے۔

۔۔۔تمہیں کیا مسئلہ ہے زینی۔

۔جب میں نے اٹھنا ہو گا اٹھ جاؤں گی تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔تم جاؤ یہاں سے۔۔۔۔مریم سخت لہجے میں بولی اور زینی کو چلے جانے کو کہا۔۔۔۔

اگر نہ جاؤں تو۔۔۔۔؟زینی وہی بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی۔۔۔۔ تومیں چلی جاتی ہوں۔۔۔ مریم اٹھتے ہوئے بولی۔۔۔۔

اسلام علیکم خواتین کیسی ہو۔۔۔۔؟اتنے میں داؤد بھی چلا آیا تھا۔۔یہ خواتین کسے کہا تم نے۔

۔۔مریم نے خونخوار نظروں سے داؤد کو گھورا۔۔محترمہ آپ اور زینیہ کے علاوہ بھی کوئی اور ہے یہاں پرکیا۔۔۔؟داؤد معصوم شکل بناتے ہوئے بولا۔۔مریم غصے سے اٹھ کر جانے کی تیاری کرنے لگی۔۔۔۔

######

زینی مریم کو اٹھتا دیکھ کر کچن میں چلی آئی۔۔۔زینی کو کچن میں جاتا دیکھ کر داؤد بھی پیچھے چلا آیا تھا۔۔۔۔

زینی پھرکیا سوچا ہے آپ نے۔

۔۔؟داؤد نے بغیر کسی تمہید کے بات شروع کی۔۔۔زینی کچھ بھی کہے بغیر کافی کپ میں ڈالنے لگی۔میں نے کچھ پوچھا ہے آپ سے زینی۔۔۔۔؟داؤد اب کی بار قدرے سختی سے بولا تھا۔۔۔میں آپ کی کسی بات کا جواب دینے کی پابند نہیں ہوں اور راستہ دیں مجھے۔۔۔۔۔؟زینی ٹرے اُٹھانے کیلئے مڑی۔۔۔۔داؤد اس انداز میں کھڑا تھا۔۔۔۔کہ زینی اگر تھوڑا بھی آگے یا پیچھے ہوتی۔

۔۔داؤد سے ٹکرا جاتی۔۔۔۔داؤد بنا کچھ کہے زینی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔میں نے کہا ہے مجھے راستہ دیں۔۔ہٹیں سامنے سے۔۔زینی اب کی بار دبے دبے انداز میں چیخی تھی۔۔اگر نہ ہٹوں تو۔۔۔؟داؤد پر اسرار انداز میں مسکراتے ہوئے بولا۔۔تو میں یہ گرم کافی آپ پر گرا دوں گی۔۔زینی شدید غصے میں بولی تھی۔۔۔۔داؤد نے زیادہ تنگ کرنا مناسب نہ سمجھا اور سائیڈ پرہوتے ہوئے بولا۔

اس گمان میں مت رہناکہ میں بھی مریم کے ساتھ جا رہا ہوں۔۔۔۔پوری بات کا پتہ لگائے بغیر میں کہیں نہیں جاؤں گا۔۔۔اور سن لو میں پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہوں۔۔۔۔داؤد تلخ انداز میں کہنے لگا۔۔۔

داؤد کی بات سن کر زینی لرز گئی تھی۔۔۔داؤد کے لہجے میں کچھ ایسا تھا۔۔جس نے زینی کو پریشان کر دیا تھا۔۔مریم بے حد ناراض تھی۔۔زینی سے بات کرنا تو دور کی بات زینی کی طرف دیکھ بھی نہیں رہی تھی۔

۔۔مریم کافی لے لو اور سینڈوچ بھی۔۔زینی نے ایک دفعہ پھر مریم سے بات کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔تمہارا مسئلہ کیا ہے زینی۔۔۔؟زینی کی بات سن کر مریم بھڑک اٹھی تھی۔۔۔میں نے کہا ہے کافی لے لو۔۔۔میں نے جو لینا ہوگا لے لوں گی۔۔خود بنا بھی سکتی ہوں۔۔۔؟ہاتھ پاؤں بھی سلامت ہیں میرے۔۔میری فکر کیوں کر رہی ہو زینی۔میں آخر لگتی کیا ہوں تمہاری۔۔۔مریم داؤد کی موجودگی کی پروا کیئے بغیر غصے سے بولی تھی۔

۔۔شولڈر بیگ بائیں کندھے پر ڈالے۔۔ایک ہاتھ سے ہینڈ کیری کو گھسیٹتے۔۔۔زینی سے ملے بغیر باہر جانے کیلئے مڑی۔۔۔۔زینی آنکھوں میں آئے آنسو چھپانے کی غرض سے رخ موڑ گئے۔۔۔۔۔۔

اوکے زینیہ میں بھی اب چلتا ہوں کافی بہت مزے کی تھی۔کل ملتے ہیں دوبارہ۔۔داؤد ہاتھ ہلاتے ہوئے باہر نکلتا چلا گیا ۔۔۔مریم اور داؤد کے جانے کے بعد۔۔۔زینی وہیں فرش پر بیٹھ کر شدت سے رونے لگی۔

۔میرے خدایا۔۔مجھے ہی کیوں راس نہیں آتے۔۔رشتے دوست لوگ۔۔۔۔میرے نصیب میں صرف ذلت اور رسوائی ہی لکھی ہے۔۔میں کیا کروں۔۔۔میری رہنمائی کر۔۔۔۔میرے مالک۔۔۔۔مریم کو اس آگ سے بچانے کیلئے۔۔۔میں نے اسے کچھ نہیں بتایا۔۔۔۔مجھے داؤد کی نیت پر شک نہیں ہے۔۔۔۔میں نہیں چاہتی میری وجہ سے کوئی مصیبت جھیلے۔۔۔میری رہنمائی کر مجھے راستہ دکھا۔۔

۔۔۔

موٹی توند والا ٹیکسی ڈرائیور ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر شراب کے نشے میں دھت پڑا تھا۔۔۔۔اس کی جیب میں موجود ٹرانسمیٹرپچھلے 15 منٹ سے مسلسل وائبریٹ کررہا تھا۔۔۔۔ہیلو۔۔۔اتنی صبح صبح کیا مصیبت پڑ گئی ہے۔۔۔کون ہے جلدی بولو۔۔۔ٹیکسی ڈرائیور نیند میں بولا تھا۔۔ابے گدھے میں تیرا باپ بول رہا ہوں۔۔۔تجھے میں نے نگرانی کیلئے بھیجا تھا یا سونے کیلئے ٹرانسمیٹر سے باس کی دھاڑ سنائی دی ایجنٹ چارلی کی نیند اڑ گئی تھی وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا تھا۔

۔۔ببب۔۔۔ببب۔۔۔باس آپ وہ ذرا میری۔۔۔۔۔

کیارپورٹ ہے ٹارگٹ کی گدھے۔۔باس کی دھاڑتی آواز سنائی دی۔۔۔باس ٹارگٹ ابھی وہیں ہی ہے۔اور اس کے ساتھ والی دوسری لڑکی۔۔؟پوری رپورٹ چاہیے مجھے دس منٹ کے اندر۔۔۔یس۔۔۔یس باس۔۔۔۔باس نے غصے سے کہتے ہوئے ٹرانسمیٹر ٹیبل پڑ پٹخا تھا۔۔۔

ایجنٹ چارلی نے جو راؤنڈ کیمرے زینی کے روم میں فائر کیے تھے ان کی مدد سے وہ روم کا جائزہ لینے لگا۔

۔۔۔۔زینی کوروم میں اکیلا دیکھ کر وہ دھک سے رہ گیا۔۔۔فوٹیج کو بیک کر کے وہ مریم کی غیر موجودگی کی وجہ ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔۔

ٹھیک دس منٹ بعد ٹرانسمیٹر وائبریٹ کرنے لگا۔۔۔ باس ٹارگٹ اپنے ٹھکانے پر موجودہے۔۔۔ٹارگٹ کے ساتھ والی لڑکی اپنے کزن کے ساتھ صبح صبح سامان سمیت جاچکی ہے۔۔تم مجھے اب بتا رہے ہوکہ وہ جاچکی ہے۔۔کیا تم نے ان کا پیچھا کیا ہے کہ وہ کہاں گئیں ہیں۔

۔نن۔۔۔۔نہیں باس مجھے۔۔۔ایڈیٹ۔۔تمہیں بات تک ٹھیک سے نہیں کرنی آتی۔۔۔تم مجھے اس مشن کیلئے اسسٹ کیا کرو گے۔۔میں ابھی تمہارے بارے ہیڈکوارٹر رپورٹ کرتا ہوں۔۔۔۔۔تم جیسے گدھوں کو رکھا کس نے ہے۔۔چھٹانک بھر کی لڑکی تمہارے سامنے سے نکل کر غائب ہو گئی اور تم نشے میں دھت پڑے ہو۔۔۔باس دھاڑتے ہوئے ایجنٹ چارلی پر بھڑاس نکالنے لگا،سس۔سوری سر غلطی ہوگئی۔

۔۔باس نے غصے سے کال کاٹی۔۔اور ٹیبل کیساتھ اٹیچ بیل کا بٹن دبا کر اپنے رائیٹ ہینڈ کو بلانے لگا۔۔

جیسے ہی وہ دونوں ہیتھرو ائر پورٹ پہنچے۔۔۔ایک خوش شکل لڑکا داؤد سے آکر ملا۔۔۔مریم اسے دیکھ کر سائیڈ پر ہو گئے ۔ساتھ رکھا ہوا میگزین اٹھا کر دیکھنے لگی۔۔داؤد اور دوسرا لڑکا۔۔۔کسی بات پر قہقہہ لگا کر ہنسے تو مریم خفگی سے داؤد کو دیکھنے لگی۔

۔۔مریم کو اس انداز میں دیکھتا پا کر داؤد اس لڑکے کو لیکر مریم کے پاس چلا آیا۔۔مریم یہ میرا بیسٹ فرینڈ زعیم ہے۔۔۔اور زعیم یہ مریم ہے۔۔داؤد دونوں کا تعارف کرانے لگا۔۔

اسلام علیکم مریم کیسی ہیں آپ۔۔۔؟داؤد سے بہت دفعہ آپ کا ذکر سنا۔۔۔سعدابھی اور بھی کچھ کہہ رہا تھا کہ مریم نے اسے ٹوک دیا۔میں ٹھیک ہوں۔یہ سن کر خوشی ہوئی کہ آپ داؤد کے دوست ہیں۔مریم خشک لہجے میں کہتی۔۔۔رخ پھیر گئی۔۔مریم کے اندازپر زعیم شرمندہ سا ہوگیا۔۔مریم میں نے کچھ ضروری کام ختم کرنے ہیں تم زعیم کے ساتھ ہی پاکستان جاؤ گی۔۔زعیم سے تمہیں ملوانے کا یہی مقصد تھا میرا۔داؤد خفگی سے کہنے لگا۔۔مریم غصے سے دانت پیسنے لگی۔۔داؤد خدا حافظ کہتے ہوئے جانے کیلئے مڑا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *