Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sehar Hone Tak (Episode 19)

Sehar Hone Tak by Sara Rehman

داؤد کو پل پل کی رپورٹ مل رہی تھی۔۔جیسے ہی جہاز نے اڑان بھری۔۔۔داؤد نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔اس کا دماغ تیزی سے تانے بانے بن رہا تھا۔۔۔۔اسے اس موٹی توند والے انڈین ٹیکسی ڈرائیور کو پکڑنا تھا۔جسے اس نے پچھلی رات بے تحاشہ شراب پلا دی تھی۔۔جس پر اُسے شک تھا۔۔کہ وہ زینیہ کی نگرانی پر معمور ہے۔۔۔اس کی گاڑی میں لگائے بگ نے داؤد کا شک یقین میں بدل دیا تھا۔

۔

داؤد نے ریڈ تھنڈر کو فوراً اپنے ہوٹل بلایا تھا۔۔اور اس کے ذمہ اس ٹیکسی ڈرائیور کو اغوا کرانا اور اس سے مشن کے بارے معلومات اگلونا تھا۔۔۔ریڈ تھنڈر ایک منجھا ہوا آئی ایس آئی ایجنٹ تھا اور پچھلے دو سال سے لندن میں موجود تھا۔۔۔اب تک را ء اور موساد کے کئی مشن ناکام کروا چکا تھا۔۔۔

اسلام علیکم سر۔

۔۔۔!! ریڈ تھنڈر بے حد مئودب انداز میں داؤد سے ملا تھا۔

۔۔ وعلیکم سلام ینگ مین۔۔۔۔کیسے ہو۔۔۔؟ داؤد مسکراتے ہوئے بڑی گرم جوشی سے ریڈ تھنڈر سے ملا۔۔مجھے بے حد خوشی ہوئی سر۔۔۔مجھے بہت شوق تھا آپ سے ملنے کا۔۔آپ کب آئے یہاں پر۔۔۔۔ریڈ تھنڈر داؤد سے بے حد اشتیاق سے پوچھنے لگا۔۔۔۔داؤد مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔ینگ مین ملنے کا تو شوق مجھے بھی تھا تم سے۔بہت کارنامے سن رکھے ہیں تمہارے۔۔۔تو سوچا۔

۔عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیں۔۔۔اپنی تعریف پر ریڈ تھنڈر مسکراتے ہوئے بولا ۔

آپ آرڈر کریں سر۔۔۔انشا ء اللہ آخری سانس تک لڑوں گا پاکستان کیلئے۔۔۔ہزاروں زندگیاں بھی ہوں تو اس سبز ہلالی پرچم پر قربان کردوں۔۔۔۔جب تک سانس ہے مجھ میں۔۔۔۔دشمنوں کی سانسیں بند کرنا فرض ہے مجھ پر۔۔۔انشا ء اللہ فرض کی تکمیل میں کوتاہی نہیں ہو گی سر۔۔۔

۔

ریڈ تھنڈر کا مضبوط لہجہ اور جنونی انداز اور پاکستان سے عشق دیکھ کر داؤد کی آنکھ بھی نم ہوگئی تھی۔۔۔ریڈ تھنڈر کا جنون دیکھ کر ہی داؤد سمجھ گیا تھا۔۔۔۔جب تک یہ جنون یہ عشق زندہ ہے۔۔۔۔پاکستان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتا۔۔۔را ء کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے۔۔۔اللہ نے ریڈ تھنڈر کو داؤد کی مدد کیلئے بھیج دیا تھا۔

۔۔۔۔

داؤد نے اب تک کے سار ے واقعات اور حالات ریڈ تھنڈر کو بتا دیے تھے۔۔۔۔ داؤد کی بات سن کر ریڈ تھنڈر واقعی سوچ میں پڑ گیا تھا۔۔۔ اور چند لمحے سوچنے کے بعد بولا تھا۔۔۔ اگر وہ مریم کو پکڑنے میں ناکام ہو گئی ہیں۔۔۔تو اب ہر صورت زینیہ کو اغوا کرنے کی کوشش کریں گے۔۔۔یا ہوسکتا ہے اب تک زینیہ اغوا ہو چکی ہو۔۔۔۔ریڈ تھنڈرپر تشویش لہجے میں بولا تھا۔

۔۔۔

آر ٹی کی بات سن کر داؤد نے داد دینے والے انداز میں آر ٹی کا کندھا تھپتھپایا تھا۔۔اور فکرمندی سے بولا تھا۔۔۔میری ہر چیز پر نظر ہے۔۔۔ہم ہیڈ کوارٹر سے اجازت ملنے کے انتظار میں نہیں بیٹھ سکتے۔ینگ مین تم ٹیکسی ڈرائیور کو سنبھالو۔۔۔زینیہ والا معاملہ میں خود دیکھ لوں گا۔۔داؤد سنجیدگی سے بولا۔۔۔ ریڈ تھنڈر نے اثبات میں سر ہلایا۔

۔۔اور جانے کیلئے اجازت چاہی۔۔۔

ریڈ تھنڈر کے جانے کے بعد داؤد اپنا حلیہ بدل کر زینیہ کے ہاسٹل چلا آیا تھا۔۔۔تاکہ اُسے کوئی پہچان نہ سکے۔۔۔ہاسٹل پہنچ کر جیسے ہی وہ زینیہ کیروم والی ونگ میں پہنچا۔اسے عجیب ہلچل کا احساس ہوا تھا۔اسی ونگ سے دو نرسز ایک مریض کو اسٹریچر پر لے کے جارہی تھیں۔۔۔

داؤد کے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔۔

۔اسے کسی انہونی کا احساس ہوا تھا۔۔۔اپنے ایجنٹس کو ایمبولینس پر اٹیک کرنے کا حکم دے کر۔۔۔وہ گیٹ کی جانب بھاگا تھا۔۔۔۔ دو لوگوں نے نا محسوس انداز میں ایمبولینس کو گھیر لیا تھا۔ایک شخص نے پھرتی سے ڈرائیور سے بات کرنے والے انداز میں۔۔ڈرائیور پراچانک حملہ کیا۔۔۔۔گردن کی مخصوص رگ کو اس انداز میں دبایا وہ چند سیکنڈ کے اندر بے ہوش ہوگیا تھا۔

دوسرے نامعلوم شخص نے ایمبولینس میں موجود دوسرے شخص کی کنپٹی پر گن رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔اتنے میں وہ دونوں نرسیں اسٹریچر کو ایمبولینس تک لے آئیں تھیں۔۔۔داؤد بھاگتے ہوئے پھرتی سے ان دونوں نرسز کی مدد کی غرض سے اسٹریچر کو ایمبولینس میں منتقل کرنے لگا۔۔۔

ایمبولینس میں بیٹھتے ہی۔۔۔دونوں نرسز کو غیر معمولی پن کا احساس ہوا۔

۔۔۔۔داؤد نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ایجنٹ کو ایمبولینس چلانے کا اشارہ کیا۔۔اور پوری قوت سے ایک نرس کی گردن پر اپنے بائیں ہاتھ سے ضرب لگائی۔۔۔دوسری نرس کو سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر سائلنسر لگی گن کا ٹریگر دبایا اور پورا میگزین خالی کر دیا ۔مریض کے چہرے سے کپڑا ہٹاتے ہی۔داؤد نے اپنے لب بھینچ لیئے تھے۔اگرچند منٹ وہ لیٹ ہوجاتا تو زینیہ۔

۔۔اس سے آگے وہ سوچ ہی نہ سکااور پوری قوت سے یرغمال بنے شخص کے سر میں ضرب لگائی۔۔۔۔۔ایمبولینس پوری رفتار سے نامعلوم مقام کی طرف بھاگ رہی تھی۔۔۔

کچھ ہی دور جانے کے بعد اسے محسوس ہوا کہ ایک گاڑی مسلسل ان کا تعاقب کر رہی ہے۔۔۔ داؤد نے گاڑی کی رفتار بڑھانے کا حکم دیا۔۔۔زینیہ کے گال تھپتھپا کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی۔۔۔داؤد نے زینی کی ناک کو چند سیکنڈ کیلئے دبایا اور اس کے منہ پر مضبوطی سے ہاتھ رکھ لیا۔

۔۔چند لمحے کے بعد زینیہ کھانسنے لگی۔۔۔اور اسے ہوش ہوگیا۔۔گاڑی مسلسل ان کا تعاقب کر رہی تھی۔۔۔لیکن فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے فائر نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔ان کے پاس بس چند منٹ تھے۔۔۔۔فاصلہ کم ہوتے ہی وہ فائرنگ کی زد میں آجاتے۔۔۔۔

زینیہ کو جیسے ہی ہوش آیا اس نے آنکھیں کھولیں تو۔۔ داؤد کو خود پر جھکے پایا۔۔۔۔?۔Zeni Are u ok…..

زینیہ نے کوئی بھی جواب دیئے بغیر داؤد کو دونوں ہاتھوں سے پرے دھکیلا۔

۔اور اٹھنے کی کوشش کی۔۔۔

زینیہ میں نے کچھ پوچھا ہے۔۔۔۔داؤد نے اب کی بار سخت لہجے میں کہا۔۔۔۔

تت۔۔ تم نے مجھے اغوا کیا ہے۔۔۔کہاں لے کے جارہے ہو مجھے۔۔۔زینیہ چیخی۔۔۔۔

آواز آہستہ زینی۔۔۔۔میں تمہارا ملازم نہیں ہوں جو بکواس سنوں۔۔۔میں تمہیں کچھ بتانے کا پابند نہیں ہو ں۔۔جیسا کہا ہے ویسا کرو۔۔۔نہیں تو چلتی گاڑی سے دھکا دے دوں گا تمہیں۔

۔اور تمہارے دوست جو تمہیں اغوا کر کے لے جارہے تھے۔۔۔ وہ تمہاری ٹوٹی ہڈیاں جڑوانے کیلئے۔۔ہسپتال ضرور لے جائیں گے۔۔۔۔داؤد سخت لہجے میں بولا اور سختی سے زینی کی کلائی تھامی۔۔۔۔

ایجنٹس کو پلان سمجھا کر۔۔۔جھاڑیوں کے قریب اس نے ایمبولینس رکوائی۔۔۔اور زینیہ کی کلائی تھامے بھاگتے ہوئے جھاڑیوں کی اوٹ میں چھپ گیا۔۔۔۔

ایک ایجنٹ ایمبولینس کے نیچے اس انداز میں لیٹ گیا۔

۔جیسے ٹائر بدل رہا ہو۔۔۔مزید دو ایجنٹس چیتے کی سی پھرتی سے درختوں پر چڑھ گئے۔۔۔۔اور پوزیشن سنبھال لی۔۔۔۔تعاقب کرتی گاڑی ایمبولینس کے قریب آکر رک گئی تھی۔۔۔۔گاڑی میں دو لوگ موجود تھے۔۔۔۔

چند سیکنڈ میں ہی درخت پر پوزیشن سنبھالے دونوں ایجنٹس کی گولیوں نے انہیں بھون کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔

اور ان دونوں کو گھسیٹ کر ایمبولنس میں ڈالا۔

۔۔۔

داؤد کو خطرہ ٹلنے کی اطلاع دے کر وہ خود ایمبولینس بھگاتے ہوئے نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہوگئی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

داؤد نے مسلسل زینی کی کلائی سختی سے پکڑی ہوئی تھی۔۔۔تکلیف کی شدت سے زینی کی آنکھیں نم ہوگئیں تھیں۔۔۔وہ ہاتھ چھڑوانے کی مسلسل کوشش کر رہی تھی۔۔لیکن پروا کس کو تھی۔۔

میرا بازو چھوڑیں۔

۔۔مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔۔۔زینی کمزور سی آواز میں بولی تھی۔۔۔سر میں درد کی شدت سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔۔۔

وہ نماز پڑھ کر جائے نماز لپیٹے جیسی ہی مڑنے لگی تھی۔اسے لگا تھاجیسے کسی نے اس کے سر میں اینٹ دے ماری ہو۔۔۔اس کا ذہن تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔جب ہوش آیا تو داؤد اس پر جھکا ہوا تھا۔۔

اتنے میں گولیاں چلنے کی آواز آئیں تھی۔

۔۔زینی نے خوف کی شدت سے آنکھیں بند کر لیں تھی۔اس کے لب خوف کی شدت سے لرز رہے تھے۔بے اختیار زینی نے داؤد کا بازو تھاما تھا۔داؤد کا دل شدت سے چاہا تھا۔اسے خود میں سمیٹ لے۔۔یا۔۔۔اتنا دور لے جائے کہ وہ ظالم زینی تک نہ پہنچ سکیں۔۔۔

سحر زدہ سا بے اختیار وہ زینی کو دیکھ رہا تھا۔خود فراموشی کی سی کیفیت میں اس نے زینی کے حسین چہرے کو بے اختیار چھوا تھا۔۔اتنے میں ایجنٹ نے اسے راستہ صاف ہونے کی اطلاع دی تھی۔۔۔لمحوں کا سحر ٹوٹا تھا۔وہ زینی کا ہاتھ تھامے گاڑی کی طرف بھاگا تھا۔۔۔

گاڑی میں بیٹھ کر داؤد نے اپنی جیکٹ زینی کو تھماتے۔۔اور کیپ اس انداز میں پہنائی کہ کسی دشمن کو زینیہ پر شک نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *