Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sehar Hone Tak (Episode 14)

Sehar Hone Tak by Sara Rehman

مریم پیکنگ میں مصروف تھی۔۔۔مریم کا سیل فون وائبریٹ کرنے لگا۔۔۔

بولو داؤد۔۔۔۔مریم مصروف اندازمیں بولی۔۔۔۔طبیعت ٹھیک ہے ناں۔۔۔داؤد تفکر سے پوچھنے لگا۔۔۔مجھے کیا ہوگا داؤد۔۔۔مجھ جیسوں کو کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔کچھ ہو جائے تو دھرتی کا بوجھ ہلکا ہو جائے ساتھ میں تمہارے پیرنٹس کا بھی۔۔۔۔مریم عجیب لہجے میں بولی تھی۔۔۔کیا مطلب۔۔۔

۔مریم۔۔۔۔ایسے کیوں کہہ رہی ہو۔۔۔پاگل ہو گئے ہو کیا۔۔۔۔کام کی بات کرو، داؤد میں بہت مصروف ہوں۔۔پیکنگ کر رہی ہوں۔۔۔مکمل پیکنگ کر لو مریم۔۔اپنے ڈاکومنٹس بھی رکھ لینا۔۔۔اور کوئی حکم رہتا ہو تو وہ بھی دے سکتے ہیں آپ۔۔۔مریم تلخی سے ہنسی۔۔۔جب دماغ درست ہو جائے گا تمہارا تو بات کروں گا تم سے۔۔۔داؤد نے غصے سے کہتے ہوئے موبائل رکھ دیا تھا۔

۔۔۔

موبائل رکھ کر داؤد نے سائیڈ ٹیبل پر رکھی زینی کی ڈائری اُٹھا لی۔۔اور اور پڑھنے لگا۔۔۔

دنیا میں واحد کتابیں ہی ہیں۔۔جن سے آپ لڑ لو۔۔۔جن کے سامنے دل کے سارے دکھ کہہ لو۔۔۔رو لو۔۔۔ہنس لو۔۔۔پھر بھی وہ آپ کو نہیں کبھی نہیں چھوڑتیں۔۔۔بلکہ ہمیشہ ساتھ نبھاتی ہیں۔۔۔آپ کو حوصلہ دیتی ہیں آپ کی امید بنتی ہیں۔۔۔۔آپ کو کبھی چھوڑ کر نہیں جاتیں۔

۔۔

اووہ۔۔۔۔۔تو میڈم کی کتابوں سے بھی دوستی ہے۔۔۔داؤد ہنستے ہوئے خود سے بولا۔۔۔اور اگلا صفحہ کھول کر پڑھنے لگا۔۔۔

زندگی کی دم توڑتی سانسیں بھی آس کی نازک ڈور سے ہمیشہ بندھی رہتی ہیں۔۔میرے انتظار کی دم توڑتی سانسیں بھی زندگی کی سانسوں جیسی ہیں۔۔۔آس کو مٹنے نہیں دیتی آنکھ کو بند نہیں ہونے دیتی۔۔۔کیا پتہ کب وہ لوٹ آئے۔

۔۔

ڈائری پر لکھی یہ چند سطریں۔۔۔پڑھ کر داؤد کو اپنا دل کٹتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ایسا عجیب احساس جاگا تھا۔۔۔کہ داؤد کو انتہائی ٹھنڈ میں بھی پیشانی پر پسینے کے ننھے قطرے امڈتے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔۔۔۔

وہ دل ہی دل میں زینی سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔کون ہے وہ زینی۔۔۔؟؟ تو زینیہ پرویز تمہارے دل میں کوئی اور بستا ہے۔۔۔؟کوئی جواب نہ پا کر داؤد کو سگریٹ کی طلب شدت سے جاگی تھی۔

۔۔۔

سگریٹ سلگاؤداؤد ٹیرس پر چلا آیا تھا۔۔۔۔یخ بستہ ہواؤں کے سرد تھپیڑے بھی دل میں لگی ہوئی آگ بجھانے میں ناکام ہوتے محسوس ہوئے تھے۔۔۔کچھ پل بے چینی سے ٹہلنے کے بعد داؤد نے دوبارہ زینی کی ڈائری اٹھائی تھی اور پڑھنے لگا تھا۔۔۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا۔۔کہ ابھی اڑ کر پہنچ جاتا۔۔۔زینی کو جھنجھوڑ کر پوچھ لیتا۔۔۔۔اس کے سارے درد ساری تکلیفیں چن لیتا۔

۔۔۔عجیب احساس تھا۔۔۔عجیب سا درد عجیب سی جلن تھی۔۔۔۔اندر مچلتے طوفان سے بچنے کی خاطر وہ ڈائری پر لکھی چند سطریں پڑھنے لگا تھا ۔

جو لوگ راس آجائیں۔۔۔۔وہ کبھی نہیں نکلتے نہ دل سے نہ دماغ سے۔۔۔۔

کبھی کبھی ہم سے بہت بڑی بھول ہو جاتی ہے۔۔۔۔کسی ایسے شخص کو اپنا سمجھنے کی بھول جو آپ کا کبھی اپنا تھا ہی نہیں۔۔۔ویسے بھی اوقات انسان کی نہیں ہوتی احساس و جذبات کی نہیں ہوتی۔

۔۔۔مادیت پرستی پر کبھی بھی احساسات جیسے غریب جزبے برتری حاصل نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔انگلیوں میں دبا سگریٹ سلگ سلگ کر ختم ہونے کو آگیا تھااور داؤد کی انگلیوں کو جلا رہا تھا۔۔۔لیکن داؤد کو محسوس ہی نہیں ہورہا تھا ۔

کیسی اذیت ہے خدارا۔۔۔۔مجھے کیا ہو رہا ہے۔۔۔کرتی ہے کسی کو پسند تو کرے۔۔۔۔مجھے کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔ داؤد نے بے دردی سے سگریٹ کو جوتے سے کچلا تھا۔

۔داؤد خود سے پوچھ رہا تھا۔۔محسوس کرنے سے دل میں درد کے سوا اور کوئی احساس نہیں جاگ رہا تھا۔۔ بے چینی سے داؤد نے مریم کا نمبر ملایا تھا ۔۔۔

#######

ہیلو کون ہے۔۔۔مریم کی نیند میں ڈوبی آواز سنائی دی تھی۔۔۔میں داؤد ہوں مریم۔۔۔داؤد عجیب لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔داؤد کی آواز سنتے ہی مریم نیند میں بولی ابھی سونے دو۔۔میں نے پیکنگ کر لی ہے۔

۔کہا تو تھا تمہیں۔۔۔مریم میری بات سنو۔۔۔۔تم میری دوست ہو نا۔۔۔داؤد منت بھرے انداز میں بولا تھا۔۔۔۔

بولو داؤد میں سن رہی ہوں۔۔۔

مریم نے ہاتھ بڑھا کر ٹیبل لیمپ آن کیا۔۔۔اور چپل پہن کر کچن میں چلی آئی تھی۔۔۔

داؤد نے اپنی کیفیت ایک ہی سانس میں مریم کو سنائی۔۔۔۔مریم کا دل ڈوب سا گیا تھا۔۔۔داؤد تمہیں زینی سے محبت ہو گئی ہے۔

۔ایک آنسو ٹوٹ کر کچن کے فرش میں جزب ہو گیا تھا ۔۔۔بڑی دقتوں سے مریم نے ایک جملہ مکمل کیا تھا۔۔۔داؤد خود اسقدر اُلجھا ہوا تھا کہ ۔۔۔مریم کا ٹوٹا لہجہ محسوس نہ کر پایا تھا۔۔۔۔

مریم نے یہ کہہ کر فون بند کیا تھا۔۔۔اور بھاگتے ہوئے روم سے نکل کر گراؤنڈ میں چلی آئی تھی۔۔۔۔

مریم کی بات سن کر داؤد ساکت ہوا تھا۔۔۔۔پوری رات داؤد کے ذہن میں یہی جملہ گونجتا رہا تھا۔۔۔۔داؤد تمہیں زینی سے محبت ہو گئی ہے۔۔ایک بھاری رات تھی۔۔۔اس کا اختتام تو بہر حال ہو گیا تھا۔لیکن دو دلوں پر ایک گہرا اثر چھوڑ گئی تھی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *