Sehar Hone Tak by Sara Rehman NovelR50623 Sehar Hone Tak (Episode 06,07)
No Download Link
Rate this Novel
Sehar Hone Tak (Episode 06,07)
Sehar Hone Tak by Sara Rehman
معاذ شام کی چائے پر پرویز صاحب کے گھر موجود تھا۔۔۔۔۔جب سے زینی گئی تھی وہ بیٹوں کی طرح پرویز اور فضیلہ کا خیال رکھ رہا تھا۔۔آج بھی شام کی چائے پر فضیلہ نے نائلہ اور معاذ کو بلایا تھا۔۔۔۔
معاذ میں معذرت خواہ ہوں۔۔۔میری تمام تر کوششوں کے باوجود بھی۔۔۔۔۔تمہیں فوج میں کمیشن نہیں مل سکا۔۔۔۔اس کی وجہ تمہارے والد صاحب ہیں۔۔۔کیونکہ وہ کافی عرصہ تک ہندو آرمی کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے تھے۔
۔۔۔میجر شکلا کو تو تم جانتے ہی ہو۔۔۔وہ کسی قیمت پر بھی تم پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔۔۔
پرویز صاحب کی بات پر معاذ کا چہرہ بلکل سردہو گیا تھا۔۔
ممبئی ہاسپٹل کا اپائنمنٹ لیٹر معاذ کو تھماتے ہوئے معاذ صاحب نے مزید کہا۔۔
تمہاری قابلیت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے تمہیں جاب خود آفر کی تھی۔
۔۔یہ تمہارے مجھ سے ملنے اور جاب کیلئے مجھ سے بات کرنے سے پہلے کی بات ہے۔
۔
لیکن میں اس انتظار میں تھا کہ تم مجھ سے خود بات کرو۔۔۔میرا بات کرنا اور تمہیں جاب آفر کرنا شائد پسند نہ آئی۔۔۔پرویز نے معاذ کو سرسری انداز میں اپائنمنٹ لیٹر دیر سے دینے کی وجہ بتائی۔۔۔۔
معاذ ان کی بات پر شرمندہ ہوتے ہوئے سر جھکا گیا۔۔۔۔اور ان کا شکریہ ادا کرنے لگا۔۔۔۔
انٹرنیشنل سٹم کمپیٹیشن اینڈ ایونٹس کے سائنسی مقابلے میں پہلے انعام کی حقدار قرار پانے والی ایک آٹھ سالہ بچی فاطمہ نور ہے۔
۔۔جس نے یہ مقابلہ جیت کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔۔
آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ اس بچی کا آئی کیو لیول 162ہے۔۔جو آئن سٹائن کے آئی کیو لیول سے بھی دو درجے زیادہ ہے۔۔۔
پاکستانی اور غیر ملکی نمائندے بار بار اس خبر کو نشر کر رہے تھے۔۔۔
اور فاطمہ کے بابا ماما۔۔۔۔خوشی سے بے حال تھے۔۔۔
جانِ بابا۔۔۔۔مانگو بابا سے کیا گفٹ لینا ہے۔
۔۔۔فاطمہ کے بابا فاطمہ کو پیار کرتے ہوئے فاطمہ سے پوچھ رہے تھے۔۔۔۔اور ماما فاطمہ کی پسندیدہ ڈشز بنا رہیں تھیں۔۔۔انہیں اپنی بچی کی غیر معمولی کامیابی سے جہاں خو شی ہو رہی تھی وہیں۔۔۔دل میں اک انجان خوف کنڈلی مار کے بیٹھ گیا تھا۔۔۔
بابا یہ پہلے کبھی کچھ بتاتی ہے جو اب بتائے گی۔۔۔مانو نے جھٹ سے بابا کے گلے میں دونوں بازو لاڈ سے ڈالتے ہوئے کہا۔
۔۔ایک زبردست سا ڈنر۔۔۔پھرررر ڈھیر ساری آئی سکریم اور پھررررر آپ ہمیں ٹوائز لے کر دیں گے اس کے بعد لمبی سسسسساری لونگ ڈرائیو۔۔۔ہے ناں فاطی میں ٹھیک کہہ رہی ہوں ناں۔۔۔۔
فاطمہ نے بھی اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔وہ مانو کی کسی بات سے انکار نہیں کر سکتی تھی۔۔۔مانو اس کی اور وہ مانو کی جان تھی مانو او فاطمہ جڑواں تھیں۔۔۔مانو جتنی چنچل شوخ اور بیوقوف تھی۔
۔۔۔فاطمہ اتنی سی عمر میں اتنی ہی سمجھدار اور خاموش تھی۔۔
عام بچوں کی طرح ضدی نہیں تھی۔۔۔
تیمور درانی اور عریشہ کے دو ہی بچے تھے۔۔۔فاطمہ اور مانو۔۔جو ان کی کل کائنات تھے۔۔۔
عریشہ جلدی سے ریڈی ہو جائیں۔۔۔آج ڈنر باہر کریں گے اور ڈنر کے بعد لانگ ڈرائیو۔۔۔۔تیمور عریشہ کو اپنا پر وگرام بتانے لگے۔۔۔
چار سیاہ رنگ کی گاڑیوں نے ان کی گاڑی کو گھیرے میں لے لیا تھا۔
۔۔وہ چاہ کر بھی گاڑی کو اس گھیرے سے باہر نہیں نکال سکتا تھا۔۔۔اس نے گاڑی روک دی تھی۔۔۔۔نامعلوم افراد نے انہیں بیہوش کر دیا اور اپنی مطلوبہ چیز نکال کر جہاں سے آئے تھے اسی طرف مڑ گئے۔۔
انہیں جب ہوش آیا تو انہوں نے اپنے آپ کو گاڑی میں موجود پایا۔۔۔۔۔گاڑی میں ان کی بیٹی اور بیوی ابھی تک بیہوش تھیں۔۔۔۔لیکن اُسے موجود نہ پا کر خوف اورصدمے سے اس کا وجود کسی مجسمے کی مانند ساکت رہ گیا تھا۔
۔۔۔۔
زینی یارر آئیڈیا تو برا نہیں ہے۔۔۔۔۔اس طرح بور ہونے سے بہتر ہے کہ ہم کوئی مصروفیت ڈھونڈ لیں۔۔۔۔بس کلاسسز سٹارٹ ہونے سے پہلے ہی اس سائنس سنٹر کا پتہ لگواتے ہیں۔۔۔آخر داؤد میاں کس کام آئیں گے۔۔۔۔مریم پرجوش انداز میں زینی سے کہنے لگی اور ساتھ ہی داؤد کو کال کرنے لگی۔۔۔۔
Episode 7
اپنے جامد ہوتے حواسوں پر قابو پاکر وہ اپنی ہمسفر کو ہوش میں لانے کی سعی کرنے لگے۔۔۔۔کچھ وقت کے بعد انہیں بھی ہوش آگیا تھا۔۔۔اسے نہ پا کر وہ تیمور کو ساکت نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔۔۔ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
تیمور نے ساکت سی عریشہ کو ساتھ لگا کر تسلی دینے کی کوشش کی۔۔۔۔عریشہ کا سکتا ٹوٹا۔۔۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔
۔۔۔تیمور وہ۔۔۔ فا۔۔طمہ۔۔ک ک۔۔کو ئی۔لے گ۔۔ء۔۔وہ۔۔ممم۔۔۔ری۔۔ فف۔۔۔ا۔طمہ۔۔۔۔ان کے منہ سے ٹوٹے پھوٹے لفظ نکل رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔عریشہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو کر تیمور کی بانہوں میں جھول گئیں۔تیمور بڑی مشکل سے گھر تک پہنچے تھے
########
کام ہو گیا ٹونی۔۔۔؟ باس کو بتا دے۔۔
لڑکی کو مطلوبہ مقام تک پہنچا دیا ہے۔
۔۔
ڈاکٹر عالم بس پہنچنے والے ہوں گے۔
۔۔
تم ۔۔۔
ڈاکٹر عالم کو سمجھا دینا۔۔۔ کہ کیا کرنا ہے۔۔۔۔غلطی کی گنجائش نہ رہے۔۔۔ ایکس فائیو ٹونی کی اب ضرورت نہیں رہی۔۔اس کو ختم کر دو۔۔۔۔نقاب پوش مکروہ آواز والے باس نے ایکس فائیو کو ہدایات دے کر بٹن دبایا۔۔۔۔۔کمرے کے ساتھ والی دیوار سرک کر ایکس فائیو اور باس کے درمیان حائل ہو گئی۔۔۔۔۔
باس اپنے آفس پہنچ کر اپنے رائٹ ہینڈ کو ہدایات دینے لگا۔
۔۔
جیسے ہی ایکس فائیو کا کام ختم ہو اس کو بھی اوپر پہنچا دینا۔۔۔
اس گھنا ؤنے کھیل کا وہ کوئی ثبوت نہیں رکھنا چاہتے تھے۔۔۔
یہ بہت بڑی منصوبہ بندی تھی۔۔۔۔۔اور انتہائی گھناؤنی بھی۔۔۔۔۔
میجر سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے نا۔۔؟۔سب کچھ بھول جانا چاہیے اس لڑکی کو۔۔۔یہی بہتر ہو گا۔۔۔۔مشن میں کامیابی کیلئے یہ سب کچھ ضروری ہے گدھے۔
۔۔۔۔باس چنگھاڑتے ہوئے آواز میں میجر کو ہدایات دے رہا تھا۔۔
میجر تم اپنے پالتو کتے کے حوالے کر دو اس کو۔۔۔۔اس کو کہنا یہ امانت ہے اس میں خیانت نہ ہو۔۔۔وقت آنے پر ہم اس سے واپس لے لیں گے۔۔۔۔اور تم نظر رکھنا اس پر زرا بھی گر بڑ کرے تو دماغ میں سوراخ کر دینا۔۔۔۔
########
آج شام کو آجانا داؤد۔۔۔مریم نے میسج ٹائپ کر کے داؤدکو بھیجا۔
۔
داؤد کا فوراً جواب آیا۔۔
کس خوشی میں۔
مریم کو داؤد کے جواب پر تپ چڑھی۔۔۔
لیکن وہ مر یم ہی کیا۔۔۔جو اپنے غصے کا بدلہ نہ لے۔۔۔
تمہارے لیئے ایک گوری ڈھونڈی ہے۔۔۔۔اس کا دیدار کرنے کے لیئے بلا رہی۔۔۔مریم نے چڑ کر جواب ٹائپ کر کے داؤد کو بھیجا۔۔
مریم کا جواب پڑھتے ہی داؤد کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔
۔۔داؤد کچھ سوچ کے میسج ٹائپ کرنے لگا….مجھے تو لگا تھا جب سے تمہیں وہ ساکت مجسمہ ٹائپ دوست ملی ہے۔۔۔میری ضرورت ہی نہیں رہی۔۔۔۔ویسے گوری کے بجائے تم اپنی اسٹیچو دوست جیسی کوئی گونگی حسینہ ڈھونڈ لیتی تو اچھا تھا۔۔ زینی کے بارے داؤد کے نادر خیا لات سن کر مریم سچ مچ چِڑ گئی تھی۔۔۔۔اور جلدی جلدی جواب لکھنے لگی۔۔۔۔موٹے بلے۔۔۔زینی کے سامنے تو تم گوتم بدھ کو بھی مات دینے لگتے ہو۔
۔ اور شرافت کیسے سجالیتے ہو منہ پہ تم آؤ تو تمہاری اصلیت سے آگاہ کرتی ہوں زینی کو۔۔جواب ٹائپ کر کے مریم نے موبائل بیڈ پر پھینکا۔۔۔اور زینی کو داؤدکے آنے کے بارے بتانے لگی۔۔۔۔
یونی ورسٹی وہ دونوں باقاعدگی سے جانے لگی تھیں۔۔۔۔مصروف رہنے کی غرض سے مریم نے بھی زینی کے ساتھ قریبی ریسرچ سنٹر جانا شروع کر دیا تھا۔۔۔مریم بھی پریکٹیکی بہت کچھ سیکھ رہی تھی۔
۔۔اور زینی کے اس آئیڈیئے کی تہہ دل سے مشکور تھی۔۔۔
اتنی ٹف پڑھائی کی وجہ سے وہ ابھی تک لندن نہیں گھوم سکیں تھی۔۔۔زینی کا تو ایک ہی مقصد تھا اسے گھومنے پھر نے سے دلچسپی ہی نہیں تھی۔۔لیکن مریم کو اس بات کا شدت سے احساس تھا۔۔۔اس نے سوچا تھا۔۔۔سمسٹر بریک ہوتے ہی وہ زینی اور داؤد لندن ضرور گھومیں گے۔۔۔
ملک کے معروف اور مشہور صنعت کی فطین بیٹی کو اغوا ہوئے آج پندرہ دن گزر چکے تھے۔
۔۔تیمور نے اس مقصد کے لیئے سپیشل پولیس تک کی خدمات لے کے دیکھ لیں تھیں۔۔۔لیکن یوں لگتا تھا کہ فاطمہ کو زمین کھا گئی ہے یہ پھر آسمان نگل گیا ہے۔۔۔۔
تیمور اور عریشہ غم سے نڈھال تھے۔۔۔۔۔ان پر تو قیامت گزر چکی تھی۔۔لوگ تو آہستہ آہستہ اس بات کو بھول رہے تھے۔۔۔لیکن وہ دونوں اپنے جگر کے ٹکڑے کی جدائی میں پل پل مر رہے تھے۔۔۔انہیں یہ بات چین نہیں لینے دیتی تھی کہ ان کی بیٹی کہاں اور کن حالات میں ہو گی۔
۔۔مانو کو تو گویا چپ لگ گئی تھی۔۔۔ہر وقت سہمی سہمی نظروں سے ہر کسی کو دیکھتی تھی۔۔۔تیمور نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے اسے اور عریشہ کو اپنے بڑے بھائی صاحب کے پاس کچھ عرصہ کیلئے کینیڈا بھجوا دیا تھا۔۔۔
لمبا تڑنگا شخص جس کے پچکے گال اور باہر کو نکلی سرخ آنکھیں اس کی شکل کو اور وحشت ناک بناتی تھیں۔۔۔بے چینی سے اپنے خاص کمرے میں اپنے رائٹ ہینڈ کا انتظار کر رہاتھا۔
۔۔۔وہ اس معاملے کو کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا تھا۔۔۔ اتنے میں اسے رائیٹ ہینڈ کے آنے کی اطلاع ملی۔۔۔
سر اس کی پچھلی یاداشت کو ختم کر دیا گیا ہے۔۔۔۔۔لڑکی کو ہوش بھی آگیا ہے اسے کچھ یاد نہیں۔۔۔گڈ ویری گڈ۔۔۔آگے کے معاملات خود دیکھو۔۔۔میرا نہیں خیال کہ اب تمہیں مزید ہدایات کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔باس نے گلاس میں بچی کھچی شراب کو منہ میں انڈیلا اور جانے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
