Saza By SI Writes Readelle50234 Last Episode part 1
Rate this Novel
Last Episode part 1
ساری رات بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے لگائے وہ کب سو گئی ۔ اسے خبر ہی نہ ہوئی ۔
صبح کی تیز دھوپ نے کھڑکی سے اسکے کمرے میں آ کر ہر طرف اجالا کر ڈالا۔
مندی مندی آنکھوں ، اور بھاری ہوتے سر کے ساتھ وہ ابھی اٹھ کر منہ ہاتھ دھونے کا ارادہ رکھتی تھی۔
لیکن اس وقت دھڑک سے اس کے کمرے کا دروازہ کھلا۔ سامنے موجود ہستی کو دیکھ اُسکی آنکھیں پوری طرح کهل گئیں۔ دانین آنٹی – لبوں سے ابھی اس کا نام پوری طرح ادانہیں ہوا تھا کہ وہ چیل کی طرح اس پر جھپٹ پڑیں ۔
دونوں ہاتھوں سے اسکی گردن کو اتنی زور سے دبایا کہ ایک پل کیلئے اسے اپناسانس رکتا محسوس ہوا ۔
بد ذات لڑکی ، تیری اتنی ہمت ، تونے مجھ سے میرا بیٹا چھینا ، میں تجھ سے تیری سانسیں چھین لوں گی ۔
دانین کے غصے کے ساتھ ساتھ گردن پر ہاتھوں کی گرفت بھی بڑھتی جا رہی تھی ۔
چھچھ ۔۔۔ چھوڑیں …. چھوڑیں مجھے۔
رکتے سانس کے ساتھ بمشکل وہ بس اتناہی بول پائی۔
مگر دانین کا اسکی جان لینے کا جنون بڑھتا ہی جارہا تھا۔
چھوڑو میری بیٹی کو۔۔۔۔
اِس سے پہلے کہ وفا کا سانس پوری طرح بند ہو جاتا۔
مریم نے دانین کو کندھوں سے پکڑ کر پیچھے دھکیلا۔
یکدم وفا کی جان میں بھی جان آئی۔
گہرے گہرے سانس لے کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی۔
کچھ توقف کے بعد ہراساں نظروں سے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔ جو پل میں اس کی ڈھال بن گئی تھی۔
خبردار دانین ۔
جو اب تم نے میری بچی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا۔
وفا کی حالت دیکھ مریم کو بھی طیش آگیا۔
دونوں ماں بیٹی نے مل کر میرے بیٹے کو مار ڈالا۔
اور اب میرے سامنے ایک دوسرے کو بچاتے پھر رہے ہو ۔
دانین نے اپنے غصے کی لپیٹ میں انہیں بھی لیا ۔
دانین راۓ زادہ ابھی اسی وقت یہاں سے چلی جاؤ ۔
ورنہ میں سارے لحاظ بھول کر پولیس کو بلوا لوں گی ۔
مریم کی دهمکی پر وه طنزیہ ہنسی ۔
پولیس تو اب تمہارے گھر آئے گی۔
بہت جی لی سکون کی زندگی۔
دانین رائے زادہ کے بیٹے کو مار کر تم دونوں نے سوچ بھی کیسے لیا کہ سکون کا ایک پل بھی تم دونوں کو میسر ہوگا ؟
دانین کی دھمکی پر وفا کو حیرت نہ ہوئی۔
اسے اندازہ تھا کہ یہ سب ہوگا۔
مگر اتنی جلدی ؟؟ اس بات کا شاید اس نے تصور نہ کیا تھا۔
تین دن بعد کورٹ میں پیشی ہے۔
اپنی اِس منحوس بیٹی سے بولنا کہ بنا اپنا اور ہمارا وقت ضائع کیے چپ چاپ اپنا جرم قبول کر لے۔
ورنہ اگر ہم نے اپنے طریقے سے قبول کروایا تو وہ طریقہ تم دونوں کو ہی پسند نہیں آئے گا ۔
دانین کی دی گئی معنی خیز دھمکی پر وہ دونوں ہی جی جان سے کانپ گئیں ۔
ان دونوں کے فق چہرے دیکھ کہ وہ ایک بار پھر ان سب طنزیہ مسکراہٹ اچھال وہاں سے چلی گئی۔
تم ٹھیک ہو ۔ اس کے جاتے ہی مریم وفا کیطرف متوجہ ہوئی ۔ ہاں ماں میں ٹھیک ہوں۔
کل کے مقابل آج اس کا اندا نارمل تھا۔
تمہیں اِس پاگل عوت کی باتوں پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
اور تم فکر نہ کرو۔
میں تمہارے لیے ایک اچھا سا وکیل ہائر کرتی ہوں۔
بس تم چپ رہنا۔
تم دیکھ لینا میں تمہیں جیل نہیں جانے دوں گی۔
مریم کے انداز میں بے چینی اور اپنے لیے فکر دیکھ اسے خوشی ہوئی۔
اب اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ماں ۔
رائے زادہ فیملی کی پاو رکو آپ اچھے طرح جانتی ہیں۔
ان سے کوئی غلطی سے بھی نہیں ٹکرا سکتا۔
اور اس بار وہ لوگ حق پر ہیں۔
میں نے سچ میں ان کے بیٹے کا قتل کیا ہے۔
اور دانین رائے زادہ بولے یانہ بولے ۔
میں عدالت میں اپنا جرم قبول کرلوں ۔
اس راستے پر چلنے سے پہلے میں اپنا انجام جانتی تھی ۔
وہ تھکے تھکے انداز میں بیڈ پر ڈھ سی گئی ۔
تم ایسی باتیں کیوں کر رہی ہو۔
مایوسی کفر ہے۔ اور ویسے بھی تم نے کسی شریف ، اچھے انسان کو نہیں بلکہ ایک درندے کا خاتمہ کیا ہے۔
جسے ویسے بھی مر جانا چاہیے ۔
اگر تم نے اسے مارا تو ایک طرح سے قانون کی مدد ہی کی ہے۔ اگر قانون کو اس کے اتنے قتل اور زیادتیوں کا علم ہو جاتا تو وہ ضرور اُسے سزائے موت سناتی ۔
مجھے یقین ہے۔ قانون ہمارے ساتھ ضرور انصاف کرے گا۔
نہیں ماں – قانون اندھا ہوتا ہے۔
وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ میں نے کیسے انسان کو مارا ہے۔
وہ بس یہ دیکھے گا کہ میں نے قتل کیا ہے۔
اور ویسے بھی جس قانون سے کل ، ہمیں انصاف نہیں ملا۔ وہ قانون آج کیا ہمارے ساتھ انصاف کرے گا۔
قانون امیروں کی جیبوں میں رہتا ہے۔
اور رائے زادہ کی پاور سے آپ مجھ سے زیادہ واقف ہیں۔
وہ خود بھی اس تلخ حقیقت سے واقف تھی۔
پھر بھی خود کو اوراسے تسلی دینے کے لیے وہ اپنے دل کو ایک کمزور سی امید کی ڈور تھمائے بیٹھیں تھیں۔
مگر آج اپنی ہی بیٹی کے منہ سے اِس قدر کڑوی حقیقت سن کر انہیں لگا کہ واقعی میں ان کی نفرت نے وفا کو عمر سے زیادہ بڑا کر دیا ہے۔
💞💞💞
تین دن بعد آج وہ دونوں عدالت جانے کیلئے تیار تھیں۔
مریم کا دل بار بار ڈوب کے ابھر رہا تھا۔
ناجانے عدالت کیا فیصلہ سنائے گی۔
ڈرائنگ روم میں جلے پیر کی بلی کی طرح ادهر سے اُدھر چکر کاٹتے ہوئے وہ بے چینی سے وفا کا انتظار کررہی تھی۔
دل بارہا وقت کے یہیں تھم جانے کی دعا کر رہا تھا۔
مگر ایسا ممکن نہ تھا۔
آخر کار وفا بھی تیا رہو کر آگئی۔
شادی کے بعد مريم کے دوبارہ اس کی الماری کو اسٹائلش ڈریسز سے بھر دیا تھا۔
مگر آج وہ وہی پرانے کپڑے زیب تن کر آئی تھی جو وہ بچین سے کرتی آئی تھی۔
پھیکے رنگ کا ہاف وائٹ کلر کا حد سے زیادہ کھلا سوٹ ، جو اس کے نازک سے وجود پر بے ڈھنگے انداز میں ٹکا تھا۔
وہی نا جانے کتنے سالوں پرانی چادر کو اپنے ارد گرد لپیٹ رکھا تھا ۔
ایک بار پھر مریم کو اپنے رویے پر جی بھر کے پچھتاوا ہوا۔
مگر اب گزرا وقت واپس نہیں لایا جا سکتا تھا۔
ہاشم بھی آگیا تھا۔ اور اس کے ساتھ دو لیڈی کانسٹیبل بھی آ گئیں ۔
ہاشم نے بھی ایک نظر وفا کے حلیے کی طرف دیکھا۔
ان تین دنوں میں پوری طرح ریسرچ سے وہ یہ بات تو جان گیا تھا۔ کہ وفا کے آج تک کی زندگی آسان نہی رہی۔
پھِر بھی اُسنے اتنا بڑا رسک لیا ۔
سچ میں وہ لڑکی بہت بہادر تھی۔
ویسے تو رائے زادہ خاندان نے قتل کا مقدمہ لڑنے کے لیے وکیل آج سے تین دن پہلے ہی ہائر کر لیا تھا۔
مگر التمش راۓ زادہ نے وفا کے خلاف رپورٹ صبح آ کر کٹوائی تھی۔
وجہ شاید یہی تھی کہ وہ التمش راۓ زادہ کی بیوی ہے اُسکی عزت ہے۔ اور وہ اپنے گھر کی عزت کو ایک رات کے لیئے بھی جیل کی چار دیواری میں نہی دیکھ سکتا تھا۔
جہاں ان تین دونوں میں رائے زادہ خاندان کے وکیل نے کیس جیتنے کی پوری تیاری کر لی تھی۔ وہیں ہاشم نے بھی اپنی سی کوشش کر رکھی تھی۔
لیڈی کانسٹیبل نے آگے بڑھ کر اسے ہتھکڑی لگانا چاہی۔
مگر ہاشم کی سخت گھوری پر اُسکے قدم وہیں تھم گئے۔
وفا خاموشی سے انکے پاس آ کھڑی ہوئی ۔
آنٹی آپ عدالت پہنچیں ۔میں انکو لے کر عدالت آتا ہوں۔ انشاءاللہ کیس ہم لوگ ہی جیتیں گے۔
ہاشم کی تسلّی پر جہاں مریم نے بے بسی سے ہاں میں سر ہلایا۔ وہیں وفا کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔
وہ تو التمش کا دوست تھا ۔اور قاعدے کے مطابق اسے اِسوقت راۓ زادہ کے خاندان کی سائڈ ہونا چاہئے تھا۔ پھِر یہ اُسکی ماں کو تسلّی کیوں دے رہا تھا ۔
اپنی ماں کے گلے لگ اُسکا دل چاہا وہ آج پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔
لیکِن اگر وہ رو پڑی تو اُسکے حوصلے پست ہو جائیں گے۔
اور شاید اُسکا رونا مریم کے دل پر قیامت برپا کر دے گا۔
اس لیے بمشکل خود کو مضبوط ظاہر کر کے سر جھکائے جھکائے وہ لیڈی کانسٹیبل کے ساتھ پولیس جیپ تک چلی گئی ۔
مریم نے منہ پر ہاتھ رکھ اپنی سسکیوں کو روکنے کی کوشش کی مگر وہ ایک ماں تھیں۔ چاہ کر بھی اپنا دکھ چُھپا نہی پا رہی تھی۔ایک بیٹی اور شوہر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھونے کے بعد اب وفا کو کھونے كا حوصلہ انکے پاس نہی تھا۔
آپ فکر نہ کریں آنٹی ۔
میں نے سارے انتظام کر دیئے ہیں ۔
انشاءاللہ میری بہن کو ایک بھی رات جیل میں نہی گزارنی پڑے گی ۔ایک ہی دن میں کیس ختم ہو جائے گا ۔
اور ہماری بہن آزاد ہو کر آئے گی ۔
ہاشم کے ایک بار پھِر تسلّی دینے پر انہوں نے اثبات میں سر تو ہلا دیا تھا ۔
مگر راۓ زادہ کی پاور کے آگے اُسکی یہ تسلّی بے معنیٰ لگ رہی تھی۔
💞💞💞
سب لوگ عدالت میں مجتمع ہو کر جج صاحب کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔
التمش راۓ زادہ وکیل اور باقی سارے معاملات پر دھیان دے رہا تھا۔
آج اُسکے بھائی کے قتل کا کیس تھا ۔
اور مقتول اُسکی بیوی ۔
پریس پوری کوشش کر رہی تھی ۔ کہ کسی نہ کسی طرح اندر کی خبر انکو مل جائے ۔
ویسے بھی انکو رائے زادہ فیملی کی چٹ پٹی خبر ملے کافی عرصہ ہو گیا تھا۔
اسی وجہ سے اسنے صبح جا کر پولیس اسٹیشن رپورٹ درج کروائی ۔ تاکہ وفا کے لیئے کوئی مشکل پیش نہ آئے ۔
کیونکہ اگر عدالت کی کارروائی کے بعد وفا بے قصور ثابت ہو گئی ۔
تب وہ اسے منہ دکھانے لائق نہی رہے گا۔
اور ویسے بھی وفا اب بھی اُسکی بیوی تھی
ا وہ نہی چاہتا تھا کہ اسکی بیوی کا نام ٹی وی چینل اور اخبار کی سرخیوں کا حصہ بنے۔
💞💞💞
بنا کسی کی طرف نگاه غلط ڈالے وہ کٹہرے میں خاموشی سے سرجھکائے کھڑی تھی ۔
دانین باربار نفرت بھری نگاہ کبھی مریم تو کبھی وفا پر ڈالتی۔ نظروں سے ہی آگ برساتے ہوئے وہ شاید ان دونوں کو نگاہوں سے بھسم کر دینے کی خواہش رکھتی تھی۔
وفا کی ساتھ صرف اس کی ماں تھی ۔
جو ایک طرف خاموشی سے بیٹھی من ہی من میں ورد الہی کر رہی تھی۔
دل عدالت کے اس کمرے میں سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا۔ دوسری طرف پورا رائے زادہ خاندان تھا۔
جن میں سے تقریبا سب کی نظروں میں اس کے لیے غصہ و نفرت کے تاثرات بھرے تھے۔
سب کچھ سیٹ کرکے التمش جیسے ہی عدالت کے کمرے میں داخل ہوا۔
سب سے پہلی نظر کالی چادر میں سرجھکائے کٹہرے میں کھڑی وفا پر گئی۔
اجڑی ویران وہی حالت جس میں وہ اسے سے پہلی بار ملا تھا۔ افسوس کی کتنی ہی لہریں اسے وجود میں سرایت کر گئیں۔
کاش جو کچھ بھی ہوا اسکے بارے میں آپ مجھ سے ایک بار بات کر لیتیں ۔
مگر شاید ہمارے دو / تین دنوں کے رشتے میں اعتبار نامی کوئی شے نہ تھی۔
اسی وجہ سے شوہر ہو کر بھی میں اب تک غیروں کی طرح ہر معاملے سے انجان ہوں۔
کیوں ہوا۔ کیسے ہوا ۔ کس لیے کیا گیا۔
ہاشم نے بھی اسے کچھ نہیں بتایا تھا۔
اسے اِنتظار کی سولی پرلٹکا کر معاملے کی تہہ تک جانے کا بول کر وہ دوبارہ غائب ہی گیا تھا۔
صبح اسٹیشن میں ہی اس سے ملاقات ہو پائی۔
جج کے آنے کا جیسے ہی اعلان ہوا ویسے ہی ہر طرف موت سی خاموشی چھا گئی۔
مریم کا دل اوچھل کے حلق میں آ گیا۔
جبکہ دانین کے چہرے کی مسکراہٹ انکا رہا سہا سکون غارت کر گئی۔۔
جج کے احترام میں ساری عدالت کھڑی ہوئی۔
اور وکیلوں نے مؤدب انداز میں جھک کر سلام کیا۔
جیسے ہی جج اپنی مخصوص نشست پر براجمان ہوا۔
باقی سب بھی اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے ۔
چشمہ آنکھوں پر چڑھا کر جج نے پانچ سے دس منٹ کے درمیان اپنے سامنے رکھی فائل کو کھول کر اس پر نظریں جمائے رکھیں ۔ عدالت کی کاروائی شروع کی جائے۔
کچھ توقف کے بعد خاموش کمرے میں جج کی آواز گونجی۔
تو خوف کی کئی لہریں مریم کے وجود میں سرایت کر گئیں۔
دانین کا وکیل کھڑا ہوا۔
پیچھے مڑ کر ایک نظر ایک نظر دانین کی طرف معنى خیز نظروں سے دیکھا۔
دانین نے بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے کوئی اشارہ کیا۔
جبکہ ان کی یہ اشارے بازی کسی اور نے نوٹ کی ہویا نہ کی ہو ۔ مگر التمش نے بخوبی نوٹ کر لی۔
انکے اس عمل پر حیرانی بھی ہوئی ۔
مگر یہ وقت سوال و جواب کا نہی تھا ۔
جناب والی ۔۔۔۔
آپ کے سامنے اِس وقت جس کیس کی فائل رکھی گئی ہے۔
يقيناً آپ نے اُس کیس کی اہم سرخیوں سے یہ اندازہ لگالیا ہو گا کہ یہ عدالت آج آخرکار کس فیصلے کے مطالبے کی خاطر مجتمع ہوئی ہے۔
جج صاحب یہ کیس بہت سیدھا اور صاف ہے ۔
کٹہرے میں کھڑی یہ معصوم نظر آنے والی لڑکی ” وفا صفدر خان ” در حقیقت اپنے اندر گھناؤنا روپ چھپائے کھڑی ہے۔
اس نے وفا کے نام کے آگے سے التمش کا نام ہٹا دیا تھا۔
اور یہ سب بھی دانین کے حکموں میں سے ایک تھا۔
تاکہ رائے زادہ خاندان کا نام بدنام نہ ہو۔
جناب والی !
معصوم سی نظر آنے والی یہ حسينہ در حقیقت ایک بدچلن لڑکی ہیں۔
لڑکوں کو اپنے حُسن کے جال میں پھانسنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔
اپنی بیٹی پر لگی تہمت پر جہاں مریم صدمے میں آگئی ۔
وہیں التمش کا بھی خون کھول گیا۔
غصہ تو ہاشم کو بھی بہت آیا۔
مگریہ عدالت تھی۔
جہاں ہرانسان اپنے فرض اور عہدے کے باعث بے بس تھا۔
ایک نظر اپنے وکیل کی جانب دیکھ اِس تہمت کو رد کر دینے کا اشارہ کیا۔
جس پر وکیل نے اسے کچھ دیر صبر رکھنے کا بول کر منہ دوبارہ جج کی طرف کر لیا۔
لڑکوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسانے کا شوق ان کے دماغ پر اسقدر حاوی ہو گیا کہ شادی ہو جانے کے بعد بھی انہوں نے اپنے گندے کاموں کو خیرباد نہیں کیا ۔
بلکہ جاری رکھا۔
شادی کے تیسرے دن التمش رائے زادہ کو نیند کی گولیاں کھلا کر یہ ان کے چھوٹے بھائی کو لے کر رات و رات روشن ولاء سے فرار ہوگئیں۔
پہلے تو ہادی رائے زادہ ان کی محبت میں پاگل ہو کر ان کے ساتھ چل دیئے۔
مگر پهر ان کو احساس ہوا کہ وہ یہ سب کر کے اپنے بھائی کے ساتھ دھوکا کررہے ہیں
تب انہوں نے اِن محترمہ سے واپس چل کر سب سے معافی مانگ کر زندگی کی نئی شروعات کرنے کا مشورہ دیا۔
جو کہ انہیں بالکل پسند نہ آیا۔
لڑائی ہوئی ، وہ لڑائی بڑھتے بڑھتے اسقدر بڑھ گئی کہ انہوں نے ہادی رائے زادہ کی جان لے لی۔
رائی کے برابر سچ کے ساتھ پہاڑ متبادل بے بنیاد الزامات لگاتے ہوئے اُس وکیل کا دل ایک بار نہ لرزا –
یہ شاید اس کا روزمرہ پیشہ تھا ۔
یا رائے زاداؤں کی طرف سے ملی رقم نے ضمیر کی آواز دبا دی تھی ۔ مریم کا وجود ان الزمات پر پل پل بے جان ہوتا جا رہا تھا۔ التمش نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر دانین کی طرف دیکھا۔
جس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ بکھری تھی۔
یہ ضرور اس کا ہی کارنامہ تھا۔
ورنہ اُس نے تو وکیل سے سچ بے نقاب کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی ۔
آئی آبجیکٹ مائے لارڈ –
میرے قابل دوست میری مؤکل پر بنا کسی ثبوت کے بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں ۔
مریم کے وکیل نے یکدم کھڑے ہو کر بولا تو ایک پل کے لیے دانین کا وکیل گڑبڑایا۔
مگر پھر پُر اعتمادی سے گویا ہوا۔
مائے لارڈ وکیل صفائی میری کاروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آبجیکشن آوور رول ۔
آپ کو اپنی مؤکل کی صفائی کا موقع دیا جائے گا۔
جج صاحب کے آرڈرپر وہ خاموشی سے بیٹھ گیا۔
عجب بے بسی کی کیفیت ماحول میں پھیل گئی تھی۔
مائے لارڈ۔۔۔۔
ایک بچی جب اسکول سے کالج پھر یونیورسٹی میں قدم رکھتی ہے۔ تو اُسے اسکے ماں باپ سے زیادہ اس کے دوست زیادہ جانتے ہیں۔ کیونکہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی نوجوان نسل میں کچھ ایسی خواہشات و جذبات بیدار ہوتے ہیں۔
جن کا ذکر وہ چاہ کر بھی اپنے ماں باپ سے نہیں کر سکتے ۔
کچھ ایسا ہی حال ان محترمہ کا بھی تھا۔
لوگ سوشل ایکٹیویٹی ، اور کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں۔
مگر وفا صفدر خان کی زندگی میں کھیلنے کا سب سے بہترین آلہ دل تھا۔
عشق ، پیار ، محبت یہ وہ جال تھے۔
جس کے ذریعے یہ معصوم لڑکوں کو اپنے حسن کے جال میں پھانستی تھیں ۔
اور جیسے کہ وکیل صفائی کو ان الزامات کے بے بنیاد ہونے پر اعتراضات ہیں۔۔۔
تو میں اپنی ان سب باتوں کو ثابت کرنے کے لیے کچھ ایسے گواہ آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔
جن کی گواہی پوری طرح سے یہ ثابت کردے گی کہ وفا صفدر حیات ایک بدچلن لڑکی ہیں۔
دانین کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
مریم اور التمش کے چہرے پر حیرت کے تاثرات ابھرے ۔
جبکہ وفا اور ہاشم بے تاثر چہرہ لیے کھڑے تھے ۔
شاید وہ دونوں ہی اِس حقیقت سے آشنا تھے ۔
رائے زادہ فیملی کیس جیتنے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے۔
اور پھر دانین کے مقرر کردہ وکیل نے وفا کی یونیورسٹی کے ان لڑکے لڑکیوں کو بلانا شروع کر دیا۔
جو وفا کو ہر روز ذلیل کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔
آج وہ اس کے خلاف عدالت میں جھوٹی گواہی دینے بھی چلے آئے تھے ۔
اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ یہ سب خریدے ہوئے ہیں۔
آٹھ سے دس اسٹوڈنٹس نے اس کے خلاف گواہی دی۔
ان میں سے کوئی اپنے بیان میں وفا کا کئی لڑکوں سے افیئر کا دعویدار تھا۔
تو کوئی ان افیئرز کا گواہ ،
کسی نے وفا کو مشکوک حرکتیں کرتا دیکھا تھا۔
تو کسی نے وفا کو کسی ہوٹل میں لڑکوں کے ساتھ غلط حالت میں۔
مریم کے جسم سے مانو جان نکال لی گئی ہو۔
قدرت کی اس قدر نا انصافی پر وہ سکتے کی حالت میں آگئیں۔
بھلا ان کی بیٹی ایسی کب تھی۔
وہ تو معصوم تھی پاک دامن تھی۔
ان سب کے بیانات سن کر جج نے قلم اٹھالیا۔
شاید وہ بھی وفا کو بد چلن سمجھتے ہوئے اب اپنا فیصلہ سنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔
