Saza By SI Writes Readelle50234 Episode 5
Rate this Novel
Episode 5
تقریباً آدھے گھنٹے کی مسافت طے کر کے ان دونوں کی گاڑی ایک دو منزلہ گھر کے سامنے آ کر رکی۔
یہ سفر دونوں کا ہی خاموشی کی نظر ہو گیا۔
التمش کو غصہ تھا کہ اسکے اتنی محبت سے لائے گئے گفٹ کی قدر نہ کرتے ہوئے اس کی بیوی نے اُسے نوکرانی کے حوالے کر دیا۔
اسکے جذباتوں کی قدر نہ بھی کرتی تو کوئی غم نہ تھا۔
مگر اس نے انکے درمیان رشتے کا مان بھی نہ رکھا۔
کسی سے سنا تھا۔
کہ ایک عورت کے لیے اسکی منہ دکھائی کا تحفہ اس دنیا کے سارے تحفوں سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔
یہ ایک ایسی خوبصورت یادگار ہوتی ہے۔
جو وہ ساری عمر سنبھال کر رکھتی ہے۔
مگر وفا نے اِس بات کو غلط ثابت کر دیا۔
گاڑی رکی ۔
وہ خاموشی سے اترا
اور اسکی سائیڈ کا دروازہ کھولا۔
ایک نظر اسکے سنجیدہ چہرے پر ڈالی تو دماغ کی نسیں دوبارہ پھولنے لگیں ۔
کسی بات کا سوگ منایا جارہا ہے۔
سخت لہجے میں جب وہ مخاطب ہوا ۔
تو وفا بس ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی ۔
ایک پل کے لیے تو التمش کا دل چاہا۔
کھینچ کر دو تھپڑ لگائے اِس بیوقوف لڑکی کو ۔
غلطی کی اور اوپر سے ایسے ظاہر کر رہی ہے۔
جیسے کچھ معلوم ہی نہ ہو۔
بہر حال اسوقت وہ کوئی تماشہ نہیں چاہتا تھا۔
سو ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے غصے کو پسِ پشت ڈالا۔
جب میرے ساتھ کہیں بھی آیا جایا کرو
تو ہمیشہ مسکراؤ۔۔۔۔۔
اگر میرے دوست یا فیملی میں سے کسی کو بھی اِس بات کا ذرا سا بھی شک گزرا کہ آپ میرے ساتھ خوش نہیں ہیں۔
تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔
چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجا کر ہوا کے دوش سے ماتھے پر بکھرے بالوں کو ہاتھ کی مدد سے دوبارہ سیٹ کیا۔
جبکہ وفا اسکے اس انداز پر ہکا بکا رہ گئی ۔
سمجھ نہیں آیا۔
اتنی خوبصورت مسکراہٹ اور مٹھاس بھرے لہجے میں وہ اسے سمجھا رہا تھا یا دھمکا ؟
جو بھی تھا۔
مگر اس وقت بھلائی اسی میں تھی کہ وہ مسکرائے۔
اگلے ہی پل اسکے چہرے دلکش مسکراہٹ بکھر آئی۔
التمش نے ایک نظر معصومیت کی حدیں پار کرتی خوبصورت مسکراہٹ کو بغور دیکھا ۔
اپنی زندگی کا سارا تجربہ مجتمع کرکے جانچنے پر بھی وہ اسکی مسکراہٹ میں کوئی بناوٹی پن نہ ڈھونڈھ پایا ۔
عجیب لڑکی تھی۔
جس کا بی ہیو اسکے آج تک کے تجربے پر پانی پھیر دیتا تھا ۔ آنکھوں کے اشارے سے اپنے داہنے بازو کی طرف اشارہ کیا ۔جسے سمجھتے ہی وفا نے ایسے اسکے بازو پر جهپٹا مار کر بتیسی کی نمائش کی کہ ایک پل کیلئے التمش کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آن بکھری –
ڈرامہ۔۔۔۔۔۔۔
اپنی طبیعت سے ہٹ کر آج شاید پہلی بار اس نے دل ہی دل میں کسی لڑکی کا نام بگاڑا تھا۔
💞💞💞
گارڈ نے اسے دیکھ کر بنا رکاوٹ کے اندر جانے دیا تھا۔
گھر کے اندرونی حصے میں پہنچ وفا کے ساتھ ساتھ التمش کا منہ بھی کھلا کا کھلارہ کیا۔
سامان سے بھرے کارٹن ویسے ہی پیک پڑے تھے ۔
ہر چیز میں بے ترتیبی پھیلی تھی۔
ڈرائنگ روم میں پڑی میز پر کھانے کے شاپر پلیٹ اور چمچ ویسے کے ویسے پڑے تھے ۔
اور صوفے پر ایک نوجوان بلیو جینز اور بلیک بنیان میں آڑا ترچها لیٹا تھا۔
وفا نے حیرت سے یہ سارا منظر دیکھ کر التمش کی طرف دیکھا۔ بدلے میں اس نے بھی ایک افسوس بھری نظر صوفے پر ڈال کر وفا کی طرف دیکھا۔
اپنے بازو سے اسکا ہاتھ ہٹا کر وہ صوفے پر بے خبر لیٹے اس انسان کی طرف بڑھا۔
ہاشم ، ہاشم ۔۔۔۔۔۔
ایک دو آواز دینے پر بھی جب وہ نہ اٹھا ۔
تو التمش نے ٹیبل پر رکھا آدھا پانی کا گلاس اٹھا کر اس پر اچھال دیا۔
اوئے کون ہے ؟
وہ یکدم اچھل کر اٹھا۔
سرخ ہوتی آنکھیں نیند کے خمار کی گواہی دے رہیں تھیں ۔ ارے التمش۔۔۔۔۔۔
اپنے سامنے بچپن کے دوست کو دیکھ وہ حیران ہوا۔
مگر جب نظر چند قدم کی دوری پر کھڑی صنف نازک پر پڑی تو دماغ میں پہلا خیال شرٹ پہننے کا آیا۔
نظروں نے تیزی سے شرٹ ٹٹولنا شروع کی۔۔۔۔۔۔
اور ایک منٹ سے بھی کم عرصہ میں وہ شرٹ پہن چکا تھا۔
سوری یار ۔
بس کل ہی یہاں پوسٹنگ ہوئی ہے۔
سامان کی سیٹنگ کرنی تھی ۔
مگر رات میری نائٹ ڈیوٹی لگ گئی اور یہ سارا سامان یونہی بکھرا رہا۔
وہ شاید بہت زیادہ شرمندگی محسوس کر رہا تھا۔
التمش نے بھی اسکے ساتھ سارا پھیلاوا سمیٹنے میں مدد کی۔
وہ چپ چاپ کھڑی ان دونوں کی کاروائی دیکھ رہی تھی۔
پانچ منٹ میں ہی وہ جگہ دیکھنے ، اور بیٹھنے کے قابل ہو گئی۔
بیٹھ یار ۔
بھابھی آپ بھی بیٹھیں ۔
التمش سے اسکا لہجہ دوستانہ جبکہ وفا سے مؤدبانہ تھا ۔
اثبات میں سر ہلا کر وہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئی۔
اس کے قریب التمش بھی بیٹھ گیا۔
جو کب سے خاموش کھڑا صرف ہاشم کو گھور رہا تھا
اور اب صوفے پر بیٹھ کر بھی اسکا یہی عمل جاری تھا۔
اتنی گہری چوٹ کیسے لگی تجھے ـ
التمش کے سوال پر ہاشم کے ساتھ ساتھ وفا بهی حیران ہوئی تھی۔ لاکھ چھپانے کے باوجود بھی التمش کی زیرک نگاہوں سے اسکی چوٹ نہ چھپ سکی۔
پھر اچانک ہاشم نے ہنس کر اپنے تاثرات چھپائے ۔
ارے یار تم تو جانتے ہو ۔
پولیس کی نوکری میں ایسی چھوٹی موٹی چوٹیں لگتی رہتی ہیں۔
کل رات ایک غنڈے سے مڈبھٹر ہو گئی تھی۔
اسی وجہ سے چوٹ آئی۔
دوائی اور پین کلر لی تھی۔
اسی وجہ سے اتنی گہری نیند سویا تھا۔
ورنہ پولیس والوں کی نیند اتنی پکی نہی ہوتی ۔
اس نے ہنس کر تفصیل دی تو التمش اور وفا دونوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
ویسے بھابھی بہت خوبصورت لائے ہو۔
ہمیشہ کی طرح تمہاری پسند نایاب ہے۔
ایک نظر وفا کی طرف دیکھ وہ التمش کی پسند کی داد دینے لگا۔ التمش رائے زادہ کو ہمیشہ ہی خاص چیزیں پسند آتی ہیں۔
وفا کے خوبصورت چہرے اور نازک سے سراپے کو نگاہوں میں قید کر وہ بنا ہاشم کی طرف دیکھے بولا
تو کچھ ہل کے لیے وہ بھی کنفیوز ہوگئی۔
اچھا آپ دونوں پانچ منٹ بیٹھیں میں آپ دونوں کے کھانے پینے کے لیے کچھ لاتا ہوں۔
وہ اٹھ کر جانے لگا۔ کہ التمش کی آواز پر فوراً رکا
ارے رکو ہاشم –
کھانا کچھ نہیں ہے بس چائے پلا دو ۔
میں تمہاری بھابھی کو صبح صبح بنا ناشتہ کروائے لایا ہوں۔
صرف اور صرف تمہارے ہاتھ کی چائے پلانے کے لیے،
اوه خدا التمش یار تو بھی نا ۔۔۔۔۔۔
یہ خبر سن کر وہ تھوڑا شرمندہ ۔
تیز انداز میں اور زیادہ تیزی آگئی۔
آپ یہیں پر بیٹھیں میں اسکی مدد کروا کر آتا ہوں۔
اسکے بازو میں چوٹ لگی ہے۔
وہ اسے وہیں صوفے پر بٹھا کر خود ہاشم کی مدد کروانے کچن کی طرف چل دیا۔
یہ بات بھی وفا کے لیے حیران کن تھی۔
التمش رائے زادہ جسکے گھر کا چمچ بھی نوکر اٹھا کر اِدھر سے اُدھر رکھتے تھے۔
وہ کچن میں اپنے دوست کی ہیلپ کروانے گیا ہے۔
شاید ان کی دوستی بہت گہری ہے۔
اس کا دماغ اس سارے نظارے سے بس یہی اخذ کر پائی۔
باقی سارا سامان تو ویسے ہی پیک تھا۔
مگر ایک باکس کھلا تھا۔
شاید اس میں روزمرہ ضرورت کا سامان ہوگا۔
فارغ بیٹھ کر ڈرائینگ روم کا جائزہ لیتے ہوئے اسکی نظر دیوار پر اٹکی فوٹو فریم پر پڑی ۔
جس میں ہاشم کے ساتھ ایک معصوم سی لڑکی کھڑی تھی ۔
یہ میری بہن ہے۔
وہ اس لڑکی کو دیکھنے میں اس قدر کھوئی تھی کہ ہاشم کی آواز پر بری طرح چونکی۔
وہ دونوں چائے بنا کر لے آئے تھے۔
التمش نے بھی اسکی نظروں کے زاویے میں دیکھا۔
کہاں ہیں یہ ؟
اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔
اوه آئی ایم سوری ۔
وفا کے سوال پر وہ تھوڑا اداس ہوا۔
التمش نے چائے کا کپ اسے تھمایا ۔
خود بھی اسکے برابر آن بیٹھا۔ .
کیا ہوا تھا انہیں ؟
یہ تو بہت پیاری لگ رہی ہیں ۔
وفا کو جیسے یقین سا نہ آیا۔
ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔
ہاشم کے چہرے پر سرد تاثرات ابھرے ۔
اور ویسے ہی سرد تاثرات سے اس نے التمش کی طرف دیکھا ۔
جو صوفے پر اپنے لیے کشن سیٹ کر رہا تھا۔
التمش پر تو ہاشم کے یہ تاثرات ظاہر نہ ہو سکے۔
مگر وفا کی نظروں سے یہ تاثرات کسی طور چھپے نہ رہ سکے۔
اچانک ہی وہ وفا کے سوالوں کو اگنور کر التمش کی طرف خوشدلی سے متوجہ ہوا۔
وہ دونوں ہی ناجانے کون کونسی باتیں کر رہے تھے۔
مگر وفا کی نظریں اس تصویر پر جیسے جم سی گئیں ۔
اُس لڑکی کی تصویر سے زیادہ اُسے وہ لاکٹ اٹریکٹ کر رہا تھا۔
جو اس تصویر میں اسکے گلے میں پہنا تھا۔
یہ لاکٹ اس نے کہیں اور بھی دیکھا تھا۔
مگر کہاں ؟؟؟
یہ فلوقت اسے یاد نہیں آربا تھا ۔
اچھا اب ہم چلتے ہیں۔
آج شام جتنا بھی ضروری کام ہو۔
اسے پسِ پشت ڈل کر تم نے میرے ولیمے پر آنا ہے۔
التمش کے حکمیہ انداز پر وہ تابعداری سے سرجھکا گیا۔
چند اور باتوں کے بعد وہ دونوں وہاں سے نکل آئے۔
مگر وفا کا دماغ ہاشم کی نظروں ، ان تاثرات اور اُس لڑکی کے گلے میں پہنے لاکٹ میں اٹک گیا تھا۔
💞💞💞
ہائے اللہ یہ میرے بچوں کو کیا ہو گیا۔
یہ اسوہ تھی ارشد کا مان ۔
جس کا دل ارشد کی زخمی حالت پر دہل اٹھا تھا۔
کیا ہوا ۔
فاطمہ اور دانین بھی اسوہ کی پکار پر چلے آئے۔
مائزہ اور مائرہ بھی اپنے بھائی کی حالت پر پریشان ہو کر رہ گئیں۔ جس کے سر اور بازو سے خون نکل رہا تھا ۔
التمش اور وفا بھی اسی وقت روشن ولاء میں داخل ہوئے اور ان کی نظر بھی ارشد کی حالت پر پڑی ۔
یہ ۔۔۔۔۔۔یہ کیا ہو گیا۔
وفا کی آواز کپکپائی۔
التمش نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا۔
جس کی آنکھوں میں آنسو صاف چمکنے لگے تھے۔
اسوہ نے جلدی سے ڈاکٹر کو کال کی۔
مائزہ تیزی سے فرسٹ ایڈ باکس لے آئی۔
فاطمہ نے نرم تاثرات سے وفا کو نارمل رہنے کی تلقین کی۔
ایسا تو کبھی نہیں ہوا۔
ابھی وہ لوگ ارشدکی مرہم پٹی کر کے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ اسی وقت ہادی بھی گھر میں داخل ہوا۔
جس کی حالت بھی ارشدکی حالت سے کچھ مختلف نہ تھی۔
اپنے بیٹے کی حالت پر دانین کا تو دماغ بھک سے اڑگیا۔
ڈاکٹر تو آہی گیا تھا۔
لگے ہاتھوں ہادی کی مرہم پٹی کرڈالی۔
مگر یہ حالات التمش کی سمجھ سے پرے تھے ۔
آج تک ایسا نہیں ہوا تھا ۔
رائے زاده فیملی پر نظر ڈالنے سے پہلے بھی لوگ ہزار بار سوچتے تھے۔
لیکن آج یہ تاریخ تبدیل کیسے ہوگئی۔
یا یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا ایسا کونسا دشمن پیدا ہو گیا۔
جس نے رائے زادہ فیملی کے بیٹوں پر ہاتھ اٹھانے کی حماقت کرڈالی تھی۔
التمش ابھی کے ابھی ڈی آئی جی کو فون لگواؤ ۔
میرے بیٹے کی ایسی حالت کرنے والے کو میں سلاخوں کے پیچھے سڑتا دیکھنا چاہتی ہوں ۔
ہادی کے سرہانے بیٹھی دانین یکدم چیخی –
اسوہ کے تاثرات و ارادے بھی دانین سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھے ۔
اسکے بیٹے ارشد کو بھی کسی نے زخمی کیا ہے۔
آپ فکر نہ کریں پھوپھو جانی ۔
یہ سب جس نے بھی کیا وہ بچے گا نہیں۔
التمش انہیں تسلی دے کر موبائل پر ڈی آئی جی کو کال ملاتا کمرے سے باہر چلا گیا۔
وفانے بھی خاموشی سے چلے جانے کا سوچا۔
دانی مجھے سمجھ نہیں آتا آخر ایسا کرنے کی ہمت کون کر سکتا ہے۔ فاطمہ نے اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔
تو دانین نے قہر برساتی نظروں سے وفا کی جانب دیکھا۔
ایسا آج تک اس لیے نہیں ہوا فاطمہ –
کیونکہ آج سے پہلے کسی کے منحوس قدم جو اس گھر میں نہیں پڑے تھے۔
جیسے ہی یہ لڑکی اس گھر میں آئی ہے۔
اس گھر کے دو دو بیٹوں کا خون بہہ گیا ہے۔
میں پہلے ہی بول رہی تھی ۔
یہ رشتہ مت کرو۔
دانین کو تو وفا کو طنز کا نشانہ بنانے کا جیسے موقع مل گیا تھا۔
وفا کے دروازے کی طرف بڑھتے قدم وہیں جم گئے ۔
بس کریں ماں –
اس میں بھلا بھابھی کی کیا غلطی ہے۔
اور یہ قدیم زمانے والے جاہلانہ اوہام نہ آج تک ہم لوگوں نے پالے ہیں ۔
اور نہ ہی اب ضرورت ہے۔
ہادی چونکہ اپنی ماں کی فطرت سے واقف تھا۔
سو رشتوں میں کھٹاس ڈالنے والے شبہات پر فوراً سے پہلے لگام لگانا ضروری سمجھی۔
ہاں دانی ہادی بالکل صحیح بول رہا ہے۔
اسمیں ہماری بہو کا کیا قصور ہے۔
اس بیچاری کو تو ان سب معاملات کے متعلق کچھ معلوم بھی نہیں ہے۔
فاطمہ نے بھی وفا کی حمایت کی
ان سب نے دانین کو تو خاموش کروا دیا تھا۔
مگر دفا کا دل بوجھل ساہو گیا تھا۔
اسی لیے خاموشی سے بھاری قدم اٹھاتی وہ واپس التمش کے کمرے میں آگئی۔
💞💞💞
ولیمے کا فنکشن شہر کے سب سے بڑے گارڈن میں طے پایا تھا۔ سرخ و سنہری مخملیں قالین اور پردے بہت خوبصوت منظرپیش کر رہے تھے ۔
برقی قمقموں اور رنگ برنگی روشنیوں ، مصنوعی اور قدرتی پھولوں سے کی گئی سجاوٹ بہت خوبصورت اور دلفریب منظر پیش کر رہی تھی۔ ہ
لکے پنک کلر کے ڈریس میں بیوٹریشن کے نفاست سے کیئے گئے میک اپ کے باعث وہ کوئی مومی گڑیا لگ رہی تھی۔
ہر نظر اس پر آکر ٹھہر جاتی۔
پہلے تو چند عورتوں نے اسٹیٹس کے فرق کو مدعا بنا کر رنگ رنگیلی باتیں بنائیں۔
مگر جب اسکے رنگ و روپ کو دیکھا
تو سب کی زبانوں پر اپنے آپ تالے لگ گئے۔
تب کسی نے التمش اور وفا کی جوڑی کو چاند اور سورج کی جوڑی کا لقب دے ڈالا۔
ہاشم بھی اس ولیمے کے فنکشن میں شامل ہوا تھا۔
مگر مائزہ کی طرف اس کا رجھاؤ وفاکی آنکھوں سے پوشیدہ نہ رہ سکا۔
خاموشی سے اسٹیج پر بیٹھی وہ ایک ایک مہمان کی حرکات و سکنات کو نوٹ کر رہی تھی۔
حالانکہ بغل میں اسکا شوہر بھی براجمان تھا۔
مگر وہ تو ایسے دِکھا رہی تھی۔
جیسے یہاں اسکے علاوہ اور کوئی موجود ہی نہ ہو۔ .
پل پل اسکے من موہنے سراپے کو دیکھ دیکھ کر التمش بمشکل اپنے جذباتوں پر کنٹرول کر پا رہا تھا ۔
مسز رائے زادہ ۔
جتنا اگنور کرنا ہے کر لو ۔
ابھی تو صبح والا بدلہ بھی باقی ہے۔
ایک بار کمرے میں چلو ۔ پھر سارے حساب بے باک ہونگے۔
اسکی بات کو کسی خاطر میں نہ لا کر اس نے ناک سے مکھی اڑائی۔ نظریں مسلسل ہاشم پر جمی تھیں۔
جسکے صبح والے تاثرات کی وجہ جاننے کے لیے وہ بیتاب تھی۔
مگر وہ مائزہ کے قریب سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
کچھ دیر بعد یونہی اسکی نظر دوبارہ سیڑھیوں سے اترتی مائزہ کی طرف اٹھی۔
اور تبھی اچانک اسکے پیچھے پیچھے ہاشم بھی آیا۔
نیچے اترنے میں بس چار سیٹرھیاں ہی باقی تھی کہ ہاشم نے اپنا پاؤں مائزہ کے پیروں کے درمیان اٹکایا۔
اور وہ سیدھا فرش پر اوندھے منہ جاگری۔
وفا کی آنکھوں نے یہ منظر بخوبی نوٹ کیا۔
مارے حیرت کے اسکی آنکھیں ابلنے کو ہوگئیں ۔
ابھی تک تو اسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ضرور مائزہ کو پسند کرتا ہے۔
مگر یہ سارا منظر تو کچھ اور ہی گواہی دے رہا تھا۔
یہ رائے زادہ فیملی کا دوست ہے یاشمن ۔
دماغ میں پہلا سوال یہی ابھرا۔
خود ہی مائزہ کو گرا کر اب وہ اسکا ہمدرد بنا بیٹھا تھا ۔
سارے مہمان ایک جگہ مجتمع ہو گئے تھے۔
التمش بھی اٹھ کر مائزہ کے قریب جاچکا تھا۔
اور وہ خاموشی سے بیٹھی ہر پہلو پر غور و فکر کر رہی تھی۔
💞💞💞
جاری ہے
