Saza By SI Writes Readelle50234 Episode 7
Rate this Novel
Episode 7
آپ آگئے ؟
التمش کے آتے ہی وہ اٹھ کر اسکے قریب چلی آئی۔
ہاتھ سے آفس بیگ پکڑ کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا ۔
مصروف سے انداز میں ٹائی کی ناٹ ڈهیلی کر اُسے نکال کر کوٹ اتارا۔
جبکہ التمش کے لیے یہ سب حیران کن اور کسی خواب سے کم نہ تھا۔
ایک منٹ ، ایک منٹ ،
آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے نا ؟
وفا کی مشکوک حرکات پر اسے شبہ گزرا ۔
ہاتھ بڑھا کر پیشانی چھوئی ، تا کہ اسکے عجیب رویے کی ٹھوس وجہ مل سکے۔
مگر نارمل ٹمپریچر محسوس کر اسکی حیرانگی مزید بڑھ گئی۔
صبح تو وہ ناراض تھی۔
اور اب ایسا بی ہیو کر رہی تھی ۔
جیسے ان کے درمیان برسوں سے پیار و محبت کا خوبصورت رشتہ قائم ہو۔
آپ فریش ہوجائیں۔
میں آپ کے لیے کھانا لگواتی ہوں۔
جتنا محبت بھرا اسکا انداز تھا۔ اس سے کہیں زیادہ میٹھا لہجہ ،
جو شادی کے بعد اسکی بیوی نے پہلی بار اپنایا تھا۔
مگر میں نے تو آج باہر ڈنر کا انتظام کیا تھا ؟
وہ صبح ہی ایک اچھے ریسٹورنٹ میں دونوں کے ڈنر کا انتظام کرواچکا تھا۔
ہاں بولا تھا۔ مگر میں نے سوچا کہ یہ ہمارا پہلا ڈنر ہے۔
تو بجائے باہری مسالے دار کھانوں کے “مجھے خود اپنے ہاتھوں سے کچھ ذائقے دار بنانا چاہیے ،
اسوقت وہ جس قدر سمجھداری کا مظاہرہ کر رہی تھی ۔
التمش کو خود پر اور اپنی پسند پر فخر محسوس ہونے لگا۔
ٹھیک ہے میری جان میں بس ابھی دس منٹ میں فریش ہو کر آیا۔
پھر دونوں مل کر آپکے ہاتھ کا ذائقے دار کھانا کھائیں گے ۔
وہ اسکے گال تھپتھپاتا فریش ہونے چلا گیا ،
وفانے ایک سرد سانس خارج کیا۔
اور ملازمہ کے ذریعے کھانا لگوانے لگی۔
دو سے تین منٹ میں ملازمہ نے کھانے کی ٹرالی لے آئی ۔ کھانے کی ٹرالی رکھ اسنے ملازمہ کو واپس بھیج دیا۔
اور خود پانچ منٹ میں ہلکی پھلکی تیاری کرلی۔
نجانے اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔
آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر ایک نظر خود کے سراپے پر ڈالی۔
یہ وہی فراک تھی جو اس نے صبح خود پر ٹرائے کرکے دیکھی تھی ۔
اب دوبارہ وہی زیب تن کر رکھی تھی۔۔
کیا بات ہے۔
آج آپ ہمیں چاروں شانے چت کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ التمش آئینے میں اسکی سجے سنورے روپ کو دیکھتا سرشار سا ہو گیا۔
نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔
سادگی بھرے انداز میں جواب آیا۔
اور یہی سادگی تھی جس کا التمش رائے زادہ دیوانہ ہوا تھا۔
کھانے میں کیا پکایا ہے۔
نرگسی کوفتے ، بیف بریانی ، اور میٹھے میں لوکی کا حلوہ ،
ملازمہ نے بتایا تھا کہ آپ یہ سب ڈشز شوق سے کھاتے ہیں۔ اس لیے میں نے بھی یہی سب بنا لیا۔
ارے واہ۔۔۔۔۔۔
سن کے ہی منہ میں پانی آگیا۔
ہاتھوں کو رگڑتے ہوئے اشتیاق سے وہ چیئر پر آن بیٹھا۔
اشتعال انگیز خوشبو کھانے کے لذیذ ہونے کا پتہ دے رہی تھی۔
ویسے آپ نے پہلے کبھی کھانا پکایا ہے۔ .
یہ سب کوئی پہلی بار میں اتنا اچھا نہی پکا سکتا تھا۔
اس اسے تشویش لاحق ہوئی۔
میں اپنے گھر میں بھی کبھی کبھی کو کنگ کرلیتی تھی۔
اسی وجہ سے شاید کچھ کچھ پریکٹس ہے۔
نرم مسکراہٹ چہرے پر سجائے وہ اسکے ہر سوال کا جواب دے رہی تھی۔
پلیٹ میں کھانا نکالتے ہوئے التمش نے ایک گہری نظر سے اسکے سجے سنورے روپ کی طرف دیکھا۔
دل کا ایک کونا اسکا یہ روپ دیکھ کر سرشار سا ہو گیا تھا ۔
آج اسکا یہ روپ دیکھ کر دل کے گوشوں میں نئی امید جاگی تھی کہ اب وہ بھی بہت جلد اس سے محبت کرنے لگے گی۔
کھانا واقعی میں بہت لذیذ ہے۔
اس نے کھلے دل سے تعریف کی ۔
جسے وفا نے اثبات میں سر ہلا کر وصول کیا۔
ویسے روشن ولاء میں کوئی کام نہیں کرتا۔
مگر میری آج کے بعد خواہش رہے گی کہ ہفتے میں ایک بار ہی سہی مگر آپ میرے لیے اپنے ہاتھوں سے کچھ بنایا کریں۔
التمش رائے زادہ کی خواہش پر وہ حیران رہ گئی۔
منہ میں جاتا چمچ کچھ پل کے تھم سا گیا۔
کیا واقعی اسے کھانا اس حد تک پسند آیا تھا۔
یا پھر وہ مبالغہ آرائی کا حد کر رہا تھا۔
مگر وفا کو اسکی یہ خواہش اور تعریف بہت بھلی محسوس ہوئی ۔ آج تک اس نے جتنا کھانا بھی بنایا تھا اسکی مریم نے کبھی تعریف نہ کی تھی۔
حالانکہ مریم بخوبی جانتی تھی کہ وفا سارا دن محنت کر کے کھانا پکاتی ہے۔
جسے وہ کبھی خاموشی سے کھا لیتی تھی۔
اور کبھی تو دیکھنا تک پسند نہیں کرتی تھی۔
کیا واقعی آپ کو کھانا پسند آیا ہے ۔
کانوں کے ساتھ ساتھ دل و دماغ کو جیسے اِس تعریف پر یقین سا نہ آیا۔
اسی وجہ سے یقین دہانی کرنی چاہی۔
آفکورس میری جان ۔
مجھے حقیقت میں آپکے ہاتھ کا کھانا بے حد پسند آیا۔
نیپکین سے ہاتھ پونچھتے ہوئے وہ مسکرایا ۔
جانتا تھا اسے کسی بھی بات کا جلدی یقین نہیں آتا۔
اس لیے مسکرا کر دوبارہ تعریف کر ڈالی۔
ملازمہ کو بلاکر برتن سمیٹنے کا بول کر وہ اسکی طرف متوجہ ہوا۔
جو اب کسی کشمکش کا شکار کھڑی تھی۔
ملازمہ کے برتن لے جاتے ہی وہ اسکے قریب آیا۔
وفا کے مخرومی انگلیوں کو اپنی مضبوط انگلی میں پھنسا کر محبت بھری نظروں سے اسکے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔
دل کی جو بھی کشمکش ہوا کرے اسے اسی وقت شیئر کر لیا کریں۔ من میں سوالوں کا انبار جمع کرنے سے صرف دل کا بوجھ بڑھتا ہے۔
ایک بات پوچھوں-
حیران پریشان سی وہ مسلسل اُسے ہی گھور رہی تھی۔
بالکل میری جان – ایک نہیں سو سوال پوچھوں۔
آپکے سوالوں کے جوابات دینے کے لیے ہی تو آپ کو ساری زندگی کے لیے خود کی زندگی میں شامل کیا ہے ۔
گہری مسکراہٹ اسکی طرف اچھال کر موبائیل میں رومینٹک میوزک پلے کر کے موبائیل سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
اور خود اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر قدموں کو ہلکی ہلکی جنبش دينا شروع کردی۔
مجھے ڈانس نہیں آتا۔
وہ پریشان ہوئی۔
کوئی بات نہیں مسزرائے زادہ –
آپکے شوہر کو بھی اس ڈانس کی پریکٹس نہیں ہے۔
تو بس جیسا میں کر رہا ہوں ویسے ہی آپ بھی کریں۔
میری آنکھوں میں دیکھیں اور محبت کے جہاں میں کھو جائیں ۔
کیوں؟؟
دوبدو سوال آنے پر وہ مسکرایا۔
آپ کچھ پوچھنے والی تھیں ہم سے ؟؟
التمش کی یاد دہانی پر وہ بھی یکدم ایسے سحر سے باہر نکلی جس میں ناچاہ کر بھی وہ قید ہوتی جارہی تھی۔
ہاں ۔
میں پوچھ رہی تھی کہ آپ تو رائے زادہ ہیں۔
اتنے بڑے بزنس مین ۔
جن کا بزنس پاکستان سے دوسرے ملکوں میں بھی پھیلتا جا رہا ہے۔ .
ایک سے ایک لڑکی آپ کی دیوانی ہے۔
آپ سے شادی کرنا چاہتی ہے۔
جب آپ یونیورسٹی میں آئے تھے۔
تب بھی آدھے سے زیادہ لڑکیاں خود کو سنوار کر آئی تھیں تھی ۔
صرف اس غرض سے کہ کاش آپ کی نظر ان پر پڑ جائے اور ان کی قسمت کھل جائے۔
ہاہاہاہاہا ۔
وہ جس قدر جزبز کا شکار ہوکر یہ سوالات پوچھو رہی تھی۔
التمش کا اتنی ہی زور سے قہقہہ بلند ہوا۔
سچ میں ؟؟
ویسے مجھے نہیں معلوم میں اتنا ڈیمانڈڈ ہوں۔
وہ شوخ ہوا جبکہ وفا اسکے مذاق بنانے پر خفا ہونے لگی۔
میں سیریس ہوں ۔
اسنے دانت کچکچائے ۔
التمش نے اسکے سرخ چہرے کو دیکھ کر بمشکل اپنا قہقہہ ضبط کیا۔ جی جی میری جان –
میں آپ کی ایک ایک بات سننے کے لیے جی جان سے ہمہ تن گوش ہوں۔
وہ مشکوک نظروں سے التمش کی تابعداری دیکھنے لگا۔
آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی۔
وه سیدها مدعے کی بات پر آئی
ہییییں ۔
یہ کیسا سوال ہوا بھلا۔
وہ اِس بے تکے سوال پر حیران ہوا۔
اتنا حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
آپ پر اتنی لڑکیاں فدا ہیں۔
آپکا فیملی بیک گراؤنڈ کتنا اسٹرونگ ہے۔
فیملی اسٹیٹس میں بھی آپ لوگ ماں سے زیادہ ہیں۔
پھر مجھ سے ہی شادی کی کیا وجہ بنی ؟؟
اب التمش کی سمجھ میں اسکی الجهن صاف صاف آنے لگی تھی۔
ہمم۔۔۔۔
تو سنیں ۔۔۔۔
آج سے پانچ سال قبل جب میں ہائر اسٹڈیز کے لیے ابروڈ جانے والا تھا۔
اس دن میری ماں آپ کے گھر آئیں تھیں۔
تب میں نے آپ کو دیکھا۔
الجھے بکھرے حلیے میں۔ سادہ سے کپڑے زیب تن کیے ۔
چہرے پر حد درجہ اداسی سجائے آپ پھولے پھولے منہ کے ساتھ شاید کسی سے ناراض تھیں۔
ویسے تو میں کسی صنف نازک کو بلاوجہ تاڑنے کے سخت خلاف ہوں۔
مگر اس دن میں نے آپ کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے کی گستاخی سرزد کرڈالی۔
ناجانے کیوں مجھے آپکا اداس چہرہ بہت بھایا۔
دماغ میں خیال آیا کہ جب اداسی میں آپکا حسن سلونی شام سا منظر پیش کرتا ہے۔
تو مسکراتے ہوئے نا جانے کونسی قیامت ہوگی۔
مگر آپ شاید حد درجہ ناراض تھیں۔
اس لیے شاید میرے دل کے ارماں دل کی خواہش بن کر رہ گئے۔
آپ نے مسکرانے کی عنایت نہ کی۔
پھر اتفاقی طور پر میری مما اور آپکی مما کے درمیان ہم دونوں کے رشتے کو لے کر بات چیت ہوئی۔
اسوقت تو شاید ان دونوں نے اس بات کو مزاح کا رنگ دے دیا تھا۔
مگر میرے دل و دماغ میں یہ بات اور آپ کا معصومیت و ناراضگی بھرا روپ فٹ ہوگیا تھا۔
اسکے چند دنوں بعد میں ابروڈ چلا گیا۔
وہاں بھی میرے دوستوں نے مجھے لڑکیوں کی طرف مائل کرنا چاہا۔
مگر جب بھی میں کسی لڑکی کی طرف دیکھتا تو غیرارادی طور پر میرے دل میں آپ کو دیکھنے کی خواہش نمودار ہوتی ۔
سمجھ نہیں آتا تھا کہ آخر مجھ پڑھے لکھے انسان کے ساتھ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔
اسی کشمکش میں پڑھائی مکمل ہوئی اور میں واپس آکر بزنس سنبھالنے لگ گیا۔
ماں نے کئی بار مجھ سے شادی کا ذکر کیا۔
اور پھر ایک دن میں نے ان پر اپنی پسندیدگی کا مظاہرہ کیا اور آپ ہماری زندگی کا حصہ بن گئیں ۔
سوچا تھا آپ کو مسکراتا دیکھیں گے ۔
تو برسوں کی خواہش کی تکمیل ہوگی۔
مگر کبھی کبھی ویسا نہیں ہوتا۔
اپنی بات بول کر وہ خاموش ہوا۔
مگر وفا کا مارے حیرت کے منہ کھل گیا تھا ۔
کیا آپ نے بس اس لیے مجھ سے شادی کی ؟
وہ بے خود سی گویا ہوئی۔
نہیں تو ۔۔
میں نے آپ سے اپنے لیے شادی کی ہے۔
اتنے سالوں کی بے چینی سے میں بس یہی اخذ کر پایا کہ آپ کا میرے آس پاس رہنا بہت ضروری ہے۔
آپ کو دیکھنا ۔ آپ سے باتیں کرنا دل کو بہت اچھا لگے گا۔
لوگ اس جذبے کو محبت کا نام دیتے ہیں ۔
اگر واقعی یہ محبت ہے ” تو ہے۔
مم ۔۔۔۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ میں آپ سے محبت ۔۔۔۔۔ اپنی بات ادھوری چھوڑ وہ خاموش ہوگئی۔
آنکھوں میں نجانے کہاں سے اچانک نمی در آئی۔
آپ کو فلحال کسی سے محبت نہیں ہے۔
اگر کسی سے محبت ہوگی تو وہ صرف اور صرف التمش رائے زادہ کی ذات سے ہوگی۔
اسکے لہجے میں اسقدر مان و یقین تھا کہ وفا کا دل گہری کھائی میں ڈوب کر ابھرا۔
اب یہ تو کسی کتاب میں نہیں لکھا۔
وہ خفا ہوئی۔
دل کا شور ہی اسقدر بڑھ گیا تھا کہ اپنے دل کی کیفیت چھپانے کے لیے اسے خودپر خفگی طاری کرنی پڑی۔
کتاب میں نہیں آپکی آنکھوں میں لکھا ہے۔
وہ اسکے ایک ایک تاثر کو بغور نوٹ کر رہا تھا ۔
اچانک زور دار چکر آنے پر وہ لڑکھڑایا۔
ہاہاہاہا ۔ آپ کے لذیذ کھانے بہت مدہوش کر رہے ہیں۔
وہ قہقہہ لگا کر ہنسا۔
اسکی ہنسی وفا کے دل پر گھونسے کی طرح پڑی۔
ناجانے اس نے یہ بات کیوں بولی تھی ۔
مگر وفا کو اپنے عمل پر حد درجہ ندامت محسوس ہوئی۔
اس نے آج التمش کی پسند کھانا بنا کر اس میں نیند کی گولیاں ملادیں تھیں ۔
تاکہ جب وہ یہاں سے جانے لگے تب اسے روکنے والا کوئی نہ ہو۔
چکراتے سر کے ساتھ وہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔
وفا خاموشی سے کھڑی لمحہ بہ لمحہ اس پر نشے کا اثر ہوتا دیکھ رہی تھی ۔
آہستگی سے بیڈ پر آڑا ترچھا لیٹ کر آہستہ آہستہ گہری نیند میں چلا گیا .
التمش۔۔۔۔۔ التمش ۔۔۔۔۔
جب کئی بار پکارنے پر بھی وہ نہ اٹھا تو اسے مکمل یقین ہوگیا کہ وہ سو گیا ہے۔
ہر شے سے بے خبر بے سدھ لیٹا وه نیند کی گہری وادیوں میں ڈوب گیا تھا۔
وفا کی آنکھوں سے ایک درد بھرا آنسو نکل کر گالوں پر پھسل گیا۔
کچھ دیر خاموشی سے اسے نہارتے رہنے کے بعد وہ آہستگی سے اٹھی۔
بیڈ کے نیچے سے فون نکالا ۔
جس پر کچھ دیر پہلے سات مسڈ کالیں آئیں تھیں۔
مخرومی انگلیوں نے سست روی سے میسج ٹائپ کیا۔
موبائل دوبارہ بیڈ پر رکھ کر وہ الماری کی طرف بڑھی۔
وہاں سے ایک مخصوص باکس نکالا ۔
جس پر قفل لگا تھا۔
شادی میں اپنی رضا سے وہ صرف یہی ایک باکس اپنے ساتھ لائی تھی۔
لاک کھول کر اُس میں سے اپنی مطلوبہ شے اٹھا کر باکس واپس وہیں رکھ دیا۔
ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے جیولری باکس میں سے ایک لاکٹ اٹھا کر گلے میں ڈالا۔
ایک نظر دوبارہ بے خبر سوئے التمش پر ڈالی۔
دل نے بارہا آگے قدم بڑھانے سے روکا ۔
مگر بنا دل کی چیخ و پکار پر کان دھرے وہ خود کے گرد چادر لپیٹ کر کمرے سے باہر نکل آئی۔
💞💞💞
گھر آکر آج ایک بار پھر سے وہ اپنی بہن کی تصویر کے سامنے کھڑا تھا ۔
کتنی ہی دیر وہ اس تصویر کو بغور دیکھتا رہا۔
مگر کوئی سرا ہاتھ نہ لگا۔
آخر اس دن التمش را زادہ کی بیوی اس تصویر میں ایسا کیا دیکھ رہی تھی جو مجھے نظرنہیں آیا۔
اس دن بھلے وہ التمش سے باتیں کر رہا تھا۔
مگر نظریں بار بار وفا کی محویت بھی نوٹ کر رہیں تھیں۔
وہ مسلسل اسکی بہن کی تصویر کو مرکزِ نگاہ بنائے ہوئی تھی۔
تھک ہار کر اس نے تصویر سے نگاہیں ہٹا لیں
اور خود دوبارہ اپنی بہن کے کیس کی فائل کھول کر ایک ایک چیز کا بغور جائزہ لینے لگا ۔
پولیس کو جائے حادثہ سے جو جو چیزیں برآمد ہوئیں تھیں۔
۔ اس فائل میں ان سب کی تصاویر بھی تھیں۔
ان میں سے کوئی شے بھی ایسی نہ تھی ۔
جس سے یہ پتہ لگانا جا سکے کہ مجرم کون ہے۔
بے خودی میں ایک نظر دوبارہ اپنی بہن کی تصویر کیطرف اٹھی۔ مگر نگاہیں پلٹنے سے پہلے ہی اسکے دماغ میں کلک ہوئی۔
جب اسکی نظریں بھی تصویر میں موجود حرم کے گلے میں جھولتے لاکٹ پر پڑی۔
یہ لا کٹ اسکی گمشدگی سے کچھ دن پہلے اسکے گلے میں آیا تھا۔ جب اس نے حرم سے اس بارے میں دریافت کیا۔
تو بدلے میں اس نے یہ کہا کہ اُسے یہ لاکٹ برتھڈے پر مائزہ نے دیا ہے۔
اور پھر وہ لاکٹ عمومًا اس کے گلے میں جھولتا نظر آتا۔
جس دن وہ گمشدہ ہوئی۔
اس دن بھی اس نے یہ لا کٹ پہن رکھا تھا۔
لیکن پولیس کو جائے حادثہ سے یہ لاکٹ برآمد نہ ہوا تھا۔
گھر میں بھی اسے یہ لاکٹ دیکھنے کو نہیں ملا ۔
اگر وہ لاکٹ نہ پولیس کو جائے حادثہ سے ملا ۔
نہ ہی گھر میں موجود تھا۔
تو اس کا مطلب لازماً یہ لاکٹ اس انسان کے پاس تھا۔
جو حرم کا قاتل تھا۔
مگر پھر التمش رائے زادہ کی بیوی اُس لاکٹ کو اتنے غور سے کیوں دیکھ رہی تھی۔
اُسے اب پوری طرح سے یقین ہوگیا تھا ۔
کہ وفا اس دن یقیناً حرم کو نہیں بلکہ اسکے لاکٹ کو غور سے دیکھ رہی تھی۔
مگر کیوں؟؟؟
کیا التمش رائے زادہ کی بیوی کا اس قتل سے کچھ لینا دینا ہے ؟ دماغ میں جو سوال ابھرا وہ صرف ایک سوال اور شک تھا۔
اپنے شک کی یقین دہانی کے لیے اسے ثبوت کی ضرورت تھی۔ جو فلوقت اسکے پاس موجود نہ تھے۔
کچھ سوچ کر فون نکال کر تیزی سے نمبر ملایا۔
ہیلو اسفند۔۔۔۔۔
مجھے التمش رائے زادہ کی بیوی “” وفا رائے زادہ کی ذاتی زندگی اور ایک ایک فیملی ممبر کے بارے میں اے ٹو زیڈ انفارمیشن چاہیے۔
ابھی اور اسی وقت کام پر لگ جاؤ۔
صبح تک زیادہ نہیں تو تھوڑی سہی ،
مگر مجھے انفارمیشن چاہیے۔
آرڈر لگا کر وہ خود دوبارہ حرم کی فائل کو ٹیبل کے ایک سائیڈ پر رکھ کر لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا ۔
آج وہ ان سارے کیسز پرسرچ کرنے والا تھا۔
جن میں لڑکیوں کو جلا کر ۔ کڈنیپ کر کے مارا گیا تھا۔
اسے پورا یقین تھا۔
اس ساری سرچ سے اُسے کچھ نہ کچھ معلومات حاصل ہونگی ۔
🔥🔥🔥
بیسویں کیس سرچ کرنے کے بعد اسکے سامنے رائمہ خان کا کیس آیا۔
یہ کیس ایک ایسی لڑکی کا تھا۔
جس نے خود کو جلا کر خودکشی کرلی تھی۔
باقی کیسوں کی طرح وہ اس کیس کی ڈیلٹیل پر بھی سرسری نظر گھمانے لگا۔
جیسے ہی اسکی نظر جائے حادثہ سے ملنے والے ثبوتوں کی تصویروں پر گئی وہ یکدم چونکا۔
ان سب ثبوتوں میں یہ وہی لاکٹ تھا۔
جو اس کی بہن کے گلے میں موجود تھا۔
اوہ مائی گاڈ ۔
ایکدم سیم لاکٹ …..
سیم قتل کا اسٹائل —
لڑکی کو جلا کر مارا گیا ہے۔
اِس لڑکی کا جل کر مرنا اور میری بہن کا قتل ہونا۔
اس میں کہیں نہ کہیں تو مشابہت ہے ۔ اب وہ پورے شد و مد سے ڈیپلی یہ کیس ریڈ کرنے لگا۔
پولیس کے مطابق لڑکی گھر سے بھاگ گئی تھی۔
اور دودنوں بعد اس نے خود کو جلا کر مار لیا تھا ۔
یہ تفصیلات پڑھ کر جیسے اسے یقین سا نہ آیا۔
ہونہ ہو اِس رپورٹ میں کہیں تو جھول ہے۔
خودکشی کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔
کوئی صنف نازک خود کو جلا کر اذیت ناک موت کیوں دے گی۔
انہی سوچوں میں غرق جب وہ اسکے فیملی ممبرز دیکھنے لگا۔
تو اس میں رائمہ خان کی ماں مریم خان ، باپ صفدر خان ، اور ایک بہن وفاخان ۔
وفا کے نام پر وہ یکدم چونکا۔
وفا خان ؟؟؟ التمش رائے زادہ کی بیوی۔
یہ سب کیا ہے۔
کیا وفا اور حرم کا مجرم ایک ہی ہے۔
لاکٹ کو بغور دیکھتے ہی وہ نتیجہ اخذ کر چکا تھا۔
کیا وفا نے التمش سے کسی پلاننگ کے تحت شادی کی ہے ۔
مجھے التمش سے بات کرنی ہوگی۔
اس نے تیزی سے التمش رائے زادہ کا نمبر ملایا۔
فون مسلسل بج رہا تھا۔
مگر کوئی اٹھا نہیں رہا تھا۔
واٹ ؟؟؟
یہ فون کیوں نہیں اٹھا رہا ؟
کہیں کچھ غلط تو نہیں ؟
اسے تشویش لاحق ہوئی۔
مجھے خود جا کر دیکھنا ہوگا ۔
ایک نظر گھڑی کی طرف ڈالی جو اس وقت رات کے ایک بجارہی تھی۔
گاڑی کی چابیاں اٹھا کر وہ تیزی سے روشن ولاء کی جانب بڑھا۔
💞💞💞
تین گھنٹوں سے بس کے ذریعے راستے کی مسافت طے کر کے وہ دونوں نہ جانے کہاں آئے تھے۔
بس ایک جھٹکے سے رکی ۔
التمش…….
غنودگی میں غرق وفا کو ہلکا سا جھٹکا لگنے پر منہ سے بے ساختہ التمش کا نام نکلا ۔
کیا بات ہے مائی لو ۔
لگتا ہے بھائی کا بہت اثر ہوگیا ہے تم پر ۔
اسی لیے نیند میں بھی انہی کے نام لے رہی ہو ۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔
بس روز صبح صبح وہ مجھے ٹارچر کرتے ہیں۔
اس وجہ سے دماغ پر ان کا خوف سوار رہتا ہے۔
کوئی بات نہیں مائی لو ۔
اب تم آزاد ہو۔
وہ مسکرا کر اُسے اپنے ساتھ لیے گاڑی سے اترا۔
ہمہم ۔۔۔
لو بھئی مائی لو ۔
آگئی ہم دونوں کی منزل ۔
اب ہمیں کوئی جدا نہیں کر سکتا۔
وہ کھلے دل سے مسکرایا۔
ہاں بہت وقت بعد منزل آگئی ہے ۔
اسکے پُر اسرار انداز پر وہ حیرت سے وفا کی طرف مڑا ۔ مگر اسکے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ دیکھ خود بھی دوبارہ مسکرا دیا۔
