52.3K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ساری زندگی کی ہمت مجتمع کرکے وہ اس وقت اپنی ماں کے روم کے باہر کھڑی تھی ۔
دل زور سے دھڑک رہا تھا۔
ٹانگیں کانپ رہیں تھیں ۔
مسلسل آدھے گھنٹے سے یہیں کھڑے کھڑے وہ دل ہی دل میں لفظوں کو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی تھی۔
مگر اپنی ماں کے ری ایکشن کا سوچ کر ہی سارے لفظ کہیں غائب ہو جاتے۔
کون ہے باہر –
جب اندر سے مریم خان کی سنجیدہ آواز ابھری ۔
تو وہ پورے جی جان سے کانپ اٹھی۔
بالاآخر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ اندر داخل ہوئی۔
وفا کو اپنے کمرے میں دیکھ مریم خان کو حیرت تو ضرور ہوئی۔ کوئی اور وقت ہوتا تو شاید وہ اسے سخت سست بھی سناتی ۔
مگر آج وہ بہت خوش تھیں ۔
شاید اسی وجہ سے اسکی بخشش ہوگئی تھی۔
اپنی ماں کے اِس نرم رویے سے اُسے کچھ ڈهارس ملی۔
کیا بات ہے۔
بھلے انہوں نے وفا کے یہاں آنے پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تھا۔ مگر انکا سخت بے لچک لہجہ ابھی بھی قائم تھا۔
ماں وہ میں آپ سے کہنا چاہتی تھی کہ …..
ڈرتے ڈرتے آدھی بات درمیان میں ہی چھوڑ کر وہ اپنی ماں کے تاثرات کی طرف دیکھنے لگی۔
جو کہ اُسکے شاید بات کے درمیان میں رک جانے والے عمل کے باعث نرم سے سخت ہونا شروع ہو گئے تھے۔
جلدی بولو میرے پاس وقت نہیں ہے۔
وہ بیزار سے لہجے میں گویا ہوئیں۔
وفا نے بھی حلق ترکر کے خود میں دوبارہ بولنے کی ہمت سمیٹی ۔
ماں میں کہنا چاہتی ہوں کہ آپ میری شادی التمش رائے زادہ سے نہیں کروائیں ۔
بلکہ۔۔۔۔۔۔
ابھی اسکے منہ سے باقی کے الفاظ نکلنا باقی تھے۔
اس سے پہلے ہی مریم کا ہاتھ ہوا میں بلند ہوا۔
اور چٹاخ کی آواز کے ساتھ پانچوں انگلیوں کی چھاپ اسکے نازک سے گال پر چھوڑ گیا۔
بدذات ۔۔۔۔
اس دن کے لیے تمہیں پال پوس کر بڑا کیا تھا ۔
کہ تم میرے سامنے یوں انکار کر سکو۔
وہ غصے کا شدت سے وفا پر دھاڑی –
تو وہ یکدم سہم کر دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔
آنکھوں سے آنسو رفتار سے بہنے لگے ۔
میری بات تو سنیں ماں –
میری زندگی پر میرا بھی تو تھوڑا سا حق ہے ۔
روتے روتے ناجانے اس میں اتنی بات بولنے کی ہمت کہاں سے آگئی تھی۔
مگر مریم کے دوسرے زناٹے دار تھپڑ نے اسے زمین بوس کرنے کے ساتھ ساتھ ساری مجتمع ہمت بھی چھین لی تھی۔
تمہاری زندگی پر تمہارا کوئی حق نہیں ہے ۔
اگر حق ہے تو وہ صرف میرا ۔
کیونکہ میں نے تمہیں پال پوس کر بڑا کیا ہے۔
جلد ہی تمہاری شادی التمش رائے زادہ سے ہوگی۔
اور اس بات میں کوئی دو رائے نہیں۔
اب اپنا منحوس چہرہ لے کر یہاں سے دفع ہو جاؤ ۔
وہ دوبارہ دھاڑی ۔
تو وفا روتے ہوئے تیزی سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔
💞💞💞
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔
کیا بولا تمہاری ماں نے.
دوسری طرف سے بے چین آواز ابھری۔
مگر وفا میں کچھ بھی بتانے کا ہمت کہاں بچی تھی۔
جب سے مریم کے کمرے سے آئی تھی۔
اس نے رو رو کر اپنا برا حال کر رکھا تھا۔
فارگاڈ سیک وفا رونا بن کرو اور مجھے ساری بات بتاؤ۔
سامنے موجود انسان جھنجھلایا
تو اسکے رونے میں مزید تیزی آگئی ۔
کچھ نہیں ہوا۔
ماں نہیں مانی۔
وہ میری شادی التمش سے کروا کر ہی دم لیں گی۔
روتے روتے اس نے مریم کا فیصلہ اسکے گوش گزار کیا۔
سامنے والے کے ارمانوں پر جیسے اوس پڑگئی ۔
میں نے تو پہلے ہی بولا تھا
کہ ہماری اس محبت کا انجام بہت برا ہوا ہے۔
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ التمش بھائی تمہارے لیے رشتہ بھیج کر ہماری اِس کہانی کو یہیں ختم کر دیں گے۔
وہ حد درجہ افسوس سے گویا ہوا۔
کیا اب کچھ نہیں ہوسکتا ۔
وفا کی ساری امیدیں ٹوٹ چکی تھیں
مگر وہ ایک بار پھر اس سے پوچھ کر دل کو تسلی دینا چاہتی تھی۔ بدقسمتی سے نہیں ۔
اب کچھ نہیں ہو سکتا۔
التمش بھائی کی خواہش کے آگے کوئی اپنی خواہش نہیں رکھ سکتا۔ اگر میں ایسا کر بھی دوں ۔
تو تمہاری ماں کو تو تم جانتی ہی ہو۔
سامنے موجود انسان بھی اسوقت شاید بے بسی کی انتہا پر تھا۔
اسکے لہجے میں بھی گہرا دکھ بول رہا تھا۔
اللہ حافظ وفا _
میں تمہارے لیے خوشیوں کی دعا کروں گا ۔
حالانکہ میں جانتا ہوں التمش بھائی جیسے مغرور انسان کے ساتھ رہنا کسی جہنم میں رہنے سے کم نہیں ہے۔
لیکن میں پھر بھی تمہارے لیے خوشیوں کی دعا کروں گا۔
اور ہاں آخر میں ایک اور بات؟؟
تم چاہے جہاں بھی رہو۔
جس بھی حالت میں رہو۔
میں تم سے پیار کرتا تھا، کرتا ہوں ، اور کرتا رہوں گا۔
زندگی میں کبھی بھی اگر قسمت ہمیں دوبارہ ملنے کا موقع دے گی تو میں کبھی بھی اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دوں گا۔
سامنے موجود انسان کا گلوگیز لہجہ اور باتیں اسے مزید رونے پر مجبور کر گئی۔
بنا کچھ بولے کال کاٹ کر وہ اوندھے منہ بیڈ پر گر کر تکیے میں منہ چھپائے پھر سے رونے کا شغل فرمانے لگی۔
💞💞💞
دن تیزی سے گزر رہے تھے۔
مریم نے اسکا کہیں بھی آنا جانا بند کر دیا تھا۔
ہر وقت وہ اکیلی کمرے میں بیٹھی اپنے سامنے ڈائری کھولے ناجانے کیا کیا سوچتی رہتی۔
ان دنوں مریم نے ایک بار بھی اسکی خیر خیرت کی کوئی خبرنہ لی۔ وہ ناشتے کی ٹیبل پر بھی اب نہیں جاتی تھی
سلمی اسے ناشتہ ، لنچ ، ڈنر سب کمرے میں ہی لا کر دے دیتی تھی۔
اسی کے ذریعے اسے معلوم ہوا تھا
کہ رائے زادہ فیملی آ کر شادی کی ڈیٹ فکس کرنا چاہتی ہے۔
شہر کی مشہور بیوٹریشن اسکا میک اپ کرتی ۔
تو بہترین اور مہنگا ترین ڈیزائنر اسکے کپڑے ڈیزائن کرتا۔
کوئی اور وقت ہوتا تو وہ یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوتی ۔
مگر جب دل کی دنیا ہی ویران ہو گئی تھی۔
تو دنیاوی رنگینی کس کام کی ؟؟
ابٹن کی رسم ہوئی ناجانے کس کس نے آکر اسے ابٹن لگایا۔
مگر اسکی آنکھیں تو جس انسان پر مرکوز تھیں ۔
وہ خوشی و خاموشی سے سارے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا۔
ناجانے کیسے وہ اپنا دکھ کسی پر آشکار نہیں کر پا رہا تھا۔
ایک دو بار وہ وفا کے سامنے آیا۔
تو اس نے شکوہ کناں نظروں سے اسکی طرف دیکها –
جبکہ وہ خود ایک زخمی مسکراہٹ اسکی طرف اچھالتا دوسرے کاموں میں مشغول ہوجاتا…..
خاموشی سے رسمیں ادا ہوئیں اور وه وفا خان سے وفا رائے زادہ بن کر روشن ولاء آ گئی ۔
اتنا بڑا گھر دیکھ کر وہ حیران کم پریشان زیادہ ہوگئی۔
مگر اسے زیادہ پریشانی کا سامنہ نہیں کرنا پڑا کیونکہ لڑکیوں نے ڈائریکٹ اسے التمش کے کمرے تک پہنچا دیا تھا۔
💞💞💞
بلیک اینڈ وائٹ کلر کے ماربل ، سفید صوفہ سیٹ ، سفید دیواریں ، اٹیچڈ باتھروم ، چینجنگ روم ، گول جہازی سائز بیڈ پر بھی سفید بیڈ شیٹ ، سفید دبریز پردے، اور خوبصورت ڈیکوریشن پیسنر سے سجا یہ کمرہ اس کے کمرے سے لاکھ گنا اچھا تھا۔
سامنے ہی دیوار پر سجی التمش رائے زادہ کی سحر انگریز فوٹو فریم –
جس میں سے چهلکتی اسکی مقناطیسی آنکھوں میں کچھ پل کیلئے اسے اپنا آپ ڈوبتا محسوس ہوا۔
بیٹھے بیٹھے اسکی کمر اکٹر گئی تھی۔
تھکن سے بدن چور تھا۔
دل چاہا کچھ وقت کے لیے اِس نرم و ملائم بیڈ پر لیٹ کر آرام کرلے۔
اپنے دل کی خواہش کو وہ شاید عملی جامہ بھی پہناتی .
مگر دروازے کے باہر ہوتی ہلچل محسوس کر وہ واپس اسی حالت میں وہیں بیٹھ گئی ۔
شاید خاندان کی لڑکیاں دروازہ رکوائی پر اس سے نیگ وصول رہی تھی ۔
ان آوازوں سے وہ یہی نتیجہ نکال پائی۔
کچھ وقت بعد وہ بلیک شیروانی میں اپنی پوری وجاہت کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔
کچھ دیر کمرے کے درمیان میں ہی کھڑے رہنے کے بعد وہ نائٹ سوٹ لے کر باتھ روم کی طرف بڑھا۔
کچھ وقت تک پانی گرنے کی آواز آتی رہی۔
چند منٹوں بعد وہ پُرسکون ہو کر کبٹ میں ناجانے کیا تلاشنے لگا۔ اسکی ان سب حرکتوں کا جائزہ وہ جالی دار گھونگھٹ میں سے لے رہی تھی۔
ہاتھ میں کوئی جیولری باکس تھامے وہ اسکی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
پورے بیڈ پر بکھرے اسکے لہنگے کو ہٹا کر اپنے بیٹھنے کے لیے جگہ بنائی۔
کچھ پل یونہی خاموشی کی نظر ہو گئی۔
وه ٹکٹکی باندھے مسلسل اسکی طرف دیکھتے دیکھتے ناجانے کن سوچوں میں گم تھا۔
خاموش فضا میں دل کی کی دھڑکنوں کا شور بڑھا۔
جب اس نے ہاتھ بڑھا کر اسکا جالی دار گھونگھٹ الٹ دیا۔
جھٹ خرگوش کی طرح آنکھیں بند کر کے وه شاید التمش رائے زادہ کی نظروں سے چھپ جانا چاہتی تھی۔
جو کہ شاید ناممکن تھا۔
اسکے اس انداز پر وہ دلکشی سے مسکرایا۔
اسکی خوبصورتی پر تو وہ بہت پہلے ہی فدا ہو گیا تھا ۔
مگر آج وہ جس قدر حسین لگ رہی تھی۔
یہ کوئی التمش رائے زادہ سے پوچھتا کہ اسکے دل پر بیک وقت کتنی بجلیاں گریں ہیں۔
لمبی لمبی آنکھوں کو مسکارے اور مصنوعی پلکوں نے قاتل نظریں بنا دیا تھا۔
گلابی گالوں پر بکھری سرخی اسکے حسن میں چار چاند لگا رہی تھی۔ چھوٹی سی ناک میں نوز پن کسی کو بھی گھائل کرنے کے لیے کافی تھی۔
ان سب پر پنکھڑیوں جیسے لبوں پر سجی ڈارک مہرون لپ اسٹک اسکا صبر آزمانے لگے۔
ہاتھ میں پکڑا وہی جیولری باکس کھول کر اسکی طرف بڑھایا۔
یہ آپ کی منہ دکھائی کا تحفہ ۔۔۔۔۔
ناجانے اس باکس میں کیا تھا۔
اس نے بنا دیکھے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
اس نے اپنی منہ دکھائی کے تحفے کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا۔
یہ بات التمش کو کھٹکی۔
کیا ہوا آپ اس شادی سے خوش تو ہیں۔
بنا لگی لپٹی وہ سیدها اسکے اس رویے کی وجہ پوچھ بیٹھا۔
کچھ پل خاموشی کی نظر ہوگئے ۔۔۔۔
وہ صبر و تحمل سے اسکے کچھ بولنے کا انتظار کرتا رہا۔
مگر وہ سرجھکائے بیٹھی شاید اس کا ضبط آزمانے کا ارادہ رکھتی تھی۔
میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں۔۔۔
اس نئے رشتے کی شروعات میں کسی کی ناراضگی سے نہیں کرنا چاہتا۔
جو کچھ بھی آپ کے دل میں ہے۔۔۔
کوئی کنفیوزن کوئی ناراضگی یا پھر کوئی بھی ایسی وجہ جو آپ کو پریشان کر رہی ہو۔۔۔
وہ آپ بلاجھجک مجھ سے شیئر کر سکتی ہیں۔
اپنے غصے پر کنٹرول کر وہ نرمی سے گویا ہوا۔
میں آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
کیونکہ میں آپ سے نہیں کسی اور سے محبت کرتی ہوں۔
لفظ تھے یا پگھلتا سیسہ جو وفا نے اسکے کانوں میں انڈیل دیا تھا۔ کیا مطلب آپ یہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں۔۔۔
اس رشتے میں آپ کی رضامندی نہیں تھی ؟؟
نہیں نہیں نہیں ۔
میں آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
وہ یکدم چیخنی اتنے دنوں کا جو غبار دل میں دبا تھا وہ اچانک پھٹ پڑا ۔۔۔۔
کچھ پل کے لیے التمش رائے زادہ جیسا مضبوط انسان بھی حیرت سے گنگ رہ گیا۔
میں کسی اور سے محبت –
شٹ اپ۔۔۔۔۔۔
اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ یکدم دہاڑا ۔
تم کس سے پیار کرتی تھی۔
تمہاری اس شادی میں رضامندی نہیں تھی ۔
یا تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
وغیرہ ، وغیره ، وغیرہ ۔
یہ سب تم نے تب بتانا تھا جب تم میری دستریں میں نہیں تھی۔
اس وقت ، میرے نکاح میں ،
میرے کمرے میں کھڑے رہ کر تم اپنے ناکام عشق کی داستان اگر مجھے سناؤگی ۔
تو باخدا ۔ التمش رائے زادہ سے برا تم اس دنیا میں کسی کو نہ پاؤ گی۔
اسکا سخت لہجہ وفا کے پورے بدن میں سنسنی دوڑا گیا۔
مگر میں آپ کے ساتھ کیسے خوش رہ سکتی ہوں جب میں۔۔۔۔۔۔۔
دوبارہ اسکی بات درمیان میں ہی رہ گئی جب اسکے نازک سے وجود کو سختی سے اپنی گرفت میں لے کر وہ اسکے پھڑ پھڑاتے لبوں پر جھکا ۔
سختی سے اسکے لبوں کو قید کیے اسکا انداز جارحانہ تھا ۔
وہ نازک سی جان بھلا اتنی شدت کہاں برداشت کر سکتی تھی ۔ سانس اکھڑنے لگا آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔
جب وہ ناجانے کیا سوچ کر پیچھے ہٹا ۔۔۔۔
بیڈ پر گرا اسکے منہ دکھائی کا گفٹ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وفا کو کھینچ کے خود کے قریب کیا۔
بڑے مصروف سے انداز میں پنوں کی مدد سے سیٹ کیا دوپٹہ اسکے وجود سے الگ کیا۔
یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔
وہ حیرت سے گنگ رہ گئی
جب وہ آہستہ آہستہ اسکی ساری جیولری نکال کر ایک طرف رکھنے لگا۔
چہرے پر نرمی کا کوئی تاثر نہ تھا ۔
آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں پلیز میرے ساتھ ایسا مت کریں۔
اب صحیح معنوں میں اسے اپنی بیوقوفی کا احساس ہو رہا تھا۔
دو بار وہ یہ سوال کر چکی تھی۔
مگر التمش کے ماتھے کے بل وقت بہ وقت بڑھتے جارہے تھے۔ اسے بیڈ پر لٹا کر اس نے لائٹ آف کی ۔
نن۔۔۔۔۔۔ نہیں ۔
لائٹ آف کرتے ہی اسکے سارے ارادے وفا کی سمجھ میں آگئے تبھی وہ ایک جھٹکے سے اپنا آپ چھڑوا کر بیڈ پر ہی تھوڑی دور جا بیٹھی۔
آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے ۔
اندھیرا کمرہ اور التمش کے خطرناک ارادے اسکا پورا وجود کپکپانے لگا۔
پورے وجود سے جان اس وقت نکلی جب اس نے وفا کو پاؤں سے پکڑ کر اپنی کھینچا ۔
میں اگر آپ سے نرمی برت رہا ہوں۔۔۔
تو اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے ۔
کہ آپ میری شریک حیات ہیں۔
خاموشی اور اپنی رضامندی کے ساتھ مجھے ہمارے اس رشتے کو مکمل کرنے دیں۔
سختی سے اسے اپنی گرفت میں لے کر وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔
لیکن مجھے کچھ وقت ،
” وقت ہی تو نہیں دے سکتا میں آپ کو “
آپ کے وجود پر اپنی محبت کی چھاپ چھوڑ کر آج میں یہ واضع کردوں گا کہ آپ کا نام ، احساسات ، جذبات ، دکھ سکھ ، ہر چیز التمش رائے زادہ سے جڑ چکی ہے۔
اب میں ہم دونوں میں کسی تیسرے وجود کو برداشت نہیں کر سکتا۔
دہکتے لب اسکے ماتھے پر رکھ وه شاید اس رشتے کی پہلی بنیاد رکھ چکا تھا۔
نازک سے لبوں پر وہ ایک بار پھر پوری شدت سے جھکا ۔
اپنی سانسیں اسکی سانسوں میں انڈیلتے ہوئے اسکے ہاتھ مسلسل وفا کے وجود پر رقص کر رہے تھے۔
پہلے تو وہ مارے بے بسی کے کوئی احتجاج نہیں کر رہی تھی۔
مگر اپنی کمر کی ڈوریاں کھلتی محسوس کر اسکی جان ہوا ہونے لگی۔ چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر احتجاج کے طور پر التمش کے سینے پر مکوں کی برسات کردی ۔
مگر اسکے کسرتی وجود پر شاید یہ نازک نازک سے مکے کچھ اثر نہیں کرسکتے تھے۔۔۔۔
تبھی بنا کوئی اثر لیے اس نے وفا کے دونوں ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کرتکیے سے لگا کر دونوں کلائیوں کو ایک ہی ہاتھ میں قید کیا۔۔۔۔۔۔
اور دوسرا ہاتھ پھر سے کمر کی ڈوریاں کھولنے میں مگن ہو گیا۔
آخری ڈوری کھول کر اسکی دونوں کلائیوں کو آزاد کرتے ہی وفا کے وجود سے اسکا بلاوز الگ ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔
اور یہی وہ لمحہ تھا جب اسکی ساری مزاحمتیں دم توڑ گئی ۔
خاموشی و بے بسی سے لیٹی وہ اپنے پورے وجود پر اسکی شدتیں محسوس کرتی رہی۔
درد و تکلیف کا ایک آنسو آنکھ سے نکل کر بالوں میں کہیں جذب ہوگیا۔
مگر التمش رائے زادہ سنگدل محبوب کی طرح بنا اسکے درد کی پرواہ کیے اسکے وجود کی رعنائیوں میں کھویا رہا۔
💞💞💞
آج اسکے جانے اسے گھر خالی ہوگیا تھا ۔
مریم خان نے ایک نظر خاموش سونے سونے گھر پر ڈالی ۔
جو آج سے پہلے اتنا ویران نہ لگا تھا ۔
جتنا آج لگ رہا تھا ۔
شکست خورده سے چھوٹے جھوٹے قدم وہ اس کمرے کی طرف بڑھانے لگی۔
جہاں انہوں نے برسوں پہلے جانا چھوڑ دیا تھا۔
ایک نظر دروازے باہر لگے تالے پر ڈالی جہاں زنگ کے ساتھ ساتھ مکٹریوں نے بھی جالے بنا لیے تھے۔
ہاتھ سے ان جالوں کو صاف کر مطلوبہ چابی سے لاک کھول کر وہ اندر داخل ہوئی۔
ہاتھ بڑھا کر ایک ساتھ ساری لائٹ آن کرتے ہی جیسے وہ آج سے کئی سال پیچھے چلی گئیں ۔
کتنی ہی خوبصورت یادیں اس کمرے سے وابستہ تھیں۔
جب وہ سب ایک ساتھ ہنستے مسکراتے ایک دوسرے کے غموں میں شریک ہوتے تھے۔۔۔۔
دو تکلیف کے اسکی آنکھوں سے بہہ گئے ۔۔۔