Saza By SI Writes Readelle50234

Saza By SI Writes Readelle50234 Episode Last Part 2

52.3K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode Last Part 2

التمش ابھی بھی جہاں کا تہاں بیٹھا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا یہ سب کیا ہو گیا۔
عدالت نے فیصلہ سنا دیا تھا ۔۔۔۔
ہادی کی سچائی سب کو معلوم پڑ گئی تھی۔۔۔۔
آج اسے افسوس ہو رہا تھا ۔
اتنا بڑا بزنس مین ہونے کے باوجود وہ اپنے گھر میں چل رہی گندگی کو نہیں سمجھ پایا ۔
اپنے بھائیوں کے کرتوتوں کو نہیں جان سکا۔
کیا فائدہ اس کے اتنے بڑے بزنس مین ہونے کا ۔۔۔
آج وہ شاید سے سر اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہا تھا ۔۔
اس کے اپنے بھائی نے وفا کی بہن کے ساتھ ذیادتی کرنے کے بعد اسے قتل کر دیا تھا۔
سمجھ نہیں آرہا تھا اس کے سامنے کس منہ سے جائے۔۔۔۔۔
کس منہ سے وہ مریم کا سامنا کرے۔ ۔۔۔۔۔
ایک نظر اس نے بھی حیران پریشان سی وفا کی طرف دیکھا۔۔۔۔
جو سر جھکائے خاموشی سے کھڑی تھی۔۔۔۔۔
مریم نے شاید اسے گھر لے جانے کے لیے اس کا بازو تھاما تھا ۔ اور اسمیں اتنی بھی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ آگے بڑھ کر وفا کو اُسکی آزادی پر مبارک دے سکے۔۔۔۔۔۔
دانین ابھی بھی عدالت کے فیصلے پر چیخ رہی تھی۔۔۔۔
راۓ زادہ فیملی کی عورتیں اسے پکڑ پکڑ کر شانت کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
مگر اس کے سر پر شاید کوئی جنون سوار تھا میڈیا ان سب کی تصاویر کھچا کھچ بنا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
مریم نے ایک شکر گزار نظر آسماں کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
آنکھوں میں آنسو اتر آئے۔۔۔۔۔
ہاشم نے انکو آنکھوں ہی آنکھوں نے تسلّی دی ۔۔۔۔۔
تو مریم نے اثبات میں سر ہلایا۔
نا جانے یہ انسان کون تھا مگر اس کی وجہ سے آج اس کی بیٹی اس کے ساتھ تھی۔۔۔۔۔
اس نے یہ سارے ثبوت کہاں سے جمع کیے تھے ۔۔۔۔
اپنا وکیل کیا تھا۔۔۔۔۔۔
اور اس کی بیٹی کو بے قصور ثابت کرنے کا وعدہ سچ کر دکھایا تھا ۔ زندگی میں شاید یہ پہلا انسان تھا جس کا احسان مریم خان کبھی نہیں اتار سکتی تھی۔۔۔۔۔۔
پرسکون ہو کر ہاشم بھی آج اپنے گھر مسکراتے ہوئے گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
پہلے جب بھی وہ گھر جاتا تھا ۔۔,۔
اس کی بہن کی تصویریں روتے ہوئے اس سے انصاف کی پکار لگاتی تھی۔۔۔۔۔۔
اور آج انصاف ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
آج یقینا وہ تصویریں مسکرا رہی ہونگی۔۔۔۔۔۔
💞💞💞
روشن والا میں ویسے تو پہلے بھی سناٹا چھایا رہتا تھا لیکن آج تو موت سی خاموشی چھائی تھی ۔۔۔۔۔
ہر کسی کی زبان پر قفل تھا۔۔۔۔۔۔۔
ہادی نے رائے زادہ خاندان کا نام مٹی میں ملا دیا تھا۔۔۔۔۔
عدالت سے آنے کے بعد دانین ابھی تک چیخ رہی تھی مگر اب کسی کو اس پر نہ ترس آ رہا تھا ۔
اور نہ ہی کوئی اس کی چیخ و پکار پر کان نہ دھر رہا تھا س
سبھی لوگوں کے سامنے ہادی کی سچائی آشکار ہو چکی تھی ۔
پھوپھو مجھے بس ایک بات بتائیں کیا آپ کو ہادی کے ان سب افیئرز کے بارے میں معلوم تھا ۔۔۔۔
آخر کار التمش کا ضبط جواب دے گیا ۔۔۔۔
عدالت سے آنے کے بعد یہ پہلا جملہ تھا ۔۔۔
جو اس کے منہ سے ادا ہوا تھا۔
تم سب لوگ ہادی کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو۔۔
اس کے کتنے افیئرز تھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تم لوگوں کو چاہیے کہ آج کے مقدمے میں ہونے والے فیصلے کو رد کروا کر تم ہائی کورٹ میں دوبارہ کیس فائل کرو۔
دانین کی کنڈی ابھی تک وہیں اٹکی تھی۔
اس نے جتنی لڑکیوں کا قتل کیا۔۔
کیا اس میں سے ایک کی خبر بھی آپکو نہی تھی۔
بنا اُسکی چیخ و پکار پر کان دھرے اسنے دوبارہ سوال کیا ۔
اپنی باتوں کو نظر انداز ہوتا دیکھ دانین کُچھ پل کے لیئے خاموش ہو گئی۔۔۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے التمش ۔
ایک ماں کو اچھی طرح معلوم ہوتا ہے اسکا بیٹا کب کیا کر رہا ہے۔ اور جس طرح یہ عدالت میں ساری سچائی جاننے کے بعد بھی ہادی کے لیئے چیخ رہی تھی ۔۔۔۔
اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ انکو ہادی کی ساری کرتوتوں کے بارے میں معلوم تھا۔
فاطمہ کا بھی دماغ گھوم گیا۔
تو کیا ہو گیا جو میرے بیٹے نے دو۔ چار افیئرز چلا لیئے ۔
سارا جہاں افیئرز چلتاہے۔
اور وہ تو رائے زادہ خاندان کا وارث تھا۔
لڑکیاں خود چل کر اُسکے پاس آتی تھیں۔
انکی باتوں پر مائرہ اور مائزہ گھبرا کر اپنے ماں کے قریب ہو گئیں۔ ایک بات بولوں دانین۔
بہت اچھا کیا خدا نے،، جو تمہیں بیٹی جیسی نعمت سے محروم رکھا۔ ورنہ تم جیسی عورت ۔۔۔۔
جو خود عورت ہونے کے باوجود عورت کی عزت کو نہی سمجھتی ۔
وہ ایک بیٹی کی پرورش کے قابل نہیں ہوتی۔۔۔۔
بلاشبہ یہ ایک بہت بڑا طعنہ تھا۔۔۔۔۔
مگر دانین پر اِسکا بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔ ۔۔۔۔
مجھے کچھ نہیں معلوم۔۔۔
مجھے اِس لڑکی کو جیل بھجوانا ہے ۔
وہ دو ٹکے کی لڑکی اور اسکی ماں میرے بیٹے کو مار کر اس طرح کھلے عام نہی گھوم سکتیں۔
وہ ایک بار پھر حلق کے بل چیخ اٹھی۔
بسسسس۔۔۔۔۔
التمش کی ایک دہاڑ پر پورے حال میں سناٹا چھا گیا۔
میں کب سے آپکی یہ بلا وجہ کی چیخ و پکار برداشت کر رہا ہوں۔۔
اگر ہم چپ ہیں۔۔
تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم میں سے کسی کو غصّہ نہی آ رہا ۔
ہمیں آپ سے زیادہ غصّہ آ رہا ہے ۔
مگر وفا اور اُسکی ماں پر نہی۔
بلکہ ہادی پر۔۔۔۔
آج تک رائے زادہ خاندان کی مثالیں دی جاتی تھیں ۔
ہمارے بڑوں نے کتنی محنت سے یہ عزت کمائی تھی۔
رائے زادہ خاندان کے ایک بول سے سرکار بن اور بگڑ جاتی تھی۔۔
کسی کام کے لیے ہم ایک بار اپنے منہ سے لفظ نکال دیتے تھے۔ بلاکِسی غرض کے وہ کام کرنے کے لیئے لوگ دل و جان جُٹ جاتے تھے۔
مگر برسوں کی بنائی یہ عزت آپکے بیٹے نے ایک منٹ کے اندر اندر مٹّی میں ملا دی۔
آپکا بیٹا مطلب۔۔۔۔۔
وہ اس رائے زادہ خاندان کا بھی بیٹا تھا۔
وہ تم سب کا بھائی ہے۔
غلط۔۔۔۔۔۔
ہم آپ کی عزت کرتے ہیں پھپھو ۔
مگر ایک قاتل ، زانی ، کو ہم میں سے کوئی اپنا بھائی تصور نہیں کرسکتا ۔
جو لوگ ہمارا نام سن کر آنکھوں میں عزت لیے احترام سے کھڑے ہو جاتے تھے۔۔۔۔
آج وہی لوگ ہمیں مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔۔۔
میڈیا ٹی وی چینل پر رائے زادہ خاندان کا نام اچھال رہی ہیں۔ جو نام کل تک عزت سے پکارا جاتا تھا۔۔۔۔
آج اس نام کو درندوں کی لسٹ میں لا کھڑا کیا ہے۔۔۔۔
اور یہ سب آپ کی تربیت کا نتیجہ ہے۔۔۔۔۔
جس دن اُس نے پہلی بار کسی لڑکی سے بدتمیزی کی ۔۔۔۔۔
آپ کو اسی دن ہادی کو سزا دینی چاہیے تھی۔
اسے غلط عمل سے روکنا چاہیے تھا۔
مگر آپ نے نہ صرف اس کی حوصلہ افزائی کی ۔
بلکہ اسکے تمام کرتوتوں کو سارے خاندان سے چھپا کر رکھا۔
جن دو ٹکے کی ماں بیٹی کی آپ بات کر رہی ہیں۔
آج رائے زادہ خاندان ان دونوں کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔
وہ بولتے بولتے کُچھ پل کے لیے خاموش ہوا۔۔۔۔
پورے ہال میں سنّاٹے پھیل گئے تھے۔۔
کُچھ توقف کے بعد وہ مضبوط لہجے میں گویا ہوا
میں التمش راۓ زادہ آج یہ اعلان کرتا ہوں۔۔۔۔
آج کے بعد روشن ولاء کا کوئی بھی فرد ہادی کا نام اپنی زبان سے ادانہی کرے گا۔
ایک کیریکٹر لیس ، اور قاتل۔۔۔۔۔
راۓ زادہ خاندان میں سے نہیں ہو سکتا۔
التمش کے فیصلے سے سبھی لوگ متفق تھے۔
مگردانین کو پتنگے لگ گئے۔
جیسے ہی التمش وہاں سے گیا ۔
سبھی لوگ اسی کے پیچھے پیچھے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔
پورا ہال خالی ہو گیا اور دانین وہاں اکیلی چیختی رہ گئی۔
یہاں تک کہ نوکروں نے بھی اسکی چیخ و پکار کو سننا ضروری نہ سمجھا۔
💞💞💞
آج عدالت کے فیصلے کو ہوئے دو ہفتے ہو چکے تھے دانین کی حالت پاگلوں جیسی ہوگئی تھی۔۔۔
سب اسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔
لیکن وہ کسی کی سننے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔
اس کی بس ایک ہی منطق تھی اس کا بیٹا معصوم ہے
اور وفا کو سزا ہونی چاہیے۔۔۔۔
اب تنگ آ کر سب نے اس کی باتوں پر کان دھرنا بند کر دیا تھا۔
فاطمہ نے اشاروں سےالتمش کو کئی بار وفا کو واپس لانے کا بولا تھا لیکن وہ چپ سادھے بیٹھا تھا۔
مگر آج اس کا صبر بھی جواب دے گیا تھا۔۔۔
عدالت وہ یہ جان گا تھا کہ وفا بے قصور ہے ۔۔
مگر بعد میں جب ہادی کے کیس کو کھولا گیا۔۔۔۔
جن جن لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ۔۔۔
اور جن کو جلا کر مار دیا گیا۔۔۔۔
ان میں سے ایک وفا کی بہن بھی تھی۔۔۔۔۔
ان کے ساتھ ظلم ہوا ہے یہ بات بھی اس پر شکار ہوگئی تھی قصور سارا اس کے بھائی کا ہے اس بات پر وہ نادم تھا ۔
آج وہ پورے نک سک سے تیار ہوا تھا ۔۔
بلیک تھری پیس سوٹ پہنا،، امپورٹنٹ پرفیوم لگایا،، سرخ گلابوں کا ایک خوبصورت بکے بنوایا۔ بالوں کو اچھے طریقے سے سیٹ کیا۔ کئی بار اپنی تیاری کو آئینے میں دیکھا ۔
لیکن پھر بھی ہر بار کمی ہی لگ رہی تھی۔
فاطمہ، ارشد، مائرہ ، مائزہ سب لوگ اکٹھے ہو کر آج مریم کے پاس جا رہے تھے تاکہ وفا کو واپس روشن ولا لاسکیں۔
لیکن ان سب سے پہلے التمش وفا کے پاس جا رہا تھا۔
اگر وفا کو اس سے کوئی شکوہ شکایت یا ناراضگی ہے ۔۔
تو وہ اسے دور کر سکے تاکہ جب اس کی فیملی وفا کو لے جانے کی بات کرے وفا تو انکار نہ کرے۔۔۔۔۔
💞💞💞
اسلام علیکم آنٹی۔۔۔
وفا کے گھر آ کر وہ سیدھا ڈرائنگ روم میں چلا آیا۔
مریم اسے یہاں دیکھ حیران ہوئی۔
کتنی چاہ سے انہوں نے اس انسان کو اپنی بیٹی کا ہمسفر چنا تھا۔ کاش وہ اسے طلاق نا دیتا۔
وفا اسے چاہنے لگی تھی ۔
یہ بات مریم پر اسی دن آشکار ہو گئی تھی۔
جس دن وہ ہادی رائے زادہ کا قتل کر کے آئی تھی۔
اسوقت اسے کسی کی جان لینے کا یا اپنی زندگی برباد ہونے کا دکھ نہیں تھا۔۔۔۔
اگر اسکی آنکھوں میں کسی چیز کا درد تھا۔
تو وہ بس التمش کا اسے خود سے جدا کر دینا۔
آؤ بیٹا بیٹھو۔
پھیکا سامسکرا کر مریم نے آدابِ ميزبان نبھائی ۔
جی آنٹی ۔۔۔۔۔
ہلکا سامسکرا کر وہ صوفے پر براجمان ہوگیا۔
ہاتھوں میں پکڑا سرخ گلابوں کا بکے سامنے موجود ٹیبل پر رکھا۔ کچھ لاؤں آپ کے لیے ۔
مریم کے کھڑے کھڑے سوال کرنے پر وہ حیران ہوا۔
نہیں آنٹی کچھ نہیں ۔
بس میں وفا سے ملنا چاہتا ہوں۔
وہ ڈائریکٹ مدعے کی بات پر آیا۔
دو ہفتوں سے اس کی بیوی یہاں تھی۔
ان دو ہفتوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔
وفا بھی ناجانے اس کے بارے میں کیا کیا غلط فہمی پالے بیٹھی تھی۔
جو ایک بار بھی فون نہیں کیا۔
خیر آج وہ اُن دونوں کے درمیان موجود ہر غلط فہمی کو مٹا دینے کا ارادہ رکھتا تھا۔
اسی لیے بنا ٹائم ضائع کیے سیدها مدعے کی بات پر آیا۔
مگر مریم کا مارے حیرت کے منہ کھل گیا ۔
آپ اس سے کیوں ملنا چاہتے ہیں ۔
وہ اس وقت کسی سے نہیں مل سکتی۔
انکے دکھ بھرے روکھے پھیکے جواب پر وہ مزید حیران ہوا۔
کیا ہوا آنٹی –
وفا کسی سے کیوں نہیں مل سکتی ، سب ٹھیک تو ہے ۔
اُسے وفا کی فکر لاحق ہونے لگی۔
ہاں وہ ٹھیک ہے۔
مگر وہ فلحال عدت میں ہے۔
عدت کے نام سے ہی التمش کو زبردست شاک لگا۔
واٹ ؟؟؟؟
عدت……. کیسی عدت ، کس بات کی عدت ؟؟؟
مریم نے ایک نظر اس کے حیران پریشان چہرے کی طرف دیکھا ۔
جس کے تاثرات سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ شاید وہ سارے معاملے سے ہی انجان تھا ۔
کیا یہ بھی ہادی رائے زادہ کی طرح ہی ڈرامے کر رہا ہے۔
من ہی من اُسے التمش بھی ہادی کی فطرت میں سے لگا۔
آپ نے جو اسے طلاق دی تھی۔
اسی بات کی عدت کاٹ رہی ہے میری بیٹی ۔
کورٹ میں جانے کی مجبوری تھی۔
ورنہ وہ تو تب بھی عدت میں تھی۔
مریم کے لہجے میں کڑواہٹ در آئی۔
واٹ ؟؟؟؟
طلاق ۔۔۔۔۔۔
یہ آپ کیسی باتیں کررہی ہیں۔
میں وفا کو طلاق کیوں دوں گا۔
یہ سب آپ سے کس نے کہہ دیا۔
التمش کے سرپر مانو بم پھوٹ گیا ہوا۔
حیرت تو مریم کو بھی ہوئی تھی۔
مگر اسی وقت وہاں ہاشم آ گیا۔
اسلام علیکم آنٹی ۔۔۔۔۔
ہاشم کو وفا کے گھر اِس وقت دیکھ التمش کو دوبارہ حیرت کا جھٹکا لگا۔
تم اسوقت یہاں کیسے ؟؟
میں یہاں اس لیے آیا ہوں کیونکہ مجھے پتہ چلا ہے کہ آج تم وفابہن کو واپس روشن ولاء لے جانے آئے ہو۔
ہاں میں وفاکولینے آیا ہوں۔۔۔۔
مگر مریم آنٹی بول رہی ہیں کہ میں نے وفا کو طلاق دے دی ہے۔
التمش کے اوسان خطاء ہو گئے تھے۔
سمجھ نہیں آرہا تھا آخران سب کو اس طرح کی غلط فہمی کیونکر ہوئی ۔
اسمیں آنٹی کی کوئی غلطی نہیں ہے التمش ،
وفا کو بھی یہی لگتا ہے کہ تم نے اُسے طلاق دے دی ہے۔
مگر کیوں ؟؟ وہ جھنجھلا اٹھا ۔
کیونکہ ہادی رائے زادہ نے اُس سے ایسا بولا تھا۔
کیا بولا تھا۔ وہ چوکنا ہوگیا۔
اور اسی کے ساتھ ساتھ مریم کے بھی کان کھڑے ہو گئے۔
اسنے ایک فیک کال آنے کا ڈرامہ کیا تھا۔
اسکے بعد وفا سے بولا کہ تم نے اسے طلاق دے دی ہے۔
اور وفا کو ڈھونڈھنے کے لیے پولیس فورس ان کے پیچھے لگادی ہے۔
واٹ ؟؟
مگر ایسا تو کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ وہ پھر جھنجھلایا ۔
ہاں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا ۔
لیکن ہادی نے ان سے یہ سب اس لیے بولا تھا کہ وفا اس سے شادی کرنے کے لیے رضامند ہو جائے۔
مطلب التمش نے میری بیٹی کو طلاق نہیں دی۔
مریم پُر جوش انداز میں آگے بڑھی۔
التمش نے سر ہاتھوں میں گرالیا۔۔۔۔
ابھی اور کتنا کچھ جاننا باقی تھا۔
میری بیٹی طلاق یافتہ نہیں ہے ۔
مارے خوشی کے وہ رو پڑیں۔
آنٹی میں وفا سے مل سکتا ہوں۔
وہ یکدم مریم کی طرف مڑا ۔
ہاں……. ہاں مل سکتے ہو۔
مارے خوشی کے ان کی آواز کپکپا گئی۔
اجازت ملتے ہی وہ تیزی سے آگے بڑھا ۔
مگر چند قدموں پر ہی یکدم رک گیا۔
جیسے کچھ یاد آگیا ہو۔
پھر اسی تیزی سے مڑا۔
اور ٹیبل پر رکھے پھولوں کے بکے کو اٹھایا اور دوبارہ تیزی سے وفا کے روم کی طرف بڑھا۔
آپ یہاں بیٹھ جائیں ۔
آنسو بہاتی مریم کو اس نے صوفے پر بٹھا کر پانی کا گلاس تھمایا۔ جسے چند گھونٹ پی کر اس نے دوبارہ میز پر رکھ دیا۔
تمہیں معلوم تھا کہ وفا کو لتمش نے طلاق نہیں دی ہے۔ ہمم۔۔۔۔۔۔وہ بس اتنا ہی بول پایا۔
پھِر بتایا کیوں نہی ۔۔۔ مریم کو حیرانی ہوئی۔۔۔
کیونکہ میں چاہتا تھا کہ التمش خود وفا کو لینے آئے۔۔
اور آپکو اپنے منہ سے بتائے کہ وفا اُسکی بیوی ہے۔۔
اور اس نے وفا کو طلاق نہی دی ہے۔۔۔۔
آجایا کرو کبھی کبھی ۔
میرا کوئی بیٹا نہیں ہے۔
مگرتمہارے آنے سے بیٹے کی کمی محسوس ہونا کم ہو جاتی ہے۔
اور اب وفا بھی سسرال چلی جائے گا۔
میں اکیلی پڑ جاؤں گی۔
جی آنٹی بس پولیس کی جاب ہی ایسی ہے۔
گھر پر اپنے لیے کم ہی ٹائم ملتا ہے۔
لیکن جب بھی میں فری ہوا ۔
یہاں آجایا کروں گا۔ اسکی تسلی پر مریم سرشاد ہوگئی۔
اللہ تمہیں اور ترقی دے ۔
وہ دونوں آپس میں اِدھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے ۔
جب رائے زاده خاندان کے باقی لوگ ڈھیروں ڈھیر تحائف کے ساتھ وہاں آدھمکے ۔ان کی تیاری سے ایسا لگ رہا تھا کہ سب کے یہاں آنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ وہ وفا کو لے کر ہی جائیں گے۔مریم کا دل سرشار ہو گیا وہ پہلے ہی چاہتی تھی کہ وفا کا مستقبل سنور جائے اور اب ان سب کی تیاری سے لگ رہا تھا تھا۔۔ شاید اُسکی یہ خواہش پوری ہونے والی ہے۔
التمش نے بھی وفا کو طلاق نہیں دی تھی۔۔۔
تو قاعدے کے مطابق وفا کو اب اپنے سسرال چلے جانا چاہیے تھا ۔
وفا خوش و خرم زندگی گزارے گی اس سے اچھی بات کوئی ہو ہے نہی سکتی تھی۔ اور اسی میں مریم کی اپنی خوشی بھی شامل تھی۔۔
مریم اور ہاشم نے آگے بڑھ کر ان سب کا استقبال کیا ۔ان سب کو یوں اچانک دیکھ کر مریم کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔مگر ہاشم نے آگے بڑھ کر ان سب کا اچھے سے استقبال کیا ۔ملازمہ کو کُچھ کھانے کے انتظامات کی ہدایت دینے کے لیے وہ کچن کی طرف بھاگی۔ہاشم بھی اس کے پیچھے پیچھے کچن میں آگیا آنٹی آپ کو کچھ بھی بنوانے کی ضرورت نہیں ہے ہم کھانا کسی اچھے ہوٹل سے آرڈر کر لیتے ہیں ۔۔ اتنی جلدی کچھ بھی نہیں بن پائے گا۔۔ آپ جائیں اور وہاں جاکر ان سب سے باتیں کریں ۔۔ مجھے یقین ہے وہ سب آپ سے معافی مانگنے آئے ہیں ۔ہاں یہ بھی ٹھیک ہے باہر سے آرڈر کر دیتے ہیں ۔مریم کو اس کا سجھاؤ اچھا لگا۔
آؤ تم بھی میرے ساتھ آجاؤ ان کے پاس بیٹھتے ہیں۔۔۔
مریم نے اسے بھی اپنے ساتھ چلنے کا بولا ۔۔۔
نہیں آپ چلیں ۔۔۔
میں سب کے لئے چائے بنا کر لاؤ گا ۔۔۔
سب کو میرے ہاتھ کی چائے بہت پسند ہے
اور جب آپ بھی میرے ہاتھ کی چائے پیئیں گي تو میری فین ہو جائیں گی۔۔۔
وہ شوخ ہوا ۔ تو مریم بھی مسکرا دی ۔ آج دیکھ لیتے ہیں۔۔۔
کچھ دیر میں وہ سب کے لئے چائے بنا کر لے آیا ۔
ہر بار کی طرح اس بار بھی اس کی چائے کی بہت تعریف کی گئی۔۔۔
جس نے مسکراتے ہوئے وصول کیا کیا۔۔۔
دس منٹ تک سب کے ساتھ خوش دلی سے باتیں کرتے ہوئے ہوئے آخر کار وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔
اوکے آپ لوگ انجوائے کریں مجھے کام ہے مجھے جانا ہوگا مسکرا کر اپنا موبائل اٹھایا ۔سب کو سلام دعا کرکے وہاں سے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
مائزہ نے ایک نظر اس کے بلا تاثر چہرے کی طرف دیکھا۔
جب سے ہادی کے گناہ ثابت ہوئے تھے
اس دن کے بعد ان دونوں کا ایک دوسرے سے کئی بار سامنا ہوا لیکن اس نے ایک بار بھی اسے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔ جیسے وہ اسے جانتا ہی نہ ہو۔۔۔
ایکسکیوزمی۔۔۔۔۔۔
میں بس پانچ منٹ میں آئی۔۔۔۔
ہاشم کو جاتا دیکھ وہ سب ایکسكیوز کرتی اس کے پیچھے بھاگ گئی۔۔۔
ہاشم رکو۔۔۔۔
میری بات سنو نا۔۔۔۔
کیا ہو گیا مجھ سے ناراض ہو کیا ۔۔۔۔۔
وہ اس کے عین مقابلہ آ کھڑی ہوئی۔۔۔
ھاشم نے رخ موڑ کر ایک نظر اس کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر پریشانی صاف نظر آرہی تھی۔۔۔۔
میں تم سے ناراض کیوں ہونے لگا۔۔۔۔
اُسکا اجنبیت بھرا انداز مائزہ کو عجیب لگا۔۔۔۔
پھر تمہارے اس اجنبی رویّے کی آخر وجہ کیا ہے۔۔۔
کیا تم سچ میں نہیں جانتی میرے اِس رویے کی وجہ۔۔۔۔۔ وہ استہزانیہ ہنسا۔ مائزہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ چلو میں بتاتا ہوں۔ ایک لمبی سانس خارج کر وہ اسکے چہرے کی طرف دیکھنے لگا ۔ ہادی رائے زادہ نے، یعنی کہ تمہارے بھائی نے۔ جن لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کر کے ان کو موت کے گھاٹ اتارا ۔ ان میں سے ایک لڑکی میری بہن بھی تھی۔
میری بہن ہادی رائے زادہ کو نہیں جانتی تھی اور نہ ہی وہ اس سے پیار کرتی تھی ۔۔۔
وہ تو کبھی ہادی رائے زادہ سے ملتی ہیں نہ۔۔۔
اگر وہ بدقسمتی سے تمہاری دوست نہ ہوتی۔۔۔
میری بہن کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ تمہاری دوست تھیں۔۔۔۔
ایک دوست سمجھ کر وہ تمہیں اپنی ہر چھوٹی اور بڑی بات بتاتی۔۔
جسے تم جا کر اپنے بھائی کو بتاتی۔۔۔۔
جو بھائی نہی بلکہ بھائی کے روپ میں چھپا درندہ تھا۔۔۔۔
تمہارا وہ درندہ بھائی میری بہن کو نگل گیا۔۔۔۔
میری بہن کا شکار کرنے میں تم نے اس کی مدد کی۔۔۔۔
کتنا تمہارا بھائی قصور وار ہے میری نظر میں تم کے اتنے ہی قصوروار ہوں ہو
فرق صرف اتنا ہے ہادی رائے زادہ کو اُسکے جرم کی سزا مل گئی اور تمہارا جرم ثابت نہیں ہوتا ۔۔۔
نہ ہی تمہارے جرم کی کوئی سزا ہے۔۔۔۔
لیکن میری نظر میں تم آج بھی میری بہن کی مجرم ہو۔۔۔
جس نے دوست بن کر اس کے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔۔۔
جس کے تم جیسے دوست ہو اس کا دوستی پر سے اعتبار اٹھ جائے۔۔۔۔
لڑکیاں۔۔۔ دوست ایک دوسرے کے راز لینے کے لیے بنتی ہیں ایک دوسرے کو اپنے من کی باتیں بتا کر دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے بنتی ہیں۔۔۔۔
جو باتیں وہ اپنے گھر والوں سے اپنے بھائی سے شیئر نہیں پاتیں۔۔۔
وہ باتیں اپنی دوست سے کرتیں ہیں۔۔۔۔
لیکن اگر دوست تم جیسی ہو تو دوستی زِندگی کی سنگین غلطی بن جاتی ہے۔۔۔۔
مم۔۔۔۔ مجھے معاف کر دو۔۔۔
بھائی نے بولا رہا کہ وہ آپکی بہن سے پیار کرتے ہیں۔۔۔
مُجھے نہی معلوم وہ ایسے نکلیں گے۔۔۔
تو معلوم ہونا چاہئے نا۔۔۔۔
تمہیں اگر کوئی اپنی چھوٹی چھوٹی باتیں بتاتا ہے تو تمہیں وہ باتیں خود تک محدود رکھنے چاہئیں ۔۔۔
نا کہ جا کر اپنے بھائی کے سامنے کھول کھول بیان کرنی چاہیے۔۔۔
آج میں اُس مقام پر کھڑا ہوں ۔
جہاں مجھے بھی تمھاری بہت سی باتیں معلوم ہیں۔۔۔
تم مجھ سے محبت بھی کرتی ہو ۔۔۔۔
چاھتا تو میں بھی کچھ غلط کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔
آخر تم میری بہن کے مجرم کی بہن ہو۔۔۔۔
اور جِس درندگی کا وہ شکار ہوئی ۔۔۔
اُس میں تمہارا بھی کہیں نا کہیں ہاتھ رہا ہے ۔۔۔
لیکِن میں نے ایسا نہی کیا ۔۔۔۔۔
میرا ضمیر، میری پرورش۔۔ میرے اصول کسی کی بہن، بیٹی، کے ساتھ زیادتی کی اجازت نہیں دیتے۔۔۔
نن ۔۔۔ نہیں ہاشم ،
تم مجھے غلط سمجھ رہے ہو ۔
مانا کہ میں نے آپکی بہن کے بارے میں ہادی کو بتا کر بہت برا کیا ہے۔
میں یہ بھی مانتی ہوں۔
آپکی بہن کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا۔
اسمیں شاید میرا قصور صرف یہی ہے کہ وہ میری دوست تھی۔ ناوہ میری دوست ہوتی۔
اور نہ ہی وہ ہادی بھیا کی نظر میں آتی۔
مگر میرا خدا گواہ ہے ہاشم ۔
میں نے کبھی بھی اسکا برا نہیں سوچا۔
جب ہادی بھیانے بولا کہ وہ آپ کی بہن کو پسند کرتے ہیں۔
تو ایک عام بہن کی طرح مجھے اسمیں اپنی بھابھی نظر آنے لگی۔ ایک دوست بھابھی کے روپ میں گھر آجائے۔
اِس سے اچھی بات کیا ہو گی۔
بس اسی لیے میں اسکی ہر پسند نا پسند کا بھائی کو بتا دیتی ۔
مگر مجھے کیا معلوم تھا وہ ایسے نکلیں گے ۔
ہمیں تو کبھی ان کے بارے میں ایسی کوئی بات معلوم نہیں پڑی جس سے ہمیں اندازہ ہو سکے کہ وہ اندر سے کیا سوچتے ہیں۔
ہم سب کے لیے تو وہ ہمارے ویسے ہی ہادی بھیا تھے۔
جیسے ارشد بھیا اور التمش بھیا ہیں۔
وہ صفائ دينا تو نہیں چاہتی تھی۔ مگر ہائے رے یہ ظالم محبت ، جو نجانے کیا کیا کرواتی ہے۔
ہاشم نے ایک نظر اسکے دھواں دھواں چہرے کی طرف دیکھا۔
نم آنکھیں دل کی سچائی بیاں کر رہیں تھیں۔
ٹھیک ہے مائزہ، میں تمہاری ایک ایک بات کو سچ مان لیتا ہوں ، مگر میں ہمارے اس رشتے کو ابھی قبول نہیں کر سکتا .
میری بہن کو کھونے کا زخم کچھ دن پہلے ہی بھرنا شروع ہوا ہے۔ آج تک میرے لیے تم بھی میری بہن کی مجرم تھی۔
مگر خیر ۔۔۔
آج سے میں تمہارے بارے میں ، تمہارے نظریے سے سوچنے کی کوشش بھی کروں گا۔
مگر اس کے لیے مجھے وقت درکار ہے۔
اگر تم انتظار کر سکو تو ٹھیک ہے۔
ورنہ تمھیں پورا حق ہے اپنے لیے ایک اچھا ہمسفر چننے کا۔۔۔۔
کتنا وقت ؟؟؟؟؟
اسکے لہجے میں کی آس و امید محسوس کر ہاشم کا دل کٹ کے رہ گیا۔
مگر وہ واقعی میں تھوڑی سی ہی سہی ، مگر سزا کی حقدار تھی۔
آخر اسے بھی تو احساس ہونا چاہیے ۔
جانے انجانے ہی سہی مگر غلطی اُس سے ہوئی ہے۔
معلوم نہیں۔۔۔۔۔
اسے کوئی خاطر خواہ جواب نہ دے کر وہ بس خاموشی اختیار کیے وہاں سے چلا گیا۔
لب اپنے آپ مسکرا اٹھے۔ جانتا تھا ، وہ اس سے بہت محبت کرتی ہے۔
اگر وہ اسے ساری زندگی انتظار کرنے کا بولتا تب بھی شاید وہ انکار نہ کرتی۔ بس کچھ دن کی سزا ، تا کہ سزا کے ساتھ ساتھ اُسکی محبت کا بھی امتحان ہو پائے۔۔۔
💞💞💞
اسکے حساب سے یہ اس کی عدت کے دن تھے
اسی لیے اُس نے اپنے وجود کو بس اِسی کمرے تک محدود کر کے رکھ دیا تھا۔
اور ویسے بھی اب جینے کی کوئی خاص وجہ نہ بچی تھی۔
نوعمری میں طلاق کا دھبہ لگوا بیٹھی تھی ۔
لیکن خیر ۔
اِس سارے حادثے میں ایک بات اچھی ہوگئی تھی۔
اسے یقین آنے لگا تھا کہ اسکی ماں آج بھی اُس نے بچپن جیسی محبت ہی کرتی ہے۔
بس رائمہ اور صفدر کے جانے کے بعد ان کا دل و دماغ ہر چیز کو شک بھری نگاہ سے دیکھنے لگ گیا تھا۔
اور وہ اپنی ماں کی زندگی میں خوشیوں کی آخرى
امید تھیں۔ اسی وجہ سے وہ زیادہ حساس ہوگئیں تھیں۔ بیڈکراؤن سے ٹیک لگائے وہ آنکھیں بند کرکے ناجانے کن سوچوں میں مگن تھی۔ جب دروازه کھلنے کی آواز پر بھی وہ نہ چونکی۔۔۔
ایک گھنٹہ پہلے اسنے ملازمہ کو جوس کا گلاس لانے کا بولا تھا۔۔۔
مگر ایک گھنٹہ گزر گیا تھا ۔۔نا جانے وہ کیسا جوس لینے گئی تھی ۔۔۔ یا پھر بھول گئی تھی۔۔۔۔
اب شاید وہی آئی ہوگی۔۔۔۔
مگر اپنے آس پاس مخصوص خوشبو محسوس کر اسنے پٹ سے آنکھیں کھول لیں۔۔۔
اپنے سامنے التمش کو بلیک تھری پیس سوٹ کے ساتھ ہاتھوں میں ریڈ روزز کا بکے پکڑے اُسکی طرف خوبصورت مسکراہٹ لیئے دیکھ لیا تھا ۔۔۔
حیرانگی سے وہ سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔۔
آ۔۔۔۔آپ
ہممم۔۔۔ آپکا شوہر ۔۔۔
جسے آپ شاید سنگدل محبوبہ کی طرح بھول گئی ہیں ۔۔
اسنے منہ کے زاویے بگڑ کر ناراضگی کا اظہار کیا۔۔۔۔
شوہر۔۔۔۔۔
وفا کا دماغ بس اسی لفظ میں الجھ کر رہ گیا۔۔۔۔
آنکھوں میں نمی جھلملائی۔۔۔
آپکو یہاں نہی آنا چاہیے تھا میں اسوقت۔۔۔۔۔
اوہ ہاں یاد آیا ۔۔۔۔
پُر سوچ انداز میں وہ اسکے عین برابر آن بیٹھا۔
جھجھک کے وہ کچھ دور سرکنے لگی۔۔۔
تبھی التمش نے اِسکا ہاتھ پکڑ کر اسے خود سے دور جانے سے روکا۔۔۔
کس بات کی عدت کے رہی ہیں آپ۔۔۔
میں ابھی صحیح سلامت ہوں ۔۔۔
اور آپکا شوہر ہوں۔۔۔۔
کوئی بھی آ کے آپکو بول دے گا کہ آپکے شوہر نے آپکو طلاق دے دی ہے
آپ یقین کر لیں گی۔۔۔ ۔
اور بولا وجہ عدت کاٹنے لگ جائیں گی۔۔۔۔
مگر ایک بار اپنے شوہر سے نے کرنا ضروری نہیں سمجھیں گی۔۔۔
اُسکا طنزیہ انداز وفا کو حیران کر گیا۔۔۔
کیا مطلب آپ نے۔۔۔۔۔
رواں رواں سماعت بن گیا تھا۔۔۔۔۔
دل یکبارگی دھڑکنے لگا ۔۔۔۔
جی ہاں محترمہ میں نے آپکو طلاق نہی دي۔۔۔۔
آپ ابھی بھی مسز رائے زادہ ہیں ۔۔۔
کُچھ پل کے لیئے اُسکا منہ مارے حیرت کے کھل گیا۔۔۔۔
آج یہ خبرسن کر صدمہ لگ گیا تھا ۔۔۔
مگر یہ خوشی کا صدمہ تھا۔۔۔
اُسکا حیرت سے کھلا منہ دیکھ وہ مسکرایا۔۔۔
مگر اگلے ہی پل اُسکا منہ بھی اسی طرح حیرت کی زیادتی سے کھول گیا جیسے وفا کا کھلا تھا۔۔۔
ہاتھ بڑھا کر اسکے گلے میں موجود اسی پینڈینٹ کو دیکھا۔۔۔
جو اسنے منہ دکھائی کے طور پر وفا کو دیا تھا۔۔۔
اور اگلے دن اُسنے بولا تھا کہ وہ تحفہ اُسنے نوکرانی کو سے دیا ہے۔۔۔
یہ ۔۔۔ آپکے پاس ؟؟؟؟
اسنے تعجب سے وفا کے چہرے کی طرف دیکھا۔
جو اب اپنی حیرانگی بھول کر اسکے حیران کن تاثرات کی طرف دیکھ رہی تھی۔
یہ میرے شوہر نے مجھے منہ دکھائی میں دیا تھا۔
اور منہ دکھائی کا تحفہ بہت خاص ہوتا ہے۔
اور یہ خاص تحفہ کسی کو نہیں دیا جاتا۔
وہ جس مان سے گویا ہوئی تھی۔
التمش عش عش کر اٹھا۔
جھوٹی حسینہ ، آج یہ دوسرا لقب اسکے حصے میں آیا تھا۔
ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں نمی در آئی ۔
آئی ایم سوری ،
میں نے آپ سے ہر وقت جھوٹ بولا،
مگر میں نے کبھی بھی آپ سے بلاوجہ جھوٹ نہیں بولا ۔
میری مجبوری تھی۔
ہمیں لاکھ کوششوں کے بعد بھی انصاف نہیں ملا۔
تو میں یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوگئی۔
دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر وہ زارو قطار رو دی۔
التمش نے افسوس بھری نگاہ سے اس کی طرف دیکھا ،
وفا میری بات سنو ،
اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھام کر وہ حد درجہ سنجیده ہوا۔
تم نے جو کچھ بھی کیا ، صحیح کیا۔
اگر تم مجھے بتاتی کہ میرا بھائی غلط ہے۔
تو یقیناً میں تمہاری بات کا کبھی یقین نہیں کرتا۔
حالاتوں نے جس طرح بھی موڑ کھایا ، اچھا یا برا ، مگر ہمیں اپنوں کی ، سچے جھوٹے کی پہچان دے گیا۔
مگر ان سب میں ایک چیز ، جس کے بارے میں ، میں آج سچ سننا چاہتا ہوں ،
کیا تم ، واقعی مجھ سے کبھی محبت نہیں کی ،
یا پھر تم سچ میں……..
سچ سننا چاہتے ہیں۔
اسکی بات کو درمیان میں ہی کاٹ کر وہ تیزی سے بول اٹھی۔ التمش نے اثبات میں سر ہلایا۔
شادی سے پہلے میں کسی سے پیار نہیں کرتی تھی۔
میری زندگی کا صرف ایک مقصد تھا ،
ہادی رائے زادہ کو سزا دلوانا ، یا دینا۔
مگر شادی کے بعد، وہ کچھ توقف کے لیے رکی،
شادی کے بعد مجھے محبت ہو گئی ،
آپ کی اچھائی کے مجھے اٹریکٹ کیا۔
مگر جب آپ نے بولا کہ آپ نے مجھ سے شادی صرف میرے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے کی تھی ،
بس اسی لمحے مجھے شدید محبت ہوگئی ۔
اظہارِ محبت کر کے بھی وہ رو پڑی۔
تھینک گاڈ ، آپ نے مجھے طلاق نہیں دی ،
آپ نہیں جانتے مجھے کتنی تکلیف ہوئی تھی۔
آج التمش کا دل گہرائیوں تک سرشار ہوگیا تھا۔ ایک بوجھل سانس ہوا کے سپرد کر اب وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا –
ہاتھ بڑھا کر آنسو صاف کیئے۔ التمش رائے زادہ کی بیوی کو رونے کا بالکل حق نہیں۔
اسکے چہرے کو دونوں ہاتھوں کے پیالوں میں بھر کر صبیح پیشانی پر دہکتے لب رکھ دیئےدیے۔
ویسے اتنا گندا اظہار محبت کوئی نہ کرے ،
اسنے دوبارہ منہ کے زاویے بگاڑے ،
وفا حیران ہوئی۔۔۔۔
ایسے مت دیکھو بورنگ بیوی،
ہونا تو یہ چاہیے تھا ، اتنے دنوں کی جدائی کے بعد تم نے دس ، بارہ کِس کر کے (آئی ) چوده ، پندرہ کس کرنے کے بعد ( لو ) اور بیس ، پچیس کِس کے بعد ( یو) بولنا چاہئے تھا۔
اسکی نئی منطق پر وفا کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
التمش آگے بڑھ کر اُسکی سانسوں کو خود میں سمونے لگا۔۔۔۔۔
وفا نے بنا کوئی مزاحمت کیے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔
اب جبکہ سب ٹھیک ہو گیا تھا۔
تو بھلا وہ کیوں مزاحمت کرے۔۔۔
مگر وہ تب بوکھلا گئی ۔۔۔
جب التمش کی گستاخیاں بڑھنے لگیں۔۔۔۔
التمش یہ آپ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔
ماں ابھی آ جائیں گی۔آپ کچھ شرم کریں۔۔۔
پہلی بات ماں نہی آئے گی۔۔۔۔ نیچے راۓ زادہ فیملی پورے اہتمام سے آپکو لینے آئی ہوں۔۔۔۔
نیچے رائے زادہ فیملی آئی تھی اور اسے معلوم ہی نہیں۔۔۔۔
دوسری بات یہ کہ اپنی بیوی کے سامنے شرم کرنے والا سب سے بڑا بیوقوف ہوتا ہے۔۔۔۔
مُجھے نیچے جانا ہے ۔۔۔۔ ۔کیا سوچیں گے سب لوگ۔۔۔
کتنی بے مروت ہوں میں۔۔۔۔
وہ شرمندہ ہوئی ۔۔۔۔۔۔
کوئی کچھ نہی سوچے گا ۔۔۔۔
سب کو معلوم ہے نے اپنی بیوی منانے آیا ہوں ۔۔۔۔
اور اب مجھے اپنی بیوی منانے دو۔۔۔۔
مصروف سے انداز میں اُسنے وفا کو دوبارہ خود سے قریب کیا۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
گردن پر ہلکی ہلکی شیو کی چبھن پر وہ کھلکھلائی۔۔۔
التمش نے سر اٹھا کر معصومیت بھری شفاف ہنسی کو دیکھا۔۔۔
اور خود بھی مسکرا دیا۔۔۔۔