52.3K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

آج سے کئی سال پہلے یہ ان کا اور ان کے شوہر صفدر کا کمرہ تھا۔ حالانکہ ان دونوں کی ارینج میرج تھی۔
مگر وہ مریم سے اس قدر محبت سے پیش آتے تھے کہ انہیں کبھی نہیں لگا کہ ان کی شادی صرف خاندان کی مرضی کے باعث ہوئی۔
ان کی خوشیوں بھری زندگی میں رنگ ان کی پہلی اولاد رائمہ نے آکر گھول دیئے تھے۔
ان دونوں کی سب سے بڑی بیٹی رائمہ جو کہ مریم سے زیادہ اپنے بابا کی لاڈلی تھی ۔
اس کی ہر خواہش کو پورا کرنا شاید انہوں نے اپنا فرض سمجھ لیا تھا۔
وہ سات سال کی ہوگئی تب مریم کو خدا ایک اور بیٹی سے نوازا ۔ جس کا نام ان دونوں نے ہی وفا رکھا۔
جہاں اپنی ہر خواہش پوری ہو جانے کے باعث رائمہ کی طبیعت میں ضدی بن آگیا تھا۔
وہیں اسکے مقابل وفا بہت معصوم تھی۔
مریم کو کبھی کبھی وفا پر ٹوٹ کر پیار آتا۔
دھیرے دھیرے وقت گزرا اور انکی بیٹی بڑی ہو کر یونیورسٹی چلی گئی۔
رائمہ روزانہ خوبصورت کپڑے ، سینڈل ، ہلکا ہلکا میک اپ کرکے یونی جانا مریم کو کچھ خاص اچھا نہ لگتا۔
اسکے حساب سے جب ایک لڑکی پڑھنے کے لیے جاتی ہے تو اسے سادگی میں جانا چاہیے۔
مگر پھر اپنی پرورش پر بھروسہ کرکے وہ خاموش رہ جائیں۔
اور ایک دن ان کا ڈر انکے سامنے آگیا۔
جب رائمہ نے یونیورسٹی میں کسی لڑکے سے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔
تب صحیح معنوں میں اسکے در و دیوار ہل گئے۔
ان دنوں صفدر بزنس کے کسی کام کے باعث شہر سے باہر گئے تھے۔
مریم اپنی بیٹی کی خواہش پر حیران تو ہوئی مگر پھر خاموش بهی ہو گئی ۔
وہ رائمہ کو کچھ بھی بولنے سے پہلے صفدر سے بات کرنا چاہتی تھی۔
اسی وجہ سے اس نے رائمہ کا یونیورسٹی جانا بند کر دیا۔
اس بات کو رائمہ نے شاید غلط رخ دے دیا۔
اور رات کے اندھیرے میں وہ بنا بتائے اپنا کچھ ضروری سامان لے کر بنا کسی کی پرواہ کیے اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر چلی گئی۔
صبح جب مریم اسکے کمرے میں ناشتہ لے کر گئی ۔
تو وہاں خاموشی منہ چڑانے کے ساتھ سائیڈ ٹیبل پر پھڑ پھڑاتا کاغذ انکی پرورش کا مذاق اڑا رہا تھا۔
جس میں لکھی چند سطروں سے ان کا کلیجہ چھلنی ہو کر رہ گیا۔ سوری مما بابا ۔
آپ جانتے ہیں۔
میں نے آج تک جس جس چیز کی خواہش کی ۔
وہ آپ نے مجھے لے کر دی۔
مگر مجھے اس بار لگ رہا ہے کہ آپ میری محبت کبھی قبول نہیں ۔
اسی وجہ سے مجبوری میں مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا ہے۔
لیکن مما بابا میں آپ دونوں سے وعدہ کرتی ہوں ۔
میں بہت جلد واپس آجاؤں گی۔
اور پھر دو دنوں بعد رائمہ کا فون آیا۔
صفدر ، مریم اور وفا تینوں اسپیکر پر موبائل کرکے قریب قریب بیٹھ گئے ۔
لفظ ختم ہو گئے تھے۔
وہ کیا بولیں اپنی بیٹی کو ۔
بابا ۔ مجھے معاف۔۔۔۔ کر دیں۔
کپکپاتی آواز اور تیز تیز چلتی سانسوں نے ان تینوں کو ایک جگہ مجتمع کر دیا۔
کک۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا بیٹا

مریم کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔
صفدر صاحب کا دل بھی اسکی گڑگڑاہٹ پر خون کے آنسو رونے لگا۔
کہاں ہو تم مجھے بتاؤ میں تمہیں لینے آتا ہوں بیٹا ۔
نن۔۔۔۔ نہیں بابا ۔ . اب بہت دیر ہو گئی ہے۔
میں اب اس قابل نہیں رہی کہ واپس آپ کی چوکھٹ پر قدم رکھ سکوں۔
اسکی درد بھری سسکی ایک بار پھر اسپیکر سے ابھری۔
مگر صفدر اور مریم پر یہ خبر بم کی طرح گری۔
دونوں ہی ایک دوسرے سے نظریں چرانے لگے۔
روزانہ ایسے ہزاروں واقعات سننے میں آتے تھے ۔
مگر بھلا کب معلوم تھا کہ ان کی بیٹی کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہو جائے گا۔
تم ہو کہاں بتاؤ تو سہی –
صفدر صاحب نے پریشانی سے اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسائیں ۔ مگر دوسری طرف سے صرف رونے کی آواز آرہی تھی۔
اور اس سے بھی بڑھ کر وہ درد ناک سسکیاں تھیں جو مریم اور صفدر کو پاگل کر رہیں تھیں۔
تقریباً آدھا گھنٹہ یہی عمل جاری رہا۔
اور صفدر خان پاگل ہوا جا رہا تھا۔
مریم کا دل بھی کوئی بہت بڑی انہونی کا پتہ دے رہا تھا۔
ليكن جب اسکی نظر ساکت بیٹھی وفا پر گئی ۔
تو مریم نے اسے ایک سخت گھوری سے نواز کر اپنے کمرے میں جانے کے لیے بولا۔
جسے محسوس کر وہ خاموشی سے اٹھی اور وہاں سے چلی گئی۔
مگر یہ شاید اسکی بھول تھی کہ وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔
رائمہ کے ساتھ جس قدر وفا اٹیجڈ تھی شاید کوئی اور نہ ہو۔
اسی لیے وہ خاموشی سے پلر کے پاس ہی بیٹھ گئی۔
صفدر آپ پولیس کو انوالو کر لیں پلیز –
ہماری بیٹی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔
مریم کی بات انکے دل کو لگی۔
پولیس کو فون کیا ۔
کچھ دیر میں پولیس آئی۔
ان سب نے رائمہ کی لوکیشن چیک کی۔
شام تک وہ رائمہ کی موجودہ لوکیشن تک پہنچے ۔
مگر وہاں پہنچ کر صفدر خان کے دل پر حقیقی قیامت گزری تھی۔ یہ کوئی جلا ہوا گھر تھا۔
جس میں لگی آگ ابھی تک ٹھنڈی نہ ہوئی تھی۔
پولیس کسی بھی طرح اس گھر کے اندر گھسی۔
اور وہاں سے ایک لڑکی کی لاش برآمد ہوئی۔
چھان بین پر وہاں سے جو کچھ مطلوبہ چیزیں برآمد ہوئیں اس سے اندازہ لگایا گیا کہ وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ ان کی اپنی بیٹی رائمہ تھی۔
یہ خبر لے کر وہ کس طرح گھر آئے تھے یہ بس وہی جانتے تھے۔
دل درد سے پھٹ رہا تھا۔
اس خبر نے مریم کے وجود سے بھی ساری طاقت چھین لی تھی۔ اور پھر جب انکی بیٹی کی لاش پیک ہو کر گھر آئی تو صفدر صاحب کی برداشت ختم ہو گئی۔
انہیں ہارٹ اٹیک آیا اور رائمہ کی تدفین کے چھ گھنٹے بعد صفدر صاحب بھی اس دنیا سے چل بسے ۔
مگر اپنے آخری لمحات میں انہوں نے مریم سے وفا کو عزت کے ساتھ رخصت کرنے کا وعدہ لیا تھا۔
اور بس وہی ایک دن تھا۔
جسکے بعد مریم خان کے چہرے سے مسکراہٹ چلی گئی۔
اپنے اور اپنی بیٹی کے درمیان انہوں نے جان بوجھ کر دوریاں بڑھائیں ۔
وفا کے کمرے سے اسکے سارے خوبصورت جوتے اور کپڑے اٹھا کر فقیروں میں تقسیم کر دیے۔
سنگھار کا سارا سامان اٹھا کر نوکرانی کی بیٹی کے حوالے کر دیا۔
اور اپنے کمرے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تالا لگا کر وہ خاموش اور ایک کرخت عورت بن گئیں ۔
سالوں بعد آج دوبارہ وہ اس کمرے میں آئی ۔
تو وہ سالوں پہلے والی مریم تھی۔
مم۔۔۔۔۔ میں نے اپنا وعده پورا کیا صفدر۔۔۔
آج ہماری بیٹی عزت کے ساتھ
“ہمارے اپنے گھر سے رخصت ہوئی ہے۔
ایک فوٹو فریم اٹھا کر وہ بیڈ سے ٹیک لگا کے بیٹھ گئی۔
اس فوٹو میں مریم صفدر اور ان کے درمیان انکی چھوٹی سی وفا موجود تھی۔
حالانکہ اسی تصویر کے برابر ایک اور تصویر بھی رکھی تھی ۔
جس میں انکی رائمہ بھی انکے ساتھ تھی۔
مگر انہوں نے اس تصویر کی جانب دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا۔
آپکو معلوم ہے۔ ہماری وفا بہت بڑے گھر میں گئی ہے ۔ معاشرے میں ان لوگوں کی بہت عزت ہے۔
اور التمش کو میں نے سالوں جانچ پرکھ کے بعد ہماری وفا کے لیے چنا ہے۔
جیسا آپ چاہتے ہیں۔
میں نے اُسے بالکل ویسا ہی انسان پایا۔
جیسا آپ اپنی بیٹیوں کے لیے چاہتے تھے۔
کچھ دیر رو کر جی ہلکا کرنے کے بعد وہ اٹھی۔
بیڈ کی سائیڈ ٹیبل کا دراز کھولا تو وہاں وہی چیزیں موجود تھیں جو پولیس نے رائمہ کے پاس سے برآمد کیں تھیں۔
ایک پل کے لیے اُسے ایسا لگا جیسے ان سب چیزوں میں کچھ کمی ہو ۔
مگر پھر اپنے خیال کو وہم گمان کر وہ وہاں سے اپنی مطلوبہ شے اٹھا کر اس تصویر کو اپنے سینے سے لگائے خاموشی کے ساتھ اُس کمرے سے نکل آئی۔
مگر اس بار یہ کمرہ کھلا چھوڑ دیا۔
اور شاید اب یہ کمرہ ہمیشہ کھلا رہنے والا تھا۔
💞💞💞
صبح صادق کا سورج نجانے کب طلوع ہوا۔
کب التمش اسکے برابر سے اٹھ کر چلا گیا ۔
اسے کچھ معلوم نہ ہوا ۔
دن کے گیارہ بجے اسکی آنکھ کھلی تو گھڑی دیکھ کر مارے حیرت کے وہی آنکھیں نکل کر باہر گرنے کو ہوگئیں ۔
کل رات کا سارا واقعہ دماغ کے پردوں پر لہرایا ۔
تو غصے کی ایک لہر بھی اسکے دماغ میں ابھری ۔
مگروہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
سو خاموشی سے اٹھ کر فریش ہونے چل دی۔
فریش ہوکر خود کے گرد ٹاول لپیٹ کر وہ ڈریسنگ روم میں چلی آئی۔
مگر وہاں اپنے لیے خوبصورت کپڑوں اور جوتوں کا کلیکشن دیکھ کر حیران رہ گئی۔
کہیں بھولا بسرا اپنا بچپن یاد آیا۔
جب اس کے کمرے میں بھی طرح طرح کے جوتے اور نئے نئے ڈیزائنر کپڑے ہوتے تھے۔
مانا کے تمہاری ماں کی چوائس اچھی ہے۔
مگر اسکا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ تم ایسی حالت میں سارا دن کھڑی رہو۔
اپنے پیچھے سے ابھری گھمبیر آواز پر وہ پلٹی –
یہ سب اسکی ماں نے اسکے لیے پسند کیا ہے۔
جان کر اُسے بے حد خوشی ہوئی ۔
مگر یہ خوشخبری ا لتمش رائے زادہ کے منہ سے سن کر ساری خوشی مانند پڑ گئی۔
ایک خفا سی نظر التمش رائے زادہ پر ڈال کر دوبارہ منہ موڑ لیا۔ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔
اتنا پڑھ لکھ کر بھی ذرا تمیز نہیں ہے کہ کسی لڑکی کے سامنے کب آنا ہے۔
کسی لڑکی کی بات ہوتی تو التمش رائے زادہ تمیز و تہذیب کی ساری حدیں پار کر دیتا –
مگر یہاں معاملہ کچھ الگ ہے۔
یہاں کوئی انجان نہیں بلکہ ہماری اکلوتی بیوی ہے ۔
تو میں اسکے سامنے کبھی بھی کسی بھی حالت میں آجا سکتا ہوں۔ اسکی بے باکانہ گفتگو پر وہ کڑھ کر رہ گئی۔
ہوگئی آپ کی ڈائیلاگ بازی –
اب مجھے تیار ہونے دیں ۔
منہ کے ہزاروں زاویے بگاڑ کر وہ گویا ہوئی۔
کہ شاید وہ اسکا خراب موڈ دیکھ کر ہی یہاں سے چلا جائے۔
میرے سامنے تیار ہونے میں کیا قباحت و شرم۔
اور اب تو میں ویسے بھی سب جان گیا ہوں۔
اسکے کسی بگڑے زاویے کو خاطر میں لائے بغیر وہ مزے سے گویا ہوا۔
ایک پل کے لیے تو وفا کا دماغ بھی تپ کے رہ گیا۔
دوسرے ہی پل چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجائے وہ اسکی طرف بڑھی ۔
التمش۔۔۔۔۔
اسکے سینے پر ہاتھ رکھ وہ اسقدر مٹھاس بھرے لہجے میں گویا ہوئی کہ ایک پل کے لیے تو التمش رائے زادہ بھی حیرت کے سمندر میں غوطہ لگا آیا۔
آپ جائیں نا ۔ مجھے تیار ہونا ہے ۔
تھوڑا سا شرما کر نظریں جھکا کر ، اسکے سینے پر دباؤ ڈالتے ہوئے وہ ایک قدم آگے تو التمش ایک قدم پیچھے چلنے لگا۔
اسکے اسقدر محبت بھرے انداز پر دم بخود ہو کر یہ سمجھ ہی نہ پایا کہ آخر کار اسکا اصل مقصد کیا ہے۔
جیسے ہی اسکا ایک قدم ڈریسنگ روم سے باہر رکھا گیا ۔
وفا کے دھکا دینے پر دوسرا قدم لڑکھڑایا۔
اور وہ یک لخت کئی قدم دور جا کر بمشکل کھڑا ہوا ۔
جب تک اسکی سمجھ میں وفا کی کارستانی آتی۔
تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔
دھڑ کی آواز کے ساتھ دروازہ اسکے منہ پر بند ہوا۔
اور وہ بس دانت پیس کر رہ گیا۔
مگر اس بات کا بدلہ وہ ضرور لے گا۔
اس بات کا پختہ ارادہ بھی دل میں باندھ لیا تھا ۔
💞💞💞
جلدی سے تیار ہو جاؤ .
ہم دونوں میرے ایک دوست کے گھر جا رہے ہیں۔
وہ تیار ہو کر باہر آئی تو وہ وہیں بیڈ پر آرام سے بیٹها تھا۔
دوست کے ہاں کیوں ؟
آج تو ولیمے کا فنکشن ہوگا ۔
مجھے میری ماں کے گھر جاتا ہے۔
اسے جتنا معلوم تھا اسکے مطابق وہ حیرت زده ہوئی تھی۔
فنکشن رات کو ہوگا۔
اور آپ اپنی ماں کے گھر کل جائیں گی۔
فلحال ہم دونوں میرے ایک دوست کے گھر جارہے ہیں۔
جو میرے بچپن کا دوست ہے
کل ہی اسکی ڈیوٹی ہمارے شہر میں لگی ہے۔
تو میں آپ کے ساتھ اسکے گھر جا کر اسے سرپرائز دینا چاہتا ہوں۔ ساری بات سمجھا کر وہ دوبارہ موبائیل میں جھک گیا۔
منہ بنا کر وہ بے دلی سے تیار ہوئی۔
بچپن سے کوئی میک اپ نہیں کیا تھا۔
تو سامنے موجود سنگھار کی لاتعداد اشیاء میں اسے سوائے کریم ، لپ اسٹک اور کاجل کے اور کچھ سمجھ نہ آیا۔
انہی سے اپنی تیاری کر وہ خاموشی سے صوفہ پر بیٹھ گئی۔
التمش نے ایک نظر اسکی طرف دیکھا۔
وہ گفٹ کہاں ہے جو کل رات میں کے آپ کو دیا تھا۔
اسکے سوال پر وفا نے کوئی ری ایکشن نہ دیا۔
جیسے اسنے وہ سوال دیواروں سے کیا ہو۔
میں پوچھ رہا ہوں وہ گفٹ کہاں گیا ؟؟
کوئی جواب نہ پا کر وہ اسکے سر پر آن کھڑا ہوا۔
کوڑے میں پھینکنے جارہی تھی۔
پھر آپ کے اِس عالی شان گھر کی نوکرانی کو وہ پسند آگیا
اور میں نے وہ گفٹ اسکے حوالے کر دیا۔
وہ اسکے مقابل کھڑی ہو کر غصے سے پھنکاری –
مگر التمش کے آس پاس جیسے دھواں اٹھ گیا ہو۔
اسکے جذباتوں کی اسقدر ناقدری۔
آپکا دماغ خراب ہے ؟؟
وہ اڑھائی کروڑ کا گفٹ آپ نے ایک نوکرانی کے حوالے کر دیا۔ وہ غصے سے دھاڑا ۔
تو کچھ پل کے لیے وہ بھی سہم گئی۔
مم۔۔۔۔۔ مجھے کیا معلوم آپ ایک نازک سی زنجیر میں قید فضول سے نگ کو اڑھائی کروڑ میں خریدیں گے۔
ڈر تو اسے لگ رہا تھا۔
مگر وہ التمش کے آگے وہ دب کے نہیں رہنا چاہتی تھی ۔
وہ فضول سا نگ نہیں تھا۔
اصلی ہیره تھا۔
ایک ایک لفظ چبا چبا کر وہ قہر برسانی نظروں سے اسے گھورنے لگا۔
جس تیزی سے وہ اٹھ کر اسکے مقابل آئی۔
اتنی ہی آہستگی سے وہ واپس صوفے پر بیٹھ کر سر جھکا گئی۔
کچھ پل اسکے جھکے سر کو دیکھتے رہنے کے بعد وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا تیزی سے دروازے کے قریب پہنچا۔
میرے برابر چلیں ۔
حکم صادر کر وہ تیزی سے آگے بڑھ گیا۔
پہلے تو اسے کچھ سمجھ نہ آیا۔
مگر جب سمجھ آیا تب تک وہ بہت آگے نکل چکا تھا۔
پوری فورس لگا کر اس کے مقابل آنے کے چکر میں وہ ہلکان ہوئے جارہی تھی۔
مگر وہ تو شاید شالیمار ایکسپریس سے مقابلہ لگا کر چل رہا تھا ۔ انتھک کوشش کے بعد آہستہ آہستہ وہ اسکے قريب آنے لگی۔
بالکل قریب پہنچ کر اسے ایک انجانی خوشی نے ان گھیرا۔
مگر اسی خوشی کے چکر میں وہ نیچے دیکھنا بھول گئی۔
اور کسی چیز سے ٹکرا کر اس سے پہلے کہ وہ زمین بوس ہوتی دو مضبوط بازؤں نے اسے تھام لیا۔
حیرت زدہ سی ہو کر ایک جھٹکے میں سر اٹھا کر دیکھنے پر نظریں التمش رائے زادہ کی نظروں سے ٹکرائیں۔
جس کی آنکھوں میں ایک سرد پن سمٹ آیا تھا ۔
شکریہ ۔
کچھ پل پھولا سانس بحال کر وہ اسکے حصار میں ہی نرم مسکراہٹ سجا کر شکر گزار ہوئی ۔
کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
یہ شکریہ والی فارمیلٹی آپ اپنے اس لوزر عاشق کے لیے رکھو۔ جو آپکا ہاتھ تھامنے کی ہمت مجتمع نہ کر پایا۔
میں شوہر ہوں آپکا ۔
اپنے حقوق وصول کرنا اور فرائض نبھانا التمش رائے زاده خوب جانتا ہے ۔