52.3K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

لاہور کے ایک خوبصورت ہوٹل کے روم میں وہ دونوں لڑکالڑکی ہی خوش نظر آرہے تھے۔
کل جب ہم نکاح کر لیں گے تو ہماری محبت کو ایک منزل مل جائے گی۔
رائمہ نے پر شوق انداز میں ایک نظر اُس خوبرو لڑکے کی طرف دیکھا۔
جو کسی کے بھی خوابوں کا شہزادہ ہو سکتا تھا۔
مگر تقدیر نے اُسے اسکی جھولی میں ڈال دیا تھا۔
بالکل میری جان۔ وہ بھی دل کھول کر مسکرایا۔
ہلکے ہلکے میوزک کی دھن پر وہ اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے کپل ڈانس کے مزہ لے رہے تھے۔
آہستہ آہستہ اسکا ہاتھ را ئمہ کے وجود کی رعنائیوں کو محسوس کرنے میں مگن ہوگیا۔
اور وہ آنکھیں بند کیے اسکے کاندھے سے سر ٹکا کر اپنے محبوب کی اِس محبت کو محسوس کر کےمسرور ہوئے جا رہی تھی۔
دھیرے دھیرے میوزک کی دھن پر تھرکتے قدم ساکت ہونے لگے۔
جب وہ اسکے بالوں میں سر چھپا کر خوبصورت گردن کو لبوں سے چھونے لگا۔
رائمہ کو یہ سب تھوڑا عجیب اور نیا لگا۔
تم یہ کیا کر رہے ہو۔
پیار کر رہا ہوں۔
وہی پیار جس کی خاطر ہم دونوں نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے ۔ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اس نے اپنا ایک ہاتھ رائمہ کی شرٹ کے بٹنوں کو کھولنے میں لگا دیا۔
دو بٹن کھول کر وہ کچھ پل کیلئے رک گیا۔
پھر ایک جھٹکے سے اُس کے نازک سے وجود کو اپنے مضبوط بازوں میں بھر کر کمرے میں داخل ہوا۔
جہاں پورے کمرے میں سرخ گلاب پھیلے تھے ۔
ایک انچ جگہ بھی ایسی نہ تھی جہاں گلاب کی کوئی پتی نہ ہو۔ بیڈشیٹ بھی سرخ رنگ کی تھی جس پر پھولوں سے دل بنا رکھا تھا۔
سارے کشن تکیے بھی سرخ رنگ کے تھے۔
اور ان سب کشن کے درمیان ایک خوبصورت ہارٹ رکھا تھا جس پر سفید رنگ سے آئی لویو لکھا تھا۔
بیڈ کراؤن کے اوپری جگہ انگلش کے حروف کے ساتھ ویکم ٹو مائی لائف لکھا تھا ۔
سائیڈ ٹیبل پر ایک بلیو رنگ کے جیولری باکس میں خوبصورت ہیروں کا سیٹ دیکھ وہ حیران رہ گئی۔
باقی ہر طرف رنگ برنگی خوبصورت کینڈلز کی روشنی نے فسوں خیز سماں باندھ دیا تھا۔ .
وہ یہ ساری سجاوٹ اور تحفے دیکھ کر خوش تو ہوئی تھی۔
مگر اسکے باوجود وہ دل سے یہ خوشی محسوس نہیں کر پا رہی تھی۔
مائی لو آج ہم دونوں ایک ہو جائیں گے۔
وہ لڑکا محبت سے اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
کیا مطلب یہ سب تو شادی کے بعد اچھا لگتا ہے۔
جیسے ہی اس نے رائمہ کو بیڈ پر بٹھایا ۔
تو وہ ناسمجھی سے گویا ہوا۔
مائی لو ۔ ہم کل نکاح کر تو رہے ہیں۔
اور ویسے بھی میں نے جس دن تمہیں پہلی بار دیکھا تھا۔
اس دن تمہیں دل سے اپنی بیوی مان لیا تھا۔
کل چاہے ہمارا نکاح ہے۔
مگر میرے دل میں تمہارا مقام اپنی بیوی جیسا ہے۔
تمہیں دیکھ کر میں اپنا آپ بھول جاتا ہوں۔
جس طرح تم نے میری خاطر اپنے گھر والوں کو چھوڑا ہے۔
اسی طرح میں نے بھی تمہاری خاطر اپنی فیملی ، بینک بیلنس ، خاندان چھوڑا ہے۔
میری خواہش ہے کہ ہم آج ہی ایک ہو جائیں۔
کیونکہ آج تم میری زندگی میں ہر چیز کو پرے دھکیل کر آئی ہو ۔ میرے لیے جتنا آج کا دن خاص ہے
اتنا شاید کوئی بھی دن خاص نہیں ہو گا۔
آنکھوں میں لاکھوں جذبات لیے وہ اسکی ایک ہاں کا منتظر تھا۔
مگر یہ سب غلط ہوگا ۔
اوہ کم آن مائی لو ۔
محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔
ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں۔
اور اسوقت ہم دونوں کا اِس بھیگی شام میں ایک دوسرے کے ساتھ تنہا ہونا اس بات کا ثبوت ہے ۔
ہاں تم ٹھیک بول رہے ہو مگر ایک رات کی ہی تو بات ہے۔ رائمہ کا دل ابھی بھی نہیں مان رہا تھا۔
شاید اسکا ضمیر ابھی بھی زندہ تھا۔
جسکی پکار اسکے کانوں کو سنائی دے رہی تھی۔
وہی تو میں بول رہا ہوں مائی لو ۔
ٹرسٹ می۔ ایک رات کی ہی تو بات ہے۔
ہم صبح نکاح کر لیں گے ۔
اور اگر تم مجھ پر ٹرسٹ نہیں کرتی تو اسکا مطلب تم مجھ سے پیار بھی نہیں کرتی۔
سب کچھ جھوٹ تھا۔ تم مجھ سے فریب کر رہی تھی۔
وہ بے یقینی کے تاثرات چہرے پر سجائے حیرت سے اسکی طرف دیکھنے لگا۔
نہیں ، نہیں تم غلط سمجھ رہے ہو ۔
میں تم پر خود سے زیاده یقین کرتی ہوں
اور پیار تو حد سے زیادہ کرتی ہوں ۔
اسی لیے یہاں موجود ہوں ۔ وہ بے بسی سے گویا ہوئی۔
ہاں تو ٹھیک ہے اگر جوتم کہہ رہی ہو وہ سب سچ ہے تو تم اسوقت مجھے خود کے قریب آنے سے نہیں روکو گی۔
اور اگر تم مجھ پر یقین نہیں کرتی پیار نہیں کرتی تو ابھی بتا دو۔ میں یہاں سے اور تمہاری زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلا جاؤں گا۔
سنجید گی سے یہ بات بول کر اٹھ کھڑا ہوا ۔
رائمہ نے بے بسی سے اسکی طرف دیکھا۔
دل و دماغ کشمکش کا شکار تھا۔
اسکی ناراضگی جان پر بن گئی تھی۔
آخرکار ضمیر کی آواز کہیں دور جا کھوئی اور اسنے اپنے محبوب کا ہاتھ تھام لیا۔
میں تمہیں نہیں روکوں گی ۔
مگر میں چاہتی تھی کہ اگر ہمارا نکاح ہو جاتا تو یہ سب ؟؟؟؟
بس ابھی بھی تمہاری کنڈی ایک ہی جگہ اٹکی ہے۔
وہ برہم ہوا اسکا ہاتھ جھٹکا اور دور جا کھڑا ہوا۔
رائمہ کا دل سہم گیا۔
نہیں نہیں میں تو بس مصلحت کے لیے بول رہی تھی۔
ورنہ مجھ پر صرف اور صرف تمہارا حق ہے۔
میں نے ہمیشہ اپنے ساتھ صرف تمہیں سوچا ہے۔
وہ اٹھ کر اسکے قریب آئی۔
تو کیا تم آج رات پوری طرح سے میری ہونے کے لیے تیار ہو۔ وہ دوبارہ اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
ہاں میں تیار ہوں۔
وہ ایک پل میں اپنی اور خود سے جڑی کئی زندگیوں کا فیصلہ کر گئی تھی۔
اس لڑکے کی تو جیسے دل کی مراد بر لائی تھی۔
جھٹ ساری ناراضگی بھلا کر ایک ہاتھ سے اسکی کمر کو اپنی گرفت میں لے کر اُسے خود سے قریب تر کیا۔
اور پلک جھپکنے سے پہلے اسکے خوبصورت ہونٹوں کو اپنے لبوں میں دبا کر وہ شدت سے اس پر جھکا ۔
دوسرے ہاتھ کی مدد سے اسکی شرٹ کے سارے بٹن کھول کر کاندھوں سے نیچے سرکائی ۔
شرٹ اسکے وجود سے اتر کر فرش پر جاگری –
اور وہ آنکھوں میں عجیب چمک لیے اسکے وجود کو دیکھنے لگا۔
جو اسوقت اس کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے کافی تھا۔
دوبارہ اسکی کمر کے گرد گرفت بنا کر اسنے رائمہ کو خود کے قریب کیا ۔
مگر اس بار اسکی گرفت میں ایک عجیب سی سختی تھی۔
بالوں کو ایک طرف سرکا کر اسکے ہونٹ بے چینی سے گردن کا طواف کرنے لگے ۔
رائمہ نے بھی دونوں ہاتھوں کو اسکی گردن کے پیچھے رکھ کر خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا۔
اور وہ اسے بانہوں میں لیے لیے بیڈ پر آیا ۔
اپنی شرٹ نکال کر دور اچھالی رائمہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ایک نظر اسکے تباہ کن وجود پر ڈالی ۔
اگلے ہی پل دھکا دے کر اسے تکیے پر گرایا
اور خود بھی تیزی سے اس پر جھک آیا۔
آئی لو یو مائی لو ۔
خمار آلود لہجے میں اسنے رائمہ کے کان کے قریب سرگوشی کی۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو اپنی انگلیوں میں پھنسا کر اسکے ہونٹ گردن سے سینے اور باقی حدود کو پار کرنے لگے ۔
رائمہ نے ایک نظر فرش پر بکھرے ان دونوں کے کپڑوں کو دیکھا جن سے بے نیاز وہ دو جسم بنا کسی رشتے کے ایک دوسرے میں مدغم اِس رات کو رنگین بنانے میں لگے تھے
اس کے حساب سے اس رات کی صبح بہت اجلی ہوگی۔
مگر اپنوں کی مخلص محبت کچل کر بنا کسی رشتے کے اپنی مرضی سے کیے گئے زنا کی رات بھلا کب خوبصورت ہوئی ہے
💞💞💞
اٹھو اور کپڑے پہن لو ۔
اس لڑکے کی آواز پر وہ نیم غنودگی سے بیدار ہوئی۔
ایک نظر کمبل میں چھپے اپنے برہنہ وجود کو دیکھا ۔
پل میں اسے ڈھیروں ڈھیر شرم نے آن گھیرا ۔
خاموشی سے اٹھ کر فریش ہوتے ہی بالوں کو کھلا چھوڑ وہ اسکی طرف متوجہ ہوئی جو موبائل فون میں مسکرا مسکرا کر ناجانے کس کو میسج کر رہا تھا۔
نکاح کرنے کب جانا ہے۔
لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ سجائے وہ اس سے سوال گو ہوئی۔ جب اس لڑکے نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا۔
کونسا نکاح ؟؟؟؟؟
انداز ایسا تھا جیسے وہ اِس لفظ کو سرے سے ہی نہ جانتا ہو۔
کیا مطلب کونسا نکاح –
ہم آج نکاح کرنے جارہے ہیں ۔
مگر کیوں ؟؟؟
ایک بار پھر وہ لاعلمی کا اظہار کرنے لگا۔
دیکھو اگر تم مذاق کر رہے ہو تو یہ بہت غلط ہے۔
کونسا مذاق لڑکی –
انداز ایسا تھا جیسے وہ اسکے وجود سے ناواقف ہو ۔
رائمہ لفظ لڑکی سن کر صدمے میں آگئی۔
جس زبان سے ہمیشہ مائی لو نکلتا تھا ۔
اب وہ اسے لڑکی بلا رہا تھا۔
ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔
اسی لیے ہم اپنے گھروالوں سے بغاوت کر کے آئے ہیں۔
اور تم کل شام بول رہے تھے کہ صبح ہم نکاح کریں گے ۔
وہ روہانسی ہوئی۔
مارے بے بسی کے آنکھوں میں نمی در آئی۔
کون اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر آیا ہے۔
تمہی آئی ہوگی اپنے گھر والوں سے بغاوت کرکے ۔
مجھے کسی پاگل کتے نے نہیں کاٹا کہ تم جیسی لڑکی کے لیے میں اپنا خاندان ، شان و شوکت بینک بیلنس ، چھوڑ کر آجاؤں ۔
وہ طنزیہ ہنسی ہنسا۔
مگر رائمہ کے لیے یہ سب کسی بھیانک انکشاف سے کم نہیں تھا۔ تم جھوٹ بول رہے ہو۔
مذاق کر رہے ہو۔
کل رات ہمارے درمیان جو کچھ بھی ہوا وہ بھی تو محبت تھی۔
اور تب تم نے وعدہ کیا تھا کہ ہم صبح نکاح کریں گے۔
رات گئی بات گئی ۔
لاپرواہانہ انداز اسکے زمین آسمان ہلا گیا۔
کیا بکواس کر رہے ہو ۔
کیسے رات گئی بات گئی۔
کل رات میں نے تمہیں صرف اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دی بلکہ اپنی عزت بھی دی تھی۔
کیوں کہ مجھے تم پر یقین تھا۔
تمہارے وعدے پر یقین تھا۔
آگے بڑھ کر وہ اسکو کو گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑ نے لگی۔
شاید کہ اسکا ضمیر جاگ جائے۔
مگر انسانوں کے بھیس میں موجود حیوانوں کے بھلا کہاں ضمیر ہوتے ہیں۔
اوه جسٹ شٹ اپ ۔
ایک جھٹکے میں اسکی گرفت سے اپنا گریبان چھڑوا کر اسنے رائمہ کو خود سے پرے دھکیلا –
کس عزت کی بات کر رہی ہو۔
جس عزت کی تم بات کر رہی ہو ایسی ناجانے کتنی عزتیں چند پیسوں کے عوض لڑکیاں میرے قدموں میں ڈھیر کر دیتی ہیں۔ مگر تمہارے ساتھ یہاں تک آنے کا ناٹک اس لیے کرنا پڑا کہ ایک تو ماشاءاللہ سے تم قیامت چیز ہو۔
دوسرا تم پیسوں سے نہیں بلکہ محبت سے بکنے والوں میں سے تھی۔
وہ تو شکر ہے تم کل رات مان گئی ۔
ورنہ مجھے ایک رات کے لیے نکاح کا طوق بھی اپنے گلے میں ڈالنا پڑتا۔
وہ نحوست سے گویا ہوا اور اپنے کوٹ سے ان دیکھی گرد جھاڑی –
نہیں ۔
تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے ۔
میں تمہاری پولیس میں شکایت درج کرواؤں گی ۔
اسنے اپنی طرف سے مضبوط دھمکی دی
مگر وہ ایسے ہنسا جیسے رائمہ نے کوئی مزیدار لطیفہ سنایا ہو۔
شوق سے کرو۔
ویسے اگر کسی پولیس اسٹیشن میں تمہاری رپورٹ لکھ لی گئی ۔
تو یہ خوشخبری مجھے بھی سنانا ۔
صاف مذاق انداز اڑاتا انداز اسے دوبارہ حیران کر گیا۔
کیا مطلب ؟؟؟
مطلب یہ لڑکی۔
میرے نام کے آگے لفظ رائے زادہ لگتا ہے۔
جسکا مطلب تم اچھے سے سمجھتی ہو ۔
پھر بھی ایسی بیوقوفانہ خواہش رکھتی ہو۔
وہ ایک بار پھر ہنسا۔
اور اس بار رائمہ کو اپنی بیوقوفی پر مر جانے کا دل کیا۔
دیکھو ۔
میری بات سنو ۔
تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔
میں نے تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھی ہے۔
وہ روتے ہوئے اسے مصلحت سے سمجھانے کی کوشش کرنے لگی۔ میں ایسی محبت روز کرتا ہوں۔
اور وه باقی سب کو اتنی ہی سچی لگتی ہے جتنی کہ تمہیں لگی۔
اسنے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں ۔
مجھ سے نکاح کر لو پلیز –
وه مسلسل روتے ہوئے اب التجا کرنے لگی۔
نو ، نو –
اگر اسی طرح میں سب سے نکام کرتا رہا۔
تو نا جانے میری کتنی بیویاں ہو جائیں گی۔
اور ویسے بھی تم سے نکاح کر کے میرا کوئی فائدہ نہیں۔
مجھے تم سے جو چاہیے تھا وہ کل رات مجھے مل گیا۔
اب تم میں بچا کیا ہے۔
اسکی نظریں اور لہجہ ایک بار پھر اسکا مذاق اڑانے لگیں ۔
میں تم سے محبت کرتی ہوں۔
اور نکاح کے بعد ہم دونوں جائز طریقے سے ایک ساتھ رہیں گے۔
ہاہاہاہاہاہا ۔
کیا تم جانتی ہو۔
میں جس چیز کو ایک بار یوز کر لیتا ہوں دوبارہ اسے منہ لگانا میری شان کے خلاف ہے۔
انداز ایسا تھا جیسے ناجانے وہ خود کتنا بے بس ہو ۔
اگر تم مجھے چھوڑ کر گئے تو میں کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہوں گی۔
پلیز ایسے مت کرو۔
پلیز ایسے مت کرو ۔ تمہیں خدا کا واسطہ –
اسکے سامنے ہاتھ جوڑے جوڑے وہ کسی ہارے جواہری کی طرح اسکے قدموں میں ڈھ گئی۔
منہ دکھانے لائق نہیں رہی ۔
تبھی تو تمہیں چھوڑ رہا ہوں ۔
ایک طنزیہ مسکراہٹ اسکی طرف اچھال وہ بھاری قدم اٹھاتا وہاں سے جا چکا تھا۔
مجھے کسی قابل بھی تمہی نے نہیں چھوڑا۔
وہ زمین پر دونوں ہاتھ مار کر اپنی قسمت پر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
تمہیں میری زندگی برباد کرنے کی سزا ضرور ملے گی۔
میں نے جو غلط کیا اسکی سزا مجھے اپنی عزت گنوانے کے ساتھ ساتھ تمہارے ٹھکرانے پر مل گئی۔
لیکن یہ مت سمجھ لینا کہ تمہاری بخشش ہوگی ۔
اُس خدا کی لاٹھی بہت ہے آواز ہے۔
جب یہ حرکت میں آئی تو تمہارے نام کے آگے لگا رائے زادہ بھی کام نہیں آئے گا۔
سسکتے سسکتے وہ سجدے کی حالت میں جا کر دوبارہ اپنی قسمت کو رونے لگی۔
💕💕💕
آٹھ سال بعد ……
وفا ، وفا یار رک جاؤ ۔
کہاں بھاگی جا رہی ہو۔
تانیہ بھاگ کر اسکے مقابل آئی۔
کیا بات ہے ۔
وہ ایسے پوچھ رہی تھی جیسے کچھ معلوم ہی نہ ہو۔
یونی میں آج کتنا بڑا فنکشن ہے۔
تو اِس میں کونسی بڑی بات ہے یونی میں تو ہر چوتھے دن کسی نہ بات کا حوا بنا کر اودھم مچایا جا رہا ہوتا ہے ۔
وہ شاید سچ میں لاعلم تھی۔
یار آج کا فنکشن بہت خاص ہے۔
کیونکہ آج التمش رائے زادہ ایز آ چیف گیسٹ آئے ہیں۔
اس لیے آج ہر لڑکی سج سنور کر آئی ہے۔
تاکہ التمش رائے زادہ کی ایک نظر اُس پر پڑے اور اسکی قسمت کھل جائے ۔
کیونکہ وہ پاکستان کا سب سے امیر ہینڈسم اور بیچلر ہے ۔
اپنے دادا کی وفات اور آؤٹ آف کنٹری سے پڑھائی کرنے کے بعد اس نے کچھ عرصہ پہلے ہی اپنا خاندانی بزنس جوائن کیا ہے۔
میری تو قسمت میں ہی شاید کسی بزنس مین کی بیوی بننا نہیں لکھا تبھی ماں نے سوفٹ ویئر انجینئر ڈھونڈ رکھا ہے۔
مگر تم ٹرائے کر سکتی ہو ۔
تم خوبصورت بھی تو کس قدر ہو ۔
وہ اسکے سادہ سے حلیے میں من موہ لینے والے سراپے کو دیکھ کر رائے دینے لگی۔
پتہ ہے سین کیا ہوگا ۔
اس کی نظریں تمہاری نظروں سے ٹکرائیں گی۔
اسکا دل دھڑکے گا۔
وہ دیوانہ ہو کر مجھ سے تمہارا پتہ پوچھے گا۔
میں اسے تمہارے گھر کی راہ دکھاؤں گی۔
اور پھر وہ تمہارے گھر اپنا رشتہ بھیجے گا۔
اورتمہاری جان تمہاری اُس خرانٹ ماں سے چھڑوا کرلے جائے گا۔
شٹ اپ تانیہ –
مجھے تم سے یہ امید نہ تھی۔
کیا تم بھی پاگلوں جیسی افسانوی باتوں پر یقین رکھتی ہو۔
مجھے میم سیما کے پاس جانا ہے۔
نوٹس بنانے کے لیے ان سے کچھ ضروری انفارمیشن چاہیے تھی۔ بنا اسکی کوئی بات سنتے وہ عجلت میں وہاں سے چلی گئی۔
ارے مگر سنو تو ۔
وہ پیچھے سے پکارتی رہ گئی ۔
لیکن وفا نے اسکی ہر پکار کو ان سنا کر دیا۔
💞💞💞
وہیں رک جاؤ۔
اس سے پہلے کہ اسکی گاڑی اپنے گھر کے گیٹ میں داخل ہوتی۔ مریم خان کی آواز پر ڈرائیور نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی۔ گردن موڑ کر ایک بے بس نظر وفا کی سمت دیکھا ۔
جسے سمجھ کر وہ بس گہری سانس بھر کے رہ گئی۔
گاڑی سے اتر کر وہ وہیں گیٹ سے باہر دھوپ میں کھڑی ہوگئی ۔
بلیو ساڑھی میں ملبوس ، بالوں کا جوڑا ۔ سوبر سا میک اپ ، آنکھوں پر چشمہ ، پاؤں میں ہیل پہنے مریم خان اسے نظروں کے زاویوں میں لیے لیے اسکی طرف بڑھی۔
آج تم پورا گھنٹہ لیٹ ہو ۔
آخر کیوں ؟؟؟
آج یونی میں کوئی التمش رائے زادہ آیا تھا۔
جسکی وجہ سے مجھے میم سیما سے نوٹس کی انفارمیشن لینے میں دیر ہوگئی ۔
وہ بہت مصروف تھی۔
التمش رائے زادہ کے نام پر مریم کے چہرے کے تاثرات بدلے ۔
جس وقت التمش رائے زادہ آیا اسوقت تم کہاں تھی ۔
ایک اور سوال –
میں اسوقت کینٹین میں تھی۔
اسکے بعد ؟؟؟؟
اسکے بعد میں میم سیما کے آفس چلی گئی۔
کیا تم نے فنکشن اٹینڈ کیا ؟؟؟
نہیں میں نے فنکشن اٹینڈ نہیں کیا۔
اپنی ماں کے سوالوں کا سپاٹ انداز میں جواب دے کر وہ خاموشی سے وہ وہیں کھڑی رہی۔
مریم نے پہلے کینٹین میں کام کرنے والے ایک لڑکے کو فون کرکے وفا کی وہاں موجوگی کی تصدیق کی۔
پھر میم سیما کو فون کرکے وفا کی انکے پاس موجودگی کے ایک ایک وقت کی معلومات لے کر انہوں نے ڈرائیور کو اسے اندر لے جانے کا اشارہ دیا۔
💕💕💕
اس نے ٹھنڈے پانی سے شاور لے کر وائٹ رنگ کا ڈھیلا ڈھالا ٹراؤزر زیب تن کیا۔
آئینے کے سامنے آکر ایک نظر اپنے سراپے پر ڈالی۔
تم تو کس قدر خوبصورت ہو۔
تانیہ کی بات اسکے کانوں میں گونجی۔ .
سنہرے رنگ کے کمر سے نیچے آتے گھنے بال، صبیح پیشانی ، بڑی بڑی لمبی کالی آنکھیں ، چھوٹی سی ستواں ناک ، بھرےبھرے گال – خوبصورت انداز میں چھوٹے مگر بھر بھرے ہونٹ ،
نچلے ہونٹ کے کی کناری پر ایک باریک کالے رنگ کا تل ، چھوٹی سی ٹھوڑی میں ہلکا سا خم ، صراحی دار گردن دلکش نازک سا سراپا ، واقعی وہ خوبصورت تھی۔
التمش رائے زاده ، گلابی لبوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔
یہ نام اس نے پہلی بار نہیں سنا تھا۔
اسکی ماں کے منہ سے یہ نام کئی بار سننے کو ملا تھا۔
شاید اسکی ماں نے اِس انسان کے ساتھ بھی کوئی بزنس ڈیل کی ہو۔
چند پل وہ اپنے سراپے کو تکنے کے بعد کو سر جھٹک کر بیڈ پر آبیٹھی ۔
جہاں بکھری کتابیں شاید اسی کی منتظر تھیں
💕💕💕💕
جاری ہے۔۔۔