52.3K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

یہ شہر سے کچھ دوری پر فصلوں کے قريب ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ جس میں دو کمرے ، برآمدہ اور کچا صحن تھا۔
مائی لو۔ آج کے بعد یہ ہماری چھوٹی سی دنیا ہے۔
کیا تم اس دنیا میں اپنی پوری زندگی میرے ساتھ گزارنا پسند کروگی۔
وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ تھوڑا سا جھکا ۔
وفا خوشدلی سے مسکرائی ۔
ہاں ، اتنی پرسکون زندگی کون پاگل نہیں گزارنا چاہے گا۔
وہ اطمینان سے مسکرائی۔
فضا میں پھیلی تازہ ہوا کو سانس کے ذریعے اندر اتارا۔
اب ہم بہت جلد ایک ہو جائیں گے مائی لو ۔
وہ آنکھوں میں لاکھوں جذبات لیے اسکی طرف بڑھا۔
تو وفا شرمیلی مسکراہٹ سجائے دو قدم دور ہوئی۔
ہممم ۔
مگر پہلے میری التمش سے علیحدگی بہت ضروری ہے۔
تم جانتے ہونا کہ میں ابھی تک اسکے نکاح میں ہوں ۔
وہ پریشان ہوئی۔
سامنے والے کے چہرے پر بیزاریت بھرے تاثرات ابھرے۔
اففففف مائی لو ۔
تم اس بات کی ٹینشن نہ لو ۔
ابھی تک تو بھائی کو ہوش بھی آگیا ہوگا۔
تمہارا لیٹر انہوں نے جیسے ہی دیکھا ہوگا۔
اسی وقت غصے میں آکر تمہیں طلاق دے دی ہوگی۔
اب ہم کل کوٹ میرج کر لیں گے۔
اور اپنی پرسکون زندگی گزاریں گے۔
لیکن ہادی یہ تو صرف تمہارا اندازہ ہے۔
اگر حقیقت بالکل اسکے برعکس ہوئی تو ؟؟
اسے تشویش لاحق ہوئی۔
افففففف مائی لو ۔
تم کتنی ٹینشن لیتی ہو۔
میں ابھی اپنے دوستوں کو اِس بارے میں معلومات لینے کے لیے بولتا ہوں ۔
تم تھوڑی دیر ریسٹ کر لو۔
میں ہم دونوں کے کھانے کے لیے کچھ لاتا ہوں۔
وہ اُسے وہیں چھوڑ کر خود باہر چلا گیا۔
وفا کے چہرے کی مسکراہٹ یکدم تھم گئی ۔
تیزی سے واشروم میں جا کر وہ فریش ہوئی۔
اور جلدی سے اِس گھر کے چھوٹے سے کچن میں گئی۔
اگر ہادی نے ان دونوں کے رہنے کے لیے اس جگہ پر انتظام کیا ہے۔
تو ضرور کچن میں کھانے کا کچھ سامان بھی ہوگا۔
اسکی توقع کے عین مطابق کچن میں کھانے پینے کا کافی سامان دالیں، سبزیاں، مصالحے، گوشت فریز کر رکھا تھا۔
باربار دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے اسکی ہاتھ مشین کی طرح کام کر رہے تھے۔
💞💞💞
ہیلو سر آپ کہاں ہیں۔
اسفند کی کئی کالیں دیکھ کر آخر کار اس نے کال اٹھا ہی لی۔
اسفند تم نے جو بھی انفارمیشن کلیکٹ کی ہے وہ مجھے فون پر ہی سنا دو۔
میں اس وقت بہت ضروری کام سے آیا ہوں۔
او کے سر ۔۔۔
سر میری انفارمیشن کے مطابق وفا کسی سے لڑائی جھگڑا کرنے والی لڑکی نہیں ہے۔
بہت سلجھی ہوئی خاموش طبع لڑکی ہے
یہاں تک کہ اگر کوئی اس کا مذاق بناتا تھا۔
تب بھی وہ اف تک نہ کرتی تھی۔
زیادہ تر یونیورسٹی کی لڑکیوں نے اس کے بارے میں اپنی پوزیٹو رائے دی ہے۔
مگر کچھ ایسی لڑکیاں بھی تھیں ۔
جو ان کے بارے میں عجیب عجیب باتیں کر رہیں تھیں ۔
عجیب باتیں ؟؟
کیسی عجیب باتیں ۔ ہاشم حیران ہوا۔
سر ان لڑکیوں کا کہنا ہے۔
کہ وفا کافی دفعہ کلاس مِس کر دیتی تھی۔
اور اس وقت میں وہ ناجانے کہاں جاتی تھی۔
کیا مطلب کہاں جاتی تھی ؟؟
ہاشم کی تشویش لاحق ہوئی۔
سر اتنے کم وقت میں بس اتنی ہی معلومات جمع کر پایا ہوں ۔
وہ کہاں جاتی ہے اس بارے میں بھی معلومات حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔
شام تک انشاء اللہ اس بات کا جواب بھی مل جائے گا ۔
ہممم ٹھیک ہے ؟
سارے کام چھوڑ کر تم آج یہی کام کرو ۔
مجھے شام تک اس معاملے میں ساری معلومات چاہیے۔
مگر سر آپ کہاں ہیں۔
اسفند کے سوال پر وہ کچھ پل کیلئے خاموش ہوا ۔
میں بھی اس معاملے پر تحقیق کرنے کیلئے شہر سے کچھ دور آیا ہوں۔
اچھا اب تم کام پر لگو۔
میں تمہیں بعد میں فون کرتا ہوں ۔
فون کاٹ کر وہ دوبارہ اس گھر کی طرف دیکھنے لگا۔
جہاں کچھ دیر پہلے ہادی رائے زادہ اور وفا آئے تھے۔
رات کے اندھیرے میں جب وہ دونوں روشن ولاء سے چوری چپکے باہر نکل رہے تھے ۔
اسوقت ہاشم کی ان دونوں پر نظر پڑ گئی۔
دماغ میں شک نے انگڑائی لی۔
آخر ایک نئی بہو کا اپنے سسرال سے اتنی رات کو اپنے دیور کے ساتھ باہر جانے کی آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے۔
دال میں کچھ کالا سمجھ کر وہ اسی وقت ان دونوں کا پیچھا کرنے لگا۔
اور اب وہ اس وقت عین اس گھر کے سامنے موجود تھا۔
وہ اندر جانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ ہادی رائے زادہ اس گھر سے باہر نکل کر ناجانے کہاں چلا گیا تھا۔
اب وفاگهر میں اکیلی تھی۔
کیوں نہ بھابھی جی سے اندر جا کر بات کر لی جائے۔
نہیں ، نہیں ۔
اگر میں نے اندر جا کر سوال وجواب کیا تو ہو سکتا ہے ۔
وہ دونوں الرٹ ہو جائیں گے۔
کیا پتہ یہ ان دونوں کا کوئی پلان ہو۔
مجھے باہر رک کر ہی ان دونوں پر نظر رکھنی ہوگی۔
کچھ سوچ کر وہ اپنے لیے کوئی چھپنے کی جگہ ڈھونڈھنے لگا۔
💞💞💞
ہادی کے آتے ہی وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے کچن سے باہر چلی آئی۔
ارے مائی لو ۔ تم کچن میں کیا کر رہی تھی۔
میں تمہارے لیے کھانا لے کر آتو رہا تھا۔
وه فکر مندی سے اسکی طرف بڑھا۔
ہاں جانتی ہوں تم میرے لیے کھانا لارہے تھے۔
مگر آج ہم دونوں پہلی بار ایک ساتھ کھانا کھانے والے تھے۔ اسی وجہ سے کچھ اسپیشل کرناتو بنتا تھا ۔
میں نے آج آپکی پسندیدہ اپیل پائی بنائی ہے۔
اوہ واؤ ؟؟
اس جنگل میں تمہارے ہاتھ کی اپیل پائی کھانے کو مل جائے اس سے زیادہ اچھا کیا ہوگا۔
وہ دو قدم چل کر اس کے قریب آیا۔
التمش کا کچھ پتہ چلا ۔
وہ یکدم بولی تو ہادی کے قدم وہیں رک گئے۔
مم۔۔۔۔۔ میر مطلب کہ ۔۔۔۔ اس کو ہوش آئی کہ نہیں؟؟
اور وہ مجھے طلاق کب دیں گے۔
کب میں آزاد ہونگی۔
اور کب ہم دونوں اپنی نئی زندگی کی شروعات کریں گے ۔
وفاکی تفصیل پر وہ بس گہرے سانس بھر کے رہ گیا۔
ہممم۔۔۔۔۔۔
میں نے اپنے دوستوں کو روشن ولاء بھیجا ہے۔
اب دیکھو وہ کیا خبر سناتے ہیں۔
ہادی کی بات پروہ بس اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی۔
تبھی ہادی رائے زادہ کے فون پر کسی کی کال آئی۔
جسے سن کر وہ کچھ دور جا کھڑا ہوا ۔
وفا خاموشی سے کھڑی اسے فون پر بات کرتا دیکھتی رہی۔
کچھ دیر بعد وہ اسکے قریب آیا۔
میرے دوست کا فون آیا تھا۔
گھر میں بھائی کی وجہ سے اودھم سامچ گیا ہے ۔
بھیا نے غصے میں آکر تمہیں طلاق دے دی ہے اور اب اس نے اپنے اس دوست کو اور ساری پولیس فورس کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔
کیا ؟؟
یہ خبر وفا کے لیے دھچکے سے کم نہ تھی ۔
باقی سب نے تو اُس پر کوئی خاص اثرنہ ڈالاتھا۔
بس التمش نے اس کو طلاق دے دی ہے۔
اس صدمے میں کچھ پل کیلئے اسکی ساری حسیں کام کرنا بند ہوگئی۔
آنکھوں میں نمی اترآئی۔
جسے بڑی مشکل سے پرے دھکیل وہ مسکرا اٹھی۔
اوہ واؤ ۔
یہ تو بہت اچھی خبر سنائی تم نے ۔
اب میں آزاد ہوں۔
مگر تم پولیس کی کیا بات کر رہے ہے۔
اسکے چہرے کی خوشی دیکھ ہادی کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ ابھری۔
مائی لو۔۔۔۔۔
ساری پولیس فورس کو بھائی نے الرٹ کر دیا ہے۔
کسی بھی حالت میں وہ تمہیں اور مجھے ڈھونڈھنا چاہتے ہیں ۔ دیوار کے پار کھڑا ہاشم اسکی اِس غلط انفارمیشن پر حیران رہ گیا ۔
اوہ خدا اب کیا ہوگا۔
وہ پریشان ہوئی۔
ایسا تو تم نے کوئی خیال ظاہر نہیں کیا تھا۔
تم تو بول رہے تھے اگر میرے دھوکے کے بارے میں ان کو معلوم ہوا تو وہ مجھے اپنی بیوی بلانا بھی پسند نہیں کریں گے ۔
مگر یہ سب ؟؟؟
فکر مت کرو میری جان –
یہ ایسی جگہ ہے جس کے بارے میں بھائی کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہوسکتی۔
ہم یہاں جب تک چاہیں سکون سے رہ سکتے ہیں۔
وہ اسے پُرسکون کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
سچ ۔۔۔۔۔
بالکل سچ مائی لو ۔
شکر۔۔۔۔۔۔۔
چلیں آئیں ہم کھانا کھا لیتے ہیں۔
آپ ٹیبل پر سجائیں ۔
میں کھانا گرم کرکے لاتی ہوں۔
وہ مسکرا کر آگے بڑھ گئی۔
ہاشم کا دل کیا وہ اپنے بال نوچ لے۔
یہ معصوم سی نظر آنے والی لڑکی اتنی بڑی گیم کھیل گئی۔
شدید غصے میں آکر اس نے دوبارہ گھر کے اندر گھسنا چاہا۔
مگر دوبارہ دماغ نے غلطی کرنے سے روکا۔
نہیں نہیں مجھے پہلے التمش کوفون کرنا ہوگا۔
اسے بتانا ہوگا اسکی بیوی یہاں اسکے بھائی کے ساتھ موجود ہے۔
💞💞💞💞
آہ۔۔۔۔۔
سر میں شدید درد کے باعث کراہتے ہوئے اٹھا۔
مندی مندی آنکھوں سے پورے کمرے میں نگاہیں دوڑا کر وفا کو تلاشنے کا کوشش کی۔
مگر اس کا وجود وہاں ہوتا تو نظر آتا ۔
وفا۔۔۔۔۔۔ وفا۔۔۔۔۔۔
دوبار آواز لگا کر اسے پکارا ۔
مگر کمرے میں کوئی ہلچل نہ ہوئی۔
ناجانے یہ لڑکی کہاں چلی گئی۔
وہ ہلکا سا مسکرایا۔
کل رات وہ اسکے لیے اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا کر لائی تھی۔
اسی بات کو سوچ وہ دوبارہ سرشار ہوا۔
اٹھ کر اپنے کپڑے اٹھا کر وہ فریش ہونے چلا گیا۔
فریش ہو کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے وہ مسرور سا کهڑا وفا کے شرمیلے روپ کو یاد کر رہا تھا۔
کل رات اسکی آنکھوں کی نمی ، ایک ایک تاثر اس بات کا ثبوت تھے کہ التمش رائے زادہ کا اسکے دل میں مقام بہت خاص ہو چکا ہے۔
مگر وہ صبح صبح کہاں چلی گئی۔
پریشان سا وه اپنا موبائیل اٹھانے کی غرض سے بیڈ کی سائیڈ
کی طرف بڑھا۔
مگر موبائیل کے ساتھ ایک پھڑ پھڑاتا کاغذ دیکھ اسے حیرانی ہوئی۔ اس کاغذ پر لکھی چند سطروں نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا ۔
آپ کچھ بھی بولیں التمش –
میں آپ سے محبت نہیں کرتی۔
آپ بہت اچھے انسان ہیں ۔
مگر میرے دل کے تار کسی اور سے جڑ چکے ہیں۔
میں اب رشتے میں اور نہیں رہ سکتی۔
اس لیے میں آپ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر اس انسان کے ساتھ جارہی ہوں ۔
جس سے میں محبت کرتی ہوں ۔
یہ صرف چند سطریں نہ تھیں ۔
بلکہ ایسا طوفان تھا جسے پڑھ کر التمش رائے زادہ کے دل کی دنیا تہہ وبالا ہوگئی۔
ساری خوشگواری و سرشادی کہیں کھو گئی۔
کل رات سے جو دل بلیوں اچھل رہا تھا۔
اب اسکی سرزمین کسی بنجر کی مانند محسوس ہو رہی تھی۔
شاید ہی آج تک کی زندگی میں اسے اتنابڑا دھچکا لگا ہو۔
مگر آج وہ اس لڑکی کے باعث پورے قد سے زمین پر گراتھا۔ جسے اُسنے اپنی زندگی ماننے کی غلطی کی تھی۔
کہاں کمی رہ گئی تھی میری محبت میں۔
ایسا کیوں کیا تم نے ۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم کسی اور سے محبت کرتی ہو ۔
میں نے تم پر کوئی شک نہ کیا۔
روایتی مردوں کیطرح کوئی ظلم و ستم نہ ڈھایا ۔
ہر شے کو پسِ پشت ڈال کر صرف محبت کی۔
کیونکہ مجھے لگا۔
تم بھی باقی مشرقی عورتوں کی طرح اپنے شوہر سے محبت کرنے لگ جاؤ گی۔
مگر نہیں۔۔۔۔۔
میں غلط نکلا وفا ۔
وفا۔۔۔۔۔۔
اسکا نام پکار وہ طنزیہ ہنسا ۔
وفا نہیں۔۔۔۔۔
تمہارا نام بے وفا ہونا چاہیے تھا۔
بے وفا۔۔۔۔۔
التمش رائے زاده کچھ بھی برداشت کر سکتا ہے۔
مگر بیوفائی نہیں۔
تمہیں اِس بیوفائی کی سزا ضرور ملے گی ۔
وہ اتنی زور سے دھاڑا کہ روشن ولاء کے درو دیوار کانپ کر رہ گئے۔۔۔۔۔۔،
💞💞💞💞
کھانا کھا کر وہ جیسے ہی میٹھے کی طرف آیا۔
تو وفا کی ساری حسیں بیدار ہوگئیں ۔
مائی لو ۔
پہلے تم کھاؤ پھر میں کھاتا ہوں۔
ہادی کی فرمائش پر وہ پریشان ہو کر رہ گئی۔
نن۔۔۔۔۔ نہیں نہیں ہادی –
میں یہ کیسے کھا سکتی ہوں ۔
تم تو جانتے ہونا کہ میٹھا کھانے سے میری طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔
وہ بے بسی سے گویا ہوئی۔
اوہ سوری سوری مائی لو۔
لیکن اگر میرے ساتھ تم بھی اسے انجوائے کرتی تو مجھے بہت اچھا لگتا ۔
ارے نہیں نہیں ۔
تم نے کھایا میں نے کھایا۔
بات ایک ہی ہے۔
ہم دونوں ایک دوسرے سے جدا تھوڑی ہیں۔
وہ خوشدلی سے مسکرائی۔
ہادی نے بھی مسکرا کر اپیل پائی پوری کھالی۔
اس کے ایک لقمے پر مسکرا مسکرا کر دیکھتی وفا کے چہرے کی مسکراہٹ آخری لقمے پر غائب ہوگئی۔
مائی لو —
اب تو تمہارا طلاق بھی۔۔۔۔۔۔۔
ابھی اسکے منہ سے بات مکمل نہ ہوئی تھی کہ ایک زور دار تھپڑ ہادی رائے زادہ کے منہ پر اتنی زور سے پڑا کہ کچھ پل کے لیے وہ حیرت کے سمندر سے نکل ہی نہ پایا۔
شاک کی کیفیت میں وفا کی طرف دیکھا ۔ جس کے چہرے پر بلا کا اطمینان رقم تھا۔
ہاؤ ڈیئر یو ؟؟؟
تم نے ہادی رائے زاده پر ہاتھ اٹھایا۔
وہ یکدم دھاڑا۔
مگر وفا سکون سے اسکے ردعمل کو دیکھ رہی تھی۔ جیسے اُسے کسی شے سے کوئی فرق ہی نہ پڑتا ہو ۔
ہاشم جو التمش کافون نہ لگنے پر گھر کے اندر گھس آیا تھا۔
اچانک صورتحال بدلنے پر یکدم پلر کے اوٹ میں چھپ کر تماشہ دیکھنے لگا ۔
پل پل بدلتی صورتحال سے وہ اتنا تو اخذ کرچکا تھا ۔
کہ یہاں جو نظر آرہا ہے وہ حقیقت میں ہو نہیں رہا۔
اور جو ہو رہا ہے وہ نظر نہیں آ رہا۔