Saza By SI Writes Readelle50234 Episode 9
Rate this Novel
Episode 9
ہاشم نے فوراً سے پہلے موبائل نکال کر ریکارڈنگ شروع کردی۔
ضرور آج کسی راز پر سے پرده اٹھنے والا تھا۔
جس کا ثبوت اسکے پاس ہونا بہت ضروری تھا۔
ہاں ۔۔۔۔۔
میں نے ہادی رائے کو تھپڑ مارا ۔
اسکا انداز اس قدر نارمل تھا کہ ایک پل کیلئے ہادی کو بھی اپنے رائے زادہ ہونے پر شبہ گزرا ۔
آخر کیوں ؟؟
جانتی ہو اسکا انجام کیا ہو سکتا ہے۔
وہ اتنی زور سے دھاڑا کہ اگر کوئی عام انسان اسکے سامنے ہوتا تو وہ لازماً سہم جاتا۔
مگر وفا تو شاید اس وقت فولاد کا جگرا کر کے اسکے سامنے کھڑی تھی
جو ہادی کی دھاڑ اور شور شرابے پر بھی اسکے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔
ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔
انجام ۔۔۔۔۔۔ انجام کی پرواہ وہ کرتے ہیں ہادی رائے زادہ – جن کے پاس کھونے کے لیے کچھ باقی ہو ۔
اسوقت وفا زندگی کے اُس دہانے پر کھڑی ہے ۔
جہاں اسکے پاس کھونے کیلئے کچھ باقی نہیں رہا۔
اسکا بے خوف انداز ہادی کو کچھ گڑبڑ کا احساس دلانے لگا۔
تم مجھ سے محبت کرتی ہو ۔
میری خاطر اپنے شوہر اور فیملی کو دھوکا دے کر آئی ہو۔
اور اب یہ کونسا ناٹک کر رہی ہو۔
وہ جھنجھلا اٹھا۔
شدید غصے میں بھی نفس کی خاطر اپنے اشتعال کو ضبط کرنا چاہا۔
اسکی حالت سمجھ کر وفا کا دوبارہ قہقہہ بلند ہوا۔
ناٹک ۔۔۔
بالکل صحیح پکڑا ہادی رائے زادہ – ناٹک …
یہاں ہر چیز ناٹک ہی تو ہے۔
ہاتھ پر ہاتھ مار وہ پاگلوں کی طرح ہنس ہنس کر ہادی کا مذاق بنانے لگی۔
وفا کے اس انداز پر جہاں ہادی کو کچھ گڑ بڑ ہونے کا احساس ہوا۔ وہیں ہاشم کے کان بھی کھڑے ہوگئے۔
کیا مطلب ؟؟ کیسا ناٹک ؟؟؟
کسی ناٹک کی بات کر رہی ہو تم؟؟
وہ اسکی طرف دو قدم بڑھا۔
بدلے میں وفا نے غور سے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔
عجب بات ہے ہادی رائے زادہ ۔
تم ناٹک کے معنى نہیں سمجھتے ۔
جس کی ساری زندگی اس لفظ کے ارد گرد چکر لگاتی ہو وہ مجھ سے ناٹک کا مفہوم پوچھ رہا ہے۔
وفا کا دوبارہ قہقہہ بلند ہوا۔
اور ہادی کا دماغ گھوم گیا۔
کیا مطلب هے تمہاری ان ساری باتوں کا۔
وہ گڑبڑایا۔
آخر اس نے ایسا کیوں بولا۔
وہ اسکے بارے میں ایسا کیا جانتی ہے جو اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے بول رہی ہے۔
طنزیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھتی وہ ایک قدم ہادی کی طرف بڑھی۔
معصوم لڑکیوں کو اپنی دولت اور محبت کے جال میں پھانس کر ان کے ساتھ زیادتی کرنا اور پھر ان کو جلا کر جان سے مار دینا یہی اصلی بزنس ہے تمہارا ۔
ہے ناں ہادی رائے زادہ –
وہ جس قدر پُرسکون انداز میں گویا ہوئی تھی۔
ہادی کے آس پاس جیسے دھماکے ہوگئے تھے ۔
ہاشم بھی کچھ پل کیلئے سکتے میں آگیا۔
کون ہو تم۔
اپنی پوری لائف میں شاید پہلی بار وہ گھبرایا تھا۔
ہاہاہاہا ۔
میں کون ہوں ۔
یاد کرو ۔ آخر کس کے ساتھ تم نے اس قدر برا سلوک کیا ہوگا۔
جو آج تم اِس طرح ایک لڑکی کے سامنے کپکپا رہے ہو۔
وفانے اسکے کانپتے ہاتھوں کو بغور دیکھا۔
جو کچھ وقت سے مسلسل کپکپا رہے تھے۔
کون ، کس کی بات کر رہی ہو تم؟؟؟
افففف ……
میں بھی کس کو یاد دلانے کی کوششوں میں لگی ہوں۔
تمہیں تو گنتی بھی یادنہ ہوگی کہ آج تک کتنی لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کرکے تم نے ان کو لقمہ اجل بنا دیا۔
وفا کے لہجے میں زہر گھل آیا ۔
آخر کب تک وہ اپنے اندر کی نفرت دبا کر رکھ سکتی تھی۔
تم یہ سب کیسے جانتی ہو ۔
تم تو ایک سیدھی سادھی لڑکی تھی۔
اپنی ماں سے ڈرنے والی اور تم نے محبت کا دعوی بھی تو کیا تھا مجھ سے ؟؟؟
عام طور پر اگر کبھی ایسی صورتحال پیش آجاتی تو یقیناً وہ اب تک سامنے والے کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہوتا۔
مگر آج ناجانے کیوں اسکا دماغ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھوتا جا رہا تھا۔
پورا وجود پسینے میں بھیگتا جا رہا تھا۔
بےشک ۔۔۔۔۔
بے شک ہادی رائے زادہ –
میں اپنے ماں باپ کی معصوم بیٹی ہی ہوں ۔
ہاں میں اپنی ماں سے بھی ڈرتی ہوں۔
لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ میں تم جیسے درندے سے بھی ڈروں گی۔
تم دانہ ڈالو گے اور میں بیوقوف کبوتروں کی طرح تمہارا پھینکا دانہ چننے لگوں گی ۔
حسن کا دیوانہ ہادی رائے زادہ –
حسن کے بچھائے جال میں ایسا پھنسا کہ آج موت کے دروازے پر کھڑا ہے۔
حسن کے جال سے کیا مراد ہے ؟؟
وہ حیران ہوا۔
وہی جال جس میں آج تک تم نے معصوم لڑکیوں کو پھنسا کر ان کا شکار کرکے ان سب کو اپنی حیوانیت کا نشانہ بنایا۔
میں نے وہی جان بچھا کر شکاری کا شکار کر لیا۔
وہ اپنے کارنامے پر کھل کے مسکرائی ۔
ہادی تمہیں یاد ہے ہماری پہلی ملاقات –
جس میں ” میں تمہاری گاڑی سے بری طرح ٹکراگئی تھی۔
ہاں ہاں یاد ہے۔
ہادی کو اچانک اسکا اپنی گاڑی سے ٹکرانا یادآیا۔
پہلی بار جب اس نے اسقدر معصوم حسن کی مالک لڑکی کو عجیب و غریب حلیے میں دیکھا ۔
تو پہلی نظر میں ہی وہ اسے ایک آسان شکار لگی ۔
وہ کوئی اتفاقی ملاقات نہ تھی۔
بلکہ ایک سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت کی گئی ملاقات تھی۔
تین دنوں تک یونیورسٹی سے اپنی کلاس چھوڑ کر میں سڑک کنارے دو دو گھنٹے کھڑے رہ رہ کر تمہاری گاڑی کے وہاں سے گزرنے کا انتظار کرتی تھی ۔
تاکہ جب تمہاری گاڑی یہاں سے گزرے ۔
میں تمہاری گاڑی سے ٹکراؤں۔
تمہاری غلیظ نظر مجھ پر پڑے ۔
اور تم مجھے بھی اپنی گندی سوچ کے مطابق ایک آسان شکار سمجھو ۔
وفا کے انکشاف نے اسے شاکڈ کر دیا۔
ہاشم نے بھی حیرت سے تھوڑا سا سرنکال کر برآمدے میں جھانکا۔
جہاں معصوم سی وفا التمش رائے زادہ کا آج ایک الگ ہی روپ دیکھنے کو مل رہا تھا۔
تم سے کی گئی چند ملاقاتیں بھی پلانڈ –
تم سے کئے گئے وعدے تمہارے وعدوں کیطرح جھوٹے ۔
لیکن تم سے شادی کرنے کا فیصلہ دل و جان سے میرا فیصلہ تھا۔ یہ اتنا بڑا ناٹک اسی وجہ سے رچانا پڑا کیونکہ ماں نے میری شادی تمہارے بجائے التمش سے کردی ۔
ورنہ تمہیں تمہارے کیے کی سزا تو میں بہت دے چکی ہوتی۔
اوہ جسٹ شٹ اپ یو فول ،
تمہیں کیا لگتا ہے۔
ہادی رائے زادہ جس کا آج تک کوئی جرم تک ثابت نہ کر پایا۔ اسے تم اتنی آسانی سے مار دوگی۔
ایسا سوچنا بھی تمہاری زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی۔
چلو اب شرافت سے بتاؤ ۔
آخر تمہارے ایسے کونسے عزیز کی عزت میرے ہاتھوں نیلام ہوگئی ہے ۔
جو تم نے اس حد تک جانے کا پلان بنا لیا۔
عموماً تمہارے جیسے گھرانے کی لڑکیاں تو عزت پر حرف آنے سے پہلے ہی خودکشی کرلیتی ہیں۔
وہ طنزیہ ہنسا ۔
وفانے حقارت سے اسکی مکروہ ہنسی کو دیکھا ۔
رائمہ خان یاد تمہیں –
جسے تم اسکے گھر سے بھگا لے گئے تھے ۔
وہ میری بڑی بہن تھی۔
جو تمہاری درندگی کا شکار ہوگئی۔
اور پھر دو دن بعد تم نے اسے مار دیا تھا۔
نظروں کے ساتھ ساتھ اسکے لفظوں سے بھی حقارت ٹپک رہی تھی ۔
رائمہ خان ۔۔۔۔ ۔ رائمہ خان —-
ہادی نے دماغ پر زور ڈالنے کی کوشش کی۔
اتنی لڑکیوں کے ساتھ وہ یہ سب کر چکا تھا کہ اب آٹھ سال پرانی بات بھلا اتنی جلدی کیسے یاد آجاتی۔
کچھ پل سوچنے کے بعد وہ یکدم ہنسا۔
ارے اُسے کون بھول سکتاہے۔
وہ بھی بڑے کمال کی چیز تھی۔
بہت خوبصورت تھی ۔
اگر چاہتی تو ہم کچھ دن یونہی عیش کرتے اور وہ واپس گھر چلی جاتی ۔۔۔
مگر نہیں جی ۔۔۔
اس پر تو شادی کا بھوت سوار تھا۔
ہروقت ایک ہی رٹ ۔۔۔۔
ہم شادی کب کریں گے۔
ہم صبح نکاح کرنے چلیں گے۔
نکاح مائی فٹ –
میں نے تو اچھی اچھی لڑکیوں کو ریجیکٹ کرڈالا ۔
پھر اُس جیسی دوٹکے کی لڑکی سے ہادی رائے زادہ خود کو ساری زندگی کے لیے باندھ لے ۔
ناممکن ۔۔۔۔۔
سرکونفی میں جنبش دیتے ہوئے وہ ہنسا-
تمہاری بہن جانتی تھی۔
اب اسکے پاس عزت نہیں رہی۔
ماں باپ کاسپورٹ نہیں رہا۔
ہر طرف سے بے سہارا ہو گئی ہے۔
تو اسے اپنی زندگی خاموشی سے گزارنی چاہیے تھی۔
مگر نہیں ۔
تمہاری بہن کا دماغ خراب ہو گیا تھا۔
وہ مجھ سے ۔۔۔۔۔ ہادی رائے زادہ سے الجھنے کے خواب دیکھنے لگی تھی۔
مجھے فون کرکے بولا کہ وہ پولیس میں میری رپورٹ کرے گی اسکی عزت میں نے تباہ کی۔
تو میری عزت وہ تباہ کرے گی۔
اگر میں اسکا کچھ بگاڑ سکتا ہوں تو بگاڑ لوں ۔
مجھے چیلنج کیا اور ماری گئی۔۔
ہاہاہاہا۔ جانتی ہو تمہاری بہن کیسے مری۔
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر گویا ہوا۔
وفا نے زخمی نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔
اسکے فون کرنے کے بعد میں واپس آیا ۔
اس سے جھوٹی معافی مانگی۔
اور ، اور اُسے اسکا فیورٹ زنگر برگر کھلایا ۔
جانتی ہو اُس برگر میں کیا تھا۔
وفاسے سوال کرتا وہ تھوڑا اسکی طرف جھکا ۔
مگر وفا خاموشی سے بس اسکے اِس حیوانوں والے روپ کو دیکھ رہی تھی۔
اُسمیں زہر تھا وفا بی بی ۔
جسے تمہاری بہن نے دوبارہ میرے جھانسے میں آکر کھا لیا تھا ۔ سلو پوائزن –
ایک ایسا زہر میں نے تمہاری بہن کو دیا۔
جس سے وہ آہستہ آہستہ تل تل کرکے مرنے لگی۔
آخر کار ہادی رائے زادہ کو چیلنج کرنے کی سزا تو بھگتنی تھی۔ تڑپ تڑپ کر مرنے کے لیے میں اُسے اس گھر میں چھوڑ گیا ۔
ہاں وفا رائے زادہ یہی گھر ۔۔۔۔
اس گھر میں تمہاری بہن کی موت ہوئی۔
اس فرش پر وہ پڑی سسک رہی تھی۔
اور جاتے جاتے میں نے پیٹرول چھڑک کر اِس گھر کو آگ لگادی۔
اب دیکھو اس گھر کو –
اِس گھر کے کسی کونے سے ایسا نہیں لگتا کہ یہاں کبھی آگ بھی لگی ہوگی۔
وفا نے اُس گھر کو چاروں اطراف سے دیکھا۔
واقعی اس گھر کا کوئی کونہ ایسا نہ تھا ۔
جو یہاں گزری قیامت کاثبوت دے ۔
پولیس آئی اور کچھ نہ کرپائی ۔
کیونکہ پولیس بھی ہادی رائے زادہ کے تلوے چاٹتی ہے۔
وہ مغرور انداز میں ہنکارا ۔
میری پہنچ کا اندازہ ابھی تمہیں نہیں ہے۔
میں نے اپنے بھای کے دوست ۔
یاد ہے تمہارے شوہر کا وہ لاڈلا دوست –
جس سے ملنے تم دونوں اسکے گھر گئے تھے ۔
اسکی بہن کو بھی بالکل تمہاری بہن کی طرح مارا تھا۔
وہ لمحہ بہ لمحہ ہر راز سے پردہ اٹھا رہا تھا۔
اپنی بہن کے نام پر ہاشم نے ضبط سے آنکھیں میچ لیں ۔
بنا کسی محنت کے آج اُسے صرف وفا کی بدولت اپنی بہن کے قاتل کا پتہ چل گیا تھا۔
وہ سالی بھی بہت نخرے دکھاتی تھی ۔
مائزہ کو باتوں میں لے کر میں نے بہت کوشش کی کہ وہ میری ہو جائے۔
مگروہ بہت شاطر نکلی ۔
اپنے بھائی کو میرے بارے میں بتانے کی دھمکی دینے لگی۔
میری عزت کی دھجیاں اڑانے کی دھمکی دینے لگی۔
اور اسکا بھی وہی انجام ہوا جو تمہاری بہن کا ہوا۔
اسے بھی میں نے یوز کیا اور مار دیا۔
نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری ۔
جب ہم لوگوں کے ساتھ رہتے ہوئے وہ ہاشم پولیس افسر ہونے کے باوجود میرے بارے میں پتہ نہیں لگا سکا۔
حیرت ہے۔
تم نے میرے بارے میں پتہ لگا لیا۔
اسمارٹ گرل۔۔۔۔۔۔
اس نے نظروں ہی نظروں میں وفا کو داد دی۔
ویسے جو کام پولیس کے بس سے باہر ہوگیا۔
وہ تم نے کیسے انجام دیا۔
اسکے حیرت زده سوال پر وفا پر اسرار سا مسکرائی۔
جب تم میری بہن کو یہاں مرتا چھوڑ گئے تھے۔
اس وقت یہاں کچھ ایسا تھا ۔
جس میں میری بہن نے تمہارے ظلم کی ہر داستان رقم کرڈالی تھی۔
میری بہن کو ہمیشہ سے ہی ڈائری لکھنے کی عادت تھی۔
اور اُس آخری وقت میں بھی انہوں نے وہ سب کچھ ڈائری میں قید کر ڈالا جو جو تم نے ان کے ساتھ کیا تھا۔
اور اتفاق دیکھو۔۔۔۔۔
سب جل گیا ۔ مگر دراز میں رکھی وہ ڈائری سلامت رہی۔
شاید اس لیے کہ اُس ڈائری نے ہی تمہیں اپنے انجام تک پہنچانے کا ذریعہ بننا تھا۔
پولیس کو آپی کی وہ ڈائری ثبوت کے طور پر ملی۔
مگر پولیس کو بھی شاید تم لوگ اپنی جیب میں رکھتے ہو۔
اسی لیے پولیس نے اس ڈائری کو کھول کر دیکھنا تک گوارہ نہ کیا۔
مگر ایک دن مجھے بابا اور آپی کی بہت یاد آئی ۔
اسی لیے مما سے چوری چھپے میں ان کے کمرے میں گئی۔
اور وہاں میرے ہاتھ آپی کی وہ ڈائری لگ گئی ۔
تب مجھے پتہ چلا آپی نے کوئی خودکشی نہیں کی تھی ۔
اس دن سے لے کر اب تک تم میرے ٹارگٹ رہے ہادی رائے زادہ ۔
اپنی ماں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر میں نے تم سے جھوٹا عشق لڑایا۔
ہر خطرہ اٹھایا۔
تمہارے بھائی کی بیوی ہونے کے باوجود ان کو دھوکہ دے کر تمہارے ساتھ آئی ۔
اور دیکھو آج تم میرے سامنے اپنے اصلی چہرے کے ساتھ کھڑے ہو۔
وہ جس دیدہ دلیری سے اپنا کارنامہ بتارہی تھی۔
ہادی اتنی ہی زور سے قہقہہ لگا کر ہنسا۔
بیوقوف ۔۔۔۔ حد ہے۔
تم تو اپنی بہن سے بھی زیادہ بیوقوف نکلی ۔
ایک کمزور عورت ہو کر تم مجھے مارنے کی باتیں کر رہی ہو۔
میں اب تمہارا بھی وہی حشر کروں گا ۔
جو تمہاری بہن کا کیا تھا۔
وہ غضب ناک ہوا۔
اسکی دھمکی پر ہاشم یکدم الرٹ ہوگیا۔
ویڈیو سیو کرکے موبائیل پاکٹ میں رکھا۔
اور خود گن نکال کر اُس پر گرفت مضبوط کی ۔
اگر اس نے وفا کو کوئی بھی نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی۔
تو آج یہ ہادی رائے زاده اسکے ہاتھوں جان گنوا بیٹھے گا۔
آخرکار مرنا تو اسے اسی کے ہاتھوں ہے۔
اپنی بہن کی موت کے وقت وہ یہ قسم کھا چکا تھا۔
اسکے قاتل کو اسکے انجام تک وہی پہنچائے گا۔
وفا کی طنزیہ ہنسی پر ہادی حیران رہ گیا۔
عجب لڑکی تھی۔
موت کے سامنے بھی ہنس رہی تھی ۔
بیوقوف کون ہے ہادی رائے زادہ ۔
یہ تو صاف نظر آرہا ہے۔
کتنی دیر سے تم صرف بول رہے ہو” کچھ کر نہیں رہے ” جاتے ہو کیوں ؟؟
اب وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال گو تھی۔
کیونکہ تمہارے وجود میں اب کچھ کرنے کی سکت باقی نہیں رہی۔ يہ جو تم گرج گرج کر دہاڑ رہے ہو۔
کچھ دیر میں تمہاری یہ گرج بھی بند ہو جائے گی۔
کیونکہ۔۔۔۔۔۔
وہ کچھ توقف کیلئے رکی۔
کیونکہ میں نے بھی تمہیں وہیں زہر کھلا دیا ہے۔
جو تم نے میری بہن کو کھلایا تھا۔
وفا کے انکشاف پر جہاں ہادی کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ وہیں ہاشم بھی مارے حیرت کے بے ہوش ہوتے ہوتے بچا۔
اب تم بھی ویسے ہی تڑپ تڑپ کر مرو گے۔
جیسے میری بہن مری تھی۔
اور یہ نظارہ میں اپنی آنکھوں کے ذریعے بڑی فرصت سے یہاں بیٹھ کر دیکھوں گی۔
ایک سائیڈ سے چیئر کھسکا کر وہ کچھ دوری کے فاصلے پر پُرسکون ہو کر بیٹھ گئی۔
مارے گھبراہٹ کے ہادی نے مدد طلب نظروں سے اِدھر اُدھر کچھ ٹٹولنا چاہا۔
کچھ دوری پر بنے کچن میں اسے نمک کا خیال آیا۔
نمک والا پانی بنا کر پینے سے اسے الٹی آئے گی اور سارا زہر باہر نکل جائے گا۔
اس سوچ کے چلتے وہ کچن کی طرف بڑھنے لگا۔
مگر ایک قدم اٹھا کر رکھنے سے پہلے ہی وہ لڑکھڑا کر دھڑام سے فرش پر جاگرا۔
