52.3K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

گھر کے بڑوں نے مہمانوں کو سنبھال لیا تھا۔
التمش ، ارشد ، مائرہ ، اسوہ ، ” مائزہ کو لے کر اسکے گھر چلے گئے ۔
وہ خاموشی سے وہیں بیٹھی رہی۔
دماغ الجھن کا شکار تھا۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے۔
جب اچانک التمش کی آواز پر بری طرح چونکی ۔
اٹھو اور باقی سب کے ساتھ گھر میں جاؤ۔۔۔
اب مہمان کھانا کھائیں گے ۔
تمہارا کھانا میں وہیں بھیجوا دوں گا۔۔۔۔
بنا کسی سوال وجواب کے وہ اٹھ کر التمش سنگ وہاں سے گاڑی تک چلی آئی۔۔۔۔۔
گاڑی روشن ولاء کی منزلوں کی طرف رواں دواں تھی۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے بیٹھی ناجانے کیا کیا سوچ رہی تھی۔۔۔۔
مائزہ کی پریشانی کے باعث کسی کا بھی دھیان گم سم سی وفا کیطرف نہ گیا۔
روشن ولاء آتے ہی فاطمہ نے اسے ایک بار پھر التمش کے کمرے میں پہنچا دیا۔۔۔۔۔۔
گھٹنے سمیٹ کر وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے مسلسل اسی لاکٹ کے بار میں سوچ رہی تھی۔
جو اس نے ہاشم کی بہن کے گلے میں دیکھا تھا۔
💞💞💞
ارے واہ کیا بات ہے۔
آج تو شاید آپ بڑے شدو مد سے ہمارا انتظار کررہی ہیں۔
روم میں داخل ہونے کے بعد وہ چینج کر آیا۔
مگر وفا آنکھیں بند کیے ناجانے کن سوچوں میں گم تھی۔
پہلے پہل تو اسے یہی گمان گزرا کہ وہ سو چکی ہے۔
مگر پھر پلکوں میں ہوتی جنبش نے اسکے جاگنے کا پتہ دیا۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔
غائب دماغی میں وہ خود نہیں جانتی تھی کہ کیا بول رہی ہے۔ التمش نے بھی خشمگیں نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔
مسز رائے زادہ شریف و تابعدار شوہر اکثر رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس پاۓ جاتے ہیں ۔
ہاں اگر میری ایک سے زیادہ بیویاں ہوتیں۔
تب یہ سوال میں سمجھ سکتاتھا۔
ایک رات آپکے پاس گزارتا ،
ایک دوسری بیوی کے پاس ، ایک تیسری کے پاس ،
ہہ ۔ مگر۔۔۔۔۔۔
واللہ ہمارے ایسے نصیب کہاں –
ایک ٹھنڈی سانس بھر سر تکیے پر گرایا۔
اور اسے بھی کھینچ کر سینے پر گرایا۔
کیا مطلب آپ دوسری شادی کرنے کے خیالات رکھتے ہیں۔
سب کچھ بھول بھال کر وہ دوسری اور تیسری بیوی کے پاس رات گزارنے والی بات دماغ میں اٹک گئی ۔
فلوقت تو نہیں۔
لیکن آپ نے اگر یونہی ہمارے اور اپنے درمیان دوریاں قائم کیئے رکھیں تو کچھ بعید نہیں ہم ایسا کچھ کر گزریں۔
کچھ دیر وہ اسکے چہرے کے تاثرات دیکھے گئی۔
کہ شاید وہاں کوئی مزاح کا عنصر مل جائے۔
مگر وہ چہرے پر بلا کی سنجیدگی سجائے بیٹھا تھا۔
ہمممم بڑے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔
جن کے پاس زیادہ پیسہ آجاتا ہے پھر ان کا ایک بیوی سے کہاں گزارہ ہوتا ہے۔
وہ منہ بسور کر گویا ہوئی۔
دل کے دریچے میں کچھ چھن سے ٹوٹا تھا۔
ویسے آج آپ بہت خوبصورت لگ رہیں تھیں ۔
التمش کی تعریف بھی اس کا موڈ ٹھیک نہ کرپائی۔
آپ سے کیا مطلب ۔
آپ جا کر دوسری شادی کر لیں۔
اگر اس سے بھی من نہ بھرے تو تیسری۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اٹھ کر چلی جاتی ۔
اس نے دوبارہ اُسے خود سے قریب کیا۔
ویسے اگر آپ چاہیں تو میرے دماغ میں یہ خیال بھی نہ آئے۔ اسے نازک سے سراپے کو نگاہوں میں بھر وہ شوخ ہوا۔
میں ایسا کیوں چاہوں گی ۔
میں تھوڑی نا آپ سے محبت کرتی ہوں۔
التمش نے ضبط سے آنکھیں میچ لیں۔
وہ جتنا اس بات کو بھلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسکی بیوی اُس سے محبت نہیں کرتی۔
یہ لڑکی اتنا ہی اُسے اس بات کا احساس دلاتی تھی ۔
مبارک ہو مسز التمش رائے زاده .
آپ اپنے شوہر کا موڈ غارت کرنے میں کامیاب ہو گئیں ہیں۔
وہ ضبط سے گویا ہوا ۔
پل بھر میں ہی آنکھوں کے کنارے سرخ ہوگئے تھے۔
اتنے خطرناک تاثرات پر وہ وہاں سے بھاگنے کا سوچنے لگی۔
مگر التمش نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کی ۔
اور اسکی راہ ِ فرار کا ہر راستہ بند کر دیا۔
جتنا جلدی آپ ہمارے رشتے کو دل ودماغ سے قبول کر لیں گی۔ اتنا ہی آپ کے لیے اچھا ہو گا۔
دوبارہ اگر میں نے آپ کے منہ سے اس طرح کا کوئی لفظ یا شکایت سنی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا ۔۔۔
اُس پر سخت گرفت بناتے ہوئے آج اسکے ہر انداز میں پہلے سے زیادہ شدت تھی۔
سنسناتی سرگوشی پر وفا کے ریڑھ کی ہڈی تک سنسنا گئی۔
اب صحیح معنوں میں اسے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا۔
مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا ۔
کوئی مرد برداشت نہیں کر سکتا کہ اسکی شریک حيات اُس کے نکاح میں ہونے کے باوجود کسی دوسرے مرد سے اظہارِ محبت جتائے۔
مگر وفا سے یہ غلطی بار بار کر رہی تھی۔
اسی لیے کل کی طرح آج بھی وہ اسکی انا پر وار کر چکی تھی ۔ اسکی یہ بیوقوفیاں ناجانے انکے رشتے کو کونسا موڑ دینے والی تھیں۔
💞💞💞
یہ لیں آپکی ماں کافون آیا ہے۔
التمش نے اپنا فون اسکے حوالے کیا۔
جسے خاموشی سے تهام کر وہ کمرے سے باہر چلی گئی۔
کچھ دیر مریم سے بات کرکے اسی خاموشی سے فون لا کر التمش کے حوالے کر دیا۔
آپ نے مجھے پہلے بتانا تھا کہ آپ کے پاس موبائل فون نہیں ہے۔
مجھے آپکی ماں سے یہ بات معلوم ہوئی۔
التمش رائے زادہ کی بیوی کے پاس موبائل نہیں ہے۔
جانتی ہیں آپ یہ بات میرے لیے کس قدر شرمندگی کاباعث ہے۔
وہ بغور اسکے ناراضگی بھرے تاثرات صبح سے نوٹ کر رہا تھا۔
آپ کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
میرے پاس ہمیشہ سے ہی موبائل نہیں ہے۔
اسکے سپاٹ انداز میں جواب دینے پر وہ بس گہری سانس بھر کے رہ گیا۔
ناراض ہیں آپ۔۔۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
اسی سپاٹ انداز میں جواب دیا گیا۔
مطلب ناراض ہیں۔
نہیں میں آپ سے ناراض نہیں ہوں ۔
بلکہ ماں سے بات کر کے اب میں بہت بہتر محسوس کر رہی ہوں ۔
اب اسکا لہجہ قدرے نارمل تھا۔
ہممم ٹھیک ہے۔
مجھے آفس میں آج کچھ ضروری کام ہے۔
آنے میں شاید کچھ دیر ہو جائے۔
آپ رات کا کھانا نہیں کھائیے گا۔
کیوں ۔
وہ حیران ہوئی۔
کیونکہ میری جان –
آج ہم دونوں ایک اچھے سے رومینٹک ڈرپر جائیں گے۔
بہت ساری باتیں کریں گے۔
کوئی گلہ شکوہ ہوا تو اسے بھی دور کرنے کی کوشش کریں۔
اب آپ التمش رائے زادہ کی شریکِ حیات ہیں۔
اس حقیقت کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ۔
یہ بات آپ جتنا جلدی اپنے ذہن نشین کر لیں آپ کے لیے اتنا ہی اچھا ہوگا۔
اسوقت وہ اسے بہت پیار سے سمجھا رہا تھا۔
سو وہ بھی خاموشی سے سر جھکائے سن رہی تھی ۔
کچھ دیر وہ اسکے بولنے کا انتظار کرتا رہا۔
مگر وفا تو یونہی خاموش بت بنے کھڑی رہی۔
آخر کار وہ اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالتا اسکی طرف بڑھا۔
صبیح پیشانی کو محبت سے چھو کر دائیاں گال تھپتھپایا۔
اور نرم مسکراہٹ سجا کر نظروں میں ہی اسے الوداع دیتا وہاں سے چلا گیا۔
اسکے چلے جانے کے باوجود وہ کچھ دیرتک یونہی کھڑی رہی۔
پھر اچانک نجانے کیا سوجھا۔
دروازہ لاک کر تیزی سے ڈرائنگ روم میں آئی۔
وہاں اپنے رنگ برنگے ڈریسز ، جوتے پرس دیکھ کر یوں خوشی سے چہکی ۔
جیسے وہ یہ سب پہلی بار دیکھ رہی ہو۔
ایک ایک سوٹ نکال کر خود سے لگا لگا کر آئینے کے سامنے وہ خود اپنی پسند کا کوئی خوبصورت سوٹ منتخب کرنا چاہتی تھی ۔
آخر کار اس نے سرخ اور بلیک کنٹراسٹ میں ایک خوبصورت فراک کا انتخاب کیا۔
اسے پہن کر پھر سے اپنے لیے خوبصورت سرخ رنگ کے سینڈلز منتخب کیے ۔
نفیس سی جیولری پہن کر انٹرنیٹ سے لائٹ سا میک اپ کرنا سیکھا اور خود پر اپلائی کیا۔
دو بار تو حشر نشر ہو گیا۔
تیسری بار بس کریم ، کاجل، اور ریڈ لپ اسٹک لگانے پر ہی اکتفا کیا۔
قد آور آئینے میں اپنے نازک سے سراپے کو خود ہی سراہتے ہوئے داد دی ۔
تبھی آئینے سے ہوتی نظر ڈریسنگ روم کے پھیلاوے پر گئی ۔
ایسا اودھم تو شاید اس نے ساری زندگی میں نہ مچایا ہو ۔
جتنا آج مچا دیا تھا۔
سب کچھ سمیٹنے کا ارادہ لے کر وہ تیزی سے اٹھی۔
مگر پھر کانوں کے قريب ایک جملہ گونجا ۔
مسز رائے زاده۔۔۔۔۔
حلق تر کر بکھرے سامان کی طرف بڑھے ہاتھ کھینچے ۔
میں کیوں یہ سب کام کروں ۔
میں تو مسز رائے زادہ ہوں۔
خود کو ایک بار پھر آئینے میں دیکھا۔
کچھ دیر میں ہی وہ ملازمہ کو اپنے کمرے میں بلا کر اسکے سرپر کھڑی آرڈر لگا رہی تھی۔
نوکروں کو تو شاید ان سب کی عادت تهی اسی لیے خاموشی سے اپنا کام کر وہ چلی گئی۔
اب شاید اسکے دل کو قرار آیا تھا۔
اسی لیے سکون سے ٹھنڈا سانس لیا۔
گال پر انگلی رکھ کر اپنے لیے نئی مصروفیات ڈھونڈهنے لگی۔ لاکھ سوچنے پر بھی کوئی ایسا کارنامہ دماغ میں نہ آیا۔
جومسز رائے زادہ کی شان کے عین مطابق ہو۔
ایک تو ناجانے کیوں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔
وہ منہ بسور کر دھپ سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
نظر ایک بار پھر بیڈ کے عین سامنے جمی فوٹو فریم پر جا ٹھہری ۔ جہاں التمش رائے زاده سحر زدہ آنکھوں سے اپنی غیر موجودگی میں بھی وفا کا دل دھڑکانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
زکوٹا جن۔۔ ۔۔
ناجانے کیوں اسے من میں عجیب گدگدی اٹھی ۔
اور وہ مزے سے التمش کے پرکشش نقوش کو زیرِ غور دیکھتے ہوئے اس کا نام بگاڑنے کا کارنامہ سرانجام دینے لگی۔
نام بگاڑ کر وہ خود ہی قہقہہ لگا کر ہنس دی ۔
لیکن تصویر میں بھی التمش رائے زادہ کو مسکراتا محسوس کر اسکی ہنسی کو بریک لگ گئی ۔
مسکرا کیوں رہے ہیں۔
میں نے کوئی جوک سنایا ہے ۔
شدید غصے کے عالم میں وہ چیخی۔۔۔۔
مگر سامنے موجود تصویر ابھی تک مسکرا رہی تھی۔
دیکھو میں بول رہی ہوں ہنسنا بند کرو۔
ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔
وہ ایک بار پھر دہاڑی –
سائیڈ ٹیبل سے واز اٹھا کر تصویر کو وارن کرنا چاہا ۔
مگر کوئی خاطرخواہ اثر نہ ہوتا دیکھ اسکا غصہ بڑھنے لگا۔
اس سے پہلے کہ وہ وہی واز تصویر پر دے مارتی –
ملازمہ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی۔
کیا ہوا بی بی جی؟
حیران پریشان سی وہ وفا کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
جس کے ہاتھ میں واز تھا۔۔۔۔
اور نشانہ التمش رائے زادہ کی تصویر تھی۔
کک۔۔۔۔ کچھ نہیں ۔۔۔۔۔
کہاں تھی آپ۔۔۔۔۔
میں آپ کو ہی آواز دے رہی تھی۔
اپنی خفت چھپانے کیلئے وہ الٹا ملازمہ پر چڑھ دوڑی۔۔۔۔
جی بی بی جی حکم کریں۔۔۔۔۔۔
یہ واز مجھے بالکل بھی پسند نہیں آیا۔
اسے ابھی کے ابھی یہاں سے ہٹواؤ ۔
اور اسکی جگہ کوئی اچھا ڈیکوریشن پیس لاکر رکھو۔
مگربی بی جی اس کمرے کی ایک ایک چیز التمش بابا کی پسند کے مطابق سیٹ کی گئی ہے۔
یہاں کسی بھی شے میں کوئی بھی ردوبدل وہ بالکل گوارہ نہیں کرتے۔
ملازمہ کو شاید اپنی نوکری پیاری تھی۔۔۔۔
تبھی نئی مالکن کے سامنے اتنا بول گئی۔۔۔۔
اوکے ٹھیک ہے ۔
آپ جائیں میں التمش سے بول کر خود اس کمرے کی چیزوں میں تبدیلی کروالوں گی۔
ناجائے اس کے من میں کیا آئی ۔
جو نوکرانی کے ایک بار بولنے پر اسکی سمجھ میں بات آگئی۔
موقع غنیمت جان ملازم بھی جھٹ سے چلی گئی۔
عجیب پاگل لڑکی ہے ۔
اسکی بڑبڑاہٹ وفا کو صاف سمجھ میں تو نہ آسکی۔۔۔۔
مگر وہ اتناضرور جان گئی تھی کہ اس ملازمہ نے اسکے بارے میں ہی کچھ بولا ہے۔
اپنی ذات پر تنقید ہونے پر وہ کچھ دیر کیلئے خاموش ہوگئی۔۔۔۔
کچھ دیر یونہی پُر سکون بیٹھے بیٹھے کُچھ سوچتے گزر گئے ۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ واپس اٹھی۔
دوبارہ ڈرائنگ روم میں گئی۔
ایک بار پھر اس کا حلیہ بالکل ویسے ہی کرلیا جیسا پہلے تھا۔
سر پر سلیقے سے دوپٹہ جما کر وہ اس روم سے باہر نکل آئی۔ نظریں کسی خاص انسان کو ڈھونڈھ رہیں تھی
💞💞💞
کیسی ہو ؟
روشن ولاء کے ایک سنسان کونے میں کھڑے ہو کر وہ دونوں محو گفتگو تھے۔
وفا نے ایک نظر اسکے پریشان چہرے کی طرف دیکھا ۔
جہاں پریشانی اور بے بسی صاف عیاں تھی۔۔۔۔۔۔
کیسی ہو سکتی ہوں۔
قسمت نے جو میرے ساتھ کھیل کھیلا ہے۔
اسکے بعد میں کیسی ہو سکتی ہوں۔
وفا کے لہجے میں دکھ کا پرچھائیاں محسوس کر وہ بھی غمگین ہوا۔ تم نے بھی تو ہم دونوں کی محبت کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا تھا۔۔۔۔۔۔
پھر اب غمگین کیوں ہو رہے ہو ۔۔۔۔۔۔
وفا کے شکوے پر وہ تڑپ اٹھا۔۔۔۔۔۔
سوری وفا ۔
آئی ایم ریئلی ویری ویری سوری ۔
اسوقت مجھے لگا کہ میں التمش بھائی کے سامنے کچھ نہیں کر سکتا۔ اور پھر تمہاری ماں نے بھی توہمارا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا ۔
اس لیے میں پیچھے ہٹ گیا۔
مگر اب مجھے اس بات کا احساس ہو رہا ہے کہ میں نے جو کچھ بھی کیا وہ غلط تھا۔
مجھے اپنی محبت کو پانے کا کم از کم ایک کوشش ضرور کرنی چاہيے تھی۔
یہ سب تو تمہیں میری شادی اپنے بھائی کے ساتھ کروانے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا ۔
جانتے ہو۔ تمہارا بھائی انسانیت کے نام پر دھبہ ہے۔
حیوان ہے وہ –
جس کے ساتھ ایک پل رہ کر بھی میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔
کجا کہ اب مجھے اپنی پوری زندگی اس درندے کے ساتھ گزارنی ہوگی۔
سسک سسک کر جینا ہوگا۔
تم تو جانتے تھے اپنے بھائی فطرت کو ۔۔۔۔۔۔
مجھ سے محبت کے دعویدار بھی تھے۔
پھر تم نے کیسے میرے ساتھ یہ سب کچھ ہو جانے دیا۔
وہ خاموش ہوئی تو سامنے موجود انسان نے ہارے جواہری کی طرح سرجھکا لیا۔
مجھے لگا آج تک جو نا انصافی میرے ساتھ ہوئی ہے۔
وہ صرف میری ماں کی وجہ سے ہوئی ہے۔
مگر مجھے لگا کہ شاید محبت کے معاملے میں میرے ساتھ ایسا کچھ نہ ہو۔۔۔۔
مگر اس بار بھی جیت محبت کے بجائے رسم ورواج کی ہوئی۔
زور و زبردستی سے میری شادی کروادی گئی ۔
میرے جذباتوں کا گلا گھونٹ دیا گیا۔۔۔۔
میری محبت نے بھی مجھ سے کنارہ کر لیا۔
اور مجھے اس جہنم میں ایک حیوان کے ساتھ دھکیل دیا گیا۔
وفا کی آنکھوں سے زارو قطار آنسو بہہ رہے تھے۔
اور سامنے موجود انسان اسے چپ کروانے کی کوشش میں ہلکان ہوئے جا رہا تھا۔
وفا میری بات سنو۔
ابھی بھی ایک راستہ ہے۔
ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ سکھی زندگی گزار سکتے ہیں۔ ان رسم ورواج اور پابندیوں سے بہت دور جا سکتے ہیں۔
کیسے ؟؟؟
اپنا رونا بھول کر وہ حیرانگی سے اسکی طرف دیکھنے لگی ۔
بھاگ چلتے ہیں یہاں سے۔
توڑ دیتے ہیں۔ پابندی کی ان زنجیروں کو –
تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔
یہ تم کیا بول رہے ہو۔
میری شادی ہو چکی ہے۔
التمش رائے زادہ مجھے جان سے ماردے گا۔
وفا کے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں چھا گئیں۔
فکرمت کرو ایسا کچھ نہیں ہونے والا ۔
جیسے ہی ہم دونوں یہاں سے جائیں گے۔
تو التمش بھائی کی غیرت یہ گوار نہیں کرے گی ۔
اور وہ تمہیں اسی وقت طلاق دے دیں گے۔
تب تک ہم دونوں یہاں سے بہت دور چلے جائیں گے ۔
تمہیں اپنی خرانٹ ماں اور ظالم شوہر سے چھٹکارہ مل جائیگا اور میں بھی ان بڑے محلوں والے چھوٹے دل والے لوگوں سے دور چلا جاؤں گا ۔
تب ہماری محبت کو منزل ملے گی۔
ورنہ ایسے تو ہماری محبت گھٹ گھٹ کر دم توڑ دے گی۔
مگر اس میں بہت خطرہ ہے۔
اگر کسی کو پتہ چل گیا تو ؟؟؟
فکر مت کرو۔۔۔۔۔۔
کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔
یہاں سب کو اپنے اپنے کام سے مطلب ہے۔
کوئی کسی کی فکر میں ہلکان نہی ہوتا۔۔۔۔
تم بس میرا ساتھ دینا ۔۔۔۔
یہ قدم میں نے ہم دونوں کی نئی زندگی کے لئے اٹھایا ہے۔۔۔
آج رات ہم دونوں یہاں سے بہت دور چلے جائیں گے۔
جہاں صرف میں ، تم، اور ہمارا خوشیوں بھرا آشیاں ہوگا۔
اتنے خوبصورت خواب پروفا کے چہرے کو مسکراہٹ نے چھوا۔ ابھی تم جاؤ۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں بعد میں میسج کروں گا ۔
اسے جانے کا بول کر وہ خود بھی وہاں سے ہٹ گیا۔
💞💞💞
آفس میں بیٹھا وہ اپنے سامنے رکھی کسی فائل پر پوری طرح غرق تھا۔
یہ فائل رائے زادہ فیملی کے لاڈلے سپوتوں کی انفارمیشن سے بھری تھی ۔
رائے زاده فیملی کے تین وارث – التمش ، ارشد اور ہادی۔
التمش رائے زاده – عمر بتیس سال ۔
صرف اتنی سی ڈیٹیل پڑھ کر اس نے صفحہ پلٹ دیا۔
التمش اسکے شک کے دائرے سے باہر تھا۔
جس دن اسکی بہن غائب ہوتی تھی۔
اس دن التمش رائے زادہ اسکے ساتھ تھا۔
اور ویسے بھی وہ التمش رائے زادہ کو بچپن سے جانتا تھا ۔
لڑکی بازی کرنا اسکی فطرت میں ہی نہ تھا ۔
اپنے کام اور رشتوں کو لے کر وہ بہت مخلص بندہ تھا۔
ہاں مگر شک کے دائرے میں اسوقت صرف دو انسان تھے۔ ارشد اور ہادی۔
ارشد رائے زادہ۔ عمر اکتیس سال ۔
خاموش طبع انسان ، اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان۔
لڑکی بازی کرنا اسکی طبیعت میں بھی نہ تھا۔
مگر یونیورسٹی کے زمانے میں اسکی ایک عدد گرل فرینڈ رہی تھی۔ جو سیکنڈ سیمسٹر میں اسے دھو کہ دے کر چلی گئی۔
جس کے بعد ارشد رائے زادہ کے قریب کسی لڑکی کو نہ دیکھا گیا۔
اپنے گھر والوں سے مخلص انسان –
لڑائی جھگڑے سے دور رہنے والی فطرت ، اپنی بہنوں کی جان ارشد رائے زادہ کی اسقدر شرافت ہاشم کو ہضم نہ آئی۔
ہادی رائے زاده – عمر بتیس سال ۔
دانین رائے زاده اور پوری فیملی کی جان۔
خوش مزاج – ہنس مکھ ، سمجھدار –
یونیورسٹی کے زمانے میں اسکی دو سے تین دوستیں رہیں تھیں۔
مگر کوئی افیئر سننے میں نہیں آیا تھا۔
اسمارٹ ، انٹیلیجنٹ ،
ہادی رائے زادہ۔ بھلے رائے زاده خاندان کا وارث نہ تھا۔
مگر پھر بھی خاندان کی جائیداد میں اسکا حصہ ،
التمش اور ارشد کے برابر کا تھا۔
وجہ صرف ہادی کا اچھا رویہ تھا۔
جسکے باعث وہ سب کے دلوں پر راج کرتا تھا۔
یہ مختصر سی انفارمیشن پڑھ کر اس نے بد دلی سے قائل بند کر دی۔
اس میں تو کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو میرے کام آ سکے۔
رئیس زادوں کے لاڈلے اسقدر شریف کیسے ہوگئے۔
نہ کوئی لڑائی جھگڑا ۔ نہ پولیس کیس۔ نہ لڑکی بازی ۔ نا ممکن ۔ وہ جو کوئی بھی ہے۔ بہت شاطر ہے۔
اپنی حوس اور غلط کام وہ اتنی صفائی سے کرتا ہے کہ کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہو۔
مجھے یقین ہے ۔مجرم انہی میں سے کوئی ایک ہے۔
اور میں بہت جلد اسے ڈھونڈھ کر رہوں گا۔
اور اسے اسکے کیئے کی سزا بھی ملے گی۔
اور وہ سزا سزائے موت سے بھی بدتر ہوگی ضبط سے سرخ آنکھیں بند کیئے وہ خود سے ہی مخاطب تھا۔
آج ایک بار پھر یادوں کا بھنور اسے دو سال پیچھے لے گیا تھا۔
اپنے ماں کی وفات کے بعد اسکی دنیا صرف اسکی بہن میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔
اسکی ہر خواہش کو پورا کرنا ہاشم نے اپنا فرض بنا لیا تھا۔
وہ بھی ہاشم پر جان چھڑکتی تھی ۔
جس طرح رائے زادہ فیملی میں التمش کے ساتھ اس کی دوستی بہت گہری تھی۔
اسی طرح مائزہ کے ساتھ اسکی بہن کی دوستی ہوگئی۔
آہستہ آہستہ یہ دوستی بھی گہری ہوئی۔
اور وہ دونوں ایک دوسرے کے گھر آنے جانے لگیں۔
پھر نجانے ایک دن ایسا کیا ہوا۔
اس نے رائے زادہ فیملی میں جانا بند کر دیا۔
مگر مائزہ سے اسکی دوستی مستقل قائم تھی۔
ہاشم کو یہ بات عجیب لگی۔
دریافت کرنے پر اس نے ساری بات یہ کہہ کر ٹال دی کہ اسے رائے زادہ خاندان کے لڑکے بالکل بھی نہیں پسند ۔
اسی وجہ سے وہ وہاں جانے سے گریز برتتی ہے ۔
اور پھر ایک دن اسکی دنیا اجڑگئی ۔
جب اسکی بہن یونیورسٹی گئی اور واپس لوٹ کر نہ آئی۔
شام سے رات اور رات سے صبح ہوگئی۔
وہ اسے ہر جگہ ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر ہلکان ہوا جارہا تھا۔
مگر اسے ناجانے زمین کها گئی تھی یا آسمان نگل گیا تھا۔
اسکے غائب ہونے کے تقریباً چوبیس گھنٹے بعد ایک انجانے نمبر سے کافون آیا۔
کال اٹھانے پر جب دوسری جانب سے اسکی بہن کی آواز ابھری تو اسکی جان میں جان آئی۔
مگر وہ مسلسل رو رہی تھی۔
بھیا اس نے میرے ساتھ بہت غلط کیا۔
مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔
اب وہ مجھے مار دیگا۔
آپ بھی اسے مت چھوڑنا۔
جان سے مار دینا اسے – وہ رو رو کر فریاد کر رہی تھی۔
جبکہ ہاشم کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہاتھا،
کیا بول رہی ہو گڑیا ۔
کس نے غلط کیا ؟ کون جان سے مار دے گا۔
تم ہو کہاں۔
بھائی وہ آپکے دوست رائے زاده کے گھر میں اس کا بھائی۔۔۔۔ یہ اسکی بہن کے آخری الفاظ تھے۔
بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ایک دردناک چیخ کے ساتھ چار سو موت جیسی خاموشی چھا گئی ،
اگلے دن اسکی بہن کی جلی ہوئی لاش ملی۔
بہت سرچ کے بعد بھی پولیس کو مجرم کا کوئی ثبوت نہ ملا۔
بہن کی موت کے بعد ہاشم کو رائے زادہ فیملی سے نفرت سی ہوگئی تھی۔
مگر اسوقت اسنے جوش سے نہیں ہوش سے کام لیا ۔
اپنے اور التمش کی دوستی کو برقرار رکھا۔
اپنی بہن کو انصاف دلانے کے معاملے میں پولیس کی مدد لینا چاہی ۔
مگر پولیس بھی رائے زادہ فیملی کی غلام بنی تھی۔
قانون اندها تھا یا خود کو اندھا بنا لیا تھا۔ معاملہ جو بھی تھا ۔۔۔۔
مگر اسکی بہن کو انصاف نہ ملا۔
تو اس نے بھی ان قانون کے رکھوالوں کی لسٹ میں کھڑے ہونے کی ٹھان لی۔
اب وہ خود قانون بن کر اصلی مجرم کی تہہ تک جائے گا۔
اور اسکے لیے درد ناک سزا بھی خود ہی منتخب کرے گا۔
💞💞💞💞