Saza By SI Writes Readelle50234 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
اوہ میرے خدا۔۔۔۔۔
یہ یہ تم نے کیا کردیا۔
مم ۔۔۔۔ مجھ سے ایک بار بات تو کرلیتی ۔
مریم کا دل بری طرح دھڑکنے لگا۔
وہ جو کارنامہ سرانجام دے کر آرہی تھی۔
اسکے بعد ان کا دل بری طرح دہل گیا تھا۔
بات کرنے کا وقت چلا گیا تھا۔
صرف کام کرنے کا وقت تھا۔
بدلہ لینے کا وقت تھا۔ اور جو میں نے لے لیا۔
اب انجام کی پرواہ کس کو ہے۔
کچھ بھی نہیں بچا میرے پاس ۔
وہ پاگلوں کی طرح زمین پر بیٹھے بیٹھے ، تھکے ہارے انداز میں گویا ہوئی۔
مریم کا دل اسکی حالت پر کرلایا۔
پاگل ہو گئی ہو۔
جانتی بھی ہو ۔
وہ رائے زادہ کتنے پاگل ہو جائیں گے اب ۔
تمہیں جیل بھیجوا دیں گے ۔
اور شاید میں اپنی تمام تر کوششوں کے بعد بھی تمہیں نہ بچاسکوں ۔
مریم نے جھنجھلا کر اسے معاملے کی سنگینی کا احساس دلانے کی کوشش کی۔
مگر وفا کو شایہ کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔
وہ تو بس خاموشی سے فرش کو گھورنے کا کام سرانجام دے رہی تھی۔
میں کیا کروں۔
تمہیں کہاں چھپاؤں ۔
وہ رائے زادہ تمہیں نہیں چھوڑیں گے ۔
مارے بے بسی کے مریم بھی اسکے پاس فرش پر بیٹھ کر رو دی ۔ ایک ہی سہارا ، جینے کی وجہ بچی تھی اس دنیا میں ۔
مگر آج وہ جو کارنامہ کرکے آئی تھی۔
اسکے بعد مریم کو ایسا لگ رہا تھا ۔
جیسے انہوں نے اپنی اِس بیٹی کو بھی کھو دیا ہو۔
میں کیا کروں ۔
تمہیں کہاں چھپاؤں۔
وہ لوگ تمہیں ڈھونڈھ لیں گے۔
مجھ سے چھین لیں گے۔
مم ۔۔۔۔ مار دیں گے تمہیں بھی۔
یہ تم نے کیا کر دیا۔
مریم کی حالت غیر ہونے لگی۔
تت ۔۔۔۔ تم میرے ساتھ چلو۔
میں تمہیں کہیں چھپا دیتی ہوں۔
جہاں وہ لوگ تم تک نہ پہنچ سکیں ۔
اس نے پورے گھر میں نظریں دوڑا کر وفا کو چھپانے کی خاطر کوئی جگہ تلاش کرنا چاہی ۔
جبکہ وہ خاموش بیٹھی خالی خالی نظروں سے اپنی ماں کے فکر مند چہرے کو تکے جا رہی تھی۔
آج وہ اس کی فکر میں ہلکان ہو رہیں تھیں ۔
جبکہ اسے انکی اس فکر کی بہت پہلے ضرورت تھی ۔
جب وہ چھوٹی تھی۔
جب لوگ اسے باتیں سناتے تھے۔
جب وہ خود اپنی ہی اولاد پر شک کرتی تھی۔
آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
جذبات سے عاری اور سپاٹ لہجہ ،
مریم کے دل کو کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔
کیوں نہ کروں تمہاری فکر ،
ماں ہوں میں تمہاری ، اور ہر ماں کو اپنی اولاد کی پرواہ ہوتی ہی ہے۔
آج یہ کلمات کہتے ہوئے نہ جانے کیوں مریم کا لہجہ کپکپایا ۔
تو یہ فکر اسوقت کہاں تھی ۔
جب آپ نے مجھ پر دنیا کی ہر خوشی گناه ، اور یہ زمین تنگ کر دی تھی۔
کیا اسوقت آپ کو یاد تھا کہ میں آپ ہی کی بیٹی ہوں۔
وفاکی آنکھوں میں دوبارہ آنسو امڈ آئے۔
تم جانتی ہو۔ میں نے سب کچھ کیوں کیا۔
دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کے پیتا ہے۔
رائمہ نے جو کچھ بھی کیا اسکے بعد میں ڈر گئی تھی۔
مریم بے بسی سے گویا ہوئی۔۔
تو وہ سب رائمہ نے کیا تھا۔
میں نے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
رائمہ ،، رائمہ ہے۔ وفا ، وفا ہے۔
آپ کو کیسے لگا کہ میں بھی ویسا ہی کروں گی۔
آپ نے کبھی میرے اندر جھانک کر دیکھا تھا کیا۔
آج کس حق سے آپ مجھے احساس دلارہی ہیں کہ آپ کو میری فکر ہے۔
آپ میری ماں ہیں۔
آپ اسوقت کہاں تھیں جب لوگ میرا مذاق بناتے تھے۔
آپ اسوقت کہاں تھیں جب مجھے طعنے ملتے تھے۔
جب میں اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کو بھی آپکے خوف کی وجہ سے مار دیتی تھی۔
کہاں تھیں آپ اسوقت ؟؟؟؟؟
تب آپ کو یاد نہیں آیا کہ میں آپ کی ہی بیٹی ہوں۔
ساری دنیا کے لیے آپ اچھی ،
مگر اپنی ہی بیٹی کی خاطر ایسی کیوں بن گئی۔
ان سب سے ہٹ کر مجھے دنیا کے طعنے ، فقرے ، نہیں چبھے ، جتنا آپ کا شک کرنا چبھا ۔
جب آپ مجھ سے میرے ایک ایک منٹ کا حساب مانگتی تھیں۔ اسوقت میرا دل کرتا تھا کاش میں اِس دنیا میں ہی نہ آتی۔۔۔
آخر کار اگر ایک وفا اس دنیا میں نہ ہوتی۔۔۔
تو کوئی گھاٹا نہیں پڑ جانا تھا۔
آپ صرف مریم صفدر خان بن گئی ہیں۔
ماں تو شاید آپ صرف رائمہ کی تھیں۔
کیونکہ انکے جانے کے بعد تو مجھے کبھی یہ احساس نہیں ہوا میری بھی کوئی ماں ہے۔
بابا اور رائمہ کے جانے کے بعد مجھے خود پر صرف یتیم کا احساس ہوا ہے۔
جس کا اس دنیا میں کوئی ہمدرد نہیں۔
جس کی ماں نے ہی اس پر دنیا تنگ کردی ہے۔
برسوں سے دل میں دبا درد آج باہر آیا ۔
تو مریم کو شاید پہلی بار احساس ہوا تھا کہ وہ اپنی اس بیٹی کے ساتھ زیادتی کرگئی ہیں۔
آپ فکر نہ کریں ۔
بے دری سے آنسو صاف کر وہ خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
اپنی بہن کے ساتھ زیادتی اور اپنے باپ کی موت کا بدلہ میں لے آئی ہوں۔
اب اگر مجھے یہ قانون پھانسی کی سزا بھی سنادے گا۔
تو کوئی پرواہ نہیں۔
اس راستے پر قدم اٹھانے سے پہلے ہی میں اپنے انجام سے باخبر تھی۔
آپ جائیں۔ آپ کا کام آپکا انتظار کر رہا ہوگا۔
مریم اپنی جگہ دم بخود بیٹھی رہی۔
وفا خود ہی اٹھ کر مرے مرے قدموں سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
مریم کو لگا آج حقیقت میں وہ اپنا سب کچھ کھو بیٹھی ہے۔
صفدر ۔۔۔۔
صفدر وفا مجھ سے روٹھ گئی ہے۔
وہ وہیں بیٹھے بیٹھے رو دی۔
انہوں نے تو اپنی طرف سے اتنی سختی صرف اس لیے کی تھی تاکہ وفا بھی رائمہ کی طرح نا بن جائے۔
مگر اس چکر میں وہ اسکے حقوق کی حق تلفی کر بیٹھی تھی۔
❣️❣️❣️
اسکی توقع کے عین مطابق روشن ولاء میں طوفان آگیا تھا ۔ چاروں طرف پولیس اہلکار سیکیورٹی کے لیے بلائے گئے تھے۔ مہمان کا ایک میلا تھا جو روشن ولاء میں لگ گیا تھا۔
سب لوگ افسوس کر کے جارہے ہے۔
مگردانین خاموشی سے بیٹھی صرف ہادی کی لاش کے کوفین کو مسلسل گھورے جارہی تھی۔
حد درجہ جل جانے کی وجہ سے اور فارنسیک جانچ کے باعث اُسکا وجود دیکھنے لائق نہیں بچا تھا۔
سب بس کافن کے پاس سے عیادت کر کے جا رہے تھے۔۔
ہادی کا چہرہ بھی کسی کو دیکھنا نصیب نہیں ہوا تھا
لوگوں کا کہنا تھا کہ دانین کو اسکے اپنے اکلوتے بیٹے کی موت کا صدمہ لگ گیا ہے۔
مگر ہاشم کو اس کی آنکھوں میں جو آگ نظر آرہی تھی۔
وہ صرف اور صرف بدلے کی آگ تھی۔
باقی سب لوگ نارمل ہی ری ایکٹ کر رہے تھے۔
مگر التمش کی خاموشی وہ بخوبی سمجھ رہا تھا۔
آج اسکا بھائی اس دنیا گیا تھا ۔
وہ جو ساری دنیا سے زیادہ اپنی فیملی سے پیار کرتا تھا۔
آج اپنی بیوی کے ہاتھوں اپنے بھائی کی موت دیکھ کر اسکا کیا حال ہو رہا ہوگا ۔
اس بات کا اندازہ شاید کوئی نہیں لگا سکتا۔
دونوں ہی اس کے لیے بہت خاص تھے۔
مگر ہاشم کو صرف دانین کے ری ایکشن کی فکر تھی ۔
کیونکہ وہ یہ بات بخوبی جانتا تھا کہ جس دن التمش کو اپنے ہی بھائی کا گھناؤنا روپ پتہ چلا۔۔۔
اس دن وہ اپنی بیوی کو غلط نہیں سمجھے گا۔
💞💞💞
موت ۔۔۔۔۔
مجھے اُس لڑکی کی موت اپنی آنکھوں کے سامنے چاہیے۔
جس طرح میرا بیٹا جل کے مرا ۔
اسی طرح اسے بھی میری آنکھوں کے سامنے جلا کے مارو ۔ روشن ولاء کے ہال میں کھڑی وہ سب گھر والوں کو قہر برساتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
التمش نے ایک نظر ان کے لال رنگ ہوتے چہرے کی طرف دیکھا ۔
ان کا ری ایکشن اسکے حساب سے نارمل ہی تھا۔
آخر کار انہوں نے اپنا بیٹا کھویا تھا۔
سب گھر والوں کو خاموش اور پُرسکون کھڑے دیکھ اسکے دماغ میں آگ لگ گئی۔
تم سب کھڑے کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو ۔
سمجھ نہیں آیا میں کیا بول رہی ہوں۔
وہ دھاڑی تو التمش نے ایک بھاری سانس خارج کیا۔
فاطمہ نے گھبرا کر اپنے بیٹے کی طرف دیکھا۔
ارشد بھی ناسمجھی سے ان کی باتیں سن رہا تھا ۔
پھوپھو میں آپ کے دل کا حال سمجھتا ہوں ۔
جانتا ہوں کہ اس وقت آپ بہت غصے میں ہیں ۔
غم کا پہاڑ آپکے دل پر ٹوٹا ہے۔
مگر آپ جو بول رہی ہیں وہ تو غیر قانونی ہے ۔
ہاشم نے بولا ہے کہ وفا کی غلطی نہیں ہے۔
اور ابھی ہمیں صرف شک ہے۔
اور شک کی بنیاد پر ہم کسی کو گناہگار نہیں مان سکتے ۔
التمش نے مصلحت سے جب معاملے کے ہر پہلو کو غور سے سوچا اور سمجھا ۔ تو اسکے مطابق ایک موقع وفا کو بھی صفائی دینے کا ملنا چاہیے تھا۔
آفکورس التمش بیٹا ۔
اب تم اپنی بیوی کی وکالت کروگے ہی۔
آخر دو دن کی شادی میں بیوی کے حسن کا بھوت سر چڑھ کر تو بولے گا ہی۔
تمہارے دل میں اپنی بیوی کی محبت کا جو ابال اٹھ رہا ہے۔
اس کے باعث کم از کم اب تمہیں اپنے بھائی کی موت تو بالکل نظر نہیں آنے والی ۔
اور اب تمہیں وہ خونی لڑکی ،،کہاں گناہگار لگے گی۔
دانین پھنکاری ۔۔۔۔
التمش بس ان کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔
ایسی بات نہیں ہے پھھو ۔
میرے لیے آج بھی میرے بھائی اور باقی فیملی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جتنی کہ کل رکھتے تھے ۔
شادی کرنے سے کبھی کچھ بدلتا نہیں ہے۔
ہر انسان کی ، ہر رشتے کی دل میں ایک مخصوص جگہ ہوتی ہے
اور کوئی دوسرا انسان کبھی بھی اُس جگہ پر قابض نہیں ہو سکتا۔
ہادی کا قتل ہوا ہے یا قدرتی موت “
اس بات کاخلاصہ ہونا ابھی باقی ہے۔
جب تک سارا معاملہ سلجھ نہیں جاتا ۔
ہم یوں کسی کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔
اُس نے ایک بار پھر دانین کو مصلحت سے سمجھانے کی کوشش کی۔
کچھ سلجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
میں اچھی طرح جانتی ہوں یہ کوئی قدرتی موت نہیں،،
بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔
جو تمہاری بیوی نے سرانجام دی ہے۔
ان سب کے درمیان چلتا یہ جھگڑا ہاشم ایک طرف کھڑا خاموشی سے دیکھ رہا تھا ۔
وہ جانتا تھا ۔
اب یہی سب ہونے والا ہے۔
لیکن اس جھگڑے میں اسے اِس بات کی خوشی ہوئی تھی کہ التمش اپنی بیوی کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
بس اب یہ کنفرم کرنا تھا کہ کیا سچ میں التمش نے وفا کو طلاق دے دی تھی
۔ یا یہ بھی ہادی رائے زادہ کا ایک جھوٹ تھا۔۔۔
💞💞💞
کمرے اندھیرا کیے بیڈ پر وہ اجاڑ ساکت حالت میں بیٹھی تھی۔ آنکھیں یک ٹک ایک ہی جگہ منجمد تھیں ۔
رو رو کر آنکھیں لال ہوچکیں تھی ۔
( میں نے آپ سے شادی اس لیے کی تا کہ آپ کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ سکوں )
کانوں کے قریب گھمبیر سرگوشی ابھری۔
اور اسی کے ساتھ دل دوبارہ کرلا اٹھا۔
بابا کے بعد اگر کسی نے مجھے اپنا ہونے کا، خاص ہونے کا احساس دلایا ہے ،،تووہ آپ ہیں التمش –
کیوں ہمارے اس رشتے کو ختم کر ڈالا۔
ایک بار میری بات تو سن لیتے ۔
گلے میں پہنے لاکٹ کو پکڑ کر وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔
یہ پینڈنٹ وہی تھا ۔
جو التمش نے اسے پہلی رات تحفے میں دیا تھا ۔
آ۔۔۔۔۔۔ آپ کو معلوم ہے ۔
یہ بہت خوبصورت ہے۔
مجھے بہت پسند آیا تھا۔
ہمیشہ سے ہی مجھے ایسی نفیس سی جیولری پسند تھی۔
مگر کبھی ماں نے لا کر ہی نہیں دی۔
آپ نے مجھے یہ گفٹ کیا۔
اسکی دنیاوی قیمت میں نہیں جاننا چاہتی۔
مگر ہاں ۔۔۔۔ میرے لیے یہ انمول ہے ۔
اور انمول چیزیں کسی کو دی نہیں جاتیں ۔
وہ التمش کو تصور میں رکھ کر اس سے ہمکلام تھی ۔
آج بھی اسے وہ دن یاد تھا ۔
جب اس نے کہا تھا کہ اسنے التمش کا لایا تحفہ نوکرانی کو دے دیا ہے۔
اسوقت جو التمش کی نگاہوں میں ٹوٹے مان کی کرچیاں بکھریں تھیں ۔
اسے دیکھ ایک پل کیلئے اسکا دل پسیج گیا۔
گستاخ دل نے ساری سچائی اس کے گوش گزار کردینے فرمائش کی۔
جسے اسنے بڑی مشکل سے خود پر ضبط کرکے شانت کیا۔
اسکا مقصد ہی کچھ اور تھا۔
اگر اُس دن اسکی شادی ہادی رائے زادہ سے ہو جاتی ۔۔
تو شاید یہ انو کھے جذبات اسکے دل میں پیدا ہی نہ ہوتے۔
مگر قسمت نے شاید اسکی زندگی میں بہت تڑپنا لکھا تھا۔
خاموش آنسو زارو قطار آنکھوں کے راستے دوبارہ بہنے لگے۔
