Saza By SI Writes Readelle50234 Last updated: 13 September 2025
Rate this Novel
Sazaa
By SI Writes
گارڈ نے اسے دیکھ کر بنا رکاوٹ کے اندر جانے دیا تھا۔ گھر کے اندرونی حصے میں پہنچ وفا کے ساتھ ساتھ التمش کا منہ بھی کھلا کا کھلارہ کیا۔ سامان سے بھرے کارٹن ویسے ہی پیک پڑے تھے ۔ ہر چیز میں بے ترتیبی پھیلی تھی۔ ڈرائنگ روم میں پڑی میز پر کھانے کے شاپر پلیٹ اور چمچ ویسے کے ویسے پڑے تھے ۔ اور صوفے پر ایک نوجوان بلیو جینز اور بلیک بنیان میں آڑا ترچها لیٹا تھا۔ وفا نے حیرت سے یہ سارا منظر دیکھ کر التمش کی طرف دیکھا۔ بدلے میں اس نے بھی ایک افسوس بھری نظر صوفے پر ڈال کر وفا کی طرف دیکھا۔ اپنے بازو سے اسکا ہاتھ ہٹا کر وہ صوفے پر بے خبر لیٹے اس انسان کی طرف بڑھا۔ ہاشم ، ہاشم ۔۔۔۔۔۔ ایک دو آواز دینے پر بھی جب وہ نہ اٹھا ۔ تو التمش نے ٹیبل پر رکھا آدھا پانی کا گلاس اٹھا کر اس پر اچھال دیا۔ اوئے کون ہے ؟ وہ یکدم اچھل کر اٹھا۔ سرخ ہوتی آنکھیں نیند کے خمار کی گواہی دے رہیں تھیں ۔ ارے التمش۔۔۔۔۔۔ اپنے سامنے بچپن کے دوست کو دیکھ وہ حیران ہوا۔ مگر جب نظر چند قدم کی دوری پر کھڑی صنف نازک پر پڑی تو دماغ میں پہلا خیال شرٹ پہننے کا آیا۔ نظروں نے تیزی سے شرٹ ٹٹولنا شروع کی۔۔۔۔۔۔ اور ایک منٹ سے بھی کم عرصہ میں وہ شرٹ پہن چکا تھا۔ سوری یار ۔ بس کل ہی یہاں پوسٹنگ ہوئی ہے۔ سامان کی سیٹنگ کرنی تھی ۔ مگر رات میری نائٹ ڈیوٹی لگ گئی اور یہ سارا سامان یونہی بکھرا رہا۔ وہ شاید بہت زیادہ شرمندگی محسوس کر رہا تھا۔ التمش نے بھی اسکے ساتھ سارا پھیلاوا سمیٹنے میں مدد کی۔ وہ چپ چاپ کھڑی ان دونوں کی کاروائی دیکھ رہی تھی۔ پانچ منٹ میں ہی وہ جگہ دیکھنے ، اور بیٹھنے کے قابل ہو گئی۔ بیٹھ یار ۔ بھابھی آپ بھی بیٹھیں ۔ التمش سے اسکا لہجہ دوستانہ جبکہ وفا سے مؤدبانہ تھا ۔ اثبات میں سر ہلا کر وہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئی۔ اس کے قریب التمش بھی بیٹھ گیا۔ جو کب سے خاموش کھڑا صرف ہاشم کو گھور رہا تھا اور اب صوفے پر بیٹھ کر بھی اسکا یہی عمل جاری تھا۔ اتنی گہری چوٹ کیسے لگی تجھے ـ التمش کے سوال پر ہاشم کے ساتھ ساتھ وفا بهی حیران ہوئی تھی۔ لاکھ چھپانے کے باوجود بھی التمش کی زیرک نگاہوں سے اسکی چوٹ نہ چھپ سکی۔ پھر اچانک ہاشم نے ہنس کر اپنے تاثرات چھپائے ۔ ارے یار تم تو جانتے ہو ۔ پولیس کی نوکری میں ایسی چھوٹی موٹی چوٹیں لگتی رہتی ہیں۔ کل رات ایک غنڈے سے مڈبھٹر ہو گئی تھی۔ اسی وجہ سے چوٹ آئی۔ دوائی اور پین کلر لی تھی۔ اسی وجہ سے اتنی گہری نیند سویا تھا۔ ورنہ پولیس والوں کی نیند اتنی پکی نہی ہوتی ۔ اس نے ہنس کر تفصیل دی تو التمش اور وفا دونوں نے اثبات میں سر ہلایا۔ ویسے بھابھی بہت خوبصورت لائے ہو۔ ہمیشہ کی طرح تمہاری پسند نایاب ہے۔ ایک نظر وفا کی طرف دیکھ وہ التمش کی پسند کی داد دینے لگا۔ التمش رائے زادہ کو ہمیشہ ہی خاص چیزیں پسند آتی ہیں۔ وفا کے خوبصورت چہرے اور نازک سے سراپے کو نگاہوں میں قید کر وہ بنا ہاشم کی طرف دیکھے بولا تو کچھ ہل کے لیے وہ بھی کنفیوز ہوگئی۔ اچھا آپ دونوں پانچ منٹ بیٹھیں میں آپ دونوں کے کھانے پینے کے لیے کچھ لاتا ہوں۔ وہ اٹھ کر جانے لگا۔ کہ التمش کی آواز پر فوراً رکا ارے رکو ہاشم - کھانا کچھ نہیں ہے بس چائے پلا دو ۔ میں تمہاری بھابھی کو صبح صبح بنا ناشتہ کروائے لایا ہوں۔ صرف اور صرف تمہارے ہاتھ کی چائے پلانے کے لیے، اوه خدا التمش یار تو بھی نا ۔۔۔۔۔۔ یہ خبر سن کر وہ تھوڑا شرمندہ ۔ تیز انداز میں اور زیادہ تیزی آگئی۔ آپ یہیں پر بیٹھیں میں اسکی مدد کروا کر آتا ہوں۔ اسکے بازو میں چوٹ لگی ہے۔ وہ اسے وہیں صوفے پر بٹھا کر خود ہاشم کی مدد کروانے کچن کی طرف چل دیا۔ یہ بات بھی وفا کے لیے حیران کن تھی۔ التمش رائے زادہ جسکے گھر کا چمچ بھی نوکر اٹھا کر اِدھر سے اُدھر رکھتے تھے۔ وہ کچن میں اپنے دوست کی ہیلپ کروانے گیا ہے۔ شاید ان کی دوستی بہت گہری ہے۔ اس کا دماغ اس سارے نظارے سے بس یہی اخذ کر پائی۔ باقی سارا سامان تو ویسے ہی پیک تھا۔ مگر ایک باکس کھلا تھا۔ شاید اس میں روزمرہ ضرورت کا سامان ہوگا۔ فارغ بیٹھ کر ڈرائینگ روم کا جائزہ لیتے ہوئے اسکی نظر دیوار پر اٹکی فوٹو فریم پر پڑی ۔ جس میں ہاشم کے ساتھ ایک معصوم سی لڑکی کھڑی تھی ۔ یہ میری بہن ہے۔ وہ اس لڑکی کو دیکھنے میں اس قدر کھوئی تھی کہ ہاشم کی آواز پر بری طرح چونکی۔ وہ دونوں چائے بنا کر لے آئے تھے۔ التمش نے بھی اسکی نظروں کے زاویے میں دیکھا۔ کہاں ہیں یہ ؟ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ اوه آئی ایم سوری ۔ وفا کے سوال پر وہ تھوڑا اداس ہوا۔ التمش نے چائے کا کپ اسے تھمایا ۔ خود بھی اسکے برابر آن بیٹھا۔ . کیا ہوا تھا انہیں ؟ یہ تو بہت پیاری لگ رہی ہیں ۔ وفا کو جیسے یقین سا نہ آیا۔ ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ ہاشم کے چہرے پر سرد تاثرات ابھرے ۔ اور ویسے ہی سرد تاثرات سے اس نے التمش کی طرف دیکھا ۔ جو صوفے پر اپنے لیے کشن سیٹ کر رہا تھا۔ التمش پر تو ہاشم کے یہ تاثرات ظاہر نہ ہو سکے۔ مگر وفا کی نظروں سے یہ تاثرات کسی طور چھپے نہ رہ سکے۔ اچانک ہی وہ وفا کے سوالوں کو اگنور کر التمش کی طرف خوشدلی سے متوجہ ہوا۔ وہ دونوں ہی ناجانے کون کونسی باتیں کر رہے تھے۔ مگر وفا کی نظریں اس تصویر پر جیسے جم سی گئیں ۔ اُس لڑکی کی تصویر سے زیادہ اُسے وہ لاکٹ اٹریکٹ کر رہا تھا۔ جو اس تصویر میں اسکے گلے میں پہنا تھا۔ یہ لاکٹ اس نے کہیں اور بھی دیکھا تھا۔ مگر کہاں ؟؟؟ یہ فلوقت اسے یاد نہیں آربا تھا ۔ اچھا اب ہم چلتے ہیں۔ آج شام جتنا بھی ضروری کام ہو۔ اسے پسِ پشت ڈل کر تم نے میرے ولیمے پر آنا ہے۔ التمش کے حکمیہ انداز پر وہ تابعداری سے سرجھکا گیا۔ چند اور باتوں کے بعد وہ دونوں وہاں سے نکل آئے۔ مگر وفا کا دماغ ہاشم کی نظروں ، ان تاثرات اور اُس لڑکی کے گلے میں پہنے لاکٹ میں اٹک گیا تھا۔
