52K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode 20

وہ اُسکے بدلے ہوئے تیور سے ٹوٹ چکی تھی اُسے لگ رہا تھا وہ نرمی سے پیش آکر اُسکے جزباتوں کا مزاق بنا رہا ہے۔۔ وہ بیڈ پر بے ہوش پڑی تھی۔۔۔۔ کل رات سے اُس نے آکر اُسے دیکھنا تک گوارہ نہیں کیا تھا۔۔کہ وہ زندہ ہے یا مر گئی ہے۔۔۔
شائید وہ اُسکے لیے صرف ایک کھلونا تھی جسے جب چاہیے وہ توڑ کر پھینک دے یا سینے سے لگا کر رکھ دے۔۔۔
“مشی۔۔۔!!
وہ روم میں داخل ہوا تو اُسے بیڈ پر لیٹے ہوئے دیکھکر قدم اُسی جانب بڑھانے لگا۔۔۔۔۔۔پاس پہنچ کر ہلکی آنچ دیتی اپنی بوجھل آواز سے اُسکا نام پکارنے لگا مگر بے سود وہ آنکھیں بند کیے اُسی طرح پڑی تھی۔۔۔
“تُمہیں تو بہت تیز بخار ہو رہا ہے جاناں۔۔۔!!!
بیڈ پر اُسکے پاس بیٹھا اور جب اُسنے اُسکی کلائی کو پکڑا تو ڈھنگ رہ گیا کیونکہ اُسکا نازک وجود بخار کی حدت سے جل رہا تھا۔۔۔وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور تیزی سے روم سے باہر نکلا۔۔۔
“جانان اٹھو اور یہ سوپ پیؤ شاباش۔۔!!!
روم میں داخل ہوا تو ہاتھ میں ٹرے پکڑے ہوئے تھا وہ بیڈ کی جانب پہنچ کر بیڈ سائیڈ ٹیبل پر ٹرے رکھتے ہوئے بیڈ پر اسکے قریب بیٹھا اور اُسکی سلکی بالوں کو چہرے سے ہٹاتے ہوئے گلابی گالوں کو تھپتھپاتے اُسے کہنے لگا۔۔۔
جب وہ اٹھی نہیں تو وہ اُسے اپنے سینے سے لگا کر باؤل سے چمچ نکال کر ٹرے کے اندر رکھتے ہوئے اُسے اپنے سینے سے لگائے وہ اُسکے معصوم چہرے کو بغور دیکھنے لگا۔۔۔
جو آنکھیں موندے ہوئے تھی۔۔۔۔۔۔۔ سنجیدگی سے باؤل اپنے لبوں سے لگاتا سوپ منہ میں لیے باؤل واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھتا مشائم کی طرف دیکھنے لگا جو بے ہوش تھی۔۔۔۔۔ہوش میں نہیں تھی۔۔۔
مشائم ہوش اور بے ہوشی کے درمیان میں تھیں۔ تبھی اُسے اپنے لبوں پہ کچھ گیلا سا احساس ہوا ساتھ ہی ایک گرم لمس کو شدت سے محسوس کرنے لگی۔۔۔
“بیوی تُم نے نہ اٹھنے کی قسم کھائی ہے۔۔۔۔۔ تو میں نے بھی تُمہیں یہ سوپ اپنے انداز میں پھیلانے کی قسم کھایا ہے۔۔اب اگر تُم نہیں اٹھی تو میں تُمہیں یہ سارا سوپ اُسی طرح پھیلاؤ گا۔۔۔!!
اُسکے لبوں سے قطرے کی صورت نکلتے سوپ کو اپنے لبوں سے لگا کر اُسکے نیم ہوش اور بے ہوش کے درمیان لٹکے وجود پر کپکپی طاری کر گیا۔۔۔
“بیوی تُم نے مجھے اپنی محبت کے جھال میں پھنسایا ہے مجھے اپنا اسیر کر دیا ہے۔۔۔۔پاگل بنا دیا ہے۔ناکارہ بنا دیا ہے۔۔۔۔۔۔کچھ بھی کرنے کو دل نہیں چاہتا فقط تُمہیں سارا دن اپنے سامنے بیٹھا کر دیکھنے کا دل کرتا ہے۔۔۔!!
وہ اُسکی لرزتی پلکوں کو لبوں سے چھوتا گھمبیر آواز میں کہتا اُسے محبت آمیز نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔جو اُسکی گستاخیوں کو سہہ نا پا رہی تھیں۔
اب آہستہ آہستہ ہوش میں آ رہی تھی۔۔۔۔
“کیوں اپنی حدیں عبور کرنے کا اب شدت سے دل چاہتا ہے کیوں اِن پیاسی نظروں کو تُم فقط تُم چاہیے۔۔۔؟؟
اُسکی ستواں ناک کو چھو کر وہ ماحول کو اپنی باتوں سے پرفُسوں بنا رہا تھا جبکہ سلگتے ہونٹ نیچے سفر کرتے اُسکے ہونٹوں کے قریب تر پہنچ چکے تھے۔۔۔مشائم اُسکے دہکتے لمس کو محسوس کرتے مکمل ہوش میں آتے پٹ سے آنکھیں کھولتی اُسے پھٹی آنکھوں سے اپنے اوپر جھکے دیکھ کر سٹپٹا کے رہ گئیں۔۔۔۔
“ی۔۔۔۔۔۔۔۔یہ آآاا آپ ک۔۔۔۔۔۔۔کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟؟؟
آنکھوں میں وحشت لیے وہ اُسے اپنے اوپر مکمل کسی طوفان کی صورت بادل کی طرح چاہے دیکھ وہ اپنے پورے وجود میں ایک سنسنی خیز لہر کو دوڑتے ہوئے شدت سے محسوس کرنے لگی ۔۔
“بیوی تُم سے محّبت۔۔۔!!!
گہری نظر اُسکے جُنبش ہونٹوں پر تھی۔۔مشائم جو دنگ نظروں سے اُسکے بدلے انداز اور حرکتوں کو دیکھ رہی تھی اُسکے نظروں کی مفہوم کو سمجھتی بیڈ شیٹ کو شدت سے پکڑ کر بیڈ کراؤن سے لگ کر اسے خوفزدگی سے دیکھنے لگی۔۔۔۔
“نن۔۔۔نہیں چاہیے مجھے آپکی محبت۔۔۔۔!!!
لرزتی ہوئی آواز میں کہتی وہ بیڈ شیٹ کو سختی سے مٹھی میں لیتی پیچھے بیڈ کراؤن سے لگے وہ اُسکی قرابت سے تھرتھرا رہی تھی۔۔۔
“مگر بیوی مجھے تو چاہیے تُمہاری محبت۔تُم میری زندگی بن چکی ہو۔۔۔
اب میں صرف تُم سے محبت کروں گا۔ تا قیامت تک تُمہارا بن کر رہوں گا۔ ۔۔!!!
بیڈ کراؤن پر اپنے دونوں ہاتھ دائیں اور بائیں جانب رکھتا وہ اُسکے اوپر جھکتا نرم لہجے میں کہتا اُسکے ہونٹوں پہ جھکنے لگا۔۔۔
تو وہ اُسکی قربت سے لرزتی تیزی سے اُسکے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتی اُسے روکنے لگی۔۔۔
“آپ اسطرح کر کے مجھے مار رہے ہیں۔۔۔ میرے جذبوں سے کھیل نہیں سکتے آپ۔۔
میں نہیں مانتی آپکو مجھ سے محبت ہوگئی ہے۔۔ یہ وقتی جزبات ہے آپ کل صبح بھول جائے گے کہ آپ نے کل رات کیا کیا تھا پلیز آپ چلے جائے یہاں سے پلیز۔۔!!!
نم آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اُسے اپنے اوپر جھکے دیکھ وہ دونوں ہاتھ جوڑتی روتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔۔۔۔زرنگ کی نظریں اُسی پر تھی اُسے ہاتھ جوڑتے ہوئے دیکھ وہ تیزی سے اُسکے جوڑے ہاتھوں کو اپنے پُرحدت ہاتھوں کی گرفت میں لے کر ہونٹوں سے لگا گیا۔۔۔
“نہیں کبھی نہیں جاؤ گا میں تُم سے دور۔۔۔۔۔۔اب میں کبھی بھی تُمہیں رونے نہیں دو گا۔۔۔تُم میرے لیے اہم ہوگئی ہو۔۔۔!!!
جنونی لہجے میں کہتا وہ اُسکی پیشانی ناک منہ گالوں اور ٹھوڈی کو بے قراری سے چھونے لگا اُسکی شدتوں سے ایسا لگ رہا تھا جسے مشائم اب اُسکی محبت کو قبول نہیں کرے گی وہ اپنے لمس سے اُسے احساس دلانا چاہتا تھا کہ وہ اُس سے بے حد محبت کرنے لگا ہے۔مگر
چھ۔۔۔۔چھوڑے مجھے۔۔۔!!!
اُسے اپنے اوپر غلبہ حاصل کرتے ہوئے دیکھ وہ اُسے دور دھکیل کر روتی ہوئی بولی۔۔۔۔۔۔۔اُسے ہٹانے کے چکر میں اُسکی فراک اوپر گلے سے تھوڑی ہٹ گئی تھیں۔۔۔ جسے دیکھ زرنگ کو اپنے اوپر غصہ آیا وہ اپنی دیوانگی میں کیسے اُسے نقصان پہنچا گیا کیسے۔
مگر وہ بھی کیا کرتا مشائم اُس سے بدزن ہو چکی تھی اسکے پہلے کے رویوں سے اسکی بے رخی سے شائید اب وہ تھک گئی تھی اِسی لیے شائید وہ اُسکی محبت کو ایکسپٹ نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔
“نہیں چھوڑ سکتا میں تُمہیں مشی میری جان۔۔۔بہت زیادہ چاہنے لگا ہو۔اب دوری برداشت نہیں ہوگی۔۔۔!!
لہجے میں بے بسی سمو کر وہ اُسکی گردن کے پیچھے ایک ہاتھ لے جا کر اُسکی گردن کو اوپر اٹھاتا وہ اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“خان یہ محبت نہیں یہ ہوس ہے جسے آپ محبت کا نام دے رہے ہیں۔!!!
گلابی ہو رہیں آنکھوں سے اُسے دیکھتی وہ سختی سے بولی۔۔۔۔۔۔۔زرنگ کی آنکھیں یکدم سے اُسکی بات پر آگ برسانے لگی۔۔
“کیا۔۔۔۔۔؟؟؟؟
سُرخ آنکھوں سے اُسے دیکھتا وہ غصے کی زیادتی سے غرایا۔۔۔
“تُم میری محبت کو ہوس کا درجہ دے رہی ہو۔۔۔میری محبت کی تزلیل کر رہی ہو مشائم زرنگ خان۔۔۔۔مجھے غصہ مت دلاؤ مجھے جنونی مت بناؤ ورنہ میں ساری حدیں پار کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگاؤں گا۔۔تُم سے حق چھیننے میں ایک منٹ بھی دیری نہیں کروں گا سمجھی۔۔۔!!!
اُسے ٹھوڈی سے سختی سے پکڑتا وہ تند خو لہجے میں کہتا اُسے ڈرا کر رکھ گیا۔۔۔وہ اپنے پورے وجود پر لرز شدت سے محسوس کر سکتی تھی۔۔۔
“آپ نے مجھے مجبور کیا ہے میں یقین کے اُس سفر سے واپس آ چکی ہو جس میں میں سفر کر رہی تھی۔۔اُس سفر میں میں آپکے خوش نما خواب بُن رہی تھی آپکے ساتھ کے حسین مناظر دیکھ رہی تھی لیکن۔آپ نے اُس خواب کو ہی اپنی بِے رخی سے نوچ لیا اب بتائیں میں کیسے یقین کروں آپکی اس محبت کا ہاں۔۔۔!!!
روئی روئی سُرخ آنکھیں اُس سے سوال گؤں تھی۔جواب اُسکے پاس موجود نہیں تھا اسی لیے وہ خاموش کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“کیسے یقین دلاؤ میں مشی میری جان تُمہیں کہ۔
میں تُم سے سچ میں محبت کرنے لگا ہوں۔۔رہ نہیں سکتا تُمہارے بغیر پلیز میری محبت کو قبول کر لو پلیز۔۔۔!!!
بے اختیار ہو کر وہ اُسکے گالوں کو اپنی گرفت میں لے کر اپنی آنسوؤں سے تر آنکھوں سے اُسے دیکھتے بھاری آواز میں کہنے لگا۔۔۔
“کبھی نہیں دلا سکتے آپ مجھے یقین خان جی میرے جذبے آپکی بے جا تزلیل کرنے سے اب مرجھا چکے ہیں اب آپ اِنہیں اپنی نرمی اور محبت سے بھی نہیں جگا سکتے۔۔۔!!
مضبوط لہجے میں کہتی وہ پیچھے ہٹی اور بیڈ کراؤن سے لگ کر اُسے دیکھنے لگی۔جو اسکی بات سُن کر اٹھا اور اُسے دیکھے بغیر وہاں سے شکشت دہ قدموں سے روم سے باہر نکلا۔مشائم اسکے وہاں سے جاتے ہیں بیڈ پر گری اور بُری طرح سے رونے لگی۔۔
اُسنے اُسے کہہ تو دیا کہ اب وہ اس پر یقین نہیں کر سکتی اسکے جزبات اسکے لیے اب مر چکے ہیں۔۔لیکن اب وہ اپنے دل میں مچلتے تڑپتے جزباتوں کی آہوں اور سسکیوں کو شدت سے سنتی بُری طرح سے ٹوٹ کر رو رہی تھیں۔غم منا رہی تھی اپنی نامحرومی پر اپنی بے بسی پر۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
صبح وہ نماز پڑھ کر روم سے باہر نکلی تو اُسے لاؤنج میں صوفے پر بیٹھے دیکھ وہ وہی ٹھہر گئی جبکہ وہ اُسکے قدموں کی آہٹ کو محسوس کرتا خاموشی سے وہاں سے اٹھا۔۔
“سُنیے خان جی رکھئیے ۔۔۔!!!!
اُسے گھر سے باہر نکلتے ہوئے دیکھتی وہ تیزی سے اُسکے پیچھے بھاگی۔۔۔
“آپ ناشتہ کیے بغیر باہر کیوں جا رہے ہیں۔۔۔؟؟؟
وہ اُسکی چوڑی پشت کو دیکھتی تیزی سے نظریں نیچے جھکا کر بولی۔وہ جو منہ آگے کیے کھڑا تھا۔اُسکی فکر مند آواز پر تیزی سے پیچھے مڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچانک سے پیچھے مڑنے سے وہ دونوں ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو زرنگ خان نے اُسے اُسکی نازک کمر سے پکڑا اور اُسکو نیچے گرنے سے بچایا۔۔۔
“میری فکر کرنا چھوڑ دو میں ناشتہ کروں یا نہ کروں تُم میری اچھی بیوی بَننے کی کوشش رد کر دو میں بہت شکر گزار رہوں گا تُمہارا۔۔!!!
اُسے خود سے دور کرتا وہ سپاٹ لہجے میں کہنے لگا۔مشائم اسکے لہجے پر بڑی بڑی گلابی نم آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
“میں بیوی ہو آپ کی میں فکر نہیں کروں گی۔۔۔تو کون کرے گی۔اور میں آپکی فکر اگر نہیں کرو گی تو مجھے گناہ ملے گا۔۔۔!!!
وہ اُسکی جانب دیکھتی ہوئی بولی۔زرنگ اُسکی بات پر طنزیہ مسکرایا۔۔۔
“آخرت کی بہت فکر ہے تُمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اپنے شوہر کی نہیں جب اپنے شوہر کو خوش نہیں کر سکتی تو کیسے اپنی آخرت کو سنوار کر تُم اپنے لیے جنت خرید سکتی ہو۔۔۔؟؟
وہ اُسکی جانب دیکھتے ہوئے زومعنی لہجے میں کہتا اُسے اپنی طرف متوجہ کر گیا۔۔۔
“مم۔۔۔میں خیال تو رکھتی ہو آپکا خان جی۔۔۔!!!
انگلیوں کو آپس میں جکڑتی وہ نظریں نیچے جھکائے بولی۔۔۔۔
“کب کیا ہے تُم نے میرا خیال بیوی بتاؤ۔۔۔
کل رات مجھے میرے حقوق سے محروم کر کے تُم نے مجھے ناراض کیا ہے خیال تو دور کی بات تم تو مجھے اپنے قریب بھی آنے نہیں دیتی تو خوش کیا خاک کروں گی۔۔!!!
نظروں میں بے شمار غصہ لیے وہ سخت لہجے میں کہتا اُسے دیکھنے لگا۔۔جو سامنے کھڑی اپنی انگلیوں کو آپس میں ملائے نظریں نیچے جھکائے اُسکی غصیلی آواز سن رہی تھی۔۔۔
“پلیز خان اُس چیز کے لیے مجھے فورس مت کریں میں اب اپنی اوقات پہنچان چکی ہو آپکی نظروں میں پلیز اب یہ سب کر کے میرے قدموں کو مت ڈگمگائے۔۔۔!!!
وہ اُسکی جانب دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔
“آہ۔۔۔اوقات۔۔۔!!!
ایک سرد آہ بھر کر اُسے گہری نظروں سے دیکھ وہ بولا۔۔
“اگر تُمہیں میری نظروں کے پیغام سمجھ میں آتے تو تُمہیں پتہ چلتا کہ تُمہارا مقام کیا ہے میرے نزدیک تو خود پر نازاں ہو جاتی۔۔۔
لیکن افسوس تُم تو اب وہ مشائم خان نہیں رہی جو مجھ سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔مجھے دیوانوں کی طرح چاہتی تھی۔تُم تو ایک پتھر دل کی مالک بن چکی ہو۔تم اب یہی منفی سوچ سوچو گی۔۔۔چلتا ہوں شائید تُمہیں اب میرا یہاں ٹھہرنا بھی ناگوار لگتا ہوں۔۔۔اسی لیے تُم سے اب دوری اختیار کرنے لگا ہو سو پلیز نزدیک آ کر مجھے بہکاؤ مت۔۔۔ورنہ میں اگر بہک گیا تو ساری حدیں پار کر کے تُمہیں حاصل کر لوں گا۔تو تُم ٹوٹ جاؤ گی۔اور میں تُمہیں کوئی تکلیف دینا نہیں چاہتا۔پلیز میرے قریب مت آیا کروں مجھے مت اکساؤ۔۔۔۔!!
وہ سنجیدگی سے کہتا قدم باہر نکال کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔مشائم کی آنکھیں اُسے دور جاتے ہوئے دیکھتی بھیگنے لگی۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
رات کے نو بچ چکے تھے وہ ابھی تک لوٹا نہیں تھا اوپر سے موسم بھی خراب ہوتا جا رہا تھا۔۔۔
ہوائیں سخت تیز چل رہی تھیں مشائم لان میں کھڑی پریشانی سے اُسکا ویٹ کر رہی تھی۔وہ اس وقت سفید لانگ فراک زیب تن کیے ہوئے تھی۔۔۔۔۔ڈیپ بیک جس پر ڈوری بندھی ہوئی تھی۔۔۔
اچانک بارش تیز ہوئی تو وہ بھیگنے لگی مگر پریشانی کی وجہ سے وہ اپنی جگہ سے ہلی تک نہیں۔۔۔
“خان جی اتنا لیٹ کیسے ہو سکتے ہیں وہ پہلے تو وقت پر آتے تھے۔۔۔!!
بڑبڑاتی ہوئی اِدھر اُدھر چکر کاٹنے لگی بارش کے پانی سے وہ مکمل بھیگ چکی تھی۔۔۔۔۔سفید فراک چپک کر اُسکے نازک جسم کے راز افشا کر رہا تھا جس سے وہ بے خبر بارش میں مکمل بھیگتی زرنگ کا بے قراری سے انتظار کر رہی تھی۔۔۔
شکر خان جی آ گئے۔۔۔!!!
تبھی دروازہ کھلا اور اُسکی گاڑی اُسے اندر آتی ہوئی نظر آئی تو وہ شکر کا کلمہ پڑھ کر تیزی سے وہاں سے ہٹی۔۔۔اور تیزی سے گھر کے پچھلے دروازے سے کچن کے اندر داخل ہو کر وہ کچن کی جانب بڑھی۔۔۔
“کیا کر رہی ہو۔۔؟؟؟
وہ جب کچن میں داخل ہوا تو اُسے سامنے فریج سے کچھ نکالتے ہوئے دیکھ وہ گہری نظروں سے اُسکے نازک سراپے کو دیکھتے ہوۓ کہنے لگا۔۔۔
اُسکے بھیگے نازک سراپے سے اُسکا ایمان ڈگمگانے لگا تو وہ ضبط کی لگامیں تھامتا وہ تیزی سے نظروں کو اُس پر سے ہٹاتا دوسری طرف دیکھنے لگا۔۔۔
“خان آپ کے لیے کھانا گرم کر رہی ہو۔۔۔!!!
وہ اپنے بے ترتیب حلیے سے بے خبر اُسکے لیے کھانا گرم کرنے آوون کی جانب بڑھی۔۔۔جبکہ وہ ضبط کی ڈوریا تھامے نظریں اُس پر سے ہٹانے کی کوششوں میں لگے سامنے جا کر کرسی پر بیٹھا۔۔۔
“خان یہ لیجئے آپکا کھانا۔۔۔!!!
وہ ٹیبل پر کھانا لگا کر پیچھے ہٹی تو وہ نظریں نیچے کئے اسے نظر انداز کرتے کھانے کو دیکھنے لگا۔۔۔
ٹیبل پر چکن کڑاہی اور سفید چاول رکھے ہوئے تھے جس سے اسکی بھوک بڑھ گئی مگر اُسکی موجودگی سے وہ ضبط کیے بیٹھا رہا۔۔۔۔۔
“جاؤ اپنے کپڑے بدلوں ورنہ سردی لگ جائے گی۔۔!!
نظریں نیچے جھکائے کھانا کھاتے ہوئے وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔مشائم اُسکی بھاری آواز سے کہنے پر نظریں اپنے سراپے پر ڈالتی بُری طرح لرز اٹھی۔۔۔
مطلب وہ کب سے اُسکے سامنے اس حلیے میں گھوم رہی تھی اب شرم سے اُسکے گال گلال ہونے لگے تو نظریں خود بخود اٹھی اور اُس پر ٹھہر گئی جو نظریں شائید ضبط کی وجہ سے نیچے جھکائے ہوئے تھا۔۔۔تیزی سے وہ وہاں سے بھاگی۔۔
“واللہ ابھی میں ختم ہو جاتا صنم کی اس حرکت پر۔۔!!
وہ اسکے جاتے ہی ایک گہری سانس خارج کرتا گھمبیر آواز میں خود سے بڑبڑایا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
وہ روم میں پہنچ کر دروازہ بند کرتی اپنے ڈھرکنوں کو سنبھالتی ہونٹوں کو بھینچ کر تیزی سے آگے بڑھی اور ڈریسنگ ٹیبل کے آگے آ کر کھڑی ہوگئی۔۔۔
“میں بھی کتنی پاگل ہو۔۔۔!!
شیشے میں نظر آتے اپنے سراپے کو غصے سے دیکھتی وہ اپنے سر پر ہاتھ مارتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔
“کیا ضرورت تھی اتنا بے خبر رہنے کی اگر وہ۔۔۔!!!
وہ کے آگے سوچ کر اُسکے گال ٹمٹما اٹھے۔۔۔
“مجھے باہر اُنکا انتظار نہیں کرنا چاہیے تھا ورنہ میں اسطرح بھیگ کر شرمندگی محسوس نہ کرتی۔۔۔!!!
اپنے سُرخ گالوں پر ہاتھ رکھتی وہ بڑبڑاتی ہوئی بولی۔۔
“اگر انتظار نہیں کرتی تو پھر انہیں کھانا کیسے گرم کر کے دیتے۔۔!!!
وہ خود ہی باتیں کر رہی تھی۔
زرنگ کھانا کھا کر اب بیڈروم کی جانب بڑھ رہا تھا جب اُسنے دروازہ کھولا تو اُسے ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا دیکھ وہ بیڈ روم کے اندر داخل ہوا نظریں اُسکے نازک سراپے سے پھسلی تو وہ اب اپنا کب سے کنٹرول کیے جزباتوں کو آزاد کرنے پر مجبور ہوگیا آخر کب تک وہ اُس لڑکی سے نظریں چرا سکتا تھا جو اُسکی بیوی اسکی ملکیت تھی۔۔
اور اُسکی ایسی اداؤں سے اُسے آخر پھسلنا ہی تھا۔۔۔
“وئی زا قربانوم میری جانم تُم اپنی جان کو اکسا کر اُسے اب کہا بھاگ رہی ہو۔۔۔؟؟؟
مشائم ڈریسنگ مرر سے اُسے دیکھتی تیزی سے وہاں سے ہٹ کر واشروم کی جانب بڑھنے لگی مگر راستے میں یکدم سے زرنگ کے آ جانے پر رک کر اُسے دیکھنے لگی۔۔جو محبت پاش نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“خان مم۔۔۔۔مجھے راستے دیجیئے مجھے کپڑے بدلنے ہے۔۔۔!!!
اُسکی نظروں کو بے باک ہوتے دیکھ وہ اپنی ڈھرکنوں کو اپنی نس نس میں جیسے دھڑکتے ہوئے شدت سے محسوس کر رہی تھی۔۔۔
“جانم جب تُمہیں بدلنے کو کہا تھا تب کیوں نہیں بدلے اب میں جانے بلکل بھی نہیں دونگا۔۔۔!!!
نازک کمر پر ایک ہاتھ حائل کیے اُسے اپنے قریب کھینچ کر دوسرے ہاتھ سے اُسکی بھیگی زلفوں کو سنوارتے ہوئے بوجھل لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
مشائم اُسکی گرم سانسوں کے تھپیڑے اپنے سرخ گالوں پر محسوس کرتی آنکھوں کو شدت سے میچتی اُسکی گرم انگلیوں کو اپنی پشت پر شدت سے محسوس کرنے لگی۔۔۔
“خان پلیز۔۔۔!!!
جب اُس سے اُسکی سانسوں کی تپش اور انگلیوں کا گرم لمس برداشت نہیں ہوا تو کانپتی ہوئی بولی۔۔۔
“شششش نہیں اب نہیں پلیز تُم کچھ مت کہو مجھے کرنے دو جو میں کر رہا ہوں۔۔۔!!!
اُسکے گلابی ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھ اُسے خاموش کرواتا وہ ہاتھ پیچھے لے جا کر پیچھے سے ڈوری تھام کر ایک ہی جھکٹے سے کھینچتا اُسے اپنی باہوں میں بھرتا بے خودی کے عالم میں بیڈ کی جانب بڑھا۔۔۔
مشائم خود کو نرم گرم چیز پر محسوس کرتی شدت سے کانپ اٹھی اور ہاتھ آگے بڑھا کر بیڈ شیٹ کو شدت سے تھام کر اپنی آنکھیں کھولتی اُسے اپنے اوپر جھکے دیکھ ہونٹوں کو جُنبش دیتی وہ ہونٹ واں کیے اُس سے پہلے اسے روکنے کیلئے کچھ کہتی وہ اُسکے ہونٹوں پر ہونٹ رکھتا اُسے خاموش کروا گیا۔۔۔۔
“ز۔۔۔زرنگ۔۔۔۔!!!
وہ نازک وجود مقابل کی بہکتی سانسوں کو اپنی گردن پر محسوس کرتیں وہ نظریں اوپر اٹھا کر اسکی کچھ کہتی سحر انگیز نگاہوں اور دہکتے لبوں کی جسارتوں کو اپنے گال پر شدت سے محسوس کرتیں وہ اسکی قُرب سے بے ساختہ نظریں نیچے جھکاتی لرز کر اُسکا نام پکار بیٹھی۔۔۔
“ہمممممم زرنگ کی جان۔۔۔؟؟
مقابل سامنے لیٹی نازک لڑکی کے بُری طرح سے لرزتے گلابی ہونٹوں کو بے باک نگاہوں سے اور اپنی محبت بھری نرم و گرم حصار میں لے کر اُسے سر تا پا شرم سے سُرخ کرتا بھاری بوجھل لہجے میں بولا۔۔۔
“آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔!!!
مقابل کی نظروں کی تپش اور گرم سانسوں کے تھپیڑے اپنے گالوں سے ہوتیں نیچے گردن پر محسوس کرتی وہ ڈھرکنوں کو سنبھالتی ہونٹوں پہ زبان پھیرتی اُس سے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔
“ہاں بہت تیز بخار ہو گیا ہے۔۔۔۔۔!!!
معنی خیز خاموشی پورے ماحول میں چھائی ہوئی تھی۔۔۔ اوپر سے اُسکی قربت نرم و گرم نگاہوں کی پرحدت لمس وہ اپنے نازک وجود پر محسوس کر سکتی تھی۔۔۔۔۔
“کیا..۔۔۔۔۔خان آپ کو بخار ہے آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا آپ اتنے لاپروا کیسے ہو سکتے ہیں لائے مجھے دیکھائے اپنا ٹیمپریچر ۔۔!!!
وہ پریشانی سے پیروں کو اوپر اٹھاتی اُسکے ماتھے کو چھو کر دیکھنے لگی۔تبھی زرنگ خان نے اچانک ہی اُسکے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ سجا کر اُسے سٹپٹانے پر مجبور کیا۔۔
“ز۔۔۔زرنگ خان۔۔۔۔!!!
اُسکی سانسوں کو بُری طرح سراسیمہ کرتا پیچھے ہٹا تو وہ اُسکی اتنی قربت سے سُرخ ہوتی آنکھوں میں نمی لیے اُسے دیکھتی بڑبڑا کر اُسکا نام پکار اٹھی۔۔۔
“جی جانِ زرنگ۔۔۔!!!
وہ اُسکی قرابت میں بے حد خوش لگ رہا تھا جو چاکلیٹی براؤن روشن آنکھوں اور ہونٹوں پہ مچلتی حسین مسکراہٹ سے پتہ چل رہا تھا۔۔۔
“آپ کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ اتنا بڑا مزاق یہ سب کیا ہے میں اب سہہ نہیں سکوں گی۔۔۔۔۔آپکی ان جھوٹی قسموں اور جھوٹی محبت کے اظہار پر۔۔۔۔۔۔۔پلیز میرے ساتھ یہ مت کریں۔۔پلیز وو۔۔۔ورنہ میں مر جاؤ گی۔۔۔۔۔!!!
وہ اُسکی حدتوں بھرے لمس کو شدت سے اپنی گردن پر محسوس کرتی لرزتی آواز میں اُسے روکتی ہوئی کہنے لگی۔۔زرنگ جو معمول سے ہٹ کر نظروں میں بے رحمی کی جگہ محبت لیے اُسکی گردن پر جھکا تھا۔۔
اُسکی بات پر پیچھے ہٹتا نظریں گلابی رخساروں پر کرتا گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔۔۔
“یہ میری جھوٹی قسمیں وعدے نہیں ہونگے۔۔۔۔ اور نہ ہی یہ احساس جھوٹی محبت کا ہے جو میرے اتنے نظر انداز کرنے کے باوجود مجھے اپنا آپ منوا گیا مجھے اپنی شریک حیات سے بے پناہ محبت ہے۔۔۔!!
وہ لرزتی پلکوں کو نیچے گرائے اُسکی لفظ لفظ کو سُن رہی تھی لیکن پتہ نہیں کیوں وہ جو پہلے اُسکی قربت، نظروں کی بے باکیاں اپنے آنگ آنگ پر اُسکی حدتوں بھرے لمس اور شدتوں کو چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔جبکہ وہ آج پوری شدت سے اپنی قربت اور بے باکیوں بھرے لمس سے اُسے احساس دلانا چاہتا تھا اُسے مکمل کرنا چاہتا تھا اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا تو وہ گھبرا کیوں رہی تھی ۔