Rate this Novel
Episode 19
“میری بیلا مجھے بیلا کے پاس جانا ہے۔۔۔میری بیلا کو بلاؤ مجھے اُسے دیکھنا ہے۔۔۔!!!
انصر ملک اُس نوجوان کی ہزیانی آواز سُن کر سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔جو پرسکون کھڑا اُس نوجوان کو دیکھ رہا تھا جو بچوں کی طرح اُس لڑکی کے لیے رو رہا تھا جسے اُس شخص کے کہنے پر انصر ملک اسمگل کرنے گیا تھا۔۔۔
“لوکا۔۔۔ ۔۔۔۔۔ریلیکس بیٹا وہ لڑکی تُمہاری ہے بس مجھے اُس کے بارے میں پتہ چلے جس نے ہمارے گارڈز کو مارا ہے۔۔۔اُسی نے تُمہاری بیلا کو اغوا کیا ہے۔۔۔!!!
انصر ملک کی نظریں اُسی شخص پر جمی تھی جو اب اُس نوجوان کے پاس جا کر اُسکے گالوں کو پکڑ کر اُسے بچوں کی طرح ٹریٹ کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“نہیں کو انکل مجھے وہ ابھی چاہیے ابھی۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی کا مطلب ابھی۔۔۔!!!
وہ اپنی سیاہ آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اُس شخص سے کہنے لگا جو معمول کی طرح آج بھی چہرہ ماسک سے دھکے ہوئے تھا۔۔۔انصر ملک جو وہیں دیکھ رہا تھا اُس نوجوان کو آنکھیں اوپر اٹھا کر دیکھنے پر اُسکی سیاہ آنکھوں کو دیکھ اُسے اُس سفید کپڑوں والے شخص کا خیال آیا کیونکہ سامنے کھڑے نوجوان اور اُس سفید کپڑوں والے شخص کی آنکھیں ایک جیسی سیاہ اور گہری تھیں۔۔۔
“لوکا بچے ہم وعدہ کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ بہت جلد تُمہاری بیلا تُمہارے پاس ہوگی۔۔۔۔!!
کو انکل جسے وہ نواجوان کو کہہ رہا تھا اُسنے لوکا کے کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔۔۔
“لے کر جاؤ اُسے اور آرام دہ انجیکشن لگا کر اِسے سلاؤ یہ جب تک اُس لڑکی کو نہیں دیکھے گا۔۔۔تب تک ٹھیک نہیں ہوگا۔۔۔میں نے بھی غلطی کی اُس لڑکی کو لاوارث سمجھ کر لوکا کے لیے جاب پر رکھا۔۔۔۔!!!
اُس شخص کے حکم دینے پر سبھی ملازمین جو لوکا کو سنبھال رہے تھے تیزی سے اُسے وہاں سے لے جانے لگے۔۔۔
“یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے مجھے معاف کر دو CA سر۔۔۔!!!
انصر ملک نے جب CA کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا وہ ڈرتے ہوئے پیچھے ہٹتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“معافی۔۔۔۔تُم معافی کے لائق نہیں ہو انصر ملک۔۔۔۔۔۔ تُم بھیک مانگنے کے لائق ہو۔۔۔۔۔۔وہ بھی موت کے لیکن میں تُمہیں نہیں ماروں گا۔۔۔تُمہیں وہ لڑکی مارے گی ڈینیئل کی بیٹی جس پر تُم نے بہت ظلم کیے ہیں۔۔۔۔ دعا کروں اُسکی صرف ایک بیٹی تُمہارا قتل کرے۔۔۔۔اگر دونوں نے مل کر تُمہیں مارا۔۔۔۔۔۔ تو وہ تُمہیں عبرت ناک موت دے گے۔۔!!
سی اے کے غصیلی آواز پر انصر ملک لرز اٹھا۔۔۔جبکہ روم کے باہر کھڑے شخص کی مٹھیاں کھس گئیں اُنکی باتیں سُنتے ہوئے۔۔۔۔کب سے کھڑا اُنکے ارادے جاننا چاہتا تھا انکا اگلا پلان کیا ہے وہ یہی جاننے یہاں آیا تھا۔آخر میں اپنی بہنوں کا سُن کر وہ مسکرایا ایک درد بھری مسکراہٹ چہرے پر سجا کر وہ مڑا اور سامنے کے دیوار کو چڑھ کر باہر کھود گیا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“مطلب آپکی دونوں چھوٹی بہنیں زندہ ہے۔۔۔!!!
جب وہ واپس جنگل کے بیچ میں بنے اپنے اس سیو ہاؤس میں پہنچا تو خوشی سے کچن میں داخل ہوا اور پیچھے سے بیلا کو ہگ کرتے ہوئے اپنی بہنوں کے بارے میں اُسے بتانے لگا۔۔۔
“ہاں بیلا میری دونوں بہنیں زندہ ہے میں اِنہیں دیکھ سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔اُسے شانوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کرتا خوشی سے اپنے دونوں ہاتھ آگے کر کے نم آنکھوں سے اُسے دیکھتے ہوئے دوبارہ گویا ہوا۔۔۔میں اِن ہاتھوں سے انہیں چھو سکوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیلا میں اپنے بابا ماما کو محسوس کروں گا ان دونوں کی خوشبو سے۔۔۔!!!
وہ خوشی سے اُسے گول گول گھماتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“شکر خدا کا آپ انہیں کب ڈھونڈنے جائے گے۔۔۔؟؟
بیلا کی آنکھیں خوشی سے چہک رہی تھی وہ مقابل کے مضبوط بازؤں کو پکڑتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔
“آج ہی جانا ہے۔۔۔!!!
وہ بیلا کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“کیوں نہ میں بھی آپکے ساتھ چلوں۔۔۔۔؟؟؟اسطرح ہم ایک ساتھ انہیں دیکھ لیں گے۔۔!!
بیلا کی معصومیت سے کہنے پر وہ مسکرایا اور اُسے سینے سے لگا کر آنکھیں موند کر کھڑا ہوگیا۔۔
“ہاں کیوں نہیں تُمہارا تو حق مجھ سے بھی زیادہ بنتا ہے۔۔۔۔۔۔ بھابھی جو ہو تُم اُنکی مائے لٹل فیری۔۔۔۔!!!
آنکھیں کھول کر وہ شریر لہجے میں کہتا اُسے دیکھنے لگا جو منہ بنا کر اُسے گھور رہی تھی۔۔۔
“آپ مجھے ایک ظالم بھابھی سمجھتے ہیں۔۔۔!!!
سخت نظروں سے اُسے دیکھتی منہ بسورتی ہوئی بولی۔۔
“نہیں تو میں تُمہیں ظالم بھابھی تو نہیں سمجھتا۔۔۔!!
مقابل نے اُسی شریر نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
“تو پھر کیا سمجھتے ہیں۔۔۔؟؟
بیلا کے سوال پر وہ اُسکے لبوں پر جھکا اور شدت سے اپنا لمس بخشتا پیچھے ہوکر اُسے دیکھنے لگا۔۔۔ جو اِس اچانک عمل پر سُرخ اناری بنی نظریں نیچے کئے لرز رہی تھی۔۔۔
“جاناں میں تُمہیں اپنی زندگی اپنی چلتی سانسوں کا سہارا سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔تُم ہی خوشی ہوں۔۔۔تُم ہی ایک میٹھی درد ہوں۔۔۔۔!!!
وہ سحر انگیز لہجے میں کہتا اُسکی گردن پر اپنے لب رکھتے ہوئے اسے سر تا پیر لرزنے پر مجبور کر گیا تبھی اچانک وہ نیچے جھکا اور اُسے باہوں میں بھر کر روم کی جانب بڑھا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
اُسکی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔ لیکن اُسکی فکر اُسے ہوش میں رکھے ہوئے تھا۔وہ بھاری ہو رہیں آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کر رہا تھا صرف بریا کی وجہ سے۔۔۔تبھی اچانک ہی اُسکی سماعت نے زور دار فائر کی آواز سُنی بریا جو اُسکے پاس بیٹھی اُسے جھنجھوڑ رہی تھی۔۔۔
فائر کی آواز پر اُسنے خون سے بھیگے ہاتھ سے اُسکے نازک ہاتھ کو سختی سے پکڑا بریا جو رو رو کر اُسکا نام پکار رہی تھی فائر کی آواز پر سہم کر اُس طرف دیکھنے لگی۔جہاں سے آواز آئی تھی۔۔۔
“کون ہو تُم ۔۔۔؟؟
جوسیو جو بریا کے جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔مخالف سمت سے نکلتے نقاب پوش کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
جو سفید کپڑوں میں ملبوس چہرے پر سفید نقاب لگائے ہاتھ میں ریوالور پکڑے سیاہ آنکھوں میں شعلے لیے جوسیو کو گھور رہا تھا۔۔۔
“میرے علاقے میں کھڑے ہو کر مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ میں کون ہو۔۔۔۔۔۔!!!
قہر برساتی نگاہوں سے اُسے دیکھتا نفرت سے بولا۔۔۔
“بکواس بند کرو ورنہ اِسکے ساتھ تُمہیں بھی یہی گاڑ دے گے۔۔۔!!
جوسیو نے غصے سے اپنا ریوالور اُس نقاب پوش کو دیکھاتے ہوئے کہا۔۔
“ہاہاہا ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اِس علاقے میں صرف میرے غلام دفن ہوتے ہیں۔۔۔بادشاہ نہیں۔۔۔!!!
ہنستے ہوئے آخر میں قہر برساتی نگاہوں سے جوسیو کو دیکھتا وہ نفرت انگیز لہجے میں غرایا۔۔۔
“بیلا۔۔۔دیکھو وہ ٹھیک تو ہے۔۔۔۔۔۔!!!
جوسیو کو گھورتا وہ پیچھے کھڑی بیلا کو آواز دینے لگا۔تو وہ آگے بڑھی اُسنے بھی اُسی کی طرح سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اور چہرے کو سفید نقاب سے کور کیا تھا وہ بریا کی طرف بڑھی اور اسے پیچھے کرتی اردشیر کے سانسوں کو چیک کرنے لگی جو آہستگی سے چل رہی تھیں۔۔۔
“ڈی ایل اِنکی حالت بہت سیریس ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں جلدی اِنہیں ہاسپٹل لے کر جانا چاہیے۔۔۔!!!
بیلا کی بات پر سخت نظروں سے جوسیو کو گھورتا وہ بیلا سے مخاطب ہوا۔۔۔
“بیلا تُم اِنکے ساتھ جاؤ میں اسے دیکھتا ہوں۔۔۔!!
جوسیو کے پاس پہنچ کر اُسکے چہرے پر زور دار پنچ مار کر اُسے نیچے بیٹھا کر اُسکے بندوں کو بھی نیچے بیٹھنے کا کہتا خود پیچھے کی طرف بڑھا اور نیچے بیٹھ کر اردشیر کی سر کو دیکھنے لگا جہاں سے گولی چھو کر گزری تھی۔۔۔
“سسٹر آپ فکر مت کریں یہ ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔!!!
اپنی سیاہ آنکھوں میں نرمی لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بریا کے رونے کی وجہ سے سُرخ ہوتے چہرے کو دیکھتے ہوئے اُسے دلاسہ دیتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“بھائی آپ پلیز اِنہیں ہاسپٹل لے جانے میں میری ہلیپ کر دے پلیز میں یہاں کسی کو نہیں جانتی۔۔۔۔ یہ شہر ملک میرا نہیں ہے۔۔۔میں انجان ہو اس جگہ سے۔۔۔۔!!
بریا کو اُس اجنبی سے اپنائیت محسوس ہونے لگی۔۔۔ وہ روئی روئی سرخ آنکھوں کو اس اجنبی پر گاڑے اسے دیکھ رہی تھی پتہ نہیں کیوں اس شخص کی سیاہ آنکھیں اُسے ڈینیئل کا احساس دلا رہی تھی۔۔۔
“آپ فکر مت کریں سسٹر آپ نے مجھے بھائی کہا ہے۔۔۔ میں آخری دم تک ہو سکا آپکی ہلیپ کروں گا۔۔۔۔ میری وائف آپکے ساتھ جائے گی۔۔میں ہاسپٹل میں نہیں جا سکتا کیونکہ وہاں ہم لوگوں کا علاج نہیں ہوتا مگر میری وائف اسکا ریکارڈ مافیا فیملیز سے نہیں ہے میں اسے آپکے ساتھ بھیج رہا ہوں یہ مجھے پل پل کی خبر دے گی۔۔۔میں یہاں سے آپکی ہلیپ کروں گا۔۔!!!
اُسکے سر پر ہاتھ رکھ وہ بریا سے کہنے لگا۔۔
“بیلا ہاسپٹل پہنچ کر مجھے کال کرنا وہاں جو بھی ہو مجھ سے شئیر کرنا۔۔۔۔۔۔۔ سسٹر کو بلکل بھی اکیلا مت چھوڑنا میں اِس کتے کو اّسکے کیے کی سزا دیتا ہوں۔۔۔!!!
بیلا کی جانب دیکھتا وہ پیچھے مڑ کر نفرت سے جوسیو کو گھورتا کہنے لگا جو سر نیچے جھکائے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے باندھے نیچے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
بریا۔۔۔۔۔!!!!
وہ دونوں مارسیانو اور جوسیو کے خفیہ گھر میں پہنچے۔۔۔۔لونا نے جب وہاں جوسیو اور بریا اردشیر کو ناپایا تو لونا پریشانی سے پورے گھر میں ان لوگوں کو پاگلوں کی طرح آوازیں دینے لگی۔۔۔۔
بریا۔۔۔۔ماریو جوسیو اُس پر ہم نے بھروسہ کر کے سہی نہیں کیا اسنے ایسا کیوں کیا وہ تو تُمہارا بھائی ہے۔۔اور یہ اسنے کس کے کہنے پر کیا ہوگا۔۔۔۔۔!!
وہ سارے روم میں اُسے آوازیں دیتی ہوئی مارسیانو کو وہاں آتے دیکھتی تیزی سے اُسکی جانب بڑھی اور اُسکے سینے سے لگ کر ڈرتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔
“ریلیکس بے بی اُس جوسیو غدار کو میں ڈھونڈ لونگا اسنے اُنکے ساتھ کچھ نہیں کیا ہوگا اگر اُسنے ایسا کیا تو میں اُسے خود اپنے ہاتھوں سے غارت کرؤں گا بس اپنے دل میں سے سارے خدشے نکالوں……تُمہارا ماریو انہیں کچھ ہونے نہیں دونگا۔۔۔۔!!!
اُسکے سرخ گالوں سے مس سنہری زلفوں کو ہٹاتا اپنے لب اُسکے گالوں پر رکھتا اُسے یقین دلانے لگا۔۔۔
“ماریو اگر میری بہن کو میں نے کھو دیا تو میں زندہ نہیں رہ پاؤ گی۔۔۔پہلے بابا اور ماما بھائی کا غم اب یہ غم میں سہہ نہیں سکوں گی۔۔۔!!!
بُری طرح سے روتی وہ اُسکی پشت پر گرفت سخت کرتی کہنے لگی۔۔۔
“بے بی تُم مرنے کی بات کر کے مجھے کیوں ظالم بناتی ہوں میں برداشت نہیں کرتا تُمہاری دو قدم کی دوری کو۔۔۔۔۔۔۔ پھر زندگی بھر کیسے میں تُمہاری جدائی کو برداشت کروں گا۔۔۔اگر تُمہیں نقصان پہنچا نہ تو میں سب کو ایسی عبرت ناک موت دوں گا کہ اُس عبرت کا مثال جاننے کے لیے اُنکی نسل بھی نہیں بچے گی۔۔۔۔!!!
سختی سے اُسکے چہرے کو اپنی دو انگلی کے بیچ میں پھنسا کر اُسکے بُری طرح سے لرز رہے لبوں پہ اپنے لب رکھتے اپنی دیوانگی جنونیت کا اظہار کرنے لگا۔۔۔۔
“ماریو میں جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتی آپ نہیں جانتے میں بچپن سے سب کو کھوتی آ رہی ہوں اب گر کسی کو کھو دیا تو خود بھی کھو جاؤ گی۔۔۔!!!
اُسکے پیشانی پر پیشانی تھکا کر کھڑے ہونے پر اپنی ستواں رونے کی وجہ سُرخ ہو رہی ناک اُسکی کھڑی مغرور ناک سے مس کرتیں آنکھیں بند کرتی نم آواز
سے بولی۔۔۔
“میں اپنی جان کو کبھی کھونے نہیں دونگا۔۔اور کسی کو حق نہیں میری لونا میری زندگی کو پریشان کرنے اور تقصان پہنچانے کا گر کوئی اپنی اس حرکت سے باز نہیں آیا تو وہ میرا درندگی کا نشانہ بن جائے گا۔۔۔۔!!!
مارسیانو جو اُسکی پیشانی پر پیشانی تھکائے کھڑا تھا اُسکی بات پر وہ نظریں کھول کر نیچے دیکھنے لگا تو اُسے آنکھیں موندے نازک ناک کو اپنی کھڑی ناک سے مس کیے کھڑے دیکھ وہ اُسکو شانوں سے پکڑ کر کہنے لگا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“جوسیو نے آپ کے کہنے پر یہ سب کیا ہیں ڈیڈ میری بیوی کو نقصان پہنچانے والے آپ تھے۔وہ ایکسیڈینٹ لونا نے صرف ڈرامے کے لیے کروایا تھا اور آپ نے اُس دن اُس ڈرامے کا فائدہ اٹھایا یہ بات میں دو سال سے جانتا ہوں لیکن میں خاموش تھا آپ کے گناہوں کو دیکھنا چاہتا تھا یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آپ اور کتنے بے قصور معصوم لوگوں کو جان سے مارے گے۔۔!!!
ٹیبل پر اُسکی ماں اور سامنے سربراہی کرسی پر باپ بیٹھا تھا وہ سب خاموشی سے ناشتہ کر رہے تھے جب ہی وہ سرد و سپاٹ لہجے میں گویا ہوا۔
“یہ تُم کیا بکواس کر رہے ہو۔۔۔۔میں بھلا کیوں تُمہاری بیوی کو ماروں گا میری دشمنی کیا ہے اسکے ساتھ جو میں یہ نیچی حرکت کروں گا۔۔۔!!!
الونزو کوسٹا سخت غصے سے فورک کو پلیٹ میں پٹک کر غراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔۔تو مارسیانو شدید غصے سے گلاس دور اچھالتے ہوئے اٹھا اور اپنے باپ کو نفرت سے دیکھنے لگا۔۔۔
“آپ ایک نیچ باپ ہے یہ آپ نے دو سال سے جانتا ہوں اور یہ حرکت آپ ہی کی ہے یاد رہے اگر لونا کو دوبارہ آپکی وجہ سے تکلیف ہوئی تو میں آپکے چار ٹکرے کر دو گا۔۔۔!!
وہی آگ مارسیانو کی آنکھوں میں دہک رہی تھیں جو اُسکے دشمنوں کے لیے دہکتی تھی۔۔۔جبکہ ان سبکے بیچ اُسکی ماں شاک نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“بیٹا یہ کس لہجے میں بات کر رہے ہیں آپ اپنے باشا سے۔۔۔؟؟
ماں کی آواز پر وہ آنکھوں میں درندگی کا رنگ لیے اپنے باپ سے نظریں ہٹا کر اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے آخر نرم پڑا۔۔۔
“موم آپ بھی اپنے شوہر کو اچھے سے سمجھائے گا کہ میں اُنکا دشمن بنا تو یہ مجھے مٹاتے مٹاتے خود مٹ جائے گے۔۔۔!!
وہ سُرخ آنکھوں سے الونزو کوسٹا کو دیکھتا اپنی ماں سے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر ٹیبل پر رکھے انواع و اقسام کے کھانوں کو طنزیہ انداز میں دیکھتا ترچھی نگاہوں سے اپنے باپ کو دیکھتے ہوئے دوبارہ گویا ہوا۔۔۔
“لوگ باہر دو وقت کی روٹی کے لیے مر رہے ہیں اور یہاں آپکے پکوان ہی ختم نہیں ہو رہے۔۔۔!!!
ہاتھ مار کر ٹیبل سے لزیز پکوانوں کو نیچے پھینکتے ہوئے وہ شدید غصے سے اِس محل نما گھر سے باہر نکلا جو نجانے کتنے بے قصور لوگوں کے خون سے آج شان سے کھڑا تھا اور وہ اس شان کو جلد نیست و نابود کرنے والا تھا اسنے یہ ارداہ کر لیا تھا اب وہ خاموش نہیں رہ سکتا تھا دو سال وہ کمزور تھا وہ اپنے حق کے لیے لڑ نہیں سکتا تھا تو ان بے قصور لوگوں کے لیے کیسے لڑتا ہاں ان دو سالوں میں وہ اپنے باپ کی ظلم سے ایک درندہ صفت شیطان ضرور بن گیا تھا ان لوگوں کے لیے جو معصوم لوگوں پر ظلم کرنا اپنا فرض سمجھ بیٹھے ہیں خود کو خدا سمجھتے ہیں۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“میرا شیر وہ اب کیسا ہے ڈاکٹر صاحب۔۔۔؟؟
بریا نے جب امرجنسی وارڈ سے ڈاکٹر کو نکلتے ہوئے دیکھا تو وہ انکی طرف بھاگی اور بے قراری سے پوچھنے لگی۔۔۔
“آپ دعا کریں ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں انکا لک ساتھ ہوا اور آپ کی دعا ساتھ ہوئی انکی تو وہ جلد ریکور کرے گے۔۔۔!!
ڈاکٹر صاحب نے کہتے ہوئے قدم تیزی سے اپنے روم کی جانب بڑھائے جبکہ وہ انکی بات پر ان بھاگتے دوڑتے لوگوں کے بیچ میں سے نکلتی ہوئی روتی آنکھوں سے ایک پرسکون جگہ تلاشنے لگی۔۔۔اور سامنے اس ہاسپٹل میں بنی چھوٹے سے لان میں آکر ایک پرسکون گوشے میں نم گھاس کے اوپر گرنے کے انداز میں بیٹھتی سر نیچے ہاتھوں میں گرا کر رونے لگی۔۔۔۔
“یا اللہ میری سن لیں ممم۔۔۔میرے شیر کو واپس لوٹا دے۔۔۔۔لوٹا دے انہیں مجھے۔۔۔۔ورنہ میں کیسے رہوں گی میں تو مر جاؤں گی انکے ساتھ ہی پلیز آپ میرے شیر کو مجھے واپس دے دیں پلیز۔۔۔!!!
وہ ٹھنڈے نم گھاس پر بیٹھی وہ نظریں اوپر اٹھا کر بچوں کی طرح روتی ہوئی خدا سے کہنے لگی اس وقت وہ ایک روٹھی ہوئی بچی کی طرح لگ رہی تھی جو اپنی ماں سے رو رو کر ضد کر رہی تھی اپنے پسند کی چیز کو پانے کے لیے اس وقت وہ بھی اسی طرح اپنے شیر کو مانگ رہی تھی بیلا جو اسکے پیچھے آئی تھی اسے سجدے میں گر کر گڑگڑاتے ہوئے اپنے خدا سے اپنے شوہر کی زندگی کو مانگتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔۔تبھی اسکے فون پر اسکا کال آنے لگا تو وہ کال اٹھا کر بریا کو دیکھتی ہوئی دوسری طرف موجود شخص سے کہنے لگی۔۔
“فکر کی کوئی بات نہیں میں نے ڈاکٹر سے پوچھا ہے انکی کنڈیشن کے حوالے سے وہ جلد ریکور ہو جائے گے۔۔مجھے فکر اسکی بیوی کی ہو رہی ہے وہ بہت رو رہی ہیں۔۔۔!!!
بیلا نے پریشانی سے بریا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“بیلا پتہ ہے یہ لڑکی کون ہے۔۔۔۔!!!
دوسری طرف موجود اپنے شوہر کے سوال پر وہ سامنے بیٹھی روتی ہوئی بریا کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
“کون ۔۔؟؟
بریا پر نظریں گاڑے وہ اپنے شوہر سے پوچھنے لگی۔۔۔
“میری بہن ٹینا ہے اُسکی لاکٹ مجھے جنگل سے ملی ہیں جس میں موم ڈیڈ کی تصویر ہے۔۔۔۔۔۔۔بیلا تُم اب اّسکا خاص خیال رکھنا میں اپنے بندے بھی سیکورٹی کے لیے بھیجتا ہوں اُسکی جان ابھی بھی خطرے میں ہے وہ کوسٹا کمینا میری بہنوں کے پیچھے پڑا ہے۔۔۔!!!
اُسے وہ لاکٹ ملی تھی جو کچھ دن پہلے بریا کو لونا نے دی تھی۔۔۔اپنے ماں باپ کی آخری نشانی کے طور پر جو جنگل میں بھاگتے سمے اسکی گردن سے نکل کر نیچے گر گیا تھا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
مشائم اُسکے لیے ناشتہ بنا رہی تھی اور وہ سامنے ٹیبل پر بیٹھا اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں وہ دو دن سے عیجب سے احساس میں گرفتار تھا۔۔۔۔۔
جب باہر ہوتا تو اسی کے خیالوں میں کھو کر سب کچھ بھول جاتا آس پاس کیا ہو رہا تھا اُسے خبر نہیں ہوتی بس وہ اُسی کی تصویر کو نظروں میں بسائے سارا دن کھویا کھویا سا رہتا۔۔۔
“خان آپ کو کچھ چاہیے۔۔۔!!!
مشائم کو جب اُسکی نظروں کو احساس ہوا تو وہ مڑی اور اُسکی نظروں کو اپنے وجود پر دیکھ سٹپٹا کر اس سے پوچھنے لگی۔۔۔
“ہاں۔۔۔!!!
گہری نظر سے اُسکے سراپے کو دیکھتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔۔۔
“وو۔۔۔وہ کیا خان جی۔۔۔۔!!!
اُسکی نظروں کی تاب نہ لا کر تیزی سے نظریں چراتی لرزتی آواز میں بولی۔۔۔
“تُمہاری قربت تُمہارے لبوں کی نزاکت کو قریب سے دیکھنا چاہتا ہوں کیا مجھے یہ سب دو گی تُم۔۔۔۔؟؟؟
اچانک اٹھا اور نپے تلے قدم اٹھاتا اُسکی جانب بڑھتے ہوئے اُسے خبر بھی نہ ہوا کہ وہ اس سے جذبات سے لبریز لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔۔
“خ۔۔۔خان یہ آاپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔؟؟
مشائم اُسکی آنکھوں کی زبان کو سمجھتی سٹپٹا کے پیچھے ہٹنے لگی۔۔۔۔۔جبکہ زرنگ نظروں میں ایک جزبہ لیے اس کی آور بڑھ رہا تھا۔۔۔
“مجھے خود سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ میں یہ کیا کر رہا ہوں بیوی شاید یہ تُمہارے حُسن کا کمال ہے یا کسی اور چیز کا میں تُمہارے سحر میں آہستہ آہستہ مبتلا ہو رہا ہو۔۔۔!!!
اُسکے قریب پہنچ کر وہ اُسے اپنے قریب کرتا آنکھوں میں غصے کی جگہ نرمی اور جزبوں کے ٹھاٹھیں مارتے احساسات کو لیے وہ بے خودی سے اُسکی شفاف گردن پر اپنے لبوں سے نشان چھوڑنے لگا۔۔۔
مشائم تو اس گستاخیوں پر روئی روئی آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اُس ظالم انسان کو دیکھنے لگی جو آج کوئی پیار سے پیش آنے والا ایک شوہر لگ رہا تھا۔۔۔
“خان یہ آآپ میرے ساتھ پلیز مت کریں پلیز مجھے ان خوش فہمیوں میں مبتلا مت کریں ورنہ میں اس بار ٹوٹ جاؤ گی آپکی اس ادا پر میں مر جاؤ گی۔۔۔!!!
شدت سے اُسے پیچھے دھکیلتی وہ روتی ہوئی پیچھے ہٹتی ہوئی اس سے کہنے لگی۔۔جبکہ وہ اُسکے دور کرنے پر ہوش میں آتا خود کو دل ہی دل میں ڈانٹنے لگا۔۔۔۔۔۔اپنی بے ساختگی پر اُسے اب خود پر بے حد غصہ آ رہا تھا۔۔۔
“شٹ اپ تُمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے خود سے دور کرنے کی ہاں۔۔۔!!!
غصے سے اُسے ٹھوڈی سے پکڑ کر وہ اپنے ازلی غصے سے بولا۔مشائم جو اُسکی مہربانیوں پر بُری طرح سے رو رہی تھی اپنی ٹھوڈی پر تکلیف دو لمس پر وہ کراہ اٹھی۔۔۔
“خان آپ پلیز یہاں سے چلے جائے پلیز۔۔۔!!!
اُسکو ہاتھ جوڑتے ہوئے دیکھ وہ سخت نظروں سے اُسے دیکھنے کے بعد غصے سے سامنے رکھی چیزوں کو ٹھوکر مارتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
“یہ مجھے کیا ہوتا جا رہا ہے کیوں اُس لڑکی کو دیکھ کر میں بے خود سا ہو جاتا ہوں اُسکی قربت کے لیے یہ دل کیوں ضد کرنے لگ جاتا ہے۔۔۔!!!
وہ باہر آ کر سگریٹ نکالتے ہوئے لبوں سے لگائے انہیں سوچوں کے گرداب میں پھنس کر ان سب باتوں کو سوچنے لگا جو آجکل اسکے ساتھ ہو رہا تھا۔۔۔
“آہہہہ میں پاگل ہو جاؤ گا یہ لڑکی مجھے اپنے جھال میں پھنسا رہی ہے۔۔۔مجھے خود کو اس سے دور کرنا پڑے گا اس طرح میں اسکے جھال سے محفوظ رہ سکوں گا۔۔۔!!!
سگریٹ کے دھوئیں اڑاتے ہوئے وہ خود سے ہمکلامی کرتے ہوئے ادھر ادھر کے چکر کاٹنے لگا۔۔۔۔۔جبکہ آگے کیا لکھا تھا وہ اس سے انجان تھا۔۔۔وہ خود کو مشائم سے جتنا دور کر لے یہ قسمت اُسے اور قریب کرنے کے جتن کر رہا تھا ایسی ایسی صورتحال پیدا ہونے والی تھی کہ اُسے ناچاہتے ہوئے بھی مشائم کے قریب جانا پڑے گا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“یار کب تک تُم اپنی بیوی سے دور رہو گے۔۔۔۔۔۔۔اُسکی طلب دیکھنا تُمہیں جلد اُسکے پاس لے جائے گی۔۔۔اتنی مسافت مت کروں جاؤ اپنی بیوی کے پاس ایک پورا دن یہاں رہ کر تُم صرف اُسے ہی سوچ رہے ہوں۔۔۔ ؟؟
وہ کل رات عرفان کے گھر میں آیا تھا صرف اُس سے پیچھا چھڑانے کے لیے مگر یہاں آکر بھی اُسکا دل ضد کر رہا تھا اُسکی قربت کے لیے مگر وہ ظالم بنا اپنے دل کی ضد کو نظر انداز کر رہا تھا۔۔۔
“نہیں یار اگر میں وہاں گیا تو سارے بند توڑ دونگا سارے فاصلے مٹا دو گا اسکی قربت پا کر میں اپنی نفرت کو بھول جاؤ گا بھول جاؤ گا کہ اُسنے میرے ساتھ کیا کیا تھا۔۔۔یہ دل صرف اُسکی قرابت کے لیے مچل رہا ہے۔۔۔میں اسی مچلنے تو دے سکتا ہوں لیکن اپنا بھرم نہیں توڑ سکتا۔۔۔!!!
عرفان کی جانب دیکھتے ہوئے بے بسی سے کہنے لگا۔۔۔۔۔ ایک ہی رات میں اُسکی حالت مجنوں والی ہوگئی تھی بیرڈ بڑھ گئی تھی مونچھیں جو ہمشیہ تاؤ دیتے ہوئے مغروروں کی طرح کھڑی رہتی تھی آج اسکے حالت پر ماتم کناں تھی۔۔۔
“یار اپنی انا کو بھول کر اُسکے پاس چلے دیکھنا تُم پرسکون رہوں گے اور وہ خوش دیر مت کروں ورنہ تُمہیں کئی پچھتانا نہ پڑے ۔۔!!!
عرفان کے سمجھانے پر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور گاڑی کی چابی اٹھا کر اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“تُم ٹھیک کہہ رہے ہو مجھے اس انا کو بھول کر اُسکے پاس جانا چاہیے تاکہ میں پرسکون ہو جاؤ۔۔۔!!
وہ مسکراتے ہوئے عرفان کے گھر سے باہر نکلا اس وقت ٹھیک رات کے سات بج رہے تھے۔۔۔۔۔وہ جلد گاؤں پہنچنا چاہتا تھا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
