Rate this Novel
Episode 9
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“احمد اب تم کیسا محسوس کر رہے ہو۔۔۔؟؟
اُسکا ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوئے آج دوسرا دن تھا ابھی اُسنے اپنی آنکھیں کھولیں تھی اور سامنے اردشیر کو دیکھ کر وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگا جو اسنے آگے بڑھ کر اسے تھام کر روکتے ہوئے اسکی طبیعت کے بارے میں پوچھنے لگا۔۔
“سر اب میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔ آپ جا کر ریسٹ کریں میم آپ کا انتظار کر رہی ہو گی۔۔۔۔ میں یہاں سب کچھ خود ہینڈل کر لوں گا۔۔!!
احمد اٹھتے ہوئے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔اردشیر نے اسے غصے سے گھورا اور آگے بڑھ کر اسے لیٹاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“چپ اور کیا ضرورت تھی میری بہن سے بات کرنے کی جانتے تو ہو کہ ایک سال پہلے تُمہارے ساتھ کیا ہوا تھا میں مانتا ہوں اُس وقت غلطی میری بہن کی تھی اگر اُسنے تُمہارے ساتھ وہ کھیل کھیلا نہ ہوتا تو وہ سب کچھ نا ہوتا۔۔۔!!
اردشیر نے ایک سال پہلے جو ہوا تھا احمد کو اس واقعے کو یاد کرواتے کہنے لگا۔۔۔
“سر آئی ایم سوری سچ میں میں بھول گیا تھا۔۔۔۔۔ اس واقعے کو میرے سامنے وہ تکلیف میں تھی اسی تکلیف کی وجہ سے میں ماضی میں جو کچھ ہوا تھا وہ میں بھول کر آگے بڑھا تھا۔۔۔آپ پلیز فروہ سے کہے گا کہ وہ پریشان نہ ہوا کرے میری وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو وہ مجھے سمجھتی ہے میں وہ نہیں ہو۔۔۔۔۔۔۔وہ مجھ سے دور ہی رہے تو بہتر ہے۔۔۔!!
احمد اس وقت فروہ کے لیے اپنے لہجے میں محبت لیے اس سے مخاطب تھا وہ یہ تک بھول گیا تھا کہ وہ اپنے باس کے ساتھ ساتھ فروہ کے بھائی سے یہ سب شئیر کر رہا تھا اردشیر بلکل بھی حیران نہیں تھا۔ کیونکہ وہ یہ سب ایک سال پہلے سے ہی جانتا تھا۔۔۔۔۔۔بس حالتوں کی وجہ سے وہ خاموش تھا۔۔ورنہ حالات وہ نہ ہوتے تو وہ اپنی بہن کی شادی سچ میں احمد سے کرواتا کیونکہ فروہ کے لیے احمد سے اچھا کوئی شخص نہیں تھا۔۔
“احمد مجھے کچھ تو کرنا ہی پڑے گا اپنی بہن کے لیے تُم دونوں ایک دوسرے کو اتنے چاہتے ہو تو مجھے بابا سے اگر لڑنا بھی پڑا نا۔۔۔ تو میں تُم لوگوں کے لیے لڑوں گا۔۔اچھا میں جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
اردشیر کی بات پر وہ تڑپتے ہوئے تیزی سے کہنے لگا۔۔۔
“نہیں بلکل نہیں سر آپ ایسا کچھ نہیں کرے گے۔ورنہ سب کچھ برباد ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔آپ کے اور بڑے مالک کے درمیان تلخیاں اتنے سالوں بعد ختم ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اور آپ میری وجہ سے اپنی پوری فیملی سے پھر سے خود کو دور کرنا چاہتے ہیں۔۔۔!!!
احمد کی لہجے میں اپنے لیے فکر دیکھتا وہ مسکرایا اور آگے بڑھ کر اسکے کندھے کو ٹپکتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“احمد اس بار کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُس وقت بابا کی بھتیجی کی وجہ سے میں اُن سے دور ہوا تھا اب اُس لڑکی سے وہ نفرت کرتے ہیں۔۔اور اب وہ خود بھی اپنے بچوں کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔۔وہ اس بار آرام سے مان جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔میں ابھی ان سے تمہارا اور فروہ کا ذکر نہیں کرو گا تم دونوں کا نکاح میں تمہارے ہاسپٹل سے ڈسچارج ہونے کے بعد کرواؤ گا۔۔۔۔۔۔ویسے بھی فروہ کے آنکھوں کا علاج کرانے کیلئے اسکے ساتھ کسی کو تو مجھے بھیجنا ہی ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُس وقت میں تُمہیں بابا کے سامنے میں فروہ کا باڈی گارڈ تعارف کرواؤ گا۔شوہر کا تعارف تو میں فروہ کے علاج مکمل ہونے کے بعد کرواؤ گا۔۔۔!!
اردشیر نے اپنا سارا پلان احمد سے شئیر کیا تو احمد اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔۔۔
“ٹھیک ہے ابھی تُم ریسٹ کروں۔۔۔۔۔ میں نے ڈاکٹر سے تُمہاری ہلیپ کرنے کا کہہ دیا ہے۔۔ہاں اگر تُم چاہتے ہو کہ تُمہاری فیملی سے کوئی یہاں آئے تو مجھے کسی کا کونٹیکٹ نمبر دے دینا میں انہیں انفارم کر دو گا۔۔۔۔!!!
احمد کو ریسٹ کرنے کا کہتا اسنے۔۔۔۔۔ آخر میں اس سے اسکی فیملی میں سے کسی کا کونٹیکٹ نمبر مانگنے لگا تو احمد گھبراتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگا۔۔۔
“نہیں سر پلیز آپ انہیں میری اس حالت کا غلطی سے بھی مت کہنا ورنہ۔۔!!
احمد نے سخت گھبراتے ہوئے اپنی پیشانی سے پسینے کو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔اردشیر نے بغور اسکے ہواس باختہ چہرے کو دیکھا۔۔۔
“احمد تُم اتنے گھبرا کیوں رہے ہو۔۔ایسے پریشان ہو رہے ہو۔۔۔۔۔۔ جیسے میں تُمہاری فیملی سے نہیں کسی مافیا فیملی سے کونٹیکٹ نمبر تم سے مانگ رہا ہوں۔۔۔۔!!!
احمد کی پریشانی کو حیرانگی کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“سر میں خود اپنا دیکھ بھال کر لوں گا۔۔۔بلکہ میں اپنے بھائی سے خود کونٹیکٹ کر لوں گا۔۔آپ پلیز میرے لیے پریشان نہ ہوں۔۔۔!!
احمد نے چہرے پر پریشانی کو چھپاتے ہوئے کہا۔۔۔
“احمد کیا ہوا تُم اپنی فیملی کا نام سن کر کیوں ڈر گئے کیا وہ بہت خطرناک ہے۔۔تُم نے بھی تو کبھی مجھ سے انکا ذکر نہیں کیا جب تم پہلی بار آئے تھے تب سے مین کوشش میں لگا ہوا ہو تمہارے بیک گراؤنڈ کو معلوم کرنے میں لیکن کامیاب نہیں ہو رہا۔۔۔!!
اردشیر سہی کہہ رہا تھا جب وہ پہلی بار جاب کے لیے اسکے پاس آیا تھا تو وہ اسے بہت پرسرار لگا کرتا تھا اور وہ اپنا بیک گراؤنڈ بھی تو اس سے چھپاتا آ رہا تھا آج تک چھپا رہا ہے اب تو اردشیر کا تجسّس اور بھی زیادہ بڑھ رہا تھا اسکی فیملی کے بارے میں جاننے کے لیے۔۔۔
“سر مجھے اس بارے میں کچھ بات نہیں کرنی پلیز آپ مجھے اس وقت اکیلا چھوڑ دے۔۔۔!!
احمد نے لیٹتے ہوئے نظریں چھڑاتے ہوئے کہا وہ اپنی فیملی کا ذکر اردشیر سے کرنا نہیں چاہتا تھا اور اسنے جلدی سے اپنی آنکھیں بند کر لی تاکہ اسکا باس پھر سے اسکی فیملی کو لے کر کوئی سوال نہ کر دے۔۔۔وہ اپنی فیملی کو روک نہیں سکتا تھا زیگن فیملی کو برباد کرنے سے کیونکہ وہ یہاں جس مقصد سے آئے تھا اگر انہیں پتہ چلے کہ انکے بیٹے کی حالت ان لوگوں نے کیا کی ہے تو وہ غصے میں آکر زیگن خاندان کے ساتھ بھی کچھ کر سکتے تھے۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“اُسے معاف کر دے اُس سے غلطی سے ہوا ہے۔۔۔۔۔ بابا حضور ۔۔۔!!
حویلی کے پچھلے حصے میں واقع باغ میں اس وقت احمد خان کی بیٹھک لگی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت سے سیاستدان اور بزنس مین وہاں موجود تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ملازم کے ہاتھوں سے گرم کافی احمد خان کے بڑے بیٹے کے کپڑوں کے اوپر گر گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو کپ زرنگ خان کے پشاوری چپل میں مقید سفید پیروں کے اوپر گرتے ہی اُسکے پیروں کو زخمی کر گئے تھے۔۔۔
وہ تکلیف کے باوجود بھی اپنے براؤن آنکھوں کو نم ہونے سے بچانے لگا اگر اسکے آنکھوں سے ایک آنسو کا قطرہ بھی گرا۔۔۔۔۔ تو اس مظلوم ملازم پر قیامت ٹوٹ پڑیں گی۔۔۔صرف اسے تکلیف پہنچانے کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو سنبھالتا مسکراتے ہوئے اپنے باپ کی طرف دیکھنے لگا جو شدید غصے سے اُس ملازم کو گھور رہا تھا اور انکے اس طرح غصے سے دیکھنے پر اُنکے خاص آدمی نے آگے بڑھ کر اُس ملازم کو گردن سے دبوچا۔۔۔
“زرنگ خان یہ غلطی سے نہیں جان بوجھ کر کیا ہے۔۔۔۔۔ اسنے اور ہمارا خون اتنا سستا نہیں ہے جو یہ اس طرح برباد کر دے سزا تو اسے ضرور ملے گی.!!!
زرنگ خان کے پشاوری چپل میں مقید پیروں سے رستے خون کو فکر مندی سے دیکھتے ہوئے اُنہوں نے پھر ملازم کی جانب انتہائی طیش سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“بابا حضور اُس بے چارے کو معاف کر دے….. وہ شاید اتنے سارے کپ لانے کی وجہ سے میرے اوپر گر گیا ہوگا آپ اسے جانے دے۔۔۔!!
زرنگ جانتا تھا اگر اُسنے اپنے باپ کو نہیں روکا۔۔۔۔۔ تو خوامخواہ وہ ملازم اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔۔کیونکہ احمد خان اپنے دونوں بیٹوں سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں۔۔۔۔۔ اگر کسی کی وجہ سے انکے بیٹوں کو تکلیف پہنچے تو وہ غصے میں آ کر اس انسان کو برباد کرنے سے بھی نہیں چھوکتے ۔۔۔
“زرنگ خان اپنے دل سے یہ رحم دلی نکال دو۔۔۔۔ تُم اب اس گاؤں کے نئے سردار بننے والے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ ایسے فاصلے ہوتے ہیں جنہیں سخت دلی سے کرنا پڑتا ہے۔۔اور جب تک تُمہارے دل میں رحم ہوگا۔۔۔۔ تو تُم کبھی بھی انصاف نہیں کر پاؤ گے۔۔۔۔کسی بے گناہ کے لیے سمجھے میرے بچے۔۔۔!!
احمد خان نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔زرنگ خان مسکرا کر انکی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“بابا حضور میرے دل میں بے رحمی صرف اُن لوگوں کے لیے ہے جو غلط ہے۔۔۔یہ لوگ ہمارے ملازم ہے۔۔۔غلام نہیں تو ہمیں بھی انصافی سے کام لینا چاہیے۔۔۔!!
احمد خان دوبارہ سے اسکے منہ سے اُس ملازم کی سائیڈ میں بات کرتے ہوئے دیکھ کر سخت چڑتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔۔
“اچھا اچھا اب بس کروں اس کا سائیڈ میں بولنا۔۔۔اُس نالائق کے بارے میں کچھ بتاؤ فون کیا ہے اُسنے پورے دو دن سے نہ اتا نہ پتا آخر یہ کر کیا رہا ہے ۔۔۔؟؟
احمد خان کے لہجے میں اپنے لاڈلے بیٹے کو لے کر فکر مندی چھلکنے لگیں تو زرنگ خان اپنے چھوٹے بھائی کے لیے انہیں فکر مند دیکھ کر مسکرانے لگا۔۔۔
“بابا حضور آپ فکر مت کریں میں معلوم کروں گا۔۔۔اسنے مجھے بھی ابھی تک کال نہیں کیا شاید مصروف ہو۔۔!!
انہیں مطمئن کرتے ہوئے وہ ٹیبل پر رکھے کپ کو اٹھا کر کافی پیتے ہوئے اپنے بھائی کے بارے میں سوچنے لگے جو بابا کے ہی کہنے پر اُس زیگن خاندان سے بدلہ لینے کے لیے آصف زیگن کے بیٹے کے پاس جاب کرنے کے لیے گیا تھا۔۔۔آخر ایسی کونسی بات تھی اور وہ کیوں زیگن خاندان کے اتنے بڑے دشمن بن گئے تھے۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
زرنگ خان کو جب پتہ چلا کہ وہ ہاسپٹل میں ہے تو وہ پریشانی سے اُسی وقت کوئٹہ سے فلائیٹ پکڑکرسیدھا اُسے دیکھنے لاہور پہنچا۔۔۔
“کیا ہوا چھوٹے۔۔۔؟؟؟
وہ روم میں داخل ہوا جہاں وہ ایڈمٹ تھا اُسے بیڈ پر لیٹے دیکھ کر پریشانی سے آگے بڑھا اور اُسکے چہرے پر چوٹ کے نشان دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔
“زرنگ خان آپ یہاں۔۔۔؟؟
اپنے بڑے بھائی کو وہاں دیکھکر وہ سٹپٹا کے رہ گیا کیونکہ وہ یہاں پہنچے تھے۔۔۔ تو بابا بھی یہاں پہنچ سکتے ہیں۔۔۔اور انکا یہاں ہونا مطلب فروہ لوگوں کے لیے پروبلم ہوسکتا تھا وہ یہ سوچتے سوچتے پریشانی سے بیڈ سے اٹھا۔۔
“ہاں چھوٹے لیکن یہ تُمہاری حالت کس نے کی ہے بتاؤ میں اُسے جان سے مار ڈالوں گا میرے بھائی۔۔!!
زرنگ خان نے آگے بڑھ کر اُسے پکڑتے ہوئے پوچھا تو وہ پریشانی سے سر نفی میں ہلاتے ہوئیں وہ زرنگ خان کو دیکھنے لگا ۔۔۔
“پلیز زرنگ خان آپ یہ سب بابا سے زکر مت کرنا ورنہ وہ اُس لڑکی کو تباہ کر دے گے۔۔۔ جسے میں اپنی جان سے بھی زیادہ چاہتا ہوں۔۔۔!!
اُسکی بات پر زرنگ خان کو شدید غصہ آیا تو اسنے اُسکے کندھے پر دباؤ ڈالتے ہوئے۔۔۔۔ وہ ساری بات یاد کروائی جو انکے بابا نے کہی تھی۔۔۔
“دلاور تُم بھول چکے ہو اپنا مفاد، کہ تُم کس وجہ سے یہاں ہو۔۔۔۔۔۔۔ اُس لڑکی سے فوکس ہٹاؤ ورنہ ہمارا پورا خاندان تُمہیں باغی سمجھے گا۔۔”
اُسکے سلکی چاکلیٹی براؤن بالوں کو پیشانی سے ہٹا کر اُسکے چوٹ کو چھونے لگا…۔اس طرح چھونے سے اُسے جلن کا احساس تو ہوا…….لیکن وہ اپنے لب سیے بیٹھا اُس لڑکی کے لیے دیوانگی اپنی آنکھوں میں لیے وہ اس وقت خاموش تھا دماغ میں صرف اُس لڑکی کی تکلیفیں چل رہی تھی۔جسکی وجہ سے وہ مٹھیاں کھس رہا تھا۔۔
“زرنگ خان میں بے بس ہو میں اُسے نظر انداز کرنے کی کوشش میں آج یہاں ہو اور اگر آپ نے بابا سے اس بات کا زکر کیا تو وہ اس لڑکی کو نقصان پہنچائیں گے۔۔اور وہ لڑکی مجھ سے دور ہوگی ناں تو میں خود کو ختم کر دو گا ۔۔!!
وہ بے بسی سے زرنگ خان سے کہنے لگا تو وہ بھی اسے تاسف سے دیکھنا لگا اسے بہت دکھ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اپنے بھائی کو اس حالت میں دیکھ کر محبت کو کوسنے لگا کیونکہ اُسے محبت نامی شے سے صرف ایک گھمنڈی شہزادی کی وجہ سے شدید نفرت تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر وہ شہزادی اس محبت کا سہارا لے کر اُسکو پریشان نہ کرتی تو شاید ہوسکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ زرنگ خان بھی اس محبت لفظی کو سمجھتا یا سمجھنے کی کوشش ضرور کرتا۔۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“تُم بہت بہت زیادہ خوبصورت ہو۔۔۔۔۔ بلکل اپنے اُس کھڑوس باس کی طرح۔وہ جو باہر سے سخت اور اندر سے نرم ہے۔۔۔بلکل اِن کانٹوں کی طرح ۔۔!!
اردشیر ابھی تک احمد کے پاس ہاسپٹل میں موجود تھا اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے اور وہ بہت بوریت محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔اچانک اُسے بیڈ روم میں موجود اردشیر کے چھوٹے سے گارڈن کا خیال آیا تو وہ خوش ہوتی وہ بیڈ روم میں موجود ایک دروازے کی طرف بڑھی اور ایک ہی جھٹ سے دروازہ کھولتی لبوں پہ سکون بخش مسکراہٹ سجا کر سامنے سفید سنگے مرمر کے بنے کیاریوں میں لگے۔۔۔۔۔۔۔سُرخ گلابوں کی جانب بڑھی اور ایک نرم گلاب کی پنکھڑیوں کو چھو کر جھکی اور اُسکی نرماہٹ کو لبوں سے چھوتی کانٹوں کو دیکھتی دل ہی دل میں اُن سے کہنے لگی۔۔
“بیوی اِس گستاخی پر مجھے کس طرح کا سزا دینا چاہیے ہمممممم ہاں۔۔۔؟؟
گھمبیر آواز اپنے قریب سُن کر وہ سٹپٹا کے پیچھے مڑی تو اُسکے بے حد قریب ہونے کی وجہ سے اُسکے لب اُسکے گھنے بیرڈ سے دھکے گالوں سے مس ہوگئے تھے۔۔۔جسکی وجہ سے سخت نروس ہو کر تیزی سے اُس سے فاصلے پر جا کر کھڑی ہو گئی۔۔
“آپ ہر وقت کیوں وہاں ٹپکتے ہیں جہاں میں ہوتی ہوں۔۔؟؟
نروٹھے پن سے کہتی وہ پیچھے ہونے لگیں مگر اُسکا راستہ اُسنے بیل سے دھکے دیوار پر اپنے مضبوط ہاتھ رکھ کر بلاک کر دیا۔۔۔۔بریا اپنا راہ فرار بند دیکھتی اپنے سیاہ نین کٹوروں میں نمی لیے اُسے دیکھنے لگی جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا اور اسکی نظریں اپنے وجود پر دیکھ وہ سٹپٹا گئیں۔۔کیونکہ وہ اِس وقت نائٹ ڈریس میں ملبوس تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور اسکی غیر موجودگی میں اُسنے نائیٹی کے اوپر پہنے گاؤن کو بیڈ پر بے پروائی سے پھینک دیا تھا۔۔۔۔ اب وہ گھٹنوں تک آتیں ریشمی سُرخ نائیٹی میں تھی۔۔۔۔۔۔ جس میں اُسکے سُرخ و سفید پیر صاف نظر آ رہے تھے اور یہ محسوس کرتیں وہ سخت گھبرا کر جلدی سے اپنے آپ کو اُسکی نظروں کی تپش سے بچانے کیلئے جلدی سے نیچے بیٹھ گئیں۔۔۔
“بیوی اب چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے تو یہ خوبصورت نظارہ دیکھ لیا۔۔۔۔۔۔۔ویسے میری غیر موجودگی کو اسطرح انجوائے کیا جائے گا۔۔۔۔۔۔اگر مجھے پہلے پتہ ہوتا تو اس روم میں ایک کمیرہ لگا کے خود بھی تُمہارے ساتھ انجوائے کرتا ویسے آئیڈیا بُرا نہیں ہے ۔۔!!
نیچے اُسکے قریب گھٹنوں کے بل بیٹھ کر وہ معنی خیزی سے مسکرا کر بولا۔بریا جو شرم سے اپنا چہرہ گھٹنوں میں گرا کر نیچے بیٹھی بُری طرح سے کانپ رہی تھیں۔۔کہ اسکی معنی خیز بات پر پیروں کے ناخن تک سُرخ ہوتی چلی گئی۔۔۔
“چلوں چہرہ اوپر اٹھاؤ شاباش۔۔۔۔!!
اُسکے شفاف سُرخ و سفید بازوؤں کو انگلی سے ٹریس کرتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔بریا نے اپنا سر اٹھایا۔تو اُسکے سر اوپر اٹھانے پر وہ اُسکے چہرے پر قوس و قزاح کے سے رنگوں کو دیکھتا مہبوت ہو کر رہ گیا۔۔۔۔
اور جب اُسے ہوش آیا۔۔۔۔۔ تو خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجاتا وہ جھکا اور اُسکے نرم لبوں پہ اپنا شدتوں بھرا لمس پھیرنے لگا۔۔۔
بریا جو اسے ہی آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی۔ لبوں پہ جلن شدت سے محسوس کرتیں وہ بُری طرح سے کپکپا اٹھی اور ہوش میں آتے ہی وہ دونوں ہاتھ اُسکے سینے پر رکھ کر اُسے خود سے دور کرنے لگی۔۔
“جاناں آج اپنی عشق کی انتہا دکھاؤ گا تُمہیں ایک لفظ بھی اعتراض نہیں سُنوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج میں تُمہیں اپنے عشق کی جنونیت کا سامنا کرواؤ گا۔۔۔۔!!
نازک گلزار لبوں پہ شدتوں بھرے لمس کی وجہ سے خون کا ننھا سا خطرہ نرمی سے اپنے شہادت کی انگلی کی مدد سے صاف کرتا بوجھل لہجے میں کہتا وہ اُسکی عرق آلودپیشانی کو ہتھیلی کی پشت سے صاف کرنے لگا۔۔۔بریا آنکھیں سختی سے میچے لرزتی پلکوں پہ نمی لیے اپنی ڈھرکنوں کی دھنوں کو سُننے کے ساتھ ساتھ گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔کہ تبھی اپنے آپ کو اُسکی باہوں میں محسوس کرنے لگی۔۔۔
وہ اُسے اپنی باہوں میں بھرتا اندر بیڈروم میں داخل ہوا اور جہازی سائز بیڈ کی جانب بڑھا۔۔۔۔۔۔اور بیڈ کے پاس پہنچا تو اُسے نرمی سے بیڈ پر لیٹا کر اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔۔۔
“اجازت ہے مائے گرل۔۔۔؟؟
شرٹ نیچے فلور پر پیھنکنے کے بعد وہ اُسکے اوپر جھکا اور اُسکے بالوں سے پکڑ کر بوجھل بھاری آواز میں پوچھنے لگا۔بریا نے آنکھوں میں نمی لیے لبوں پہ مسکراہٹ سجا کر سر ہلایا۔۔۔۔۔تو وہ اُسکے مسکراہٹیں لبوں پہ جھکتا اپنی شدتوں سے اُسکی سانسوں پہ قابض ہونے لگا۔۔۔۔۔۔بریا اُسکی شدتوں سے بیڈ شیٹ کو پکڑ کر سختی جکڑنے لگی۔۔۔کبھی وہ اپنی نازک گردن پر نرم گرم لمس محسوس کرتی تو کبھی گالوں پر پھسلتے اُسکے گرم لبوں کی جسارتوں کو برداشت کرتیں وہ کانپتی ہوئی بیڈ شیٹ سے ہاتھ ہٹاتی بے ساختہ اردشیر کی قربت لمس کی وجہ وہ اُسکی پشت پر اپنے ناخنوں کو گھاڑنے لگی۔۔۔
“بہت چاہنے لگا ہو۔۔۔۔۔ دیوانہ ہوگیا ہو میں تُمہارا جاناں۔ ایک ایسا دیوانہ بن گیا ہو۔۔۔۔ جو جدائی کا نام سنکر ہی مرنے اور مارنے پر اتر آتا ہے۔۔۔ اگر کبھی تُم میری زندگی سے چلی گئی ناں تو میں خود کو جان سے مار ڈالوں لونگا۔اگر مجھے زندہ دیکھنا چاہتی ہو تو کبھی مجھے چھوڑ کر مت جانا۔۔۔!!
اُسکی نازک کمر پر اُسکے گرفت میں تندی آہستہ آہستہ سے بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جسکی وجہ سے وہ سسکی لینے پہ مجبور ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔ وہ تڑپ کر اپنے گالوں کو نم محسوس کر سکتی تھی دونوں ہتھیلیاں تو اُسکے شدتوں بھرے لمس کو پاکر سخت عرق آلود ہو گئے تھے جبکہ گردن پر نشان اُسکی جنونیت کو ظاہر کر رہے تھے۔۔۔۔۔وہ اُس پہ جھکا اپنی قربت سے اُسکے پورے نازک وجود پہ اپنا خوشبو چھوڑ رہا تھا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
خوبصورت صبح کا آغاز چڑیوں کی چہکار سے ہو گئی تھی۔پورے بیڈ روم میں پردوں کے لہرانے کی وجہ سے سورج کی نرم گرم کرنیں اندر داخل ہو رہی تھی جسکی وجہ سے بھی روم کا ماحول اور بھی خوبصورت بن گیا تھا۔۔۔
“اِس معصوم گڑیا کو چھونے کا حق صرف میرا ہے۔۔!!
اردشیر جو دوسری طرف لیٹا غور سے بریا کے شرم کی سُرخی لیے معصوم چہرے کو بغور تھک رہا تھا سورج کی کرنوں کو اچانک سے اُسکے سفید و نازک پیروں کو چھومتے ہوئے دیکھکر تیزی سے اپنے پیر بریا کے نرم و ملائم پیروں کے اوپر رکھکر لہجے میں محبت کی ہلکی آنچ لیے بڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“آپ سس۔۔۔سوئے نہیں۔۔۔؟؟
بریا کو اپنی گھنیری پلکوں پہ نمی محسوس ہوئی تو جھٹکے سے اُسنے اپنی نیند کی خماری لیے آنکھیں نیم واں کی تو اُسے اپنے اوپر جھکے دیکھ کر وہ ایک ہاتھ اُسکے برہنہ سینے پر رکھتی لکھ کر اُسے بھاری پلکیں اٹھا کر دیکھنے لگی۔۔۔
“جب باہوں کی قید میں زندگی ہو تو کس کافر کو نیند آئے گی بیوی۔۔۔!!
اپنے سینے پر انگلی کے سرکنے پر وہ نظریں نیچے جھکا کر اُسکی انگلی سے لکھے لکھے لفظ کو سمجھتے ہوئے وہ بوجھل لہجے میں کہتا اُسکی گردن پر لو بائٹس کو انگلی سے ٹریس کرنے لگا۔۔
“سسسی۔۔۔!!
اُسکی انگلی سے ٹریس کرنے کی وجہ سے بریا کو جلن کا احساس ہوا تو اُسکے منہ سے سسکاری نکلی جسے اردشیر نے سُنا تو پریشانی سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“کیا ہوا بیوی تُم ٹھیک ہوں۔۔۔؟؟؟
اُسکے گالوں پر پھسلتے آنسو کو لبوں سے چننے کے بعد اُسکے گالوں کو چھو کر فکر مندی سے پوچھنے لگا تو وہ سُرخ آنکھوں سے اُسے دیکھتی اپنی گردن پر پڑے نشانوں کی جانب اشارہ کرنے لگی۔۔۔
“یہ دے کر آپ کہہ رہے ہیں میں ٹھیک ہوں ۔۔!!
وہ کمفرٹ میں چھپی ہوئی تھی ایک ہاتھ باہر نکال کر اُسکی ہتھیلی کو آگے کرتی ہمشیہ کی طرح انگلی کی مدد سے لکھ کر منہ پھولا کر اسے دیکھنے لگی۔۔
“بیوی اب تو یہ تُمہیں روز ملا کریں گے۔۔۔۔۔میری جانب سے تُم ان سب کا ابھی سے عادی بنا لوں خود کو۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میں تو ٹھہرا ظالم اس معاملے میں تُمہاری ایک بھی چلنے نہیں دونگا۔۔۔!!
گردن پر سُرخ نشانوں پر اپنے لب رکھتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔بریا اُسکی تپش زدہ لمس سے شدت سے کانپ اٹھی۔۔۔
“آپ خود کو ظالم تو نہ کہے ۔۔۔!!
وہ اُسکے خود کو ظالم کہنے پر تڑپتی ہوئی اُسکے لبوں پہ اپنا ایک ہاتھ رکھ کر دوسرے ہاتھ سے اسکے سینے پر لکھتی خماری لیے آنکھیں اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی۔۔
“بیوی دنیا کے لیے میں ایک ظالم اور تُمہارے لیے ایک نرم دل شوہر ہو۔۔۔!!
گھمبیر آواز سے کہتے ہوئے وہ اُسکے چہرے پر جھکا تو سانسوں کو سانسوں میں بسانے لگا بریا اپنی سانسوں میں اُسکی مہک کو شدت سے محسوس کرتیں وہ اپنی آنکھیں سختی سے میچتی اُسکی لمس کو محسوس کرنے لگی۔۔۔۔۔۔وہ سانسوں کی مہک کو اُسکی سانسوں میں گھول کر اب نیچے کی طرف سفر کرنے لگا تو بریا اپنی شہ رگ پہ تپش زدہ لمس سے ہاتھ اُسکے سینے پر سختی سے رکھتی ہوئیں کپکپا کر اُسے خود سے دور کرنے لگی۔۔۔مگر وہ اُسی طرح اس پہ جھکا اپنے شدتیں لٹا رہا تھا وہ اسے خود پر سے ہٹتے ہوئے نا دیکھکر وہ کانپتی ہوئی اپنے ڈانٹ اسکی گردن پر گاڑ گئیں۔۔۔
“آہہہہہ بیوی ڈیٹس ناٹ فئیر۔۔!!
وہ اپنی گردن پر جلن کی شدت محسوس کرتا پیچھے ہٹا اور اُسے گھور کر دیکھنے لگا جو چہرے پر شرم کی سُرخی لیے لبوں پہ مسکراہٹ سجائے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
“اور آپ جو کر رہے تھے کیا وہ سہی ہے۔۔۔؟؟
وہ اُسکے برہنہ سینے پر ہاتھ پھیرتی ہوئی اُسے دیکھنے لگیں جو اُسے بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ اپنے سینے پر اُسکی انگلیوں کو سرکتے ہوئے محسوس کرتا اسکی باتوں کو سمجھتے ہوئے مسکرایا۔۔۔
“بیوی تُم اگر جنگلی جانور کی طرح اٹیک کروں گی۔۔تو مجھے بھی شیر بننے میں ایک منٹ نہیں لگتا ہے۔۔ابھی جو تُم نے مجھ پر حملہ کیا ہے ناں۔۔۔۔۔اُسکا تو میں بدلا ضرور لوں گا۔۔۔۔۔۔۔مگر ابھی نہیں ابھی ایک اہم میٹنگ اٹینڈ کرنے مجھے دوسرے شہر جانا ہے۔۔۔!!
وہ اُسکی ٹھوڈی کو پیار سے چھوتا کہنے لگا۔۔۔۔تو بریا اسکے دوسرے شہر جانے کا سنتی تڑپ کر اُسے دیکھنے لگی کیونکہ وہ اُسے بے پناہ چاہنے لگی تھی بھلا کیسے اس سے دور رہ سکتی تھی۔۔۔
“بیوی فکر مت کروں اکیلے نہیں جا رہا اپنی زندگی کو کیسے یہاں چھوڑ کر جا سکتا ہوں تُمہیں اگر وہاں نہیں دیکھوں گا تو سب کچھ خراب کر دو گا۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ تم میری ہمت بن چکی ہو۔۔۔۔!!
اُسکی پیشانی پر لب رکھتے ہوئے کہنے لگا تو وہ اسکی بات پر پرسکون ہو کر وہ اپنا سر اسکے سینے پر رکھ کر آنکھیں موند گئی تھی ۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
