52K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

“خان آپ یہاں۔۔۔؟؟؟
وہ اُسے اپنے روم میں دیکھتی بیڈ سے تیزی سے اٹھی اور اُسے غور سے دیکھنے لگی۔
“کیوں۔۔۔؟؟؟؟ کیا یہاں تُمہارے روم میں میرے آنے پر پابندی لگی ہیں۔۔۔یا اب تُم مجھ سے ڈر رہی ہو۔۔۔۔۔!!
وہ دروازے کے سامنے کھڑا تھا پیروں سے شدت سے دروازہ بند کرتا لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ اُسکی جانب بڑھنے لگا۔۔۔
“خان آپ نشہ کر کے آئے ہیں ناں۔۔۔؟؟
اُسکے قدموں کی لڑکھڑاہٹ سے گھبراتی کانپتی ہوئی کہہ کر پیچھے ہٹنے لگی۔اور پیچھے ہٹتے ہٹتے سیدھی جا کر دیوار پر لگے ایل سی ڈی سے جا ٹکرائی۔۔
“ہاں۔سہی گیس کیا تُم نے مائے ڈئیر وائفی۔۔۔۔۔میں اس وقت اپنے ہوش میں نہیں ہو۔۔۔اور اب تُمہیں کوئی مجھ سے نہیں بچا سکتا۔۔۔۔!!
اُسکے پاس پہنچ کر سختی سے اُسکے چہرے پر آئیں لٹوں کو پکڑتا سپاٹ لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔۔۔۔مشائم اُسکی سُرخ آنکھوں میں ڈر کر دیکھ رہی تھی۔۔
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔؟؟
وہ اُسکی پرسرار بات پر لرزتی ہوئی آواز میں بولی۔۔
“جھوٹ بول کر تھک نہیں گئی ہوں تُم۔۔ جو اب یہ ڈراما کر رہی ہو۔ایسی پرٹینڈ کر رہی ہو۔جیسے تُم ایک سال کی بچی ہو۔۔!!
وہ نیچے جھکا اور اُسے پیروں سے پکڑتا اپنے کندھے پر کرتا لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ بیڈ کی جانب بڑھا اور شدت سے اُسے بیڈ پر پٹک کر خود پیچھے کھڑے ہو کر نظریں اُس پر مرکوز کیے اپنے شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔مشائم یہ دیکھتی سٹپٹا کر پیچھے کھسکتی ہوئی بیڈ کراؤن سے جا لگی۔۔
“خان آپ یہ پاگل پن مت کریں پلیز۔۔۔۔۔۔چلے جائیں یہاں سے ورنہ تائی جان نے آپکو یہاں دیکھ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو انہیں پھر سے موقع مل جائے گا۔آپکو باتیں سنانے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کے لیے چلے جائیں یہاں سے پلیز۔۔۔!!
اُسے اپنا شرٹ غصے سے نیچے فرش پر پیھنکنے کے بعد اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھتی وہ روتی ہوئی بولنے لگی۔۔۔۔۔زرنگ خان اس وقت نشے میں تھا۔۔تو اُسکی فریادوں کو نظر انداز کیے بیڈ پر آکر اُسکے اوپر جھکا۔۔۔
“دیکھنے دو مجھے پرواہ نہیں ہے۔۔۔۔مجھے بس اپنا انتقام تُم سے لینا ہے۔۔۔کل صبح تُم سورج ضرور دیکھوں گی لیکن اپنے سر کے تاج کو نہیں۔۔۔۔۔۔کل صبح تُمہاری بربادی کے دن شروع تُم بہت پچھتاؤ گی۔۔مجھ سے شادی کر کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بتاؤ کیوں مجھ سے شادی کے لیے تُم نے یہ سب کیا ہاں۔؟؟؟ بتاؤ ایسی
کونسی بات تُم نے مجھ میں دیکھائی دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو آج بات شادی تک آن پہنچی بولوں۔۔۔۔؟؟
وہ اُسکی گردن پر جنونی ہو کر نشان چھوڑتا پیچھے ہٹا اور اپنےدونوں ہاتھ پیچھے بیڈ کراؤن پر سختی سے جما کر سرد لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“خان جی آپ ایک پرفیکٹ مرد ہے۔۔۔۔۔کبھی بھی مجھے غلط نظروں سے نہیں دیکھا اور یہی بات مجھے اچھی لگی۔۔۔ اور محبت کا ادراک تب ہوا جب آپ نے مجھے ٹھکرا دیا۔۔۔۔پتہ ہے اُس وقت یہاں بہت تکلیف ہوئی تھی۔۔۔۔۔میرا دل مجھے اُس وقت ابھی پھٹ جائے گا۔۔۔۔۔۔پھر میں نے خود کو سنبھالا اور آپ سے ضد کرنے لگی۔مگر آپ کی ناں ہاں میں نہیں بدلی تو مجھے یہ سب کرنا پڑا۔۔۔!!
وہ اُسکے چہرے پر انگلی سے کراس بناتی اب بنا ڈرے اُسکی نشیلی آنکھوں میں دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔۔۔زرنگ خان اسکی حرکت پر آنکھوں میں نشہ اور خماری لیے نیچے جھکا۔۔۔۔اور اُسکے لبوں کو چھونے لگا وہ اس وقت اپنے ہوش میں نہیں تھا اسی لیے بہک گیا۔۔۔۔۔مشائم تو اُسکی حرکت پر ساکت رہ گئیں۔۔۔لیکن تبھی اُسکی لمس میں بے دردی سی آ گئی تو وہ تڑپ اٹھی۔۔۔۔۔۔۔۔اور خوش فہمی سے نکل گئی جو اُسکی نرم لمس سے ہوئی تھی۔۔۔۔۔مگر اب اُسکی لمس میں بے دردی اور سختی سے وہ ہوش میں آ گئی۔۔
“تُمہیں کل سے پتہ چل جائے گا تمہارا شوہر کتنا پرفیکٹ اور ایک شریف مرد ہے ڈئیر وائفی۔۔۔۔۔۔میں تُمہارے دل و دماغ پر ایسی درندگی کی چھاپ چھوڑو گا۔۔۔۔۔۔
ڈرالنگ تُم خود سے نفرت کرنے لگوں گی!!
زرنگ خان اُسکے چہرے پر جھکا اپنی نفرت کی آگ کو ٹھنڈا کر رہا تھا جو ٹھنڈا ہونے کے بجائے مزید بھڑک رہا تھا۔۔اُسکی شے رگ کو بظاہر نرمی سے اپنے لبوں سے چھو رہا تھا۔۔۔۔مگر اُسکی لمس میں ایک بے رحمی تھی۔وہ اُسکی سرخ و سفید گردن پر جھکا اپنی نفرت کی نشانی چھوڑتا پیچھے ہٹا اور اپنی نشیلی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“مارسیانو کاٹوں اپنے ہاتھ۔۔۔!!
سامنے کھڑا وہ شخص جو قد میں اُس سے چھوٹا تھا سرد مہری سے کہتا ایک چاقو مارسیانو کے آگے پیھنکتا وہ اپنے جالی والی ہیڈ کے پیچھے چھپے آنکھوں میں سپاٹ تاثرات لیے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔
“اس لہجے میں بات کرتے ہوئے تُم خود کو موت کے قریب کر رہے ہو سالے صاحب۔۔۔!!
وہ آنکھوں میں خونخواری جبکہ لبوں پہ پہلی بار ایسی مسکراہٹ سجائے جو مسکراہٹ کم وارننگ زیادہ لگ رہی تھی۔۔
“میری بہن تُمہاری اِنہی حرکتوں کی وجہ سے مری ہے۔۔۔۔۔تُم اپنی بیوی کے بھی قاتل ہو۔۔یہ لہجہ تو کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔تُمہیں تو موت بھی آسان نہیں دونگا۔۔تڑپا تڑپا کر مارو گا۔۔۔جیسے وہ مری تھی۔۔۔!!
اپنی جالی دار ہیڈ کے پیچھے سے سخت نگاہوں سے گھورتا غرایا۔مارسیانو اپنی بیوی کا ذکر سنتا اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔تو اُسکی جالی دار ہیڈ کے پیچھے چھپے آنکھوں کی ایک جھلک دیکھ چونکا۔۔
“ہاں وہ میری وجہ سے مری تھیں۔۔ٹھیک کہاں تُم نے مجھے آسان موت نہیں ملنی چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔روز درد ملنا چاہیے اور شروعات میں خود کروں گا۔۔۔!!!
اچانک سے وہ مسکراتا ایک خوبصورت مسکراہٹ لبوں پہ لا کر جو اب کسی وارننگ سے پاک تھی گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ہاتھ آگے بڑھا کر چاقو اٹھاتے ہوئے وہ اُس ماسک کے پیچھے چھپے شخص کو غور سے دیکھتا شدت جنون سے چاقو کو اپنے دونوں گالوں پر باری باری پھیرنے لگا۔۔
آہ۔۔۔۔!!!
مقابل کے لبوں سے ایک ہلکی سی سسکی نکلی جو مارسیانو کے لبوں کی مسکراہٹ کو اور گہری کر گئی۔۔۔۔وہ اُسے نظروں میں لیے ابکے چاقو اپنی گردن پر شے رگ پر رکھتا جنونیت سے دباؤ بڑھاتا سرخ آنکھوں سے اُس نوجوان کے وجود کی لرزش کو دیکھنے لگا۔۔۔
“بہت پیار کرتے ہو تُم سالے صاحب اپنی بہن سے۔۔۔جو اُسکی جان کو تکلیف میں بھی نہیں دیکھ سکتے۔۔۔۔۔چلو تم مجھے مارنے سے گھبرا رہے ہو۔۔۔تو میں خود کو اُس آتش فشاں کے حوالے کردیتا ہو اسطرح مجھے آسان موت نہیں ملے گا۔۔ ۔۔!!
دور پہاڑ کی جانب اشارہ کرتا وہ سپاٹ لہجے میں کہنے لگا تو مقابل کی نظریں اُس پہاڑ پر گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں پہ اس سرد موسم میں بھی گرم ہوائیں چلتی تھی ۔
“بکواس بند کرو تُم اپنی اور چلو میرے ساتھ۔۔!!
آگے بڑھ کر اُسے غصے سے کالر سے پکڑتا باہر کی جانب بڑھا اور اپنی ٹیم کے پاس پہنچ کر اُسے جیوسو کے آگے پیھنکتا پیچھے مڑ کر بریا کو نم آنکھوں سے دیکھنے لگا اسنے اپنی بہن کو پہلی بار دیکھا تھا اپنی جڑواں بہن کو جو اسکی مری ہوئی بہن کی طرح تھی۔۔اتنے سال وہ اور اسکی ماں کس حال میں زندگی جی رہے تھے یہ صرف وہی جانتا تھا ایک بہن کی موت تو دوسری کی جدائی ان دونوں کو اندر ہی اندر مار رہی تھی مگر وہ کب تک یہ سب برداشت کر سکتا تھا۔۔۔
اُسنے اپنے بابا کی ٹیم کو ایک بار پھر سے بنایا۔۔۔۔۔ اٹلی میں ریڈ ڈریگنوس کے بعد اسکا گروپ دوسرے نمبر پر آتا ہیں جو بے رحم اور سفاک تھا۔۔۔آج وہ کامیاب ہوگیا تھا بلڈ گروپ نے آج ریڈ ڈریگنوس کے بازوؤں کو اپنا غلام بنا لیا تھا۔۔۔ اور وہ بہت خوش تھا۔۔۔
“ٹینا میری بہن۔۔۔!!
وہ آنکھوں میں نمی لیے آگے بڑھتا بریا کو ٹینا کہہ کر اُسے اپنے سینے سے لگانے کیلئے آگے بڑھا تو اردشیر نے بریا کو اپنے پیچھے کیا۔۔۔۔مقابل کی آنکھیں اردشیر کی حرکت پر سرخ ہونے لگی۔۔۔
“کتنی دفعہ کہوں کہ نہ یہ اُسکی بیوی ہے اور نہ ہی تُمہاری بہن ٹینا یہ میری بیوی بریا ہے۔۔!!
وہ انگلش میں سخت لہجے میں گویا ہوا۔۔
“مجھے پتہ ہے تُم شاکڈ ہو مگر یہی سچ ہے۔۔۔۔۔۔تمہاری بیوی میری سگی بہن ہے۔۔۔۔۔اُس شخص کو میرے بابا کے دشمن نے دیا تھا ہمارے پیدا ہونے کے چند گھنٹے بعد بس ہمارا نصیب اُس خراب ہوا تھا۔۔۔
اس شخص نے میری بہن کو اس شخص کے حوالے کرنے کے بعد میرے بابا کو مار دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔میری اور میری بہن لونا کا مہذب ایک ہے۔۔۔۔۔ بٹ میری اس سگی بہن کا مذہب الگ ہے۔۔کیونکہ میری بہن کی پرورش جیسے بھی ہوئی تھی۔۔۔۔ لیکن اس شخص کی بیوی بہت اچھی تھیں۔۔۔ اسنے میری بہن کی پرورش اپنے مہذب کے رولز کے حساب سے کیا تھا۔۔میں اُسے کبھی بھی فورس نہیں کروں گا۔۔۔ وہ یہاں رہے بس کچھ دن میں اسکے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔اسے قریب سے سمجھنا چاہتا ہوں۔۔۔!!
اُسنے ہیڈ ہٹا کر اپنی سرمئی آنکھوں سے بریا کو دیکھا تو بریا اسکی آنکھوں کو دیکھتی شاکڈ رہ گئی کیونکہ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ آنکھیں کسی لڑکے کی ہے۔وہ بلکل ہوبہو بریا کی آنکھوں کی طرح سرمئی اور نشیلی آنکھیں تھی۔۔
“میں یقین کیوں کروں تُم پر۔۔۔کیا ثبوت ہے تُمہارے پاس کے بریا تُمہاری سگی بہن ہے۔۔۔؟؟
اردشیر اُسکی آنکھوں سے دھوکا نہیں کھانا چاہتا تھا۔۔۔۔ اس وقت صرف ثبوت چاہتا تھا جو مقابل کے اشارہ کرتے ہی ایک لڑکے نے جس نے اسی ہی کی طرح کا ماسک پہنا ہوا تھا آگے بڑھ کر ایک پیپر اردشیر کو دیا۔۔۔
“اگر تُمہیں ابھی بھی یقین نہیں آ رہا۔۔۔۔۔ تو میں ڈی این اے ٹیسٹ کرواتا ہوں۔۔۔۔یہ دشمنی کی وجہ سے ہم سے الگ ہوئی تھی۔۔۔۔۔اور وہ شخص بھی اُس کے ساتھ ملا ہوا ہے جو ہمارا دشمن ہے۔۔۔۔۔۔ابھی ٹینا کا یہاں رہنا بے حد ضروری ہے اگر وہ پاکستان چلی گئی۔۔ اسکی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ غدار ابھی بھی زندہ ہے۔۔۔!!
وہ اردشیر کو دیکھتے ہوۓ کہنے لگا جو اب یقین کر رہا تھا شاید کیونکہ اُسے انصر ملک پر بھروسہ نہیں تھا۔۔۔ وہ گھٹیا انسان اپنی بیٹی کو بیچ سکتا ہے۔۔ تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
مارسیانو اُسکے نقاب کے پیچھے چھپے چہرے کو،،۔۔۔۔۔سیاہ کپڑوں کے پیچھے پرسرار وجود کے راز کو جاننے کیلئے کب سے اُسے اپنی نگاہوں کی گرفت میں لیے جانچ رہا تھا اُسے کچھ کھٹک رہا تھا۔۔
ایک چیز جو بار بار اسے اپنی جانب متوجہ کر رہی تھی وہ تھی لونا کے بھائی کی خوبصورت سرمئی آنکھیں۔۔۔ جسکی جھلک کچھ دیر پہلے وہ حادثاتی طور پر دیکھ چکا تھا۔۔۔۔ایک بات جو اسکا دماغ اس جانب اشارہ کر رہا تھا۔جو اسے دیکھتے ہوئے اسنے سوچا تھا۔۔۔۔
آخر یہ اتنا کمزور ایک خطرناک ظالم گینگسٹر مین کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔اب وہ بغور اسے حفظ کر رہا تھا۔۔۔چیل جیسی تیز نظروں کو جب لونا کے بھائی نے خود پر محسوس کیا تو وہ پلٹ کر اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔مارسیانو اُسکے یکدم سے پلٹنے پر اُسکی خوبصورت آنکھوں میں اسی طرح کھوا جس طرح وہ پہلی ملاقات میں لونا کی آنکھوں میں کھو سا گیا تھا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“باس وو۔۔۔وہ مارسیانو ب۔بھاگ گیا اپنے بھائی کے ساتھ۔۔!!
اردشیر کو اور بریا کو اپنے ایک خفیہ گھر میں شفٹ کرنے کے بعد وہ اس جگہ پر بنی چھوٹی سی بار میں بیٹھا تھا خلافِ معمول اُسکی نظریں سرخ تھیں۔۔۔۔۔۔۔
سوچ کی پروازیں صرف اُس انسان کے گرد چکر کاٹ رہی تھی جسکی وجہ سے آج وہ یہ چیز لبوں سے لگا چکا تھا جس سے کبھی اُسے چڑ تھی۔۔
“کیا بکواس کر رہے ہو۔وہ اتنی ٹائٹ سکیورٹی سے کیسے بچ کر بھاگ سکتا ہے۔تُم اُس وقت کہاں مرے تھے۔۔۔؟؟
گلاس شدت سے نیچے فرش پر پیھنکتا وہ غصے سے اسٹول سے اٹھا اور سختی سے اپنے خاص آدمی کو جبڑے سے پکڑتا غرایا۔۔۔
“معاف کر دے باس میری آنکھ لگ گئی تھی غلطی میری ہے مجھے معاف کر دے۔۔۔!!
وہ اُسکے آگے ہاتھ جوڑ کر بھیک مانگنے لگا۔۔
“ایک شرط پر اگر تُم اُسے میرے پاس واپس لاؤ گے تب تُم آزاد ہو جاؤ گے۔۔!!
سپاٹ لہجے میں کہتا وہ واپس اسٹول پر براجمان ہو کر گلاس میں بئیر انڈیل کر اُس آدمی کو وہاں سے جانا کا اشارہ کرتا سرخ آنکھوں کو بند کرتا چہرے سے نقاب ہٹا کر گلاس لبوں سے لگا کر اپنے اندر اُس کڑوی چیز کو انڈیلنے لگا۔۔
“مارسیانو آخر تُم کب تک چھپوں گے۔کبھی تو ہاتھ ضرور لگوں گے۔۔اگر ہاتھ لگ گئے تو اُس تمہارا آخری دن ہوگا۔۔۔!!!
اِس وقت وہاں اندھیرے کی وجہ سے اُسکا چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا اور نہ ہی آنکھوں میں بھسی نفرت گلاس پر گرفت مضبوط سے مضبوط ہوتی جا رہی تھی تبھی وہ اچانک سے اٹھا اور اُس خفیہ کمرے کی طرف بڑھا جہاں آنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی۔کیونکہ وہ اُسکے رازوں سے بھرا پرسرار کمرا تھا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ماسٹر آپ اِس حالت میں کہاں جا رہے ہیں۔۔۔؟؟
اُسنے ٹیکسی ایک بڑے سے گھر کے آگے روکنے کو کہا اور جیوسو کو باہر نکلنے کا کہتا اپنے مضبوط بازؤں سے رستے خون کی پرواہ کیے بغیر آگے دیکھنے لگا جیوسو جو خود بُری طرح سے زخمی تھا مگر اُسکی سفید شرٹ کی آستین کو خون سے بھرے دیکھ سخت پریشانی سے گویا ہوا۔۔
“ایک ضروری کام ہے تُم باشا کو میری حالت کے بارے میں مت بتانا ورنہ۔۔۔!!
سپاٹ نظریں اپنے بھائی کے زخمی چہرے پر گاڑ کر سرد مہری سے کہنے لگا۔۔باشا انکے ٹیم کے سبھی جونیئر ممبرز اپنے لیڈر کو کہتے تھے جو مارسیانو اور جیوسو کا باپ تھا۔
“ماسٹر آپ فکر مت کریں میں اُن سے ذکر نہیں کروں گا بٹ آپ بتائیں تو سہی ایسا کونسا ضروری کام ہے۔۔۔ جو آپ اس حالت میں بھی جانا چاہتے ہیں۔۔۔!!
جیوسو نے کہا۔تو وہ اُسے بُری طرح سے گھورنے لگا۔۔
“جیوسو گیٹ لاس۔۔۔!!
سرد لہجے میں کہتا وہ ٹیکسی ڈرائیور کی جانب متوجہ ہوا تو جیوسو فکر مند نظروں سے اُسے دیکھتا آرام سے ٹیکسی سے باہر نکلا اور اُسکے باہر نکلتے ہی اُسنے زور سے دروازہ بند کرنے کے بعد ڈرائیور کو اُسنے اشارہ کیا۔۔
“اب ایسا کونسا ضروری کام ہے اُنہیں جو اس حالت میں بھی وہ جا رہے ہیں۔۔پتہ کرنا پڑے گا۔۔!!
جیوسو ٹیکسی کو نظروں سے اوجھل ہونے تک دیکھتا رہا پھر جب ٹیکسی نظروں سے اوجھل ہوئی تو وہ بڑبڑاتے ہوئے گھر کی طرف آہستگی سے بڑھنے لگا۔۔۔۔ پیروں پر گولی لگنے کی وجہ سے اُس سہی سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔اور ہاسپٹل میں جانے کی اجازت ریڈ ڈریگنوس ٹیم کو نہیں تھی۔۔وہ اپنا ٹریٹمنٹ خود کرتے تھے کیونکہ ایسی خطرناک صورتحال سے نمٹنے کیلئے انہیں پہلے ہی ٹرین کیا گیا تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
دلاور اُسے پورے ایک ماہ بعد اُس ڈاکٹر کے پاس لایا تھا جس نے اُسکا علاج کیا تھا۔۔ اب وہ مکمل طور سے ٹھیک ہوگئی تھی اور یہ سب دلاور کی کئیر اور محبت کا نتیجہ تھا جو آج وہ اس دنیا کی خوبصورتی کو پھر قریب سے دیکھ سکتی تھی۔
وہ باہر بیٹھی دلاور کا انتظار کر رہی تھی۔جو کافی لینے گیا تھا۔نظریں ادھر ادھر ڈورہا رہی تھی تبھی ایک جگہ نظریں ٹھہریں تو خوف سے اُسکے چہرے پر پسینہ پھوٹنے لگا جبکہ ہاتھ اور پیر بُری طرح سے پھولنے لگے۔۔۔
اچانک ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور آنکھوں میں خوف زدہ تاثرات لیے دوسری طرف بھاگنے لگی۔۔۔۔۔۔جبکہ دوسری طرف کھڑی شخصیت کے ہونٹ طنزیہ انداز میں مسکرا اٹھے۔۔۔
“فروہ۔۔!!
دلاور خان جب وہاں آیا تو اُسے وہاں نہ پاکر ادھر ادھر اسے ڈھونڈنے لگا مگر جب وہ اسے کہی پر نہیں ملی تو وہ شدت سے چیختے ہوئے اسے آوازیں دینے لگا۔۔۔یکدم سے ہاسپٹل کے کوریڈور کی در و دیوار اسکی بے قرار بلند آواز سے لرز اٹھی تھیں۔۔
“سر یہ ہاسپٹل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز یہاں شور مت کریں مریض ڈسٹرب ہونگے۔۔!!
ایک نرس نے اُسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔تو وہ پریشانی سے اپنے ماتھے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتا اُسکے متعلق اُس نرس سے برقراری سے پوچھنے لگا۔۔۔
“ی۔یہاں میری وائف بیٹھی تھی کیا آپ جانتی ہے وہ کہاں گئی ہے۔۔؟؟
وہ کافی پریشان لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اور ڈر بھی رہا تھا کہ اُسکے ساتھ کچھ برا نہ ہوا ہوں۔۔
“نہیں سر میں نے تو نہیں دیکھا۔۔!!
نرس نے کہا تو وہ تیزی سے باہر کی جانب بڑھا اور لرزتے ہاتھوں سے زرنگ کو کال ملانے لگا مگر جب تین چار بیل پر اسنے کال ریسیو نہیں کیا تو وہ غصے سے فون نیچے پھینک کر پاس رکھی بینچ پر بیٹھا اور سر پر ہاتھ رکھے اپنے دماغ میں چلتے وسوسوں سے پیچھا چھڑانے لگا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بابا۔۔۔۔۔!!!
وہ پورے شہر میں اُسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر جب تھکا تو شدت سے ایک خیال اسکے دماغ میں آیا تو فوراً غصے سے حویلی کے لیے نکلا اور اب رات کے ایک بجے وہاں پہنچ کر وہ چیخ چیخ کر اپنے باپ کو بلانے لگا۔۔
“آگئے لاڈلے بیٹے ویسے ہم بوڑھی ہڈیوں کی یاد کیسے آ گئی بیٹے جو رات کے ایک بجے آئے ہو۔۔۔!!!
احمد خان اس وقت اپنے اسٹڈی روم میں تھے باہر سے آتی اپنے بیٹے کی غصیلی آواز پر وہ مسکراتے ہوئے باہر نکلے اور سامنے لاؤنج کے بیچوں بیچ غصے سے کھڑے اپنے بیٹے کو دیکھنے لگے۔۔
“بابا آپ کیوں کر رہے ہیں۔۔۔ ایسا آخر فروہ کی اس میں کیا غلطی ہے کہ وہ اردشیر زیگن کی بہن ہے۔۔۔وہ میری نصیب میں لکھی تھی پھر آپ ایسی گھٹیا حرکت کر کے ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں۔۔؟؟
غصے سے وہ کیا کہہ رہا تھا اُسے خبر نہیں تھی جبکہ احمد خان اسکی بات پر آگے بڑھے۔۔
“کیا مطلب تُم کیا کہہ رہے ہو بھلا میں کیوں اُس لڑکی کے ساتھ کچھ کر سکتا ہوں۔کھل کر بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔میں اس سے نفرت کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسی ویسی گھٹیا حرکت کروں گا اسکے ساتھ۔۔!!
احمد خان کی آنکھیں بھی اب سنجیدہ ہوگئی تھی اسکی بات پر دلاور خان نے مٹھیوں کو کھستے ہوئے انہیں دیکھا۔۔
“کیا آپ سچ کہہ رہے ہیں آپ کو اس کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں ہے کہ فروہ اس وقت کہا ہے۔۔۔؟؟
وہ گہری سانس لیتا نرم لہجے میں اب ان سے پوچھنے لگا تو احمد خان نے نفی میں سر ہلایا۔۔
“میں سچ میں نہیں جانتا کہ تُمہاری بیوی کو کیا ہوا ہے اور یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ اس وقت کہاں ہے بیٹا بتاؤ کیا کوئی گھمبیر بات ہے۔۔؟؟
ابکے وہ بھی پریشان ہوگئے تھے تو وہ صوفے پر بیٹھا اور انہیں نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“پتہ ہے بابا آپ اُس وقت بھی اسی طرح آپی کے اقدام سے سخت پیش آئے تھے اور جب انکی موت کا پتہ چلا تو آپ اسی طرح نرم پڑ گئے تھے۔۔۔۔ جس طرح اب نظر آ رہے ہیں۔۔۔!!
وہ اُنہیں دیکھتے ہوئے وہ بات انہیں یاد دلانے لگا جو عالیہ کے اس گھر سے بھاگنے کے وقت کی تھی۔وہ کس وجہ سے بھاگی تھی۔یہ آج تک شاید وہ سمجھ نہیں سکے تھے مگر دلاور خان وہ بات سمجھ چکا تھا کہ کیوں اسکی بہن نے اتنا بڑا فیصلہ کیا تھا
یہ حویلی چھوڑ کر وہ سب کچھ جانتا تھا یہاں تک اپنی بہن کے قاتل کو بھی اب وہ یہ بات اپنے باپ سے بھی شئیر کرنا چاہتا تھا تاکہ یہ نفرت کی دیوار گر جائے جو اتنے سالوں سے زیگن اور خان فیلمی کے درمیان حائل تھی۔۔۔