52K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

“چھوٹے خان آپ کو بڑے خان بلا رہے ہیں۔۔۔!!
دلاور خان جو فروہ کو کچھ کھلانے کے بعد روم سے باہر نکل رہا تھا سامنے اپنے باپ کے خاص ملازم کی بات پر سر ہلا کر اُس ملازم کو اگنور کرتے ہوئے آگے بڑھا اور اپنے باپ کے پاس اُنکے ڈیرے پر جانے کیلئے پورچ کی جانب بڑھا۔۔
“آ گئے برخوردار۔۔۔!
احمد خان اُسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولے تو وہ نظریں ان پر مرکوز کیے انکے اگلے بات کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
“جی بابا حضور آپ نے یاد کیا خیریت۔۔۔؟؟
وہ انہیں کی جانب متوجہ تھا جبکہ وہ دوسری طرف دیکھ رہے تھے۔۔اسکے سوال پر رخ اسکی جانب کیے ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگے۔۔۔
“خیریت تب ہوگی برخوردار۔۔۔۔۔۔ جب تُم دوسری شادی کروں گے۔۔اُسکے بھائی نے سُنا ہے۔۔۔۔دوسری شادی رچایا ہے۔۔۔ان وعدوں کا کیا ہوا جو اس مردود نے تُمہاری بہن سے کیے تھے۔۔۔۔اب اگر تُم نے اسکی بہن سے شادی کی ہے۔تو اب دوسری شادی ہماری پسند سے کروں گے اسے بھی تو پتہ چلے کے اذیت کیا ہوتی ہیں۔۔۔!!
اُنکے لہجے میں اردشیر اور فروہ کیلئے سختی اور تنفر نفرت محسوس کرتا دلاور اپنی مٹھیاں کھسنے لگا۔۔۔
“بابا حضور اردشیر ابھی بھی اتنا ہی محبت کرتا ہے آپی سے جتنا انکی زندگی میں کیا کرتا تھا۔اور دوسری شادی میں کبھی نہیں کروں گا۔۔فروہ صرف میری بیوی نہیں میری جنون اور عشق بھی ہے۔۔میری رگوں میں اسکا عشق دور رہا ہے کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنی نس کاٹ کر آپکو اس بات کی تصدیق کرواؤ۔۔۔آپ کیوں بچوں کی طرح ضد کر کے ہیں۔۔۔!!
وہ حتی الامکان اپنے لہجے کو مضبوط کرنے سے روک رہا تھا مگر باوجود غصہ کنٹرول کرنے کے وہ اپنا کنٹرول کھوتا جا رہا تھا۔۔۔
“مجھے کچھ بھی نہیں سُننا آج رات کی فلائٹ سے تُمہارے چھوٹے چچا احتشام خان کی اکلوتی بیٹی مشائم آ رہی ہے اگلے جمعے تُم دونوں کا نکاح ہے۔۔!!
انکی بات پر تو وہ غصے سے دیوانہ ہوگیا اور غصے سے سامنے رکھے ٹیبل کو ٹھوکر مارتے ہوئے کچھ بھی کیے بغیر وہاں سے باہر نکلا جبکہ احمد خان سرد نگاہوں سے اسے وہاں سے جاتا ہوئے دیکھنے لگے۔۔۔
“زرنگ خان تُم ائیرپورٹ پر جاؤ مشائم کو ریسو کرنے دیکھتا ہوں یہ کب تک بھاگے گا۔۔میری بہو صرف ہمارے خاندان کی ہونی چاہیے ورنہ نہیں۔۔۔!!
احمد خان نے سامنے بیٹھے زرنگ خان کو دیکھتے ہوئے مخاطب ہوئے جو خاموشی سے بیٹھا باپ بیٹے کی غصے سے بحث ومباحثہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
“بابا میں۔۔۔؟؟
زرنگ خان کے تو چہرے کے تاثرات اُس لڑکی کے نام پر سخت ہوگئے تھے جبکہ انکے حکم کو سنتے وہ سختی سے اپنے ہاتھ کو کھول بند کرنے لگا۔۔
“کیوں تُم بھی اب بغاوت کرنا چاہتے ہو اُس نالائق کی طرح مشائم بیٹی ہماری خاندان کی عزت ہے۔۔۔۔اگر وہ نہیں جا رہا تو تُم ایک بڑے بھائی کی حیثیت سے اُسکا استقبال کرنے ائیرپورٹ جاؤ۔۔۔!!
احمد خان کی بات پر وہ سُرخ براؤن آنکھوں کو سختی سے میچ کر ایک گہری سانس خارج کرتا واپس آنکھیں کھول کر اُنہیں دیکھتے ہوئے سر ہلانے لگا۔۔۔۔۔۔اب ناچار اُسے اّس لڑکی کو ریسیو کرنے ائیرپورٹ جانا ہی پڑے گا۔۔
“ٹھیک ہے بابا حضور میں ائیرپورٹ کے لیے نکلتا ہو۔۔۔!!
زرنگ خان اُن سے کہتے ساتھ اپنی جگہ سے اٹھا اور واسکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر قدم ڈیرے سے باہر نکالنے کے لیے آگے بڑھا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“تُم۔۔۔!!!
زارا خان دلاور کے روم میں داخل ہوئی تو سامنے بیڈ پر فروہ کو لیٹے ہوئے دیکھکر شدید غصے سے چیخی اور آگے بڑھ کر اُسے بالوں سے پکڑ کر بیڈ سے نیچے کرتی غصے سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“تُم ایسے پیچھا نہیں چھوڑو گی نہ میرے بیٹے کا اب مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔ لڑکی تُم اور تمہارا پورا خاندان گندی نالی کے کیڑے ہو اور مجھے گندگی اپنے گھر بلکل بھی برداشت نہیں ہو رہی۔۔۔!!
اُسے اسی طرح گھسیٹتی ہوئی وہ باہر نکلی فروہ اپنے سر پر ٹھیس اٹھتے ہوئے شدت سے محسوس کر سکتی تھی وہ آنکھوں میں آنسوؤں لیے اپنے ہاتھ اوپر کرتی خود کو اس تنگ گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔۔جبکہ زارا خان اُسے لان میں لا کر نیچے اُس جگہ پر جہاں مٹی ہی مٹی گری ہوئی تھی وہ اُسے ان مڑی کے اوپر پھینک کر تنفر بیزاری سے دور جا کر کھڑی ہوکر نفرت سے اُسے گھورنے لگی۔۔۔
“زر گل زرگل کہاں مر گئی ہو تُم یہاں آؤ۔۔۔!!
زور زور سے چیختے ہوئے انہوں نے اپنی ملازمہ کو بلایا جو انکی آواز پر ہانپتی ہوئی وہاں پہنچ کر سر جھکا کر کھڑی ہوئی۔۔۔
“اِس کو اتنا درد دو کہ یہ کبھی میرے بیٹے کے خواب نہ بُن سکے۔۔۔۔۔۔اور تُوں لڑکی سُن اگلے جمعے کو میرے بیٹے کا نکاح ہے۔۔۔۔۔ اور وہ بھی اپنے چچا کی بیٹی کے ساتھ تُم جیسی لڑکی ہمارے خاندان کی بہو کہلانے کے لائق نہیں ہے۔۔ہمارے خاندان کی بہو صرف مشائم خان ہی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے دل و دماغ سے دلاور خان کو نکال پھینکوں یہ تمہارے لیے بہتر رہے گا۔۔۔ورنہ مرو یہی پر!!
وہ آگے بڑھ کر فروہ کے نازک مٹی سے اٹے ہاتھوں پر رکھ کر نفرت سے زور سے دباتے ہوئے غرا کر بولی جبکہ فروہ تکلیف سے دوہری ہو کر چلانے لگی۔۔۔
“مورے یہ آپ کیا کر رہی ہیں۔۔۔!!
دلاور خان ڈیرے سے یہاں حویلی پہنچا۔۔۔۔۔ تو فروہ کو روم میں نا پاکر وہ بیڈ روم سے نکل کر اُسے پاگلوں کی طرح پوری حویلی میں ڈھونڈنے لگا۔۔۔۔مگر جب وہ لان میں پہنچا تو سامنے فروہ کو دیکھتا وہ ٹرپا اور بے یقینی سے اپنی ماں کو دیکھنے لگا جو اسکی زندگی کو اپنے پیروں کے ٹھوکر پر رکھے کھڑی تھی۔۔اور اس سے یہ منظر دیکھا نہیں گیا تو وہ شدید غصے سے حلق کے بل چلا کر انہیں روکنے پر مجبور کر گیا۔۔
“بیٹا یہ لڑکی تُمہیں دھوکہ دے رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔میرا یقین نہیں تو زر گل سے پوچھو۔۔بتاؤ زرگل یہ کس کے ساتھ تھی۔۔ابھی۔۔!!
انہوں نے سخت گھبرا کر آگے بڑھتے ہوئے اپنے بیٹے سے کہا پھر زرگل کو اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی زرگل کو انہوں نے تھوڑی دیر پہلے جو سبق پڑھایا تھا تو وہ بنا ڈرے شروع ہوگئی۔۔۔
“چھوٹے خان جی یہ زرنگ خان کے ساتھ۔۔۔!!
زارا خان نے زرگل کی بات کو بیچ میں کاٹتے ہوئے دلاور خان کے مضبوط بازؤں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہنا شروع کر دیا۔۔۔
“دیکھا دلاورے وہ کمینا انسان اُسنے میرا کہا ایک ایک لفظ آج سچ ثابت کر دئیے میں کہتی تھی ناں۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہمارے خاندان کا دشمن ہے۔دیکھو آج اسنے تمہاری بیوی کے ساتھ مل کر تُمہیں اور ہمیں دھوکہ دیا۔۔۔!!
زارا خان کی شاطر باتوں کو سُن کر وہ تاسف سے اپنی ماں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔وہ اس قدر گر جائے گی یہ اسے اندازہ نہیں تھا وہ زرنگ خان پر الزام لگا رہی تھی۔۔۔۔۔ اُس انسان پر جو پوری زندگی انہیں صرف اپنی ماں کا درجہ دیتا آ رہا تھا اس لڑکی پر الزام لگا رہی تھی جو انکے اکلوتے بیٹے کی زندگی تھی۔۔۔
“مورے جھوٹ سوچ سمجھ کر بولتی آپ کم از کم اُس بچے پر تو الزام لگاتے وقت تو یہ سوچتی کہ وہ آپ کو اپنی ماں مانتا ہے۔۔اور اپنے بیٹے سگے بیٹے کی زندگی پر کیچڑ اچھالتے وقت تو کچھ سوچتی۔۔۔!!
وہ آنکھوں میں سرخ ڈورے لیے اُنہیں دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں گویا ہوا اور آگے بڑھ کر فروہ کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگائے دوبارہ ان سے مخاطب ہوا اب کی بار وہ زارا خان کو ایک اجنبی لگا۔۔
“جا رہا ہوں میں خبردار جو آپ لوگوں نے میرا پیچھا کیا تو میں خود کو مار ڈالوں گا۔۔۔!!.
فروہ کو لیے وہ مڑے بغیر ان سے کہتا حویلی کے بڑے سے گیٹ کی جانب بڑھا۔۔زارا خان اپنے بیٹے کو جاتے ہوئے دیکھتے روتی ہوئی آگے بڑھیں۔۔۔
“دلاورے یہ تُم کیا کر رہے ہو رک جاؤ خدا را اس لڑکی کی خاطر تم ہمیں اپنے خاندان کو نہیں چھوڑ سکتے ہو۔۔۔!!
وہ روتی ہوئی چیخ چیخ کر بولی۔۔۔۔جبکہ دلاور خان انکی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے فروہ کو لیے دہلیز پار کر چکا تھا وہ ہمشیہ ہمشیہ کیلئے اس خاندان کو چھوڑ رہا تھا جو صرف انا کو عزیز رکھتے ہیں کسی جیتے جاگتے انسان کو تو وہ اپنے پیروں کی دھول سمجھتے ہیں تو وہ کیسے اس گھمنڈ کے مورت نگری میں رہ سکتا تھا۔۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“مجھے یہاں لے کر ہی نہیں آنا چاہیے تھا فروہ اگر میں وقت پر وہاں نہ آتا تو۔۔۔۔۔۔۔!!!اُسکی خوبصورت کٹاؤ ڈار ہونٹوں کے کنارے سے رستے خون کو اُسنے روئی سے آہستگی سے صاف کرتیں ہوئے کہا۔۔
“دیکھوں کیا حال بنایا ہے اُنہوں نے تُمہارا دل تو چھا رہا ہے سب کچھ ختم کر دو انکی دشمنی انکا اکڑ اور خود کو۔۔۔!!
غصے سے کہہ رہا تھا کہ اُسکے تڑپ کر اپنے ہونٹوں پر نازک انگلیوں رکھنے پر وہ نظریں اس پر کیے اُسے دیکھنا لگا۔جو چہرے پر پریشانی سجائے گلاسز کے پیچھے سے نکلتے آنسوؤں سے بے پروا جو گالوں پر پھسل رہے تھے اسکے لیے تڑپ رہی تھی یا اسے غصے کرنے سے روک رہی تھی۔۔۔
“آپ اس طرح اپنے بڑوں کے بارے میں کیسے کہہ سکتے ہیں میری لیے آپ پلیز اُن سے الجھنا چھوڑ دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور مجھے واپس گھر جانے دے۔۔۔!!
وہ لہجے میں بھی پریشانی لیے اس سے مخاطب ہوئی تو وہ سخت غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچنے لگا۔۔
“ہر گز نہیں اب تُم میری بیوی ہو۔۔۔۔۔۔میری زمہ داری تُمہیں وہاں نہیں میرے گھر میں ہونا چاہیے۔۔۔اور میرے بڑے غلط ہے۔تو میرا فرض بنتا ہے۔۔۔۔۔۔انہیں سمجھانے کا تُم یہ باتیں چھوڑو آؤ میں تُمہارے بالوں کو باندھوں۔۔۔!!
اُسکے لہجے میں استحقاق تھا اور یہ چیز فروہ کیلئے بہت بڑا دھچکا ثابت ہوا تھا وہ اُسی طرح بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔ تبھی اپنے بالوں پر اُسکی نرم لمس محسوس ہوتے ہی اسکے گالوں پر شرم کی لالی سجی۔۔
“فروہ تُمہارے بالوں کو ابھی واش کی سخت ضرورت ہے کیا میں۔۔؟؟
وہ اُسکے بالوں پہ مٹی دیکھ کر اُس سے کہنے لگا جسے سُن کر فروہ سٹپٹا کے رہ گئیں اور اسکے سوال پہ وہ اپنے رگ و پے میں خون کو بُری طرح سے گردش کرتیں ہوئے شدت سے محسوس کرنے لگی۔۔۔
“یی۔یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔آپ کیسے نہیں میں خود کر لونگی۔۔۔؟؟
وہ لرزتی جسم کو اُس سے دور کرتیں ہوئے کانپتی آواز میں بولی۔۔۔دلاور اُسکی نازک سراپے کو بُری طرح سے لرزتے ہوئے دیکھتا مسکرایا۔۔
“فروہ میں اب تُمہارا شوہر ہو۔۔۔۔اور ابھی تُم جس سچویشن میں گزر رہی ہو۔۔وہ میں سمجھ سکتا ہوں۔اور تُم اچھے سے جانتی ہوگی۔۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے لباس ہوتے ہیں تو تُم گھبراؤ مت میں یہ کر لونگا۔۔!!
نرمی سے اُسکے بالوں سے مٹی صاف کرتے ہوئے اُسے کسی استاد کی طرح درس دینے لگا۔۔۔۔ جو سمجھ کر اپنا سر نیچے جھکا گئی تھیں۔۔۔۔۔اُسکی خاموشی سے سر نیچے جھکانے پر دلاور سمجھ گیا کہ وہ اسے اجازت دے رہی ہے۔بے ساختہ وہ نیچے جھکا اور اُسے اٹھا کر اپنی باہوں میں بھر کر اُسے لیے واشروم کی جانب بڑھا۔۔
“آرام سے۔۔۔!!
اُسے باتھ ٹب پر آرام سے بیٹھا کر خود کنارے پر بیٹھا اور اپنی آستینوں کو فولڈ کرنے لگا کہ اُسے نروس کے مارے اپنے مومی پاؤں کو ٹب سے باہر نکالتے ہوئے دیکھتا وہ تیزی سے ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے نیچے گرنے سے بچاتے ہوئے لہجے میں پریشانی سمو کر کہنے لگا۔۔۔
“پلیز آپ باہر چلے جائیں میں خود کر لونگی۔۔۔!!
فروہ کا تو دل اُسکی موجودگی سے بیٹھا جا رہا تھا وہ تڑپ کر بولی۔۔۔۔لیکن دلاور خان نے اُسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا ہاتھ پیچھے بڑھا کر اُسکی سیاہ لانگ فراک کی زف کو کھولنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر اُسکی گھبراہٹ کو دیکھتا وہ ٹھہر گیا۔۔پھر کچھ سوچتے ہوئے واشروم میں اپنی نظریں دورانے لگا مگر کچھ ایسا نہیں ملا۔۔۔۔۔۔جس سے وہ اسکی گھبراہٹ کو کم کر سکے تاکہ وہ اُسکے بالوں کو ایزلی واش کرے۔۔۔۔۔تبھی اسکی آنکھیں چمک اٹھیں کیونکہ سامنے اپنا رینکوٹ کو دیکھکر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور سامنے لگے کوٹنی سے وہ رینکوٹ اٹھا کر اُسکی جانب بڑھا۔۔۔
“ششششش۔۔۔!!
اُسکے لبوں کو دوبارہ واں ہوتے دیکھکر اُسنے اپنا دوسرا ہاتھ بے ساختہ اُسکے نرم لبوں پہ رکھ کر اسے خاموش کروانے کے بعد اُسے اپنا رین کوٹ پہنانے لگا۔۔۔
“اب فکر مت کرو میں نے تُمہیں اپنا رینکوٹ پہنایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسطرح تُم ایزی رہوں گی اور مجھے بھی تمہارے بال واش کرنے میں آسانی ہوگی۔۔۔۔صرف کچھ دیر تک مجھے برداشت کرلوں میری شرمیلی بیوی۔۔۔!!
بولنے کے ساتھ ساتھ وہ اسکے بالوں کو آہستگی سے سہلانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سامنے ہاتھ بڑھا کر اسنے شیمو کی شیشے اٹھا کر دوسرے ہاتھ میں لیں کر اسکے بالوں سے مٹی کو شیمو کی مدد سے دھونے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دونوں کی اتنی زیادہ نزدیکی پہ انکا دل زور زور سے ڈھرک رہا تھا ڈھرکنیں بے ترتیب ہو رہی تھی۔۔
“فروہ میں کسی بھروسے لائق عورت کو ڈھونڈتا ہوں جو تمہاری کئیر کر سکے تم میری موجودگی کو شاید قبول نہیں کر سکوں گی۔۔۔!!
وہ اُسکے بالوں کو اب تولیے کی مدد سے خشک کرتے ہوئے اس سے کہتا اسے باتھ ٹب سے نکال کر رینکوٹ نکالتے ہوئے وہی لٹکا کر اسے اپنی باہوں میں بھر کر باہر نکلا۔۔
“میرے کپڑے۔۔۔!!
فروہ اپنے کپڑوں پر مٹی لگنے کی وجہ سے سخت الجھن محسوس کرتیں گھبرا کر بولی۔۔تو دلاور نے اسکے کپڑوں کی جانب دیکھا جو مٹی سے اٹے ہوئے تھے۔۔
“ڈونٹ وری میرے کپڑے شاید یہاں الماری میں ہو جو میں یہاں رات گزارنے کے لیے ہمشیہ رکھتا تھا ابھی تو تم انہیں سے گزارا کر لوں کیونکہ جلدی میں ہم اپنے کپڑے حویلی میں بھول گئے ہیں۔۔اب کل کچھ انتظام کرتا ہوں۔۔فلحال تُم میرے کپڑوں سے کام چلا لوں یہ میرا فارم ہاؤس ہے۔۔۔۔۔ شکر یہ میں نے اپنی محنت سے خریدہ تھا ورنہ یہ چھت بھی ہم سے چھن جاتا۔۔۔!!
وہ سامنے الماری کو کھول کر اندر دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔ پھر ہاتھ سے سارے کپڑوں کو ادھر ادھر کرنے لگا مگر اسے ایک زور دار جھٹکا لگا۔۔۔۔ جب اسنے سامنے اتنے سارے شرٹ رکھے ہوئے دیکھے۔الماری میں صرف شرٹ ہی شرٹ تھی پینٹ کا تو وہاں نام و نشان نہ تھا یکدم سے اسے اپنے ملازم پر بے تحاشا غصہ آیا۔ہو نا ہو یہ کام اسی کا ہو سکتا ہے کیونکہ وہ یہاں تقریباً ایک سال سے نہیں آ رہا تھا اور شاید اسکی غیر موجودگی کا فائدہ اس ملازم نے اسکے پینٹ کو اٹھا کر لیا اسی لیے تو اسے آج ایک سال بعد یہاں دیکھکر اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑ گئی تھی۔۔۔
وہ پیچھے مڑا اور بیڈ پر بیٹھی فروہ کو دیکھنے لگا۔۔اور دل ہی دل میں شکر کرنے لگا کہ اس وقت اسکی ایک شرٹ تو یہاں موجود ہے۔ورنہ فروہ کو ساری رات انہیں مٹی سے اٹے کپڑوں کے ساتھ سونا پڑتا۔۔
“فروہ۔۔۔!!
شرٹ کو دیکھتے ہوئے فروہ کو آواز دے بیٹھا چہرے پر خجالت لیے وہ واپس مڑ کر اسے دیکھنے لگا جو اسکی آواز پر یکدم سے بیڈ سے اٹھی تھی۔۔
“جی کیا ہوا۔۔؟؟
وہ اسکی خاموشی پر اس سے پوچھنے لگی ۔۔
“فروہ یہاں صرف شرٹ رکھے ہوئے ہیں پینٹ کے تو یہاں نام و نشان ہی نہیں ہے مجھے لگتا ہے یہ سب اس زاہد خان کا ہاتھ ہے نہیں چھوڑو گا اس چور کو۔۔۔!!
وہ زور سے الماری کے پٹ کو بند کرتا غصے سے باہر نکلنے ہی والا تھا کہ فروہ کی آہستہ آواز پر اسکے قدم ٹھہر گئے۔۔۔
“مم۔۔۔میں مینج کر لونگی آپ فکر مت کریں۔۔۔!!
وہ نروس ہو رہی تھی یہ سوچ کر کہ وہ کیسے صرف شرٹ پہن کر مینج کر سکتی تھی کیونکہ اسکے کپڑے پورے مٹی سے اٹے اور بھیگ بھی چکے تھے ان میں اسے تو نیند کبھی نہیں آئی گی یہ بات تو وہ جانتی تھی اسی لیے وہ ہمت کر کے بول اٹھی۔۔۔
“کیا سچ میں تُم ساری رات مینج کروں گی ۔۔!!
اچانک سے وہ اپنے چہرے پر گرم سانسوں کی تپش محسوس کرتی بُری طرح سے کانپنے لگی دلاور جو اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کیے اُسکے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا اسکے چہرے پر سرخی پھیلتے ہوئے دیکھ وہ مسکرایا۔۔۔
“ہہ۔۔۔ہاں میں مینج کر لونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ پلیز پیچھے ہو جائے۔۔۔!!
وہ دیکھ نہیں سکتی تھی مگر اُسے محسوس کر سکتی تھی۔۔۔۔۔وہ اس وقت اپنے بے حد قریب اسکی سانسوں کی تپش کو اپنی گردن پر پڑتے ہوئے محسوس کر رہی تھی۔۔۔
“ٹھیک ہے یہ لوں اور جا کر چھینج کر کے سو جاؤ بہت تھک گئی ہوگی تُم۔۔۔۔۔ آخر کو بہت سفر طے کیا ہے ہم دونوں نے۔۔۔۔!!
اُسے ایک اسکائی بیلو شرٹ تھما کر وہ بوجھل لہجے میں کہتا پیچھے ہٹا تو وہ لرزتی ہاتھوں سے اس سے شرٹ لیتی دور ہوئی اور اندازے سے ہاتھ آگے بڑھا کر راستہ ڈھونڈے لگی۔۔۔۔۔۔وہ اسے راستہ ڈھونڈتے ہوئے دیکھتا آگے بڑھا اور نیچے جھک کر اسے اپنی بازوؤں میں بھر کر اٹھاتے ہوئے خاموشی سے واشروم کی جانب بڑھا۔۔۔
“تُم چھینج کر کے مجھے آواز دینا میں آ جاؤ گا۔۔۔!!
وہ اسے نیچے اتار کر پیچھے ہو کر اُسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔۔ جو اپنا سر نیچے جھکائی کھڑی تھی۔۔۔
“فروہ کیا ہوا تُم باہر نہیں آنا چاہتی کیا ساری رات اسی طرح اندر گزارنا چاہتی ہو۔۔۔؟؟
وہ کب سے کھڑا اسکا ویٹ کر رہا تھا لیکن وہ تھی کہ نہ اسے آواز دے رہی تھی اور نہ ہی اسکی آواز اسے آ رہی تھی اب وہ پریشانی سے ڈور نوک کرتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا۔۔
“آپ یہاں سے چلے جائے میں اس روم میں اکیلی رہنا چاہتی ہو آپ جب باہر چلے جائیں گے مم۔۔میں خود ہی باہر آ جاؤ گی۔۔!!
اندر سے اسکی ہلکی آواز آئی تو وہ نارمل ہو گیا جبکہ وہ اندر اسکی شرٹ پہنے گھبرا رہی تھی کیونکہ وہ شرٹ اور اپنی وہی ٹراؤزر میں ملبوس تھی جو مٹی اور کیچڑ سے بھرا ہوا تھا وہ صرف شرٹ پہن کر اسکے سامنے نہیں جا سکتی تھی اسی لیے اسے باہر جانے کا کہنے لگی۔۔
“فروہ سوچ لوں اگر میں باہر چلا گیا تو تُم اندر گر جاؤ گی۔۔!!
وہ اسے سمجھانے لگا تو فروہ اسکی بات پر سٹپٹا گئی اب وہ کیسے اس حلیے میں باہر نکلی گی اگر اسنے اسے اس حلیے میں دیکھ لیا۔۔۔۔۔ تو وہ پوری رات سو نہیں سکی گی۔۔
“ٹھیک ہے میں ایک شرط پر باہر آنا چاؤ گی آپ اپنی آنکھیں بند کر کے میری ہلیپ کرے گے۔۔۔!!
وہ اسے کہنے لگی تو دلاور خان اسکی بات پر مسکرایا تبھی تھوڑی دیر بعد اسکی آواز اسے دوبارہ سنائی دی تو وہ ڈور اوپن کرتا اندر داخل ہوا جبکہ اسنے آنکھیں بند نہیں کیے تھے اگر وہ بند کرتا تو اسکی کیسے ہلیپ کرتا لیکن اسے دیکھ کر ایک لمحے کو ٹھہر گیا کیونکہ وہ اسکی بلیو شرٹ میں ملبوس اتنی حسین لگ رہی تھی کہ نا چاہتے ہوئے بھی اسے اپنی آنکھیں بند کرنی پڑی۔۔
“آپ کچھ کہہ کیوں نہیں رہے ہیں۔۔۔!!
فروہ اسکی قدموں کی آواز سے سمجھ گئی کہ وہ اندر آ چکا ہے وہ سٹپٹا کر ہاتھ نیچے کرتی شرٹ کو کھینچ کر اپنے گھٹنوں کو اس سے چھپانے لگی۔۔
“چلو باہر چلتے ہیں۔۔۔!!
وہ اندازے سے آگے بڑھا اور اُسے شانوں سے پکڑ کر ہاتھ سامنے دیوار پر رکھتا اندازے سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگا جسکے نتیجے میں اسکے مضبوط شولڈر اس کے نازک شولڈر سے مس ہوئے تو فروہ کے تن بدن میں ایک لرز بھرپہ ہوئی اور نروس ہو کر اپنے ہاتھ اسکی کمر کے گرد سختی سے کھس کر خود کو سنبھالتی اسکے ساتھ ساتھ قدم ملانے لگی۔۔۔
“پہنچ گئے تُم ریسٹ کرو میں باہر ہو۔۔۔!!
وہ اسے بیڈ پر لیٹا کر اسکے اوپر کمفرٹ اھوڑا کر کہتے ہوئے دور ہوا اور تیزی سے روم سے باہر نکلا جبکہ فروہ کی ڈھرکنیں اٹھل پتھل ہو رہی تھی اسکی موجودگی کی وجہ سے پھر ڈور بند ہونے کی آواز پر اپنے چاروں اطراف میں ایک سکون محسوس کرتی آنکھیں سختی سے میچ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔
دوسری طرف دلاور باہر لاؤنج میں آکر اپنی ڈھرکنوں کی شور سے پریشان ہو کر جیب سے سگریٹ نکال کر لبوں سے لگاتا اپنے شور دیدہ جزبوں پر جیسے ٹھنڈا پانی پیھنکنے لگا جبکہ اسکا آنگ آنگ شدت سے سلگ رہا تھا۔۔۔۔اُسکی قربت کے لیے اُسکی سانسوں کو اپنی سانسوں میں بسانے کےلئے وہ اپنی کنپٹی کو سہلا کر صوفے پر گر کر آنکھیں موند کر اپنے حساب کو ڈھیلا چھوڑنے لگا سب احساسات کا جیسے گلا گھونٹنے لگا۔۔مگر آخر میں بے بس ہو گیا آخر وہ کب تک اُس حسین بھلا کی قربت سے خود کا پیچھا چھڑا سکتا تھا کیسے وہ اپنے ان شور دیدہ جزبوں کو سُلا سکتا تھا جو چیخ چیخ کر اسکی قربت کو پانے کے لیے کسی ضدی بچے کی طرح مچل رہا تھا۔۔۔دل کے طوفان سے لڑ کر وہ اپنی سُرخ خماری لیے آنکھوں کو کھول کر یکدم سے صوفے سے اٹھا اور روم کی جانب بڑھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔اپنی محبوب بیوی کی قربت لمس کو محسوس کرنا چاہتا تھا۔۔۔وہ صرف اس وقت اسکی سرخ خمار بار نظروں سے لگ رہا تھا کہ آج یا تو فتح ٹھہرے گا یا خالی ہاتھ رہ جائے گا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“تُم اتنے غافل کیسے ہو سکتے ہو اوراد مرزا وہ اتنے قریب آ چکے ہیں کہ اب اگر کوئی انہیں جدا بھی کر دے تو وہ کبھی زندہ نہیں رہ سکے گے ایک دوسرے کے بغیر۔۔۔!!
زرمین غصے اور جنون کے مارے اوراد کے گھر میں داخل ہوتیں ہی اسے گردن سے پکڑ کر غراتی ہوئی بولی۔۔۔
“یہ تُم کیا کر رہی ہو چھوڑو مجھے۔۔۔!!!
اس وقت وہ طاقتور مرد بھی اُس نازک لڑکی کی گرفت سے اپنی گردن آزاد نہیں کرا سکا تو بے بسی سے چیخ کر اپنے ہاتھوں سے اسکے مضبوطی سے پکڑے ہاتھوں کے اوپر رکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“وہی جو مجھے پہلے ہی کرنا چاہیے تھا۔۔۔لیکن ابھی بھی میرے پاس وقت ہے تم جیسے گند کو صاف کرنے کا ہاں مرتے ہوئے یہ بات سنتے جانا کہ تُم عاشق نہیں ایک لالچی انسان ہو جو ایک لڑکی کو اپنی ہوس اور دوسری کو اسکی دولت جو کہ اسکی نہیں ہے حاصل کرنا چاہتے ہو۔۔۔!!!
اوراد مرزا کا قصہ شاید آج ختم ہونے جا رہا تھا جو وہ سنکی اور دیوانگی کی حدوں کو پار کرتی لڑکی کے ہاتھوں اپنی آخری سانسیں گھن رہا تھا۔۔۔
“پلیز مجھے چھوڑ دو۔۔۔میں وعدہ کرتا ہوں۔۔۔اُس لڑکی کو اردشیر سے الگ کر دو گا۔۔۔اور تمہیں تمہارا پیار لوٹا دو گا ۔۔۔!!!
وہ کانپتے ہوئے آخری بار اس سنکی لڑکی سے التجا کرنے لگا جو وہ سر سختی سے نفی میں ہلاتی اسکی التجا کو رد کرتی اسکی گردن پر دباؤ اور سختی سے بڑھانے لگی۔۔۔
“اب میں خود یہ سب کرو گی میرے پاس ابھی دو مہرے ہیں جن کی مدد سے میں اس لڑکی کو اپنے عشق سے الگ کر دو گی۔۔۔!!
وہ اوراد مرزا کے مردہ جسم کو دیکھتی آخر میں دیوانوں کی طرح ہنستی ہوئی خود سے بڑبڑاتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“کیا احمد انکل نے اسطرح میرا ویلکم کروانے تُمہیں یہاں بھیجا تھا۔اور یہ تُم کس طرف دیکھ رہے ہو یہاں دیکھو میری طرف ارے یار میں ایک بہت خوبصورت ہو بدصورت نہیں جو تم مجھ سے منہ موڑ رہے ہوں۔۔؟؟
سن گلاسز سر پر تھکا کر نظریں ترچھی کرکے اُسے سر سے پیر تک گھورنے لگی۔۔۔۔۔۔ جو سفید شلوار قمیض میں ملبوس سیاہ واسکٹ پہنے آنکھوں میں بے فنا سرد مہری کی چھاپ سجائے سامنے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“تمیز سے لڑکی میں تُم سے پورے دس سال بڑا ہو۔۔!!
براؤن آنکھوں میں سُرخ ڈورے لیے وہ مڑ کر انگلی اُسکی طرف کرتا سرد مہر لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔۔ وہ اُسکی گھنی مونچھوں تلے سختی سے ایک دوسرے میں بھینچے عنابی لبوں کو دیکھتی اور اسکی گھمبیر مگر سخت آواز کو سُن کر مہبوت ہو کر اسکی جانب دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔۔۔
” Mèilì nán۔۔۔۔۔!!
مشائم لبوں سے یہ چائینیز الفاظ ادا کرتی مسکرانے لگی زرنگ خان تو اسکی لبوں سے ادا ہوتے لفظوں پہ ساکت رہ گیا کیونکہ وہ سمجھ گیا تھا اسکا معنی۔۔۔
“لڑکی میں نہیں ہو وہ جسے تُم سمجھ رہی ہو وہ اس وقت اپنی بیوی کے پاس ہے سمجھی اور خبردار اگر دوبارہ تُم نے یہ الفاظ منہ سے ادا کیا تو گلا دبا دو گا۔۔۔!!
وہ تو اسکے کمنٹ پر آگ بگولہ ہوگیا تھا غصے سے اُسکے قریب آکر اسے غصیلی نظروں سے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں اسے باور کرانے لگا کیونکہ وہ سمجھ رہا تھا۔۔سامنے کھڑی لڑکی اسے دلاور خان سمجھ کر یہ کمنٹ اسے پاس کر رہی تھی۔۔۔
“کیوں تُمہیں چارمنگ مین پسند نہیں آیا اوکے کوئی اور کہتی ہو ویسے پتہ ہے یہ چائینیز لینگویج میں نے اپنے مین کے لیے سیکھے تھے۔۔۔اپنی دوست سے چلو میں کچھ اور ٹرائی کرتی ہوں۔۔۔!!
مشائم خان اُسکی باتوں کو نظر انداز کرتیں ہوئے بولی اور انگلی اپنے گلابی لبوں پر رکھتی کچھ اور سوچنے لگی۔۔۔زرنگ خان اسے اسطرح کرتے ہوئے دیکھتا شدید غصے سے اسے کلائی سے پکڑتا کار کی جانب بڑھا۔۔۔
“یہ سب تُم اپنے ہونے والے شوہر یعنی دلاور خان سے کہنا لڑکی سمجھی۔۔۔!!
اسے کار کے اندر تقریباً دھکیلنے کے انداز میں پیھنکتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔۔مشائم اس ظالم انسان کی سخت گرفت پر اسے گھور کر دیکھنے لگی۔۔۔
“تُم تو چارمنگ کے ساتھ کھڑوس بھی ہو………..ہائے میری کلائی۔۔!!!
وہ اسے گھورتی ہوئی آخر میں اپنی کلائی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جو اسکی سخت گرفت کی وجہ سے سرخ ہوگئی تھی
روہانسی انداز میں بولی۔۔۔۔
“خاموش بلکل چپ ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو میں اب کے تُمہیں کار سے باہر پھینک دونگا سمجھی۔۔۔۔!!
وہ اسکے پٹر پٹر بولنے کی وجہ سے کار کو کنارے پر روکتے ہوئے اسے سخت نظروں سے گھور کر وارننگ دیتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“Cánkù de..”
(ظالم)
وہ منہ بناتی اسے گھورتی ہوئی بڑبڑا کر اسے ایک اور نیا خطاب دیتی رخ موڑ کر غصے سے شیشے سے باہر کے منظر کو دیکھنے لگی۔۔جو سپاٹ چہرے کے ساتھ ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“کون ہو تُم اور ہمیں یہاں کیوں بلایا ہے۔۔۔؟؟
انصر ملک نے سامنے دلکش و حسین لڑکی کو دیکھتے ہوئے پوچھا جبکہ لورین اسکی خوبصورت اسکن سے متاثر ہوگئی تھی اسی لیے وہ اسے گھور کر دیکھ رہی تھی۔۔زرمین اس لڑکی کی نظروں کو خود پر محسوس کرتی اسے دیکھنے لگی۔۔
“تُم اوراد مرزا کی ہونے والی بیوی ہو نا۔۔۔؟؟
زرمین انصر ملک کو اگنور کرتی لورین سے مخاطب ہوئی جو کہ اب اُسے حیرت سے دیکھنے لگی تھی۔۔
“تُم ہمارے بارے میں اتنا کیسے جانتی ہو۔کون ہو تُم اور چاہتی کیا ہو۔۔؟؟
لورین نے اسے ابکے سر سے پیر تک گھورنے لگی اور اسے اسکے مہنگے کپڑوں سے اندازہ ہوگیا کہ وہ کوئی مضبوط بیگ گراؤنڈ سے تعلق رکھتی ہے جبکہ زرمین مسکراتی ہوئی ان دونوں باپ بیٹی کو دیکھنے لگی۔۔
“پتہ چل جائے گا پہلے یہ تو دیکھو۔۔۔!!
وہ ٹیبل پر اپنا فون رکھتے ہوئے انہیں دیکھتی ہوئی مسکرانے لگی۔۔تو انصر ملک سے پہلے لورین نے آگے بڑھ کر اسکا فون اٹھا کر وہ وڈیو اوپن کی جس میں اوراد مرزا احترام کر رہا تھا کہ وہ لورین کو صرف اسکی دولت کے لیے یوز کر رہا تھا جبکہ وہ بریا سے محبت کرتا تھا یہ دیکھ کر لورین نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر فون دور اچھالا۔۔۔
“اب پتہ چل گیا ہوگا تُم لوگوں کو کہ میں کیا چاہتی ہو۔۔اُس لڑکی نے نا صرف تُمہارا پیار تُم سے چھینا ہے بلکہ مجھ سے میرا عشق بھی چھینا ہے۔۔۔۔۔میں صرف اسے برباد ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہو۔۔اور انصر صاحب تمہیں تو تمہاری بیٹی نے دھوکا دیا ہے۔۔۔۔پھر تم کیسے خاموش رہ سکتے ہو۔۔تم بھی کچھ ایسا کرو کہ اسے پتہ چلے کہ دھوکے کا انجام کیا ہوتا ہے۔۔۔!!
وہ خوبصورتی سے ان دونوں کو بھڑکانے لگی جو بھڑک چکے تھے کیونکہ ان کے تاثرات بہت زیادہ خطرناک ہوگئے تھے ۔
“اُسے میں بہت جلد اسکی اصلی جگہ پہنچاؤ گی۔بہت شوق ہے نا مردوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی اب میں اسے اسکی اصل اوقات دیکھاؤ گی۔۔۔!!
لورین نفرت سے بریا کو سوچتی ہوئی سرد لہجے میں کہنے لگی زرمین اسکی آنکھوں میں نفرت کے جلتے بجھتے شعلے دیکھ کر پرسرار انداز میں مسکرانے لگی۔۔
“لیکن یہ کام تُم یہاں رہ کر کیسے کروں گی۔۔۔۔۔ وہ تو پیرس میں اپنے شوہر کے ساتھ انجوائے کر رہی ہوگی بہت خوش ہے وہ وہاں اپنے پیار کے ساتھ یہ دیکھو اسکے چہرے کی چمک ۔۔!!
زرمین نے کچھ تصویریں ٹیبل پر پیھنکتے ہوئے اسے دیکھایا جو اسکے بھیجے گئے اسپائی نے بھیجے تھے۔۔
“یہ تو اچھی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اُس شخص کے سامنے سے اسے لے کر جاؤ گا اسنے مجھے برباد کیا ہے تھوڑا برباد ہونے کا حق اب اسکا بھی بنتا ہے۔۔۔!!
انصر ملک نے تصویریں اٹھا کر اردشیر اور بریا کے چمکتے چہرے کو دیکھتے ہوئے نفرت سے کہا۔۔۔اب کون برباد ہونے والا تھا یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“جلدی سے اس جگہ پر پہنچو ڈارلنگ میں ویٹ کر رہا ہوں۔۔۔!!
وہ ہوٹل کے روم میں اکیلی بیٹھی اسکا انتظار کر رہی تھی جو اسے ہاسپٹل سے ہوٹل پہنچا کر خود کسی سے ملنے گیا تھا اور اسے گئے ہوئے کافی دیر ہوگئی تھی وہ پریشانی سے روم سے باہر نکل کر ٹہلتی ہوئی بے چینی سے اسکا انتظار کرنے لگی تبھی وہاں ایک شخص نے آکر اسے ایک لفافہ دیا تو اسنے لفافہ کھول کر اندر رکھے کاغذ کو نکالا جس پر لکھا تھا وہ پڑھ کر تیزی سے ہوٹل سے باہر نکلی اور ایک ٹیکسی پکڑ کر اسے چٹ پر لکھے اڈریس کو دیکھا کر خود پیچھے بیٹھی۔۔
“آپ کہاں ہے شیر۔۔؟؟
وہ دل میں کہتی اُسے آس پاس ڈھونڈے لگی۔۔۔۔۔۔۔تبھی اسے پیچھے کسی کی قدموں کی چاپ سنائی دی تو وہ مسکرا کر پیچھے مڑی تو سامنے انصر صاحب کے ساتھ لورین کو دیکھتی وہ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹنے لگی۔۔
“کیا ہوا تُم ڈر گئی ہمیں یہاں دیکھ کر سوری ہمیں تمہیں ڈرانے کا کوئی بھی ارادہ نہیں تھا ہم تو بس یہاں تمہیں اور تمہارے شوہر کو بے دردی سے درد دے کر جدا کرنے کے لیے آئے ہیں ابھی آتا ہوگا۔۔۔۔ تمہارا محبوب شوہر پھر شروع ہوگا ہمارا بدلا۔۔۔!!
انصر صاحب نے نفرت سے بریا کو دیکھتے ہوئے کہا جو انکی نظروں سے سخت خوفزدگی سے پیچھے ہٹ رہی تھی تبھی اسے پیچھے سے اردشیر کی آواز سنائی دی جس میں اُسکے لیے تڑپ صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔۔۔
“بریا۔۔۔!!
اردشیر کو کسی نے کال کر کے وہاں بلایا تھا تو وہ جس سے ملنے گیا تھا وہاں سے اس شخص سے ملے بغیر وہ یہاں چلا آیا تھا۔۔۔
“نہیں شیر نہیں۔۔۔!!!
اردشیر جو اسکی جانب بڑھ رہا تھا پیچھے سے دو چار آدمیوں نے بڑھ کر اُسکے سر پر ایک لوہے کے راڈ سے وار کرتے ہوئے اسے بری طرح غائل کرتے ہوئے اسے بے دردی سے مارنے لگے۔۔۔۔بریا یہ دیکھتی حلق کے بل چیخ اٹھی اور اسکی زور دار چیخ سُن کر انصر ملک اور لورین کے ساتھ ساتھ اردشیر بھی شاکڈ رہ گیا جبکہ بریا تڑپتی ہوئی تیزی سے اسکی جانب بھاگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اردشیر تو ان غنڈوں سے مار کھاتے ہوئے ساکت نظروں سے اسے اپنی طرف بھاگتے ہوئے آتے ہوئے دیکھ رہا تھا اسکے کانوں کو بلکل بھی یقین نہیں ہو رہا تھا کہ کچھ دیر پہلے بریا نے اسکا نام لیا تھا۔۔۔
“کہاں جا رہی ہو تُم لڑکی اتنے سارے دھوکے دیے اسکا حساب کون دے گا ہاں۔۔۔جب تُم بول سکتی تھی۔۔۔۔تو کیوں ہم سے یہ راز تُم نے چھپایا تھا ہاں بتاؤ۔۔۔!!
انصر ملک نے آگے بڑھ کر اُسے ایک زور دار تھپڑ رسید کرتے ہوئے پوچھا اردشیر جو ابھی تک شاک سے نہیں نکلا تھا اسی طرح بریا کی طرف دیکھ رہا تھا انصر ملک کے زور دار تھپڑ سے وہ چونکا اور غور سے اس جانب دیکھنے لگا جہاں انصر ملک بریا کو بری طرح سے مار رہے تھے یہ دیکھ کر وہ غصے سے غرایا۔۔۔جبکہ اتنا مار کھانے کی وجہ سے اب وہ اپنے ہاتھ پیر ہلانے سے بے بس ہوگیا تھا۔۔۔
“چھوڑ کتے میری بیوی کو ورنہ تمہاری اور تمہاری دوسری بیوی کی بیٹی کو یہی دفنا دونگا۔۔۔!!
اردشیر نے نفرت سے لورین اور انصر ملک کو گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہا تو اسکی بات پر انصر ملک کے ساتھ لورین بھی زور دار قہقہہ لگا کر ہنسنے لگی۔۔۔
“پہلے خود کو تو میرے آدمیوں سے بچاؤ اس بار میں نے پورا انتظام کیا ہے۔۔۔ پہلے تمہارے پاؤں توڑے ہیں پھر ہاتھ کیونکہ اسطرح تم اپنی بیوی کو اپنی نظروں کے سامنے سے خود سے دور ہوتے ہوئے دیکھوں گے۔۔۔۔۔لورین لے کر جاؤ اس بدکردار کو اسکی اصل جگہ پر۔اب تم دونوں پریمیوں کا قصہ ختم ہوگیا ہے۔۔تم ساری زندگی اپنی بیوی کو سوچ سوچ کر اسی طرح معذور رہ کر گزاروں گے۔۔۔!!
انصر ملک نے آگے بڑھ کر اردشیر کے پاؤں پر اپنے پیر رکھ کر اسکے زخموں پر دباؤ بڑھاتے ہوئے نفرت سے کہا۔۔۔اردشیر کی دھندلی ہوتی نظریں خود سے دور ہوتی اپنی بریا پر تھی جسے لورین گھسیٹ کر وہاں سے لے کر جا رہی تھی۔۔
بریا مت جاؤ پلیز رک جاؤ۔۔!!!
وہ اپنے خون سے بھیگے ہاتھ آگے بڑھا کر بریا کو دور ہوتے ہوئے دیکھکر تڑپ کر ہلکی آواز میں اسکا نام پکار کر کہنے لگا۔۔۔تبھی سر پر زور دار راڈ لگنے کی وجہ سے وہ اپنا ہوش و حواس کھونے لگا۔۔