Rate this Novel
Episode 1
“آنکھیں پھاڑے کیا دیکھ رہی ہو منہ کھولو اپنا میری ڈرنک میں تُمہی نے ہی ڈرگز ملائی تھی ناں تاکہ تُم صبح ہوتے ہی مجھے بلیک میل کر سکو مگر افسوس میں کوئی بے وقوف نہیں ہو۔!!
وہ گلابی چہرے والی معصوم نظر آنی والی لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔تبھی اُسکی پلکیں واں ہوتیں ہی وہ بھڑکتے ہوئے آگے بڑھا اور اُسکے چہرے کو سختی سے تھام کر ہاتھ میں موجود پریگنینسی روکنے والی میڈیسن کو اُسنے زبردستی اُسکے منہ میں ڈالا اور پیچھے جا کر کھڑا ہوا۔۔
وہ لڑکی اپنے چکراتے سر کو تھام کر اپنی خوبصورت نیلی آنکھوں کو کھولکر سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے لگی جو شکل سے ہی اُسے ایک اثر ورسوخ رکھنے والا انسان لگا ۔مگر اُسکے زبردستی کوئی میڈیسن کھلانے پر وہ ہاتھ سے کچھ اشارہ کرنے لگی جسے مقابل سمجھ نا سکا تو غصے سے لال ہوگیا۔۔
“تُم میوٹ ہونے کا ناٹک کر کے خود کو مجھ سے بچانا چاہتی ہو۔۔؟تو سن لو میں اس جال میں پھنسنے والا نہیں ہو۔جلدی سے یہ میڈیسن کھا کر یہاں سے چلی جاؤ۔۔!!
وہ لڑکی اپنی نیلی آنکھوں میں نمی لیے مقابل کھڑے اجنبی شخص کو دیکھتی سامنے بیڈ سائیڈ پر رکھے اپنے فون کو اٹھا کر اُس میں کچھ لکھ کر اُسکے آگے موبائل بڑھا کر اُسے اپنی نم آنکھوں سے دیکھنے لگی۔۔تو اسکرین پر لکھے لفظ کو مقابل اونچی آواز میں پڑھنے لگا جو کچھ یوں تھا۔۔۔
“دیکھیں آپ جو کوئی بھی ہے۔۔۔۔۔ ہمارے درمیان کل رات کو ایسا ویسا کچھ بھی نہیں ہوا ہو ہی نہیں سکتا مجھے یقین ہے۔۔۔خود پر پپ۔پلیز مجھے جانے دیں۔اا۔اور میں میوٹ ہونے کا ناٹک نہیں کر رہی میں بچپن سے ہی ایسی ہو۔۔۔!!
اسکرین سے نظریں ہٹا کر وہ اُس بے وقوف لڑکی کو دیکھنے لگا۔۔جو خود کے اور اُسکے برباد ہونے کو بڑے یقین کے ساتھ مان ہی نہیں رہی تھی۔۔
“کتنی معصوم ہو۔۔۔تُم یہ مجھے تُمہارے میسج پڑھ کر اندازہ ہوگیا لیکن تُمہارا یقین اُس وقت ٹوٹے گا۔۔۔۔۔۔۔جب تُم دو تین ماہ بعد میرے گھر آؤ گی۔۔۔۔وہ تُم اچھے سے جانتی ہو۔۔کس وجہ سے یہ میں اب بتا نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔اتنی تو تُم سمجھدار ہوگی۔۔!!
اُسنے سنگ لینگویج ایک سال پہلے اپنے کچھ میوٹ ایمپلائز کی آسانی کے لئے سیکھا تھا اُسی لیے وہ اب اُس لڑکی سے اُسے کے لینگویج میں بات کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔جبکہ وہ لڑکی اُس شخص کی بات پر بلش کرتی نظریں چرانے لگی۔۔
“اب بلش کیوں کر رہی ہو۔۔یہ جو رائتہ ہمارے لیے جس نے بھی پھیلایا ہے۔۔مجھے اُسکا پتہ کرنا ہے۔۔۔لیکن اُسکے لیے تُمہیں پہلے یہ میڈیسن کھانا ہوگا۔۔۔۔تاکہ وہ جو کوئی بھی ہو۔۔۔ اپنے پلان میں ناکام ہو جائیں وہ یہی چاہتا ہے۔۔کہ تُم میرے بچے کی ماں بنوں۔۔اور مجھے شک ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔اس میں تُمہارے کسی قریبی کا ہاتھ ہے۔وہ مجھے تُمہیں یوز کر کے بیلک میل کرنا چاہتا ہے۔۔مگر وہ بھول چکا ہے۔۔۔۔کہ میں کون ہوں۔۔؟؟
مقابل کی سیاہ آنکھوں میں غصے کی وجہ سے چنگاریاں دیکھتی وہ لڑکی ڈرنے لگی۔۔جبکہ وہ اسے دیکھ نہیں رہا تھا کیونکہ وہ نیچے جھکا وہ میڈیسن اٹھا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔جو اُسنے اُسکے زبردستی کرنے کی وجہ سے نیچے پھینک دئیے تھے۔۔۔۔۔
“اوکے۔۔!!
اچانک سے اُسکے مان کر منہ میں میڈیسن رکھنے سے چڑ کر غصے سے اُسکی پنکھڑیوں کی مانند نرم و ملائم ہونٹوں پر جھکا اور تیز گہری سانس لے کر میڈیسن اپنے منہ میں لے کر اپنی حلق میں اتار گیا۔۔اُسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔۔کہ یہ غصہ اُسے اپنی اُسی روٹین کی وجہ سے ہوا تھا۔۔۔۔جسکی وجہ سے اُسے آئیں دن کسی نا کسی چھوٹی بات پر آتا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔یا پھر اس وجہ سے کہ اس لڑکی نے اتنی آسانی سے میڈیسن کھانے کی اُس سے نا صرف ہامی بھری بلکہ اسی کے سامنے وہ میڈیسن منہ میں لے بھی لیا۔۔۔ کس وجہ سے وہ اتنا غصہ کر رہا تھا اس وقت وہ سمجھنے سے کاثر تھا۔
“ایڈیٹ گرل کیا تُم میرے بچے کی ماں بننا نہیں چاہتی ہو۔۔۔جو یہ میڈیسن کھا رہی ہو؟؟
وہ آخر اپنے غصے پر کنٹرول نا رکھ سکا اور اُسے شانوں سے پکڑ کر بُری طرح سے جھنجھوڑ کر سرد لہجے میں اُس سے پوچھنے لگا۔جبکہ وہ آنکھیں پھاڑے اِس سائیکو انسان کو دیکھنے لگی۔۔۔۔جو کچھ دیر پہلے خود ہی زبردستی اُسے یہ میڈیسن کھلانے پر بضد تھا۔۔اور اب خود ہی چاہتا ہے۔کہ وہ اسکے بچے کی ماں بنے۔۔
“آآآآپ ہی نے تو کہا کہ مجھے یہ میڈیسن کھانے پڑے گی۔۔؟؟
وہ لڑکی انگلی سے اشارہ کرتی اُسے حیرت سے دیکھنے لگی جو آگ برساتی نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“میں نے کہا اور تُم نے مان لیا،ابھی صرف مجھے اُس انسان کو ڈھونڈنا ہے،جس نے ہمارے ساتھ گھٹیا مزاق کیا ہے۔اور تُم اب یہاں سے میری اجازت کے بغیر باہر نہیں جا سکتی۔۔!!
سیاہ آنکھوں میں غصہ لیے اپنی قیمتی واچ کو کلائی سے اتار کر بیڈ پر پیھنکنے کے بعد اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا تو وہ لڑکی ڈر کر پیچھے بیڈ کراؤن سے جا ٹکرائی۔۔
“کیا ہوا تُم اتنا ڈر کیوں رہی ہو.؟؟
اُسکی نظریں جب نیلی آنکھوں میں پڑی تو اُسکے ہاتھ شرٹ کے بٹن کھولنے کے بعد شرٹ اتارنے سے انکاری ہو گئے۔۔
“آپ آااپ یہ کیا کر رہے ہیں۔؟؟
وہ لڑکی الٹا اُس سے سوال کرنے لگی۔تو اُسکے سوال پر اُسکی پیشانی پر یکدم سے بل نمودار ہونے لگے۔۔اور وہ لڑکی اُسکے مضبوط کاٹھی کو دیکھتی شرم سے نظریں مسلسل جھکا رہی تھی۔۔۔
“انففف میں اِس وقت نشے میں نہیں ہو۔۔۔۔۔اور کل رات جو کچھ بھی ہمارے درمیان ہوا تھا۔۔۔۔وہ ڈرگز کی وجہ سے ہوا تھا۔روک تو تُم بھی خود کو نہیں پائی تھی۔۔۔تو اب اس طرح معصوم بننے کا ناٹک کیوں کر رہی ہو۔۔؟؟
وہ شرٹ کو نیچے پھینکتا غصے سے اُسکے بے حد قریب بڑھا اور سختی سے اُسے دونوں شانوں سے پکڑتا۔۔۔۔ وہ سُرخ آنکھوں کو نیلی خوفزدہ آنکھوں میں ڈالتا شدید غصے سے بولنے لگا۔۔۔
“مممممممم۔۔میں ناٹک نہیں کر رہی،اور میں ابھی بھی معصوم ہی ہو۔۔۔۔۔آپ کیوں یہ سب یاد دلا کر مجھے ڈرا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اور پلیز مجھے جانے دیں میں کل رات کے بارے میں کسی سے نہیں کہوں گی ٹرسٹ می۔۔۔!!
خود کو اُسکی مضبوط پناہوں سے چرانے کی کوشش میں ہلکان ہو کر اپنی نم آنکھوں کو اوپر اٹھاتی ہوئی دوسرے ہاتھ کی مدد سے اُس سے اشارہ میں کہنے لگی۔۔
“تُم یہاں سے جانا چاہتی ہوں۔۔پتہ ہے یہاں سے نکلتے ہی تُمہارے اپنے ہی پہلے تُم پر کیچڑ اچھالے گے۔۔!!
گلابی ہونٹوں کی لرز سے اپنی نظریں ہٹاتا نرم لہجے میں کہنے لگا جبکہ وہ معصوم اپنی زندگی میں پہلے سے اتنے غم دیکھتی آ رہی تھی۔اب یہ بات جان کر تو وہ لوگ اُسے جان سے ہی مار ڈالے گے۔اُن سب کا خیال آتیں ہی وہ اُسکی گرفت میں جھٹپٹانے لگی۔۔
“مجھے پھر بھی جانا ہے۔۔اور یہ اب تو میری عادت بن چکی ہے۔اُنکی باتیں اور مار سہنے کی اب میں سہہ لوں گی۔مگر اسطرح بدنامی سے تو بچو گی۔!!
آنکھوں میں ڈر لیے بولی تو مقابل نے غصے سے اپنی مٹھیوں کو کھستے ہوئے اُس سے دور جا کھڑا ہوا اور سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔
“میں تُمہیں ابھی وقت دے رہا ہوں۔ابھی میری ایک امپورٹنٹ میٹنگ ہے۔میں دو دن بعد آؤ گا۔اور اگر تُمہارا فیصلہ نہیں بدلا تو میں تُمہیں جانے دو گا۔پھر تمہارے ساتھ جو بھی ہوا اس میں میں زمہ دار نہیں ہونگا۔۔!!
وہ لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو اسکی بات پر اب مطمئن نظر آ رہی تھی اور یہی چیز اسے شعلوں میں نجانے کیوں دھکیل رہی تھی۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“where is that girl…??
وہ تین دن بعد جب زیگن میشن میں داخل ہوا تو اُسے نا پاکر اپنے عالیشان بیڈ روم سے نکل کر سیدھا گارڈز کی فوج کو جما کرنے کے بعد اُن پر بھڑک اٹھا سب اُسکی سیاہ آنکھوں میں اتنا غصہ دیکھ کر ڈرتے ہوئے پیچھے ہٹنے لگے۔۔
“کہاں مر گئے تھے۔۔؟؟؟ تُم سب جب وہ یہاں سے بھاگ نکلی تھی۔۔۔میں کس بات کا تُم لوگوں سیلری دیتا ہوں ہاں ایک کام تُم سب ڈھنگ کی نہیں کر سکتے اگر وہ مجھے ابھی کے ابھی یہاں میرے میشن میں نہیں ملی تو میں تُم سبکو فائر نہیں بلکہ سیدھا کسی ٹرین کے نیچے لیٹا دو گا سمجھے۔۔؟؟
اُن میں سے ایک گارڈ کو سختی سے کالر سے پکڑتا وہ غرایا تو سب اُسکی آواز پر لرز کر رہ گئے جبکہ اب وہ شدید غصے سے پیچھے ہوتا سگریٹ سلگانے کے بعد سوچنے لگا کہ وہ لڑکی آخر کون تھی اور اب کہاں جا سکتی ہیں۔۔؟؟
“بے وقوف لڑکی کہا بھی تھا میں نے۔۔۔۔ کہ میرے آنے کے بعد کوئی فیصلہ کرنا لیکن شاید تُمہیں خود پر بہت زیادہ یقین ہے۔۔اب جو بھی ہوگا تُمہارے ساتھ مجھے اُس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۔ آئی ڈونٹ کئیر۔۔!!
وہ پیشانی کو پریشانی سے مسلتا اِدھر اُدھر چکر لگاتے ہوئے بڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہہ تو اُسنے آرام سے دیا کہ اُسے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۔لیکن اب بار بار وہ یہی سوچ رہا تھا کہ وہ اِس وقت کس حال میں ہوگی۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں اُسکے گھر والوں نے اُسکے ساتھ کیا سلوک کیا ہوگا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“آ گئی یاد گھر کی تُمہیں نمک حرام لڑکی۔۔!!
وہ ڈرتی ڈرتی اپنے قدم ملک ولا میں ڈالتی خوفزدگی سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔کہ پیچھے سے کسی کی کرخت آواز پر وہ سختی سے اپنی آنکھیں میچ گئی تھیں۔۔۔
“مم۔مما۔۔!!
ڈرتی ڈرتی وہ آنکھیں کھولتی پیچھے پلٹ کر سامنے کھڑی عورت کو جو اُسکی سوتیلی ماں تھی۔دیکھتی ہوئی انگلی سے اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
“خبردار ۔۔۔۔۔۔۔خبردار اگر تُم نے مجھے ماں کہا نہیں ہو میں تُمہاری ماں کتنی بار کہنا پڑے گا مجھے کہ تُمہاری ماں بھاگ گئی تھی اپنے عاشق کے ساتھ اور تُم مصیبت کو میرے گلے میں لٹکا کر شاید وہ اب مزے کر رہی ہوگی۔!!
وہ عورت ہمشیہ کی طرح آج بھی اُس پر طنز کے نشتر چلا کر اُسے تکلیف پہنچا کر بہت خوش ہو گئی تھی جو چمکتی آنکھوں سے اُسکے چہرے کی رنگت بدلتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“پلیز آپ اُنکا نام مت لیں وہ اب مر چکی ہے۔۔آپ جانتی ہے۔پھر بھی اس طرح کی باتیں کیوں کرتی ہے۔۔اور میری ماں ایسی بلکل بھی نہیں ہے۔کیوں آپ بار بار اُنہیں بدنام کرتی ہے۔۔!!
وہ اپنے موبائل فون میں دھندلی نظریں ڈال کر تیزی سے یہ سب لکھنے کے بعد اپنا موبائل اُس عورت کے آگے کرتیں نم آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگی۔۔
“اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔!!! دو دن تُم باہر رہ کر یہ سب سیکھ کر آئی ہوں۔کیا بھول گئی وہ سب جو میں تُمہارے ساتھ کرتی تھی۔۔؟؟
وہ آگے بڑھ کر سختی سے اُسے بالوں سے جکڑ کر سرد لہجے میں کہنے لگی جبکہ وہ معصوم لڑکی اِس ظلم پر چیخ بھی نا سکی اپنی محرومی کی وجہ سے تبھی کسی نے آکر اُس بے رحم عورت کے ہاتھوں سے اُسکے ریشمی سلکی بالوں کو سختی سے جکڑا تو اُسنے اپنی سرخ نم آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اُس شخص کو دیکھا وہ اُسکا سگا باپ تھا۔جو اُسے نفرت بھری نگاہوں سے گھور رہا تھا۔۔
“کس کے ساتھ منہ کالا کر کے آئی ہو۔لڑکی تُم جس کے ساتھ تُمہیں ملنے کے لیے بھیجا تھا اس سے کیوں نہیں ملی تُم۔۔؟
وہ کہنے کو تو اُسکا باپ تھا مگر ظالم سے کم نہیں تھا ابھی بھی وہ یہ نہیں سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔کہ اُسکی بیٹی تین دن کہا تھی اور کس حال میں تھی۔وہ تو یہ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا کہ وہ لڑکی تین دن کس کے ساتھ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔اگر وہ مسٹر جمیل جو ایک مہشور بزنس مین تھا اور ایک پچاس سال کا بڈھا تھا۔۔۔اُسے اُسکی خوبصورت اور گونگی بیٹی پسند آئی تھی۔۔۔۔۔اور اُس رات کو شخص پیسوں کی خاطر اپنی بیٹی کو اس درندے کے پاس اس ہوٹل میں لے کر گیا تھا جہاں وہ بڈھا اپنی ہوس مٹانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔مگر اُس درندے کی ساری رات انتظار میں گزری۔۔۔ کیونکہ وہ جس روم میں گیا تھا وہ روم ہی غلط تھا۔۔۔اور پھر آج ہوٹل والوں سے اُسے پتہ چلا کہ اُنکی غلطی کی وجہ سے یہ ہوا تھا۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اُسکی بیٹی کو جوس میں ڈرگز ملا کر دیا تھا۔۔۔جو اُس جمیل کے پلان میں شامل تھا۔۔۔۔پھر ہوٹل کے منیجر نے ایک نوجوان کو جمیل صاحب سمجھ کر اُنہوں نے اُسکی ڈرنک میں ڈرگز ملا کر اُسے دیا۔۔۔۔۔ اور اُسے اُسی بیڈروم کی چابیاں دی جہاں وہ معصوم لڑکی ڈرگز کے نشے میں اپنا آپ بھول گئی تھی اور پھر وہ دونوں جو نشے میں تھے انہوں نے وہ سب کیا جو وہ اپنے ہوش میں رہ کر بلکل بھی پسند نہیں کرتے تھے مگر ان لوگوں کی گھٹیا پلان کی وجہ سے دو لوگوں کی عزت خراب ہوگئی تھی جسکا ان لوگوں کو بلکل بھی پرواہ نہیں تھا پرواہ اسکے باپ کو اُس بات کا تھا کہ وہ نوجوان کون تھا جس کے ساتھ اسکی بیٹی تھی۔
ہوٹل کے جس ایرے میں وہ نوجوان تھا وہاں کافی اندھیرا تھا۔۔۔۔۔ جسکی وجہ سے ہوٹل کے سی سی ٹی وی میں اُسکا چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا۔پھر دوسرے دن اُنکے ایک ورکر روم میں اُنکے لیے ناشتہ لے کر گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔بہت ناک کرنے پر بھی جب کسی نے بیڈروم کا ڈرو نہیں کھولا۔۔۔۔۔۔تو اسے مجبوراً بیڈ روم کا ڈور کھولنا پڑا تو وہاں اُسے وہ دونوں تو نہیں ملے ہاں بیڈ سائیڈ ٹیبل پر بہت سارے نوٹ اسے ضرور ملے جہنیں دیکھ کر وہ ان پیسوں کو اٹھا کر باہر نکل گیا تھا۔۔اب انصر ملک جمیل صاحب کے غصے سے ڈر رہا تھا کہ وہ بڈھا اب اپنی بے عزتی کا بدلا ان سے ضرور لے گا۔۔
“بب۔۔بابا پلیز۔۔!!
وہ معصوم لڑکی اُنکی بات پر اپنے دل پر ایک درد شدت سے اٹھتا ہوا محسوس کرنے لگی۔تبھی وہ سخت غصے سے اُسے زبردستی کھینچتے ہوئے اسٹور روم کی جانب بڑھے۔۔۔۔۔۔اور اسٹور روم کا دروازہ کھول کر اُسے اندر دھکیل کر خود باہر نکلے اور دروازہ بند کرتے ہوئے اپنی بیوی سے کہنے لگے۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“آج میری انگیجمنٹ ہے۔۔پتہ ہے کس کے ساتھ۔۔؟؟
وہ اسٹور روم میں بُری حالت میں پڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔اُسکے جسم میں کل سے کچھ نہ کھانے کی وجہ سے کمزوری سی ہو گئی تھی۔۔
تبھی ایک خوبصورت نسوانی آواز پر اُسنے اپنی نظریں اوپر اٹھا کر مقابل لڑکی کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔وہ اُسکی سوتیلی ماں کی بیٹی تھی۔۔جو اُس عورت کے پہلے شوہر سے تھی۔لیکن اُسکا باپ اُسے اپنی سگی بیٹی کی طرح مانتا تھا جبکہ وہ اُسکی سگی بیٹی تھی۔۔
“کس کے ساتھ؟؟
بمشکل اٹھنے کی کوشش کرتیں وہ دل میں ڈھیروں خدشہ لیے اُس لڑکی کو دیکھنے لگی۔۔تو مقابل کی مسکراہٹ اُسکے چہرے پر بدلتے رنگ کو دیکھ کر گہری ہوتی چلی گئی۔۔
“سویٹ بہن تُمہارے پیار کے ساتھ کر رہی ہو میں انگیجمنٹ کہا تھا نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ میں تُم سے تُمہارا سب کچھ چھینو گی۔۔تُمہارا باپ جائداد اور تُمہارا سب کچھ آج میرے نام ہو چکے ہیں اب تُم کیا کرو گی۔۔؟؟
لورین ملک نے اپنی خوبصورت بادامی آنکھوں میں اُسکے لیے نفرت جما کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“نہیں تُم ایسا نہیں کر سکتی ہو۔۔۔ میرے اوراد کو مجھ سے چھین نہیں سکتی۔۔یہ میں نہیں ہونے دو نگی۔۔۔۔۔۔اور وہ تُم سے کیسے انگیجمنٹ کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔وو۔۔۔۔۔۔وہ تو مجھ سے محبت کرتا ہے..؟؟
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے کھڑی اپنی زندگی کی سب سے بڑی دشمن کو دیکھتی ہوئی اشارے سے کہنے لگی۔
“بریہ ملک تُم کتنی بھولی ہو نا قسم سے بھلا وہ مرد کیوں ایسی لڑکی سے شادی کرے گا۔۔؟؟جو پہلے ہی کسی اور مرد کے ساتھ رات گزار کر آئیں ہو۔۔اوراد اب تُم سے صرف نفرت کرتا ہے۔۔محبت اب وہ صرف لورین خان سے کرتا ہے۔۔!!
وہ نیچے جھکتی سختی سے اُسے ٹھوڈی سے پکڑ کر کرخت لہجے میں بولی۔۔۔۔۔۔تو اُسکی بات پر اُسکی آنکھیں نم ہوتی چلی گئی۔۔۔۔تبھی باہر سے قدموں کی آواز پر لورین خان نے اچانک سے اُسکے دونوں ہاتھ اپنی گردن پر رکھتے ہوئے زور زور سے چیختے ہوئے کہتی وہ رونے کا ڈراما کرنے لگی۔بریہ تو اُسے صرف آنکھیں پھاڑے دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔۔
“یہاں کیا ہو رہا ہے۔۔؟؟
اوراد مرزا کی سخت آواز پر لورین خان نے اُسے جھٹکے سے پیچھے دھکیلا اور تیزی سے اٹھتی ہوئی وہ اُسکے سینے سے لگ کر روتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔
“آآ آوری یہ بب۔۔۔بریہ ہماری انگیجمنٹ کا سن کر پاگل ہوگئی ہے دیکھیں میرا گلا دبا کر مجھے مارنا چاہتی ہے۔۔۔آپ ایسے کیوں کھڑے ہیں یہاں سے چلے یہ سچ میں پاگل ہوگئی ہے۔۔۔آپکی رین کو اسنے ہرٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔اب کہی یہ غصے میں آکر آپکو بھی ہرٹ نہ کر دیں چلے یہاں سے فوراً۔!!
وہ اُسے کھڑے دیکھتی زور سے جھنجھوڑ کر اپنی آواز میں لرزش لا کر بولی۔۔۔۔۔جبکہ اوراد مرزا کھڑا شدید غصے سے بریہ ملک کو گھور رہا تھا۔۔
“تُم اتنی نیچ اور وحیات لڑکی نکلوں گی۔۔۔ مجھے امید نہیں تھی مس بریہ ملک۔۔!!
اوراد مرزا کی بات پر بریہ ملک کی سُرخ آنکھوں سے ایک موتی نکل کر اُسکے گالوں پر پھسلا جبکہ لورین خان اُس لڑکی کو طنزیہ انداز میں مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔۔
“نیچ میں ہو یا یہ تُمہاری نئی محبوبہ۔۔۔۔۔۔۔۔پوچھو اس سے کہ اسنے میرے ساتھ کیا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پوچھو مسٹر اوراد مرزا۔۔؟؟
اچانک سے اُن دونوں کے قریب آ کر شدید غصے سے لورین خان کو گھورتی انگلی کی مدد سے اشارہ کرتی ہوئی کہنے لگی۔۔
“آوری دیکھا آپ نے یہ مجھے نیچ کہہ رہی ہے۔۔!!
لورین خان کو شدید غصہ آیا اُسکی بات پر تو وہ آنکھوں میں مگر مچھ کے آنسوؤں لا کر اوراد مرزا سے کہنے لگی تو اوراد مرزا شدید غصے سے بریہ ملک کے اوپر ہاتھ اٹھانے ہی والا تھا۔۔۔۔۔کہ بریہ نے ڈر کر سختی سے اپنی آنکھیں بند کر دی مگر جب اسے کوئی اور گالوں پر جلن محسوس نہیں ہوا تو اسنے اپنی آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا تو سامنے سپاٹ چہرے کے ساتھ خود کو گھورتے اردشیر زیگن کو دیکھا جو اُسے ہی گھورے جا رہا تھا۔۔۔
“ہاؤ ڈئیر یو تُمہاری اتنی ہمت کہ تُم اردشیر زیگن کی عورت پر ہاتھ اٹھاؤ۔۔!!
اردشیر زیگن کی سیاہ غصیلی نگاہیں اوراد مرزا پر جمی ہوئی تھیں جبکہ اوراد مرزا اپنے سامنے اُس شخص کو دیکھ کر سخت غصے سے پاگل ہونے لگا وہ شخص اُسکا بہت بڑا دشمن تھا ہر چیز جو اوراد مرزا کو پسند آتی تھی وہی چیز اردشیر زیگن اُس سے چھینتا آ رہا تھا اب اُسے بریہ ملک کو خود کی عورت کہنا اُسے جلانے کیلئے کافی ثابت ہوا تھا۔۔
“تُم ٹھیک ہوں جاناں۔۔؟؟
بریہ کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر اِس چھوٹے سے روم سے باہر نکال کر سامنے رکھے ایک صوفے پر بیٹھا کر خود اسکے قریب بیٹھتے ہوئے وہ اس سے پوچھنے لگا تو بریہ کے سر ہاں میں ہلانے پر نظریں دوسری طرف کی تو اوراد مرزا کو اس چھوٹے سے روم سے نکلتے ہوئے دیکھ کر اُسنے محبت سے بریہ ملک کی پیشانی کو چھوما۔۔
“سر یہاں آج انگیجمنٹ پارٹی ہے۔۔۔۔اسی لیے اس گھر کو اتنا سجایا گیا ہے۔۔!!
جب اُسے بریہ ملک کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ انصر ملک کی بیٹی ہے تو وہ اپنے گارڈز کے ہمراہ انصر ملک کے گھر کی طرف روانہ ہوا تو جب وہ یہاں پہنچا اس گھر کو اتنا سجے ہوئے دیکھ کر وہ پہلی بار ڈرنے لگا۔۔پھر اُسنے ایک گارڈ کو بھیجا پتہ کرنے کے لیے اور جب وہ گارڈ واپس نہیں آیا تو اس سے رہا نہیں گیا تو وہ اپنے باقی گارڈ کے ساتھ گھر کے اندر انٹر ہوا اور سامنے ایک چھوٹے سے روم سے شور سنتا وہ اسی جانب بڑھا مگر اندر ایک مرد کو اُسکے اوپر ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھتا وہ شدید غصے سے آگے بڑھا مگر اوراد مرزا کو دیکھ کر وہ شوکڈ ہوگیا لیکن وہ ہمشیہ کی طرح اپنے تاثرات چھپانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔۔تبھی اپنے اسی گارڈ کے وہاں آ کر یہ خبر سنانے پر وہ پلٹ کر بریہ ملک کو شدید غصے سے دیکھنے لگا اور وہ اُسکی ان نظروں سے ڈر کر صوفے کی پشت سے جا ٹکرائی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥😘😘
