52K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

“یہاں کس کی انگیجمنٹ ہو رہی ہے۔تُمہیں کون اپنا سکتا ہے جبکہ تُمہیں تو تُمہارے باپ نے بدنام کرنے کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔پھر کون نیک دل انسان اپنا رہا ہے۔۔۔۔ ؟؟
خوبصورت سیاہ آنکھوں میں دیکھتے ہی دیکھتے یکدم سے غصے کی چنگاریاں پھوٹنے لگ گئی تھیں۔۔ جسے دیکھتی وہ سہم کر صوفے پر سہمت کر رہ گئی تھی۔۔
“کیوں تُم جان کر کیا کرو گے اور بریہ سے تُمہارا کیا تعلق ہے کیوں اتنا تڑپ رہے ہو تُم اُس کیلئے کہی تُم ہی تو اُسکے وہی عاشق نہیں ہو جس کے ساتھ یہ اتنے دن گزار کر آئی ہے۔۔؟؟
اوراد شدید غصے سے اردشیر کو گھورتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔۔۔تو اردشیر اُسکی بات پر چنگاریوں سے بھری نظروں سے اُسے گھورنے لگا۔۔
“عاشق تو سنا ہے تُم بھی ہو مگر اعتبار نہ کر کے تُم نے اس معصوم لڑکی کا بھروسہ توڑ دیا ہے۔۔تُمہیں اِس جھوٹی لڑکی نے اندھا کر دیا ہے اوراد مرزا سنبھل جاؤ ابھی بھی وقت ہے ورنہ یہ لڑکی اور اُسکا پورا خاندان تُمہیں بھی برباد کر دے گا۔۔!!
لورین خان کی جانب نفرت انگیز نظروں سے گھورتا وہ کہنے لگا۔۔۔تو لورین اپنے لیے اتنا کچھ سن کر غصے سے تلملا کر رہ گئی تھی۔۔
“شٹ اپ یو تُم ایک معمولی انسان مجھے گالی دے رہیں ہو تُمہاری اتنی اوقات نہیں ہے۔۔۔۔ مجھے آنکھیں دیکھانے کی یہ لڑکی اپنے ساتھ سیاہ بخت لکھ کر آئی تھی۔۔۔۔۔۔تو اس وقت بھی اس کا بخت سیاہ ہی ہوگا۔۔۔۔تُم اس ہوٹل کے ایک ورکر ہو۔مجھے اپنے سرونٹ سے پتہ چلا ہے۔۔۔۔اس دن اس گونگی لڑکی کے ساتھ ایک ورکر تھا۔۔۔۔۔۔۔اور مجھے پتہ ہے وہ تُم ہی تھے۔۔۔بتاؤ میری ماما نے تُمہیں کتنی قیمت دی ہے۔اس لڑکی کو تباہ کرنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔تُم جیسے مڈل کلاس لڑکوں کو میں اچھے سے جانتی ہو۔۔۔۔پیسوں کی خاطر تُم جیسے اپنی عزت کی بھی فکر نہیں کرتے ہو تو دوسروں کی کیا کرو گے ۔۔۔؟؟
سختی سے اردشیر کو کالر سے پکڑ کر شروع میں زور زور سے کہتی آخری بات وہ اپنا چہرہ اُسکے کان کے قریب کرتی ہلکی آواز میں اُس سے پوچھنے لگی۔۔۔۔۔وہ یہ لفظ آہستگی سے اس لیے کہہ رہی تھی تاکہ اوراد مرزا کی کانوں تک یہ لفظ نہ پہنچ سکے۔۔
“ہہہاں مڈل کلاس۔۔!!
طنزیہ نظروں سے لورین خان کو دیکھتا سپاٹ لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔تو لورین خان اُس شخص کے چہرے پر سخت تاثرات دیکھتی ایک لمحے کو ڈر سی گئی پھر اوراد مرزا کے پاس ہونے پر وہ خود کو سنبھالنے پر مجبور ہوگئی ورنہ مقابل شخص کے غصیلے لہجے اور تاثرات سے اب وہ سہی معنوں میں ڈر رہی تھی۔۔۔
“کیوں مڈل کلاس کا سن کر خود کو ہمارے سامنے کم تر سمجھ رہے ہو کیا۔۔ابھی بھی وقت ہے۔۔اپنی اس گند کو یہاں سے لے کر نکل جاؤ۔۔۔ ورنہ تُم دونوں کے ساتھ میں وہ کروں گی جو تم لوگ اپنی زندگی میں ہمشیہ یاد رکھوں گے۔۔!!
لورین خان مجال ہے جو سدھرنے کا نام لے طوفان کے سامنے کھڑی اُسے چیلنج دے رہی تھی۔۔۔اگر اُسے پتہ ہوتا کہ مقابل کون ہے وہ اسطرح کی باتیں کبھی بھی نہ کرتی۔۔جبکہ اوراد مرزا اندھا بنا اُس لورین خان کی سائیڈ پر تھا۔۔بٹ اُسے پتہ تھا کہ اردشیر زیگن کون ہے۔اسی لیے اب وہ ڈرنے لگا کہ وہ شخص غصے میں آکر لورین کے ساتھ کچھ نہ کر دیں کیونکہ اسکے چہرے کے تاثرات سے ایسا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ابھی کے ابھی ان دونوں کو جلا کر رکھ دیں گا۔۔
“خاموش لورین یہ تُم کس طرح پیش آ رہی ہو۔۔تُمہیں ہرٹ کرنے والی بریہ ہے نا کہ یہ شخص ہے۔۔۔۔۔۔۔۔جو تُم اسطرح اسے نیچا دکھا رہی ہو۔۔۔!!
وہ اُسکی اصلیت کو لورین سے چھپاتے ہوئے کہنے لگا وہ نہیں چاہتا تھا کہ بریہ کے سامنے اسکی حیثیت اور رعب کم ہو۔۔۔۔۔مگر وہ اپنی اس سوچ کی وجہ سے بریہ کو جان نہیں سکا کہ اسے حیثیت سے زیادہ اپنوں سے پیار تھا۔۔
“آواری جو میں نے کہا وہ سچ ہی تو ہے۔۔۔۔۔یہ بریہ ملک کے نصیب میں ایک مڈل کلاس ہی لکھا ہوا تھا۔۔دیکھو تُم جیسے پرنس اسکا فیانس ہونے کے باوجود بھی یہ آج کس کے ساتھ کھڑی ہے۔۔!!
بریہ لورین کو افسوس سے دیکھنے لگی وہ ہمشیہ اُس سے جلتی تھی یہ تو جانتی تھی لیکن اس کے دل میں اسکے لیے اتنی نفرت ہوگی کہ وہ اسے اپنے سے کمتر سمجھ رہی تھی۔۔
“شٹ اپ تُم جیسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہونگے جو خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتے ہیں اور میں کتنا مڈل کلاس ہو یہ تُمہارا کتا تُمہیں میرے جانے کے بعد اچھے سے سمجھائے گا۔۔۔!!
اردشیر کی غصیلی نگاہوں اور درشت لہجے سے کہنے پر لورین خان نے اوراد مرزا کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔ جو اردشیر کے خود کو کتا کہنے پر سخت غصے سے تلملا رہا تھا۔۔
“یو بلڈی باسٹرڈ۔۔۔!!
اوراد مرزا سخت غصے سے لورین کو پیچھے کرتے ہوئے اردشیر کی طرف بڑھنے لگا تو اُسنے ہاتھ اٹھا کر اسے وارننگ بھری نظروں سے دیکھا اور بریہ کی جانب بڑھ کر اسے اٹھاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“اپنے سوتیلے سسسر سے کہنا کہ بریہ کا اب اس ملک فیلمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔اگر اسے دھمکایا یا بھلانے کی غلطی کسی بھی ملک ہاؤس کے فرد نے کیا تو اسے زندہ باکس میں بند کر کے دفنا دو گا۔۔۔!!
خاص کر لورین خان کو گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا تو اسکی وارننگ پر لورین ڈر کے مارے اوراد مرزا کے ساتھ لگ کر بُری طرح سے کانپنے لگی۔۔
“اچھا ہے اس گھٹیا لڑکی سے ہمارا تعلق ختم ہو ویسے بھی ہم اسکی وجہ سے کہی منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اب چاہے یہ تمہارے ساتھ جو مرضی کرے ہمارا اس سے کوئی بھی لینا دینا نہیں ہے۔لیں جاؤ اپنی محبوبہ کو ہماری نظروں کے سامنے سے۔۔!!!
اوراد کی جانب دیکھتے ہوئے لورین خان نے خود کو معصوم اور اچھا ظاہر کیا جس میں وہ کامیاب ہو گئی تھی کیونکہ وہ بریہ کو شدید نفرت سے گھور رہا تھا۔۔اور اسکی نظروں میں بریہ ملک کے لیے بے تحاشا نفرت دیکھ کر آج وہ بہت خوش ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔وہ کب سے ایسے ہی کسی دن کا انتظار کر رہی تھی اور اتنی جلدی وہ دن آئے گا یہ اسنے سوچا نہیں تھا۔۔
“تُم لوگوں نے جتنا ظلم اس پر کیا ہے ناں اب تیار رہنا میرے وار کے لیے بہت جلد تُم سب مٹی میں ملنے والے ہو۔۔!!
بریہ لورین خان کی باتوں اور الزامات کو سہہ نہ سکی تو صوفے پر گر کر بے ہوش ہوگئی تھی اب اُسے اپنی پناہوں میں لے کر اردشیر زیگن لورین اور اوراد کو نفرت سے دیکھتے ہوئے کہہ کر وہاں سے نکلا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ایک ایک زخم کا بدلا میں تُمہارے باپ سے لونگا۔۔اُسنے اپنی موت کو دعوت دی ہے تُمہیں ہاتھ لگا کر اب وہ پچھتانے والا ہے۔۔!!
اُسے اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ دیکھتا وہ اُسکے بے حد قریب آکر بیٹھا۔۔۔اور ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے ہونٹوں پر پڑے نیل کو چھوتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“نا۔۔نا۔۔۔۔۔!!
وہ اُسکے چہرے کو نرمی سے چھو رہا تھا اُسکے ڈر کر دور ہو کر زور سے آوازیں نکالنے پر اُسکی انگلیوں نے حرکت کرنا بند کر دیا۔۔۔۔۔وہ بول نہیں سکتی تھی۔۔۔مگر اُسکے ساتھ چار دن گزارنے کے بعد وہ اب اُسے سمجھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔اور اِس وقت بھی اُسے سمجھ میں آ گیا۔۔۔کہ وہ اپنے باپ کی وجہ سے ڈر رہی ہے۔۔
وہ اُسکے قریب ہوکر اُسے سینے سے لگانے کے بعد نرمی سے اُسکی پیشانی کو چھو کر اُسے دیکھنے لگا۔۔۔پتہ نہیں کیوں وہ اُسے اتنی اہمیت دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔ورنہ وہ اپنے سرکل میں ظالم مشہور تھا۔۔۔۔۔۔سب جانتے تھے کہ اُسے صرف سختی کرنے سے مطلب تھا۔۔پیار اُسے اپنے بزنس سے تھا۔۔۔۔۔۔کسی سے محبت کرنا تو اُسنے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔اور وہ اُس لڑکی کیلئے اپنی فیلنگ کو ہمدردی سمجھ رہا تھا۔۔۔یا کچھ اور وہ اس سے بے خبر تھا۔۔۔
“ریلکس اب تُمہیں کوئی بھی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔۔۔۔۔۔۔تُم اب اردشیر کی پراپرٹی میں ہو۔۔۔۔اُس انصر ملک کی اتنی اوقات نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے لڑنے کیلئے اُسے ہمت چاہیے جو اس جیسے باسٹرڈ میں نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اتنا ڈرفوک ہے کمینا کہ خود کو بچانے کی خاطر اُسنے اپنی بیٹی کو ایک امیر آدمی کے ساتھ ایک رات گزارنے کیلئے اکیلے ایک ہوٹل میں بھیجا کتنا گھٹیا ہے وہ باپ کے نام پر دھبہ ہے۔۔۔۔لیکن اُسنے مجھے انجانے میں یوز کر کے اُس جمیل کیلئے بھی مصیبت کرئیٹ کیا ہے۔۔!!
وہ نرمی سے اُسکے سلکی بالوں کو پیشانی سے ہٹا کر آہستگی سے کہنے لگا۔۔۔وہ جو درد کی وجہ سے اپنی آنکھیں سختی سے میچے ہوئے تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے قریب بھاری آواز پر تیزی سے آنکھیں کھول کر اپنے اوپر جھکے شخص کو حیرت سے دیکھنے لگی۔۔۔
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں اور بابا۔۔۔؟؟
آنکھوں میں اُس شخص کا ڈر لیے اُسکے چوڑے سینے پر ہاتھ رکھتی نظروں کے اشارہ سے اس سے باتیں کرنے لگی جبکہ ہاتھ اسکے چوڑے سینے پر زور سے دباؤ بڑھا رہے تھے تاکہ اُسے خود سے دور کر سکے۔۔
“بس آج کے بعد اُس کا نام مت لینا یہ سمجھ لینا کہ وہ تُمہارے لیے مر چکا ہے۔۔۔۔اب اس دنیا میں میرے علاؤہ تُمہارا اس دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔!!
وہ اُسکے دونوں کلائیوں کو اپنی مضبوط گرفت میں لیتا نرم لہجے میں کہنے لگا۔۔۔تو وہ اُسکی گرفت میں پھرا پھرتی ہوئی خود کو چھڑانے لگی جو مشکل تھا کیونکہ اُسکا گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا
جا رہا تھا۔۔
“آپ کیوں کر رہے ہیں ایسا۔۔۔جو بھی ہوا تھا۔آپ اُسے بھول کیوں نہیں رہے پلیز بھول جائے اور مجھے یہاں قید مت کریں مجھے بھی آزادی چاہیے۔۔!!
اُسکی گرفت کو مضبوط ہوتے ہوئے محسوس کرتی وہ آنکھوں میں ڈھیروں نمی لیے اُسے دیکھتی ایک ہاتھ اُسکے سینے سے ہٹاتی ہوئی اشارہ کرنے لگی۔۔جسے وہ سمجھ کر آنکھوں میں غصہ لیے اُسے دیکھنے لگا۔۔
“میں بھول جاؤ گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن دو تین ماہ بعد یہ ہمیں بھولنے نہیں دے گا۔۔تُم جانتی ہو۔پھر کیوں ضد کر رہی ہو۔۔!!
وہ سختی سے اُسکے کندھوں پر ہاتھ جماتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا تو وہ تکلیف کے مارے رونے لگی۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ اور آپ کے گھر والے وہ کیا کہے گے یہ آپ نے سوچا ہے وہ کیسے مجھ جیسی لڑکی کو اپنائیں گے بتائیں مجھے۔۔؟؟
وہ اُسکے چہرے پر نظریں گاڑتی ہوئی غصے سے اپنی دونوں ہاتھوں سے اشارہ کرتی ہوئی اُسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“ابھی رات بہت ہو گئی ہے مجھے اس معاملے میں تُم سے بات نہیں کرنی ہے کل صبح میں کروں گا ابھی تم کھانا کھا کر سو جاؤ۔۔۔!!
اپنی فیملی کا سن کر وہ شدید غصے سے اپنی پیشانی کو مسلتے ہوئے سرد لہجے میں بولتے ہوئے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھے کھانا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا جو اسکے لیے کچھ دیر پہلے میڈ لے کر آئی تھی۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
میں اتنی لیٹ ہو کیا وہ میرے ساتھ کچھ غلط تو نہیں کرے گا نا اگر میں باہر گئی اس وقت تو۔۔؟؟
دوسرے دن اُسکی آنکھیں صبح کے دس بجے کھلی تو وہ اچانک سے بیڈ سے اٹھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پورے روم میں نظریں دورہا کر دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ڈرنے لگی تھی کہ وہ سنکی شخص اُسکے لیٹ اٹھنے کی وجہ اسے سزا نہ دیں دے کیونکہ ملک ہاؤس میں جب کبھی وہ صبح کو لیٹ اٹھتی تھی تو اسکی سوتیلی ماں اُسے سزا کے طور پر باہر لان میں پورے دن کھڑا کرتی تھی۔نہ ہی سردی دیکھ کر اور نہ ہی گرمی۔۔
“مجھے یہاں بیٹھ کر اور ٹائم ویسٹ نہیں کرنا چاہیے۔باہر جا کر دیکھنا چاہیے کہ وہ ابھی بھی یہاں ہے کہ نہیں۔۔۔؟؟
کمٹربل جوتے بیڈ کے نیچے رکھے ہوئے تھے انہیں پہنتی ہوئی وہ ڈرتی باہر نکلی اور پورے گھر میں گھومتی ہوئی وہ ایک جگہ آ کر ساکت رہ گئی کیونکہ وہ سامنے شرٹ لیس ورک آؤٹ کر رہا تھا۔۔
“اٹھ گئی تُم۔۔۔؟؟
وہ سامنے میز پر رکھی تاؤل کو اٹھا کر اپنی گردن پر رکھتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو نروس کھڑی اپنی نظریں ادھر ادھر کر رہی تھی۔۔۔
“اے کیا ہوا اتنی سرخ کیوں ہو رہی ہو کیا ابھی بھی ان لوگوں کو سوچ کر ڈر رہی ہو تم۔۔۔؟؟
اُسکے قریب آکر اُسکا چہرہ ٹھوڈی سے پکڑ کر اوپر اٹھاتے ہوئے پوچھنے لگا جبکہ اُسے اس حال میں اپنے قریب دیکھ کر اسکی ڈھرکنیں بے قابو ہونے لگی تھی۔۔
“نہیں میں۔۔۔!!
وہ نظریں اُسی طرح نیچے جھکا کر لرزتی ہوئی اپنی انگلیوں کی مدد سے اس سے کہنے لگی۔مگر وہ سمجھ نا سکا کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے۔۔۔تبھی اسکی نظریں اسکے پسینے سے شرابور اُسکے چہرے پر پڑی تو اسنے ٹاول اپنی گردن سے اتار کر آگے بڑھ کر اُسکے چہرے سے پسینے کو پونچھنے لگا۔۔بریہ کی نظریں اچانک سے اُسکی مضبوط کندھوں پر پڑی۔۔۔۔ تو وہ بری طرح سے کانپنے لگی۔۔اور لرزتے ہوئے وہ ہاتھ بڑھا کر سرخ چہرے کو نیچے جھکاتی ہوئی اُسکے سینے پر لکھنے لگی کہ پلیز اپنی شرٹ پہن لوں۔۔۔۔
“ہوں تو یہ بات ہے۔۔!!
اردشیر اپنے سینے پر اُسکی انگلیوں کی حرکت پر اپنی آنکھوں کو بند کرتے ہوئے محسوس کرنے لگا وہ کیا لکھ رہی ہے۔۔۔جب اسے اسکی بات سمجھ میں آئی تو وہ مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے کہتا سامنے میز پر رکھی اپنی شرٹ کو اٹھا کر پہننے لگا ۔۔۔۔
“جی اب آپ اس طرح شرٹ لیس ہو کر اس گھر میں گھوم نہیں سکتے جب تک میں یہاں ہو تب تک۔۔۔!!
وہ اُسکے شرٹ پہنتے ہی اسکی کلائی پکڑتی اسکی ہتھیلی پر یہ لکھنے لگی۔تو اسکی اسطرح بات کرنے پر وہ مسکرایا۔۔۔
“اوکے میں کوشش کروں گا کہ آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہ دو۔مگر اب یہ آپ کا بھی گھر ہے۔۔۔۔اور مجھے لگتا ہے۔ابھی تک ناشتہ نہیں کیا ہوگا۔۔۔۔!
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا تو اسنے سر نفی میں ہلایا اسکے معصومیت سے سر نفی میں ہلانے پر خوبصورتی سے مسکرایا اور اسے کلائی سے پکڑ کر اندر کی جانب بڑھنے لگا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“اتنا بڑا گھر ہے اسکا ایسا لگتا میں کسی شہزادے کے محل میں گھوم رہی ہو راستے تو کسی بھول بھلیوں سے کم نہیں لگ رہے ہیں۔۔۔۔!!
اردشیر کے آفس جانے کے بعد جب وہ بوریت محسوس کرنے لگی تو اس محل کو دیکھنے کے لئے نکلی اور اب وہ اس گھر کے راستوں میں کھو گئی کیونکہ راستے کسی بھول بھلیوں سے اسے کم نہیں لگ رہے تھے اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ابھی یہاں سے گزری ہو مگر راستے ایک جیسے ہونے کی وجہ سے وہ سمجھ نہیں پا رہی کہ اب اسے کس طرف جانا چاہیے تبھی اُسے ایک روم نظر آیا تو وہ چہرے پر مسکان سجاتی ہوئی آگے بڑھی۔
“یہاں بھی ایک روم ہے چل کر دیکھتی ہو مجھے تو لگ رہا ہے یہ کوئی سیکرٹ روم ہوگا ہوسکتا ہے مجھے اس روم میں اسکی فیملی کی تصویریں ملے۔۔۔!!
روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی حیرت انگیز طور پر اس روم کو کھلے دیکھ کر وہ سرپرائز ہوگئی تھی کیونکہ عموماً تو ایسے روم پر تالا لگا کر بند کیا جاتا تھا پھر اس روم کو کیوں کھلا چھوڑا تھا اس شخص نے کس وجہ سے وہ روم میں داخل ہوتی سوچنے لگی۔۔۔اور روم کو صاف دیکھتی وہ دھنگ رہ گئی وہ تو سمجھ رہی تھی کہ یہ روم بھی انہیں روم کی طرح گندہ ہوگا مگر اتنا صاف دیکھ کر وہ منہ پر ہاتھ رکھتی صاف فرش کو دیکھنے لگی کہ تبھی وہ نظریں دیوار پر مرکوز کرتی دیوار پر آویزاں اسکی فیملی کی تصویروں کو دیکھنے لگی کہ ان میں سے ایک لڑکی کی تصویر پر اسکی نظریں ٹھہر گئی۔۔۔
“یہ لڑکی کون ہو سکتی ہے کیا اُسکی کزن یا بیوی۔۔!!
وہ آگے بڑھ کر اُس تصویر پر ہاتھ پھیرتی ہوئی سوچنے لگی پھر نظریں اس تصویر سے ہٹا کر وہ آگے بڑھی تو اس لڑکی کے ہاتھ میں ایک پیاری سی بچی کو دیکھ وہ ساکت رہ گئیں ۔۔۔
“یہ تو بلکل اس شخص کی کاپی لگ رہی ہے کیا یہ سچ میں اسکی بیوی ہے اور یہ بچی اسکی بیٹی۔۔۔!!
واپس اس خوبصورت لڑکی کی تصویر کو دیکھتے ہوئے وہ دل میں سوچنے لگی پھر نظریں اُس مغرور شخص کی تصویر پر ڈال کر وہ اسے دیکھنے لگی۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“اُسے کیوں جانے دیا تُم نے بیٹا اب میں جمیل صاحب کو کیا جواب دو گا وہ تو پاگل ہوگیا ہے اس لڑکی کے لیے اب میں کہاں سے اسے لاؤ۔۔۔!!
انصر ملک نے جب اسٹور روم میں بریہ کو نا پایا تو وہ غصے سے اپنی بیوی پر چیخنے کے بعد لورین خان سے کہنے لگا۔۔۔
“بابا وہ لڑکی خود چلی گئی تھی اپنے غریب عاشق کے ساتھ تو میں اسے زبردستی کیسے روک سکتی تھی۔۔!!
لورین جھوٹ اوراد مرزا کی غیر موجودگی میں بول پا رہی تھی ورنہ اسکی موجودگی میں وہ انصر ملک سے کبھی بھی جھوٹ نہ بولتی۔۔
“اگر اُس بدکردار لڑکی کو جانا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے اس لفنگے محبوب کے ساتھ تو یہاں واپس کیوں آئی تھی اب تم بیٹا جیسے بھی کر کے اسے واپس بلاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے پتہ ہوتا کہ یہ لڑکی میرے کسی کام کی نہیں آئیں گی تو میں اسے اسی دن مار دیتا جس دن یہ پیدا ہوئی تھی۔۔میں نے دوسری شادی بھی بیٹے کے لیے کی تھی اور میرا ایک بیٹا بھی ہوا تھا لیکن اس کم بخت کی وجہ سے وہ بھی چلا گیا۔۔۔!!
وہ باپ ہو کر اس کے لیے ایسے سنگین الفاظ استعمال کر رہا تھا اگر اس وقت بریہ یہاں موجود ہوتی تو خود کو ہمشیہ کی طرح بد بخت سمجھتی۔۔۔جبکہ لورین خان انصر ملک کی زبان سے بریہ کے متعلق نفرت سن کر بہت خوشی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
“بابا میرے پاس اس کا کونٹیکٹ نمبر نہیں ہے مگر میں کوشش کروں گی اسے ڈھونڈنے کی اگر وہ مجھے مل گئی تو میں خود اسے بھیج دو گی اس جمیل صاحب کے پاس۔۔۔!!!
لورین کی بات پر انصر ملک خوشی سے اسے دیکھتے ہوئے اپنی دوسری بیوی سے مخاطب ہوئے۔۔۔
“رابعہ بیگم مجھے بیٹیوں سے سخت نفرت ہے لیکن تُمہاری بیٹی مجھے بہت پسند ہے یہ بہت انٹلیجٹ ہے۔۔اگر میری بیٹی اسکی طرح سمجھدار ہوتی تو آج در در کی ٹھوکریں نا کھا رہی ہوتی۔۔۔!!
رابعہ بیگم اپنی اور اپنی بیٹی کے لیے اتنی تعریفیں سن کر خوشی سے آگے بڑھی اور لورین کو اپنے ساتھ لگا کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“انصر صاحب یہ میری بیٹی ہے۔۔۔مجھ پر جو گئی ہے۔۔مہرین کی بیٹی اسی کی طرح نکلی کیونکہ وہ اس پر گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ بدکردار تو ہوگی جس طرح ماں نے آپکو کسی گاؤں کے غریب آدمی کے لئے چھوڑا اسی طرح آج اسکی بیٹی نے آپکو ایک ہوٹل ورکر کے لیے چھوڑا۔۔۔!!
اپنی ماں کو انصر ملک کو بھڑکاتے ہوئے دیکھ کر وہ مسکرانے لگی وہ اپنی ماں سے محبت اسی لیے کرتی تھی کہ اس بریہ ملک کو راستے سے ہٹانے میں اسکی بہت مدد کی تھی انہوں نے انصر صاحب کو اپنی
باتوں میں پھنسا کر بریہ کے خلاف کر دیا تھا وہ جو پہلے ہی اسے پسند نہیں کرتے تھے۔۔۔
رابعہ بیگم کے بھڑکانے پر انصر ملک کے دل میں بریہ ملک کے لیے نفرت بھرتی چلی گئی تھی اور آج وہ اپنی سگی بیٹی کے ساتھ وہ کر رہا تھا جو کوئی سگا باپ نفرت کرنے کے باوجود بھی اپنی بیٹی کے ساتھ نہیں کر سکتا تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥