Rate this Novel
Episode 4
“اردشیر صاحب مجھے معاف کر دے ممم۔۔۔مجھے سچ میں پتہ نہیں تھا کہ یہ آپکی ہونے والی بیوی ہے۔۔۔پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔!!
جمیل کی آنکھیں خوف سے پھیلنے لگیں۔۔۔۔ جب اُسنے مقابل کی آنکھوں میں آگ دہکتے ہوئے دیکھا تو وہ جلدی سے آگے بڑھا اور اُسکے سامنے گر کر روتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“احمد میڈم کو دوسرے روم میں لے کر جاؤ۔۔۔!!
نظریں جمیل صاحب پر جمائے وہ سرد لہجے میں اپنے سیکٹریری سے مخاطب ہوا۔تو احمد نے بریا کی طرف دیکھا جو سخت ڈری ہوئی لگ رہی تھی۔۔۔
“میڈم۔۔۔!!
آگے بڑھ کر احمد نے بریا کو مخاطب کیا تو وہ چونکتی اُسے حیرت سے دیکھنے لگی۔۔
“یہ میرا سکیرٹری ہے تُم اسکے ساتھ چلی جاؤ۔۔یہ میرا خاص بندہ بھی ہے۔۔ڈرو مت تُمہارے ساتھ کچھ نہیں کرے گا۔۔۔!!
اُسے وہی کھڑے دیکھ وہ اُس پر نظریں مرکوز کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگا۔تو بریا سر ہاں میں ہلاتی احمد کے باہر نکلتے ہی اسکے پیچھے بڑھی۔۔۔
“آئی ایم سوری اردشیر صاحب مجھے سچ میں پتہ نہیں تھا۔۔۔!!
اُن دونوں کے باہر نکلنے کے بعد اردشیر نے جمیل کو سرد نگاہوں سے گھورا تو وہ روتے ہوئے گڑگڑا کر کہنے لگا مگر وہ اُسے کیسے معاف کرتا اُس شخص نے اُس ہستی پر گندی نظریں ڈالنے کی گستاخی کی تھی جسکا نام اب اسکے ساتھ جوڑنے والا تھا۔۔۔۔۔
“تُم اگر مجھ سے معافی میرے جوتے چھاٹ کر بھی مانگو گے۔۔۔۔۔۔۔۔میں تب بھی تُمہیں معاف نہیں کروں گا۔۔کیونکہ تُم نے اُسے اٹھایا ہے۔۔جسکے نام کے ساتھ میرا نام جوڑنے والا ہے۔۔۔!!
کالر سے پکڑ کر اسے اوپر اٹھاتے ہوئے سخت گیر لہجے میں کہنے لگا۔۔جب اُسنے اسے اوپر اٹھایا تو جمیل کو اپنی سانسیں بند ہوتیں محسوس ہونے لگی۔۔۔
“سس سچ میں پتہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔مجھے انصر ملک کی بیٹی آپکی کچھ لگتی ہے۔۔۔مجھ پر یقین کرے۔۔۔!!
جمیل نے رک رک کر کہا تو اُسنے غصے سے اُسے شیشے کے ٹیبل پر پھینکا تو شیشہ ایک ہی چھناکے سے ٹوٹ کر پورے کمرے میں پھیل گیا اور جمیل پشت پر چوٹ لگنے کی وجہ سے کراہنے لگا۔۔
“احمد جب اُسکی کمپنی کے اسٹاک گر جائے تب ہی اُسے باہر نکالنا۔۔۔!!
اُسے ٹارچر کرنے کے بعد جب وہ دوسرے روم کی جانب بڑھا تو باہر احمد کو دیکھ کر وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔۔
“اوکے سر میں وہی کروں گا جو آپ چاہتے ہیں۔۔۔!!
احمد نے سر ہاں میں ہلاتے ہوئے کہا۔تو اردشیر دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا۔۔۔
“کیا اب وہ ٹھیک ہے۔۔۔؟؟
وہ اب احمد کی جانب دیکھنے لگا جو سر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔
“یس سر اب وہ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے اُنکے لیے کافی منگوا کر اُنہیں دیا تھا۔۔۔۔۔ تاکہ وہ فریش ہو جائیں۔۔۔وہ پہلے بہت رو رہی تھی۔۔لیکن ابھی تھوڑی دیر جب میں ان کے پاس گیا تھا۔۔۔تو وہ خاموش تھی۔۔!!
احمد نے سر اُسے طرح جھکاتے ہوئے اُسے بریا کے بارے میں ایک ایک بات بتانے لگا۔جہنیں سُن کر وہ سر ہلاتے ہوئے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔
“کیسی ہو تُم اب کیا اُسنے تُم پر ہاتھ اٹھایا تھا ۔۔؟؟؟
روم میں داخل ہو کر دروازہ بند کرتے ہوئے اُسکی جانب بڑھا اور جھک کر اُسکے چہرے پر لگے سُرخ نشانوں کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔۔جو سامنے صوفے پر سہمت کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔
“نہیں اُسنے مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔۔اور پہلے میں ڈر رہی تھی۔۔۔۔۔۔لیکن اب آپ یہاں ہے تو میں ڈر نہیں رہی ہو۔!!
وہ نم آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اُسے دیکھتی ہوئی انگلی اپنے چہرے کی طرف کرتی پھر آخر میں اُسکی طرف کرتے اشارے سے بولی۔۔
“کیوں اب کیوں نہیں ڈر رہی ہو۔۔۔میں بھی تو ایک مرد ہو۔۔؟؟
اردشیر اپنی طرف اشارہ کر کے بغور اُسکے چہرے کو دیکھتا پوچھنے لگا۔تو وہ اُسکی بات پر مسکرائی۔۔
“آپ بہت الگ ہے۔۔۔ اُن سب مردوں سے جو میری ماضی میں تھیں۔۔۔۔آپ کی اچھائی تو یہ ہے کہ اتنے دنوں سے آپکے گھر میں ایک خوبصورت نوجوان لڑکی تھی۔۔۔۔۔۔۔لیکن آپ نے باقی مردوں کی طرح اِسے شکاری کی نظر سے نہیں دیکھا بلکہ آپ نے تو مجھے ایک رسپیفیکٹ بھری نظروں سے دیکھا ہے۔۔۔۔!!
اردشیر اسکی بات پر طنزیہ انداز میں مسکرایا۔۔۔
“نہیں میں بھی ان ہی مردوں کی طرح ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔تُم اس واقعے کو کیسے بھول گئی۔۔۔۔۔میں بھلے اپنے ہوش میں نہیں تھا۔۔۔لیکن تُمہارے ساتھ میں نے زبردستی تو کیا تھا۔پھر کیسے میں ایک اچھا مرد ہو سکتا ہوں۔۔۔؟؟
گہری نظر اس پر ڈال کر اسے دیکھنے لگا جو اسکی بات پر آگے بڑھی اور اپنی انگلی سے اُسکے سینے پر دستک دے کر پیچھے ہٹی پھر اسکی ہتھیلی پر لکھنے لگی۔۔۔
“تُم جو سمجھوں۔۔۔۔۔یہ تُمہارا مسلہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن میں تُمہیں ان مردوں میں شمار نہیں کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو ہوش میں ہو کر بھی معصوم لڑکیوں کے ساتھ زبردستی کرتے ہیں۔۔۔۔۔تم کیوں خود کو ان کے ساتھ ملا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔اگر تم انکی طرح ہوتے تو۔۔۔ مجھ سے شادی کرنے کے بجائے مجھے مار کر کسی سنسان سڑک پر پھینک دیتے۔۔۔!!
وہ جو اُسے دیکھ رہا تھا کہ پیچھے ہوتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“تُم میرے بارے میں اچھا سوچتی ہوں۔لیکن دنیا والے ہمیں جس نظر سے دیکھ رہی ہے۔۔وہ غلط ہے۔۔اگر ہم نے نکاح نہیں کیا۔۔۔ تو وہ ہمیں خوشی سے رہنے نہیں دے گے۔!!
بریا اُسکی بات سمجھ گئی تھی ۔۔۔ کیونکہ وہ شخص چاہتا تھا۔۔۔ اُنکو ابھی پاکیزہ رشتے میں بندھنا چاہیے اور وہ بھی اس دنیا کے لوگوں کو اب جان چکی تھی کہ کس ذہینت کے ہیں۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“احمد ہمیں کورٹ لے کر چلو۔۔۔!!
وہ دونوں ایک ساتھ باہر نکلے تو اردشیر نے سنجیدگی سے احمد سے کہا۔۔۔۔۔ جو کار کی پچھلی سیٹ کا ڈور کھولے کھڑا تھا۔۔۔
“اوکے باس۔۔!!
احمد نے اُنکے بیٹھتے ہی ڈور بند کرتے ہوئے کہا۔۔
“تُمہیں ہماری اس میرج سے پہلے میں کچھ ضروری باتیں بتانا چاہتا ہوں۔۔۔ تاکہ تُم مجھ سے کوئی امید نہ لگاؤ۔!!
باہر دیکھتے ہوئے وہ سنجیدگی سے اُس سے مخاطب ہوا۔بریا جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اُسکی گھمبیر آواز پر اُسکی جانب دیکھنے لگی۔۔۔
“ہمممممم۔۔۔!!
اُسکے منہ سے یہ نکلا تو وہ اُسکی جانب موڑ کر اُسے بغور دیکھنے لگا۔۔۔
“تُم جان چکی ہو کہ میں پہلے سے شادی شدہ ہو۔اور میری ایک بیٹی ہے۔۔جو چار سال کی ہے۔۔۔اور یہ شادی کس وجہ سے کر رہا ہوں۔۔!!
بغور اُسکے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“ہمممممم۔۔۔!!
وہ اچھے سے جانتی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے اور ویسے بھی وہ خود بھی اس شادی کو ایک سمجھوتہ سمجھ کر رہی تھی۔۔
“اگر اُس رات وہ حادثہ نہ ہوتا۔تو ابھی ہم دونوں میرج کرنے کے لیے کورٹ میں نہیں جاتے۔۔۔تُم اپنے راستے اور میں اپنے۔مگر شاید ہماری قسمت بہت خراب ہے۔جو وہ حادثہ ہمارے ساتھ ہوا۔میں نے کبھی بھی نہیں تھا کہ کبھی مجھے اس طرح دوسری شادی کرنی پڑے گی۔۔مجھے اس وقت گلٹی محسوس ہو رہا ہے۔۔ میں تُم سے شادی کر کے اپنی پہلی بیوی کو دھوکا دے رہا ہوں۔!!
کار کورٹ کے باہر آکر روکا تو وہ سپاٹ لہجے میں کہتا باہر دیکھنے لگی۔تبھی احمد کے باہر سے دروازہ کھولنے پر وہ باہر نکلا۔۔
“آئی ہوپ تُم کچھ حدود بناؤ گی یہاں سے جانے کے بعد۔۔۔!!
اُسکے باہر نکلنے کے بعد وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔بریا اسکی بات پر سر ہاں میں ہلانے لگی۔۔۔۔۔۔تو وہ اندر کی جانب بڑھا اور وہ بھی اسکے پیچھے بڑھی۔۔
“زے نصیب مسٹر زیگن آپ یہاں ہمارے تو بھاگ کھل گئے آپ کے یہاں قدم رنجا کرنے پر۔۔کہے اپنی دوسری شادی کا ارادہ تو نہیں ہے۔۔۔؟؟
شاہزیب جو اُسکا جگری دوست تھا۔اُسے اپنے روم میں اپنے سیکٹریری کے ساتھ دیکھ کر وہ کرسی سے اٹھتے ہوئے معنی خیزی سے کہنے لگا۔۔۔اردشیر نے اُسے گھورا۔
“مسٹر شاہ انڈین مووی زرا کم دیکھا کرو ورنہ کسی دن اسطرح کے دو نمبری ڈائیلاگ بولنے کی صورت میں تُمہارے یہ خوبصورت دانت میرے ہاتھوں سے شہید نہ ہو جائیں۔۔!!
صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔شاہزیب کی نظریں بریا پر پڑی تو وہ سنجیدہ ہوگیا۔۔
“شیر یار یہ لڑکی کون ہے۔۔؟؟
شاہزیب کی نظروں سے بریا نروس ہو کر اردشیر کے پاس جا کر بیٹھی اور اُسے اپنے ساتھ تقریباً چپکتے ہوئے دیکھ وہ شاہزیب کو گھورنے لگا تو شاہزیب نے اپنی نظروں کا زاویہ جلدی سے بدلا۔۔
“اپنی بکواس بند کرو۔۔۔۔۔ اور جلدی سے ہماری میرج سرٹیفکیٹ بناؤ۔۔۔!!
سخت لہجے میں کہتا وہ جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکال کر منہ سے لگا کر سلگانے لگا۔۔۔اب کے شاہ زیب اسکی اتنے روکھے انداز سے کہنے پر اسے گھورنے لگا۔۔
“شیر مانا کہ تُمہارا ٹائم بہت قیمتی ہے۔۔۔۔۔لیکن میرج سرٹیفکیٹ ایسے نہیں بنتی۔۔اسکے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔۔۔!!
وہ سگریٹ نوشی میں مصروف تھا اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بریا کی طرف اشارہ کرنے لگا۔۔۔
“مثلاً کیا کرنا پڑے گا۔لڑکی یہ رہی۔۔۔۔۔مجھے شادی اس سے کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔نا کہ سرٹیفکیٹ سے تو یہ راضی اور میں راضی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو تم وکیل صاحب اپنی کاروائی خاموشی سے کرو ورنہ تمہارا کاروبار کو ایک منٹ میں بربادی کے دہانے پر لاؤ گا۔۔۔!!
وہ اُسکی جانب دیکھے بغیر سگریٹ کے دھوئیں سے کھیلتے ہوئے سنگدلی سے بولا۔۔تو شاہزیب اسکی بات پر اُسے گھور کر رہ گیا۔۔۔
“تُم دوست کم دشمن زیادہ ہو میرے شیر اب کون اپنے دوست کو برباد کرنے کی بات کرتا ہے۔۔۔!!
وہ اسے دیکھتے ہوئے ٹیبل پر رکھے میرج سرٹیفکیٹ کو اٹھا کر انکی طرف بڑھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“اردشیر وہ دوست میری طرح کے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔میرے جیسے دوست نہیں دیکھتے۔۔۔ کہ برباد ہونے والا اسکا جگری دوست ہے۔۔۔۔وہ صرف اس دو نمبری دوست کو بڑے خوشی سے برباد ہوتے ہوئے دیکھے گا بلکل میری طرح۔۔!!
اتنی سنگدلی شاہزیب جانتا تھا۔۔۔۔۔کہ اسکے لہجے میں کیوں تھا اس وقت وہ خاموشی سے اسے سائن کرنے کا اشارہ کرنے لگا۔۔۔تو وہ سگریٹ ایش ٹرے میں ڈال کر سائن کرنے لگا۔۔۔۔۔بریا کے سائن کرتے ہی وہ صوفے سے اٹھا۔۔
“یار شیر آئی ایم سوری۔۔۔۔۔مجھے پتہ ہے تُم ابھی تک مجھ سے ناراض ہو۔۔۔لیکن یار اس دن میں نے تمہیں پارٹی میں صرف اس لیے اگنور کیا تھا۔۔۔۔کیونکہ میری فیانسی کی فیملی کا اور تمہارا آپس میں پچھلے چار سال سے نفرت کا رشتہ چل رہا ہے۔۔۔۔پھر بھی تم مجھے رسک میں ڈالنا چاہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یار اگر میں اس سے محبت نہ کرتا تو ضرور اسے چھوڑتا۔۔۔۔۔۔لیکن وہ میری محبت ہے۔۔!!
شاہزیب نے اس دن کے لیے اس سے معافی مانگتے ہوئے کہا۔۔
“مسٹر شاہزیب اسی لیے تو میں تم سے دوری بڑھا رہا ہوں۔۔۔مجھے ان لوگوں کے کسی رشتے دار سے اب کوئی تعلق نہیں بنانا اور آج میں یہاں مجبوری کی وجہ سے آیا ہو۔یہ مت سمجھنا میں یہاں تم سے محبت کا ہاتھ پھیلانے آیا ہوں۔۔۔۔!!
بریا کا ہاتھ تھامتے ہوئے وہ سرد لہجے میں کہتا اُسے لیے باہر کی جانب بڑھا۔۔۔۔۔۔۔۔اور شاہزیب وہی کھڑا اُسے تاسف سے دیکھنے لگا اسکا دوست ان لوگوں سے نفرت کرنے لگا تھا جو اسکے لیے پہلے زندگی ہوا کرتے تھے۔۔۔۔بھلا کیسے ایک باپ اپنے اکلوتے بیٹے اور ایک چھوٹا بھائی اپنے بڑے بھائی سے نفرت کر سکتا ہے۔۔۔اخر یہ کیا بات تھی۔۔۔ جو وہ ایک دوسرے سے چار سال سے نفرت کرتے آ رہے ہیں۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“آواری آپ کیوں اُسکے بارے میں سوچتے ہیں۔۔۔۔وہ پہلے سے ہی دھوکے باز تھی۔۔۔ اب وہ اپنے اُس عاشق کو بدنام کر رہی ہے۔۔سارے سوشل میڈیا پر چرچا ہو رہا ان دونوں کے ریلیشن شپ کا بھول جائیں اُسے وہ آپکے لائق نہیں تھی۔۔۔!!
وہ پارٹی کو چھوڑ کر باہر کھڑا دور آسمان پر چمکتے چاند کو دیکھ رہا تھا کہ پیچھے سے اُسے پکڑتے ہوئے کہا۔
“اب کیا کر دیا ہے اُسنے۔۔۔؟؟
وہ اُسکی بات سُن کر اُسکے ہاتھ پکڑ کر اُسے خود سے الگ کرتا سپاٹ لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“کیا۔۔۔۔۔!!!
اُسکی اتنی بڑی بات سے لاعلم ہونے پر وہ ساکت نظروں سے اُسے دیکھنے لگی۔پھر اپنی حیرت پر قابو کرتی آگے بڑھ کر اسکے سینے پر سر رکھتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔
“آوری آپ اتنے بے خبر کیوں رہتے ہیں۔۔۔۔۔اس دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔۔آپکو ہر بات کی خبر رکھنی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی نے اُس چڑیل کی اور اُسکے وہ امیر عاشق کے اُس دن ہوٹل میں جو ان لوگوں نے کیا تھا اُس دن کی پرائیویٹ تصویریں سوشل میڈیا پر لیک کر دیں ہے۔۔اور اُس آدمی کو سوشل میڈیا پر بہت بڑے کمنٹ مل رہے ہیں۔۔۔لیکن کل پتہ نہیں کس نے وہ تصویریں سوشل میڈیا سے ہٹا دئیے۔۔مجھے لگتا ہے یہ اسی امیر آدمی کا کام ہوگا۔۔۔!!
وہ اُسکے ساتھ چپکی کھڑی تھی اچانک اُسکے دور کرنے پر وہ پیچھے ہوئی۔۔۔
“رینی تُم اُس پر نہیں صرف خود پر فوکس کروں۔جلد ہماری شادی ہونے والی ہے۔میں جب بھی تُمہارے ساتھ رہو تو پلیز اُسکا ذکر میرے سامنے مت کیا کرنا میں سخت اریٹیٹ ہوتا ہو۔۔!!
وہ آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھ رہی تھی۔ اُسکی بات پر صدمے سے کہنے لگی۔۔۔
“آوری آپ بور ہوگئے ہیں۔۔۔جو آپ مجھ سے اسطرح بے ہیو کر رہے ہیں۔۔۔؟؟
آنکھوں میں ڈھیروں آنسوؤں لیے وہ بھاری آواز میں کہنے لگی۔تو وہ اُسکو روتے ہوئے دیکھ کر ہوش میں آیا اور گھبرا کر آگے بڑھا اور اسے سینے سے لگا کر چپ کرانے لگا۔۔
“نہیں رین میں بھلا تُم سے کیوں بور ہونگا تُم ہی ہو جس نے مجھے اُس بے وفا سے بچایا تھا۔اور پھر مجھے سنبھالا تھا۔۔!!
اُسکی پیشانی پر اپنے لب رکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔لورین جو اُسکے سینے سے لگی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ہونٹوں پر ایک شاطر مسکراہٹ سجائے ہوئے تھی۔۔۔۔۔۔وہ اپنی انہیں اداؤں سے تو اسے اپنے جانب مائل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔۔۔
“آوری مجھے بہت سردی لگ رہی ہے۔۔۔!!!
اُسکے سینے پر سر رکھ کر وہ آنکھیں بند کرتی بولی۔۔۔۔۔۔۔
“ڈونٹ وری میرے پاس اسکا حل ہے رین میری جان۔!!
اُسکے نازک وجود کو وہ اپنے ساتھ لگا کر کوٹ سے اسے اور خود کو کور کرتا اپنا سر اُسکے سر سے جوڑ کر وہ بھی اپنی آنکھیں موند گیا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“تُم میرے بیڈ روم میں کیا کر رہی ہو ۔۔۔؟؟
وہ جب بیڈ روم میں داخل ہوا۔۔۔۔۔سامنے اُسے سُرخ رنگ کی تنگ سی نائیٹ سوٹ میں دیکھتا۔۔۔۔۔غصے سے اُس پر کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا۔۔۔۔
جبکہ وہ اس ڈریس میں پریشان ہو رہی تھی۔۔۔۔ہاف آستین ہونے کی وجہ سے وہ بار بار نائیٹ گاؤن کو درست کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔اگر میڈ نے اُسے یہ سوٹ یہ کہہ کر نا دیا ہوتا کہ یہ باس نے بھیجا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو وہ کبھی نہ پہنتی اسطرح کی ڈریس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بٹ اُسے لگا کہ شاید وہ اُسے اس ڈریس میں دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔۔ہو سکتا ہے۔۔اُسے خود دینے میں شرم آگئی ہو۔۔اور میڈ کے ہاتھ بھیج دیا ہوں۔۔
“وہاٹ ڈو یو مین میں یہاں کیا کر رہی ہو کا مطلب کیا ہے۔۔۔اب میں آپکی بیوی ہو۔۔جتنا آپ مجھ پر حق رکھتے ہیں اتنا میں اس روم پر رکھتی ہوں۔۔۔!!
وہ اسکی موجودگی میں نروس ہو کر گاؤن کو سختی سے تھام کر بیڈ سے اٹھی۔۔۔اور اُسے گھورتی ہوئیں اُسکا مضبوط ہاتھ تھام کر اپنی انگلی کی مدد سے اُسکی ہتھیلی پر لکھنے لگی۔۔۔۔۔۔تو اپنی ہتھیلی پہ اُسکے لکھنے پر وہ سمجھ کر اُسے سرد مہری سے دیکھنے لگا۔۔
“میں نے یہ نکاح محبت کی وجہ سے نہیں کیا ہے۔۔۔۔مجبوری سے تُمہیں اپنایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو مجھ سے امید مت لگاؤ۔۔۔۔۔۔اور میرے روم میں رہنا کے لیے کچھ اصول ہونگے۔۔جہنیں تُمہیں ماننا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلا اصول تو یہ اسطرح کے لباس پہنے سے اجتناب کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ ایک منٹ بھی نہیں لگاؤ گا میں تُمہیں اس روم سے باہر پھینکنے میں سمجھی اب جاؤ جلدی سے کچھ دھنگ کا پہن کر آؤ۔۔۔۔!!
وہ اُسکی کمر پر ہاتھ رکھ کر اُسے اپنے نزدیک کرتا وہ سپاٹ لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔جبکہ بریا تو اپنی کمر پر اُسکی سخت گرفت پر سٹپٹا کر اپنے دونوں ہاتھوں کو اُسکے چوڑے سینے پر رکھتی اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
“اوکے۔۔!!!
دونوں ہاتھ اُسکے سینے پر رکھے وہ اُسے غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اور سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ اُسکے کلون کی مہک سے وہ پاگل ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور رہی سہی کثر اُسکی قربت پوری کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُسکے اتنے پاس ہونے کی وجہ سے اُسکی ڈھرکنوں نے اودھم مچا کر اُسے ہربرانے پر مجبور کر دیا تو وہ اُسکی گرفت میں اچانک سے مچلنے لگی۔۔
“جاؤ وارڈروب سے کوئی کمٹربل کپڑے لوں۔۔۔۔۔ اور یہ چھینج کرؤں۔۔۔!!
اُسے الگ کرتا وہ سنجیدگی سے اُسکے نازک سراپے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔تو وہ اُسکی نظروں سے سٹپٹا کر تیزی سے وارڈروب کی جانب بھاگی۔۔۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟؟
جب وہ کمٹربل کپڑے پہن کر واشروم سے باہر نکلی تو اُسے سامنے بیڈ سے تکیہ اٹھا کر نیچے کارپٹ پر رکھتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھ کر اُسکے ہاتھ سے تکیہ اٹھا کر بیڈ پر رکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔
“مجھ سے اگر پروٹیکشن چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔تو خاموشی سے جا کر بیڈ پر سو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ میں نے تُمہارے ساتھ زبردستی کیا تو تُم ساری زندگی یہ سوچ سوچ کر روتی رہوں گی کہ کیوں میں نے اُسے اکسایا تھا۔۔۔۔۔!!
نیچے کارپٹ پر واپس تکیہ پیھنکتے ہوئے وہ سنجیدگی سے کہتا نیچے بیٹھا۔۔۔۔ تو وہ اُسکی بات پر ڈرتی ہوئی جلدی سے بیڈ پر بیٹھی۔۔۔
“سُنو یہ جو دودھ میڈ نے رکھا ہے میرے لیے۔۔اُسے پی لوں۔۔میں کوئی ایک سال کا بچہ نہیں ہو۔۔جو یہ دودھ پیوں گا۔۔اور اس میڈ کو تو میں کل فارغ کرو گا۔۔۔۔۔یہ سب مجھے بلکل بھی پسند نہیں ہے۔۔۔ جو اسنے آج کیا ہے۔۔!!
وہ لیٹنے سے پہلے سامنے ٹیبل پر رکھے دودھ کے گلاس کو گھورتے ہوئے کہنے لگا۔تو بریا کی نظریں اُس گلاس پر پڑی اور جو اُسنے دودھ کو دیکھ کر چہرے کے زاویے بگاڑے تھے۔وہ مسکرا کر وہ گلاس اٹھا کر نیچے اُسکے پاس بیٹھی اور اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
“مجھے بھی دودھ پینا پسند نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہم دونوں تھوڑا تھوڑا پی کر اسے ختم نہیں کر سکتے۔۔۔؟؟
وہ اپنے دونوں ہاتھ آنکھوں پہ رکھے سونے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔اُسکے نازک ہاتھوں کی نرماہٹ کو محسوس کرتا۔۔۔۔۔۔۔ تیزی سے اپنے ہاتھ آنکھوں کے اوپر سے ہٹاتا اُسے سخت حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔جو ایک ہاتھ سے اُسکے چوڑے سینے پر لکھ رہی تھی۔۔۔
“نہیں بلکل بھی نہیں یہ تُمہیں ہی ختم کرنا پڑے گا۔۔ہر دن گزرنے کے ساتھ تُم مجھ سے امیدیں کیوں لگاتی جا رہی ہو۔۔۔اور میں جورو کا غلام نہیں ہو۔جو تُمہاری بات پر ہونٹوں پر مسکراہٹ لا کر یہ خوشی خوشی پی جاؤ گا۔۔۔اور مجھ سے یہ وابستہ بھی مت کرنا۔۔میں ساری زندگی ایک سویٹ شوہر بن کر تمہارے ساتھ رہوں گا۔۔۔۔اپنی آنکھیں کھول کر دیکھوں میں اپنی پہلی بیوی کے مرنے کے بعد بھی اُس سے اتنا ہی محبت کرتا ہوں۔۔جتنا اُسکے زندگی میں کرتا تھا۔۔۔!!
گلاس خود سے دور کرتا وہ سپاٹ لہجے میں کہنے لگا۔بریا اُسکی بات پر آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب لیے بیڈ پر جاکر بیٹھی اور دھندلی دھندلی آنکھوں سے اُسے دیکھتی ایک ہی سانس میں وہ سارا دودھ اپنی حلق میں اتار گئی۔۔
