95.6K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

“میم یہ سر کے لیے مینگو شیک وہ روز صبح اٹھنے کے بعد پیتے ہیں۔۔۔!!
وہ روم سے باہر نکلی تو وہی میڈ جس نے کل یہ کہہ کر اُسے نائٹ سوٹ دیا تھا کہ سر نے یہ آپکو دینے کا کہا تھا۔وہ اس میڈ کو بغور دیکھتی ہوئی اُسکے ہاتھوں سے گلاس تھامنے لگی۔۔۔
“میم آپ ناشتے میں کیا لیں گے۔۔؟؟
میڈ چہرے پر ایک مسکراہٹ سجا کر اسے دیکھتی پوچھنے لگی۔۔۔۔۔تو وہ سر نفی میں ہلاتے ہوئے مڑی تو اُسکے مڑتے ہی میڈ نے ہونٹوں پہ ایک شاطرانہ مسکراہٹ سجا کر اپنا فون فوکٹ سے نکالا اور دوسری طرف موجود شخصیت کو جس کے لیے وہ یہ سب کر رہی تھی۔۔اُسے میسج کے ذریعے بتانے لگیں۔۔
“یہ کیا ہیں۔۔؟؟
اپنے بال تاؤل کی مدد سے خشک کرتے ہوئے واشروم سے باہر نکلا تو سامنے بیڈ سائیڈ پر گلاس دیکھتا۔۔۔۔۔ ترچھی نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔
“مینگو شیک۔۔۔!!
وہ اپنے لیے ایک بورڈ منگوا کر لائی تھی۔۔۔۔تاکہ وہ اُسی کی مدد سے اب اُس سے اپنی ہر بات شئیر کر سکے۔۔۔۔۔۔۔بورڈ پر خوبصورتی سے مینگو لکھے دیکھ وہ سخت تیوریاں سجا کر تاؤل غصے سے بیڈ پر پٹک کر اُسے گھورتے ہوئے۔۔۔ انگلی سے گلاس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“اِس زہر کو ابھی کے ابھی روم سے باہر لے جاؤ۔۔!!
بریا اُسکی بات پر حیرت سے گلاس کو اٹھا کر مینگو شیک کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔پھر وہ ایک گھونٹ پی کر اُسکی جانب ایسے دیکھنے لگی۔۔جیسے کہہ رہی ہو کہ اُسے تو اس شیک کو پی کر کچھ بھی نہیں ہوا۔۔
“اِس میں تو کچھ بھی نہیں ملا پھر آپ کیوں کہہ رہے ہیں کہ یہ زہر ہے۔۔؟؟
وہ آنکھوں کو بڑی کرتیں بورڈ کو اٹھا کر اُسکی جانب کرتی اُسے تعاجب سے دیکھنے لگی۔۔۔
“ڈیم اٹ مجھے مینگو سے الرجی ہے۔۔۔۔۔۔۔تو یہ شیک میرے لیے زہر سے کم نہیں ہے۔۔۔۔تُم نے مجھ سے شادی کہی مجھے مارنے کے لیے تو نہیں کیا ہے ناں۔۔۔۔۔تُم اپنی فیلمی کے ساتھ مل کر میرے ساتھ کوئی گیم تو نہیں کھیل رہی ہو ناں بتاؤ مجھے ورنہ میں نے خود اس بارے میں پتہ کیا تو تمہارے باپ سے پہلے تُمہیں قبر میں اتاروں گا۔۔؟؟
وہ اُسکی جانب بڑھ کر اُسے سختی سے دونوں کندھوں سے پکڑتا سخت لہجے میں کہنے لگا۔بریا اپنے کندھوں پر تکلیف سے آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔جب اُسکی آنکھیں اُسکی آنکھوں سے ملی تو اُسکے نین کٹوروں میں نمی دیکھتا وہ پیچھے ہوا۔۔۔
“تُم دوسرے روم میں جاؤ کل میں مجبور ہوگیا تھا۔۔ کیونکہ تُم کل اُس حادثے کی وجہ سے ٹھیک نہیں تھی۔۔۔۔تو میں نے اسی لیے تُمہیں کل رات یہاں ٹھہرنے دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر آج تُم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔۔۔تو اُسی روم میں اسٹے کرو گی جس میں پہلے کر رہی تھی۔۔!!
ابکے وہ اُس سے نرم لہجے میں کہنے لگا تو وہ سر ہاں میں ہلاتی گلاس ہاتھ میں لیے باہر کی جانب بڑھی تو اُسنے اُسے روکا۔۔۔
“تُم جا کر ناشتہ کروں پھر بیوٹیشن آ کر تُمہیں تیار کرے گی آج ہمیں ایک پارٹی میں جانا ہے۔۔!!
وہ اُسکی جانب قدم بڑھا کر سنجیدگی سے کہنے لگا تو وہ مڑ کر حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“یہ میرے کچھ بزنس پارٹنر نے ہماری شادی کی خوشی میں رکھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے انہیں کہا تھا کہ یہ شادی ہم نے کسی مجبوری کی وجہ سے کیا ہے۔۔۔۔۔تو پارٹی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔مگر وہ سب نہیں مانے اور اب یہ پارٹی ارینج کر لیا ہے انہوں نے۔۔۔ اگر تم نہیں جانا چاہتی تو میں انہیں منا کر دیتا ہوں ابھی۔۔۔!!
وہ اُسکے چہرے پر نگاہیں جماتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔۔۔۔تو وہ سر نفی میں ہلا کر بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھے بورڈ کو اٹھانے کے لیے بڑھی۔۔۔
“نہیں مجھے بھی جانا ہے۔۔۔۔۔یہاں رہ کر بہت برے خیال آتے ہیں۔۔اور پہلے میں نے زندگی میں انجوائے نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔اپنی فیملی کی وجہ سے جب کے اب مجھے یہ موقع مل رہا ہے۔۔ تو کیوں میں اسے جانے دو۔۔۔!!
بورڈ پر لکھ کر اُسے دیکھاتی وہ مسکرانے لگی۔۔تو اردشیر نے بورڈ میں لکھے لفظوں کو پڑھنے کے بعد نظریں اوپر اٹھائیں تو اُسکے گالوں پر پڑتے ڈمپل کو دیکھ وہ مہبوت رہ گیا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“میم آپ یہ ڈریس دیکھے سر کو اسطرح کے ڈریس بہت پسند ہے آپ یہ ٹرائے کرے۔۔۔!!
وہ پارٹی کے لیے ایک ڈریس سلیکٹ کر رہی تھی۔اور وہ میڈ جو ہر وقت بریا کو اردشیر سے ڈانٹ پڑھوانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی تھی۔۔۔۔۔۔۔وہ بیوٹیشن کے ساتھ بیڈ روم میں داخل ہوتی ہوئی بیڈ پر رکھے ایک ریڈ ساڑھی کی طرف اشارہ کرتی ہوئی کہنے لگی جو بہت ہی بولڈ تھا۔۔۔
“نہیں نہیں میں یہ نہیں پہن سکتی۔۔۔!!
بریا ہاتھوں کو زور سے ہلاتی ہوئی اُس ریڈ کلر کی بولڈ ساڑھی کی طرف اشارہ کرنے لگیں۔۔تو میڈ نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ میں وہ ساڑھی تھماتے ہوئے کہا۔۔۔
“میم آپ کو یہ پہننا چاہیے۔۔۔۔اور ویسے بھی یہ ساڑھی بھی ان سب ڈریس کے ساتھ آیا ہے۔۔۔اور آپ تو جانتی ہے یہ سب سر نے ہی بھیجے ہیں ہو سکتا وہ یہ چاہتے ہو کہ آپ انکے ہی پسند کے کپڑے پہنے۔۔۔!!
وہ اُسکی جانب دیکھتی ہوئی بولی۔۔
“آپ پلیز باہر جائے میں خود ڈیسائیڈ کرو گی کہ ان پر کونسا ڈریس سوٹ کرے گا۔۔۔۔۔۔مجھے مسٹر اردشیر نے انہیں جلدی ریڈی کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔پلیز آپ میرا ٹائم خراب مت کرے۔۔۔!!
بیوٹیشن نے میڈ کی جانب دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تو میڈ اُسے گھورتی ہوئی باہر نکلی جبکہ بریا کو سوچنے پر مجبور کر کے یہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
“آپ ان میں سے ایک ڈریس سلیکٹ کر کے چھینج کریں تاکہ میں آپکو تیار کر سکو۔۔!!
بیوٹیشن نے سب ڈریس کی جانب اشارہ کرتیں ہوئے کہا۔تو وہ ساڑھی اٹھا کر واشروم کی جانب خاموشی سے بڑھی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“وہ ابھی تک نیچے کیوں نہیں آئی۔۔۔؟؟
وہ نیچے کار کے پاس کھڑا اُسکا انتظار کر رہا تھا اور بار بار واچ میں ٹائم دیکھ رہا تھا جب بہت ٹائم گزرا اور وہ باہر نہیں نکلی تو وہ سخت غصے سے بڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“سر۔۔!!
احمد کی آواز پر وہ مڑا جو وہی کھڑا تھا۔۔۔۔
“ہمممممم۔۔۔!!
جیب سے سگریٹ نکال کر لبوں سے لگا کر اُسے دیکھنے لگا۔۔
“سر میڈم ریڈی ہو گئی ہے بس آتی ہونگی آپ فکر مت کریں۔۔!!
احمد نے فون جیب میں رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ابھی اسنے بیوٹیشن سے بریا کے بارے میں پوچھنے کے لیے کال کیا تھا تو فون کاٹنے کے بعد آگے بڑھ کر اردشیر سے کہنے لگا۔۔۔
“کب باہر آئیں گی ٹائم دیکھوں کتنا زیادہ ہوگیا ہے۔۔!!
غصے سے واچ اُسکے آگے کرتا کہنے لگا تبھی بیوٹیشن باہر نکلتی ہوئی نظر آئی اور اسکے پیچھے وہ ساڑھی کے پلو کو نروس ہو کر پکڑتی ہوئی آ رہی تھی اسے دیکھ وہ خاموشی سے اسے یک تک دیکھنے لگا۔۔۔
“سوری مسٹر اردشیر مس بریا کو ریڈی کرنے میں تھوڑا سا وقت لگ گیا۔۔!!
بیوٹیشن نے انکی جانب آکر مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔جبکہ وہ ساڑھی میں سخت نروس نظر آ رہی تھی۔۔ اردشیر کی نظریں اُسی پر مرکوز تھی اسے نروس دیکھ کر وہ احمد کو ہاتھ اٹھا کر اپنی طرف بلانے لگا۔تو وہ تیزی سے آگے بڑھا۔۔۔
“احمد کار سے میرا کوٹ نکالوں۔۔!!
اپنا لونگ کوٹ احمد کو نکالنے کے لیے کہنے لگا۔۔۔
“سر یہ لیں۔۔۔!!
احمد نے کوٹ اسے تھمایا۔۔تو وہ کوٹ کو پکڑتے ہوئے قدم اسکی جانب بڑھانے لگا۔۔۔۔۔۔بریا اسے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر سر جھکانے لگی۔۔
“یہ ہال میں پہنچ کر نکال لینا وہاں ٹھنڈ نہیں ہوگی باہر کافی ٹھنڈ ہے۔۔!!
اُسکو سرخ دیکھتا وہ آرام سے کہتا کوٹ اسے پہنا کر پیچھے ہٹتا۔۔۔تو وہ کوٹ کو سختی سے پکڑ کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“احمد تُم انہیں چھوڑ کر آؤ میں خود ڈرائیو کروں گا۔۔!!
احمد کو مخاطب کرنے کے بعد وہ سنجیدگی سے اُسکا ہاتھ تھام کر کار کی جانب بڑھا بریا خاموشی سے سر جھکائے اسکے ساتھ چلنے لگی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
” اوراد اب تُم بھی جلدی شادی کر لوں۔۔وہ دیکھو پاس کے ہال میں تُمہارے سب سے بڑے دشمن کی دوسری شادی کو سیلبریٹ کر رہے ہیں اسکے دوست اور بزنس پارٹنر۔۔۔!!
اوراد اپنے دوست کی شادی اٹینڈ کرنے لورین کے ساتھ آیا تھا دوسری طرف اتنی زوردار شور کو سن کر اسکے دوست نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔اسنے ابھی اردشیر کو اوراد کی منگیتر کے ساتھ دوسرے ہال میں جاتے ہوئے دیکھا تھا اس لیے وہ اسے مزاحیہ انداز میں کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔مگر اوراد غصے سے اس بات پر اپنی مٹھیاں کھسنے لگا جبکہ لورین یہ سن کر جلنے لگی۔۔
“عمران تُم فضول باتوں کو چھوڑو اپنی وائف کو ٹائم دو ورنہ وہ ہمیں دل ہی دل گالیاں دے گی۔۔۔ کہ ہم نے اس دن بھی اسکے دلہے پر قبضہ کیا ہے۔۔!!
اوراد نے یکدم سے غصے پر قابو پاتے ہوئے ہنس کر کہا تو اسکی بات پر سب دوست زور سے قہقہہ لگانے لگے۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“تُم یہاں میرا ویٹ کرو میں ابھی آتا ہو۔۔۔!!
ہال میں انٹر ہونے کے بعد اسے لیے ایک ٹیبل کے پاس پہنچا تو اُسے بیٹھنے کا کہہ کر نظریں ادھر ادھر ڈورہا کر اپنے دوستوں کو ڈھونڈنے لگا جب وہ اسے نظر آئے تو سامنے سے جاتے ایک ویٹر کو اسے جوس دینے کا کہتا انکی جانب بڑھا۔۔
“سو بیوٹی فل۔۔۔!!
وہ ویٹر کے دئیے ہوئے جوس کو پی رہی تھی پیچھے سے ایک خوبصورت نسوانی آواز پر وہ مڑ کر سامنے کھڑی ہستی کو دیکھنے لگی جو ایک خوبصورت لڑکی تھی۔۔
“کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہو۔۔؟؟
گلابی گالوں پر ڈمپل بریا کو بھلا لگا۔۔وہ اسکے گالوں پر پڑتے ڈمپل کو دیکھتی ہوئی اسکے سوال پر سر ہاں میں ہلانے لگی تو وہ لڑکی مسکرا کر بیٹھی۔۔
“آپ خاموش کیوں ہیں۔۔۔میں ہی کب سے باتیں کر رہی ہو۔۔مجھے آپکی خوبصورت آواز سننی ہے۔۔۔۔۔۔۔آپ اتنی خوبصورت ہے۔۔آئی ہوپ آپکی آواز بھی آپکی طرح خوبصورت ہوگی۔۔!!
لڑکی کی بات پر وہ چہرے پر ایک افسردہ مسکراہٹ سجا کر ہاتھ سے اشارہ کرنے لگی جو اسے سمجھ میں نہیں آیا۔۔
“فروہ یہ کیسے بول سکتی ہے بے چاری۔۔۔!!
وہ ابھی اسے سامنے رکھے ٹشو پیپر پر لکھنے کے ہاتھ آگے بڑھا رہی تھی کہ ایک طنزیہ آواز پر اس لڑکی کے پیچھے کھڑی ایک مغرور نظر آتے لڑکی کو دیکھنے لگی جو حقارت سے اُسے دیکھ رہی تھی۔۔
“زرمین آپی یہ آپ کس لہجے میں بات کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ عارب بھائی کے مہمان ہے۔۔آپ پلیز تمیز سے پیش آئے ان سے دیکھے تو یہ کتنی تو پیاری ہے۔۔۔!!
فروہ نے اس لڑکی کو گھورتے ہوئے کہا۔جو اسکی کزن تھی۔۔۔۔تو وہ بریا کو نفرت انگیز نظروں سے دیکھتی ہوئی کہنے لگی۔۔
“پیاری تو تُمہیں لگے گی تُمہارے بھیا کے جو نئی نویلی دلہن ہے ہنہہہہ۔۔۔!!
غصے سے وہ اپنے بالوں کو جھٹکتے ہوئے بریا کو نخوت سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔تو فروہ یہ سنتی یکدم سے پیچھے کھڑے اپنے بھائی اور بابا کی جانب دیکھنے لگی جو ان کی جانب متوجہ نہیں تھے۔۔
“زرمین آپی آپ نے پہلے کیوں مجھے نہیں بتایا کہ یہ بھیا کی۔۔!!
فروہ کے چہرے پر ڈر کی وجہ سرخی پھیلنے لگیں تو زرمین نے طنزیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔
“کیوں بتاتی تُمہیں ہی کر کسی ایرے غیرے سے یاریاں بڑھانے کا شوق ہے اب بھگتو جب چاچو کو پتہ چلے گا کہ تم ان کے نا فرمابردار بیٹے کی بیوی سے سلام دعا کر رہے تھے۔ تو تمہیں تمہارے بھیا بھی نہیں بچائے گے اور تمہارا وہ شہزادہ بھی نہیں۔!!
زرمین نے اپنے نیل پالش لگے ناخنوں پر پھونک مارتے ہوئے کہا۔جو اسنے ابھی اس پارٹی پر آنے کے لیے اپنے ناخنوں پر لگایا تھا۔۔
“زرمین آپی اب میں کیا کرو بابا تو مجھے مار ڈالے گے۔۔؟؟
فروہ نے ڈرتے ہوئے زرمین کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔تو زرمین نے مسکرا کر زرمین کی جانب دیکھا۔۔
“تُمہیں کچھ نہیں کرنا جو کرو گی میں خود کرو گی تُم بس وہاں جا کر کھڑی ہو جاؤ بس تُمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا بعد میں جو ابھی میں کرنے جا رہی ہو۔۔!!
زرمین نے سامنے اپنے چاچو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔تو فروہ تیزی سے وہی بھاگی جبکہ بریا حیرت سے اسے وہاں سے خاموشی سے بھاگتے ہوئے دیکھنے لگیں تبھی زرمین نے نفرت سے آگے بڑھ کر ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے پیچھے بہت بڑے سوئمنگ پول میں دھکا دیا۔۔۔۔۔۔۔فروہ جو زرمین کو اور بریا کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ زرمین کو بریا کو سوئمنگ پول پر دھکا دینے پر ساکت رہ گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھیں بھیگنے لگیں وہ اتنی بھی بے رحم نہیں تھی بریا کو ہرٹ بلکل بھی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر وہ زرمین کو بھی نہیں روک سکتی تھی۔۔۔۔ ورنہ وہ اسکا حال بھی اسکے بھائی کی پہلی بیوی کی طرح کرتی۔۔وہ سائیکو ہے بھائی کے لیے یہ سب جانتے تھے ۔۔۔۔اسی وجہ سے تو اُنکا بھائی ان سے اور اپنی بیٹی سے جدا ہے۔۔۔اگر اس نے عالیہ کے ساتھ وہ نہ کیا ہوتا تو آج اسکا بھائی انکے پاس ہوتا۔۔
“بریا۔۔۔!!!
اردشیر جو اپنے دوستوں سے باتیں کر رہا تھا۔۔۔۔ جب اسکی نظریں سوئمنگ پول پر کسی لڑکی کو بریا کو دھکا دیتے ہوئے دیکھکر وہ زور سے چیختے ہوئے دیوانہ وار وہاں بھاگا۔۔
سوئمنگ پول پر وہ گودا اور بریا کی طرف بڑھا اور اسے کمر سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگاتا سوئمنگ پول سے باہر نکلا جب اسکی نظریں بریا کے حلیے پر پڑی۔ اسنے جلدی سے سامنے ٹیبل پر رکھے کرسیوں میں سے ایک کرسی پر جس پر کچھ دیر پہلے اسنے اسے بیٹھایا تھا کرسی کے پیچھے لٹکے کوٹ کو اٹھا کر اس پر ڈال کر اُسکے گالوں کو تھپتھپانیں لگا۔۔۔
“بریا آنکھیں کھولوں پلیز۔۔۔!!
پیٹ پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اُسے دیوانوں کی طرح آوازیں دیتے ہوئے اچانک اُسکے لبوں پر جھکا اور اُسے سی پی آر دینے لگا زرمین جو پیچھے کھڑی تھی۔۔۔ اُسکو اس لڑکی کے اوپر جھکتے ہوئے دیکھکر غصے سے پاگل ہونے لگی ۔۔
“ڈیم اٹ تُم بھی اُسکی طرح مجھے چھوڑنا چاہتی ہو۔مگر میں یہ کرنے نہیں دونگا تُمہیں سن رہی ہو تم۔۔۔!!
غصے سے اُسکے سفید پڑتے گالوں کو پکڑتا جنونیت سے کہتا واپس اُسکے ہونٹوں کے اوپر جھکا اور ابکے اسکے ہر عمل میں جنونیت تھیں ۔۔۔اس وقت وہ شاید اپنے ہوش میں نہیں تھا۔۔کہ وہاں کون کون آیا تھا۔۔بس وہ اسے ہوش میں لانے کے لیے اسے سی پی آر دے رہا تھا۔۔
“تھینک گاڈ تُمہیں ہوش تو آیا ۔۔!!
اُسکی سی پی آر کی وجہ سے وہ کھانستی ہوئی اپنی آنکھیں کھولتی اسے دیکھنے لگی تو وہ اسکی پیشانی سے پیشانی تھکا کر ایک گہری سانس خارج کرتا کہنے لگا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“یوسف تُم نے انہیں کیوں انوائیٹ کیا تھا۔۔دیکھا اسکا انجام اگر اسے کچھ ہو جاتا تو ہاں۔۔۔!!
وہ یوسف کے ساتھ جس نے یہ پارٹی ارینج کیا تھا سی سی ٹی وی روم میں اس وقت کے وڈیو دیکھ رہے تھے کہ بریا کو کس نے سوئمنگ پول میں دکھا دیا تھا۔۔اور سامنے وڈیو میں زرمین جو اسکی کزن اور کسی زمانے میں اسکی منگیتر بھی تھی۔۔ بریا کو دکھا دیتے ہوئے اردشیر شدید غصے سے اس وڈیو کو دیکھنے کے بعد یوسف سے کہنے لگا۔۔
“شیر وہ بھی ہمارے پارٹنر ہے۔اسی لیے میں نے انہیں بھی انوائیٹ کیا تھا۔ہاں ان سے یہ چھپایا تھا کہ یہ پارٹی ہم نے تمہاری شادی کی خوشی میں رکھا ہے۔۔!!
یوسف کی بات پر وہ شدید غصے سے زرمین کو وڈیو میں دیکھنے لگا جو چہرے پر نفرت سجائے بریا کو گھور رہی تھی۔۔
“بتا دیتے تو آج یہ سب کچھ نہ ہوتا۔۔۔!!
وہ صوفے سے اٹھا اور کہتے ہوئے روم سے باہر نکلا اب وہ اس جانب بڑھ رہا تھا جہاں اسکا باپ کھڑا تھا اور اسکی ماں اسے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ خوشی سے اپنی آنکھوں میں جما آنسوؤں کو پونچھنے لگی۔مگر اپنے بیٹے کے چہرے پر غصہ دیکھتی وہ دل میں یکدم سے درد اٹھتا ہوا محسوس کرنے لگیں۔۔
“مسٹر آصف آپکی شاطر قاتل بھتیجی کہاں ہے۔آج وہ مجھ سے نہیں بچ سکتیں آپ بھی اسے اب نہیں بچا سکتے۔۔۔!!
وہ غصے و نفرت سے زرمین کو انکے پیچھے ڈھونڈتے ہوئے کہنے لگا تو آصف زیگن نے اسے شدید غصے سے گھورا۔۔۔
“تُم آج بھی اُس بچی کو اپنی بیوی کی قاتل مانتے ہو۔افسوس ہے۔!!
آصف زیگن نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔تو وہ سخت غصے سے اپنی مٹھیوں کو کھستے ہوئے اپنے غصے پر قابو کرنے لگا۔۔۔
“آپکی وہ بچی قاتل ہے سب تین سال پہلے سامنے آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن آپکو تو اپنی اس بچی پر بہت بھروسہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔مگر میں اسے نہیں بخشنے والا ہو۔وہ کسی نہ کسی دن تو میرے ہاتھ ضرور لگے گی۔۔!!
وہ کہتا کچھ دیر کھڑا اپنی جان سے پیاری ماں کو اور اپنی بیٹی کو دیکھنے لگا پھر قدم پیچھے بڑھا کر ان سے دور ہوتا چلا گیا بلکل چار سال پہلے کی طرح۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“زرمین آپی آپ اس حد تک گرے گی مجھے نہیں پتہ تھا اگر پتہ ہوتا تو میں آپکو روکتی۔۔۔!!
فروہ زرمین کو جب وہاں سے خاموشی سے بھاگتے ہوئے دیکھتی اسکے پیچھے بڑھی اور غصے سے اسے ہاتھ بڑھا کر پکڑتی ہوئی بولی۔۔
“شٹ اپ ہٹو میرے راستے سے ورنہ اگلی باری تُمہاری ہوگی۔۔۔۔۔۔۔یاد نہیں ہے عالیہ کے ساتھ میں نے کیا کیا تھا۔۔؟؟
اپنے کندھے سے اسکا ہاتھ زور سے جھٹک کر وہ غصے سے بولی۔فروہ اس کی بات پر اسے خوف سے دیکھنے لگی تو وہ طنزیہ انداز میں مسکرانے لگی۔۔۔
“سمجھدار ہو تُم جو جلدی سمجھ جاتی ہو اب یہ بات بھی عالیہ کے قتل کی طرح راز رکھنا کہ اس گونگی کو میں نے دھکا دیا ہے۔۔ورنہ عالیہ کو میں نے کیسے مارے ہے تم گواہ ہو۔۔۔!!
وہ اسکے گالوں کو تھپکی دے کر حقارت سے اردشیر کی پہلی بیوی کا نام لیتی ہوئی بولنے لگی۔تو فروہ اس دن کو سوچ کر جھرجھری لینے لگی۔۔۔
“میرے اور شیر کے درمیان جو بھی آئے گا۔۔۔۔۔ میں اسے صرف موت دو نگی۔۔اب اس گونگی کی باری ہے اسے تو میں ابتر موت دو نگی۔۔۔!!
جنونیت سے کہتی وہ فروہ کی جانب دیکھے بغیر تیزی سے باہر نکلی جبکہ فروہ اس پاگل لڑکی کے باہر نکلتے ہی نیچے گر کر اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھتی بری طرح سے رونے لگی۔وہ ڈر کی وجہ سے یہ بات کسی سے بھی شئیر نہیں کر سکتی تھی ورنہ وہ پاگل لڑکی اسکا بھی حال عالیہ کی طرح کرتیں۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“آہہہہہہہہ۔۔۔۔!!
زرمین پارٹی سے سیدھا اپنے فلیٹ میں آتیں ہی غصے و جنون سر پر سوار کیے وہ اپنے پورے فلیٹ کا نقشہ بگاڑنے لگی۔۔۔
“کیسے بچ سکتی ہے وہ گونگی لڑکی کیسے۔۔۔!!!
سامنے بیش قیمتی شیشے کے ٹیبل کو ہاکی کی مدد سے توڑتے ہوئے وہ پاگلوں کی طرح چیختے ہوئے کہنے لگی۔تبھی وہ فلیٹ میں داخل ہوئی تو اسے چیختے ہوئے دیکھتی تیزی سے آگے بڑھی۔۔
“کیا ہوا ہے زر تُم چیخ کیوں رہی ہوں۔۔؟؟
پریشانی سے اُسکے نازک سفید ہاتھوں سے نکلتے خون کو دیکھتی وہ سخت گھبرا کر اسکے خون کو روکنے کی کوشش کرتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی۔۔۔
“تُم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاؤ ڈئیر یو تُم یہاں کیا کرنے آئی ہو کیا میرا تماشا بنتے ہوئے دیکھنے آئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاؤ یہاں سے تُم کسی کام کی نہیں ہو۔۔۔۔۔۔۔ابھی تک وہ لڑکی اُسکے گھر میں کیا کر رہی ہے ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔اُسے باہر کیوں نہیں نکالا اردشیر نے اور یہ مجھے اُس عالیہ سے بھی زیادہ زہر لگنے لگی ہے۔۔۔۔اس پارٹی میں اسے اردشیر نے میرے سامنے ہی نہیں مجھے اپنا اردشیر چاہیے۔۔۔!!
وہ سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔جو اسکے لہجے میں بے بسی سے ضبط سے مٹھیوں کو کھسنے لگی۔۔۔۔
“پلیز تُم اسطرح روؤ کر اپنی حالت تو خراب مت کروں میں کوشش کر رہی ہو انہیں الگ کرنے کیلئے میں کسی بھی حد مجھے جانا پڑا تو میں جاؤ گی۔۔۔۔ اسی لیے تو میں اردشیر کے گھر صرف تمہارے لیے میڈ کی جاب کر رہی ہو شکر ہے۔۔۔۔۔ وہ مجھے نہیں جانتا۔۔۔!!
وہی تو تھیں اردشیر کے گھر میں میڈ تھی اور بریا کو وہ چیزیں کرنے پر مجبور کر رہی تھی جس سے اردشیر کو سخت نفرت تھیں۔۔اور یہ سب اسکی دوست سے پوچھ کر وہ کر رہی تھی کہ اردشیر کو کس چیز سے سخت نفرت ہے۔۔
“ماریہ ایک تم اور چاچو ہے جو مجھے سمجھتیں ہے۔۔ ورنہ سب مجھے پاگل سمجھتے ہیں۔۔مجھے تائی نفرت سے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی اور اردشیر کی بیٹی وہ بھی مجھے پسند نہیں کرتی اور رہی فروہ وہ مجھ سے ڈرتی ہے بے چاری۔۔!!
وہ اسے گلے لگاتی ہوئی بولی تو ماریہ نے اسکی پشت کو سہلاتے ہوئے کہا۔۔
“یار تم فکر مت کرو ایک دن سب تُم سے پیار کریں گے اردشیر بھی تمہیں چاہیں گا دیکھنا بس وہ بریا راستے سے ہٹ جائے۔۔!!
ماریہ نے اسے دور کرتے ہوئے کہا اور اسکے ہاتھ کو دیکھا جو بہت سوجھ گیا تھا اسے اس طرح خود کو تکلیف پہنچانے سے وہ ہمشیہ پریشان ہوتی تھی ابھی بھی وہ بہت پریشانی سے اسے مرہم لگانے لگیں۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥