95.6K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

“میری بیٹی کو اُس سے دور ہی رکھنا ورنہ اب یہ زندہ نہیں بچے گا۔۔۔!!
آصف زیگن اُن لوگوں کو چھوڑنے ائیرپورٹ پر آئیں تھے۔۔۔ اور اردشیر سے کہتے ہوئے وہ دلاور کو گھورنے لگے۔۔۔۔ جو اردشیر لوگوں کے پیچھے سر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔
“بابا آپ ہمیں اسطرح بھیجے گے۔۔۔۔۔۔۔دھمکیاں وغیرہ دے کر اور آپ فروہ کی فکر نہ کریں میں اُسکا بھائی ہو۔۔۔۔کسی کی اتنی ہمت نہیں میرے ہوتے کوئی اُسے ہاتھ لگائے۔۔۔۔۔۔۔تو میں اُسکی حالت ایسی کروں گا۔۔۔۔کہ وہ اپنی بیوی کو ہاتھ لگانے کے قابل نہیں رہے گا۔۔!!
اردشیر نے بریا کا ہاتھ پکڑیں کھڑے فروہ کی جانب دیکھتے ہوئیں آصف زیگن سے مخاطب ہوا۔۔۔جو فروہ کی جانب ہی متوجہ تھے۔۔
“ٹھیک ہے بیٹا تُم لوگ جاؤ لیٹ ہو رہا ہے۔۔۔!!
انہوں نے کلائی پر بندھی گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا۔تو اردشیر نے دلاور احمد کو اشارہ کیا تو وہ تیزی سے آگے بڑھا اور بیگ میں سے سب کے پاسپورٹ اردشیر کی جانب بڑھانے لگام۔۔
“اوکے بابا ہم چلتے ہیں جلد ملاقات ہوگی۔۔۔!!
اردشیر نے اُنہیں اپنے گلے لگاتے ہوئے کہا تو انہوں نے اسکی پیشانی چھو کر فروہ اور بریا کے سر پر ہاتھ رکھا اور دلاور احمد کو سخت نظروں سے گھورنے لگا۔۔۔
“تُم آخری بار کہہ رہا ہوں۔۔۔۔۔ دو سو کلو میٹر دور رہنا میری بیٹی سے….. ورنہ میں تُمہاری قبر وہی پیرس میں آ کر بناؤ گا۔۔!!
غصے سے اُسے دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا۔دلاور احمد نے سر جھکا کر ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ اردشیر اپنے باپ کی اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے پوزیسو پر مسکرایا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“زرنگ اُس نالائق نے تُمہیں فون کیا کے نہیں۔۔؟؟
احمد خان حویلی کے بڑے سے ہال میں اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔۔وہ زرنگ سے پوچھنے کے بعد اٹھے اور اُسکی جانب بڑھے جو نظریں چرا رہا تھا۔۔
“وو۔۔۔۔وہ بابا وہ ایک ضروری کام کے سلسلے میں اردشیر کے ساتھ پیرس جا رہا ہے۔۔۔!!
زرنگ خان نے زارا خان اور اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔۔جو اُسے اپنی سبز آنکھوں سے دیکھ کم اور گھور زیادہ رہی تھیں۔ وہ ہمشیہ انکی تیز اور حقارت بھری نظروں کی وجہ سے اپنے دل میں ایک ہوک سی اٹھتا ہوا شدت محسوس کرتا تھا۔۔۔۔۔اُنکی نظروں کا مفہوم وہ ہمشیہ سے جانتا تھا۔
“زارا آپ اندر جائیں۔۔۔!!
احمد خان نے شاید زرنگ خان کی سُرخ نظروں میں درد کو ہلکورے لیتے ہوئے دیکھا جو زارا خان کی نفرت بھری نظروں اور باتوں سے اُسکی آنکھوں میں ہمشیہ سے آنسوؤں کی طرح چمکتا تھا۔۔
“ہاں آپ تو مجھے یہاں سے بھیجنا چاہیں گے۔۔۔۔۔ میری یہاں موجودگی آپ کے لاڈلے کو جو ناگوار گزر رہی ہے۔۔لیکن میری بات کان کھول کر سن لے میں بھی یہاں سے نہیں ہٹوں گی مجھے بھی حق ہیں۔۔۔ اپنے اکلوتے سگے بیٹے کی بابت جانے کا سُنا آپ نے مجھے دلاور کی فکر ہو رہی ہے۔پتہ نہیں میرا بچہ کس حال میں ہوگا۔۔۔اتنے دنوں سے نہ اُسنے مجھے فون کیا ہے۔نا آپ نے مجھے کچھ کہا ہے۔ارے آپ کیسے کہے گے۔۔آپکو تو صرف اپنا لاڈلا نظر آتا ہے۔۔سگا بیٹا تو آپ کے لیے شاید ایک بھول ہے۔۔!!
وہ غصے سے کہتی زرنگ خان کو گھورنے لگیں۔۔۔زرنگ خان کی اوشن بلیو آنکھیں نم ہونے لگی۔۔ انکی ایسی سخت باتیں ہمشیہ اسکے مضبوط حساب کو گردن پر چھڑا پھیرنے کی طرح لگتی تھی۔۔۔
“زارا بیگم یہ کیا بکواس کر رہی ہیں آپ ہم نے ہمشیہ زرنگ اور دلاور کو ایک جیسا ہی سمجھا ہے۔۔۔تُم بھی زرنگ خان کو اپنا بیٹا سمجھو۔۔۔۔مت بھولو یہ میرے بڑے بھائی کی نشانی ہے۔۔!!
وہ سخت غصے سے زارا خان کے اوپر گرجے جو منہ نفرت سے پھیرے دوسری طرف دیکھ رہیں تھیں کہ انکی بات پر طنزیہ انداز میں زرنگ کو دیکھنے لگیں۔۔
“میرا بیٹا صرف ایک ہی ہے احمد خان۔۔اور وہ دلاور احمد خان ہے۔اس نحوست کو میں نے نہ کل اپنا بیٹا مانا ہے۔اور نہ آج مانتی ہوں۔۔۔!!
زرنگ خان کو نفرت سے دیکھے جا رہی تھیں انکا دل چاہ رہا تھا کہ وہ زرنگ خان کی زندگی کو عذاب بنا دے بلکل اسی طرح جس طرح وہ بچپن میں اسے سزا دے کر کرتی تھی اسی طرح اب بھی وہ اسکے ساتھ سلوک کرے۔۔
“آپ کی اسی رویے کی وجہ سے آج ہماری بیٹی ہم سے دور ہے زارا خان۔۔!!
احمد خان نے غمگین لہجے میں کہا۔یہ بات کہتے ہوئے وہ اس وقت ایک نحیف و ناتواں کاندھوں والے بوڑھے انسان لگنے لگے تھے۔۔۔۔۔ زرنگ خان کو اور انہیں تبھی نیچے گرتے ہوئے دیکھتا وہ تیزی سے انکی جانب ڈورا۔۔۔
“اگر انہیں کچھ ہوا تو زرنگ خان میں تُمہیں جان سے مار ڈالوں گی،صرف تُمہاری وجہ سے میں نے اپنی بیٹی کو کھویا اور اب اپنے بیٹے اور شوہر کو نہیں کھونا چاہتی اگر ان دونوں کو کچھ ہوا تو میں ایسی بد دعا دو گی،جو تمہاری زندگی کو برباد کر دے گی۔۔۔!!
زارا خان نے احمد خان کو تھامتے ہوئے نفرت سے زرنگ خان کی جانب دیکھا جو آگے قدم بڑھا کر احمد خان کو کندھوں سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے وہ انکی حقارت بھری نظروں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“آپ فکر مت کریں تائی جان بابا کو کچھ نہیں ہوگا۔۔!!
وہ ہمشیہ اُنکی سخت باتوں کے باوجود بھی انہیں احترام سے مخاطب کرتا تھا اور ابھی بھی اسکے لہجے میں ہمشیہ کی طرح احترام تھیں۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“سر آپ نے اُن سے جھوٹ کیوں بولا کہ ہم فروہ اور بریا میم کے علاج کے لیے پیرس میں جا رہے ہیں۔۔؟؟
آصف زیگن کے ائیرپورٹ سے چلے جانے کے بعد وہ چاروں پارکنگ لاٹ کی جانب بڑھے جہاں پہلے سے ہی انکے لیے ایک کار کھڑی تھی۔۔۔کیونکہ وہ اردشیر کے پلان کے مطابق پیرس نہیں اسلام آباد جا رہے تھے۔۔۔
“احمد پیرس میں۔۔۔میں اور بریا جائیں گے۔تُم فروہ کے ساتھ اسلام آباد میں رہوں گے۔۔کیونکہ فروہ کے لیے ڈاکٹر کو لندن سے خاص میں نے اسلام آباد بلایا ہے۔۔تُم دونوں کا نکاح میں اپنی موجودگی میں کرانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔گواہ بھی تو لازمی ہے۔اور میرے تین دوست بھی وہاں ہے۔۔گواہ کی صورت میں۔۔!!
اردشیر سنجیدگی سے ڈرائیو کرتا دلاور سے کہنے لگا۔فروہ نکاح کا سُن کر گھبراہٹ سے بریا کا ہاتھ تھام گئی تھی اور اُسکے چہرے پر گھبراہٹ مرر سے دیکھتے ہوئے اردشیر کہنے لگا۔۔
“گڑیا یہ نکاح بہت ضروری ہے۔۔۔۔۔۔تُمہارا احمد کے ساتھ اکیلے رہنا ٹھیک نہیں ہے۔۔سمجھ رہی ہوں ناں۔۔۔۔۔علاج جب تک مکمل نہیں ہو جاتا۔۔۔۔ تم ٹھیک نہیں ہو جاتی تم احمد کے نکاح میں رہوں گی۔۔۔۔۔تُم دونوں چاہے اس میرج کو کانٹریک میرج میں بدل سکتے ہو۔۔۔!!
اردشیر نے فروہ کو سمجھاتے ہوئے آخر میں دونوں کو ایک حل بتانے لگا۔جسے سن کر فروہ نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
“ٹ۔۔ٹھیک ہے بھیا ۔۔!!
فروہ نے لرزتی آواز سے کہا۔۔
“گڑیا فلحال تو تُم دونوں کا نکاح ہوگا ہاں کل میں اپنے وکیل سے کہہ کر ایک کانٹریک میرج پیپر تیار کرواؤ گا۔تاکہ تم اپنی مرضی کے رولز بناؤ۔۔!!
سامنے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے فروہ سے مخاطب ہوا جبکہ اس لمحے بریا اور دلاور احمد خان خاموشی سے بھائی بہن کی باتوں کو سن رہے تھے۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“میم آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صرف یہ چنری پہننے سے آپکے حُسن کو چار چاند لگے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اگر پورا برائیڈل میک اور ہوتا تو دلہے صاحب کے ہوش اڑ جاتے لیکن میم کوئی بات نہیں اس روپ میں بھی وہ غائل ہو جائے گے۔۔!!
نکاح چاہیے جیسے بھی ہو رہا تھا۔۔۔۔ لیکن اردشیر اپنی اکلوتی بہن کی شادی کو یوں روکھی پھیکی انداز میں کیسے کرنے دیتا اسنے بریا سے شئیر کیا تھا کہ ایسا کیا کرے کے فروہ کو کبھی یہ نہ لگے۔۔۔۔ کہ اسکے اہم دن پر بھائی نے اسکے لیے کچھ نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔بریا نے اسے اسی وقت ایک آئیڈیا دیا۔۔۔۔۔کہ وہ نکاح کو دھوم دھام سے نہیں کر سکتے تو کیا ہوا اسکے لیے ایک خوبصورت نکاح کا ڈریس تو لے سکتے ہیں ناں۔۔۔۔۔۔تو دونوں وہاں لاہور کے ایک مال سے نکاح کیلئے ایک وائٹ سوٹ جس پر سُرخ چنری بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
“ہممممم۔۔۔!!!
فروہ بیوٹیشن کے کمنٹ پر صرف سر ہلا کر رہ گئی اب وہ اسے یہ نہیں بتا سکتی تھی کہ یہ نکاح صرف ایک مجبوری ہے جو وہ شخص کر رہا تھا اور اسکا یہ روپ تو اب کبھی بھی اُس شخص پر اثر کرنے والی نہیں ہے کیونکہ وہ اب اُس سے صرف نفرت کرنا جانتا ہے محبت تو وہ شاید بھول چکا ہوگا۔۔۔ صرف اسکی ایک شرارت کی وجہ سے وہ سیاہ اور بڑی آنکھوں میں گرم گرم سیال کو بہتے ہوئے شدت سے محسوس کر سکتی تھی اور اب شاید یہ نمکین پانیوں کا سیلاب اسکی پوری زندگی میں آنکھوں میں بہے گی۔۔۔
“میم آپ رو کیوں رہی ہے کیا آپ اس نکاح سے خوش نہیں ہیں۔۔؟؟
بیوٹیشن کی پریشان آواز پر وہ چونک کر ہاتھ اٹھا کر ٹٹولتی ہوئی اپنے چہرے پر رکھ کر گالوں سے پھسلتے آنسوؤں کو پونچھنے لگی۔۔۔
“نن۔۔۔نہیں ایسی بات نہیں ہے ش۔۔شاید آنکھوں میں کچھ چلا گیا ہو۔۔۔!!
وہ بھاری آواز میں بولی تو بیوٹیشن نے اُسکے پھیلے کاجل کو ٹشو سے صاف کرتے دوبارہ میک اپ درست کیا جو اسکے آنسو بہنے کی وجہ سے خراب ہو گئے تھے۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
فروہ کے ہاتھ بُری طرح سے لرز رہے تھے۔۔۔۔ اب وہ دیکھ نہیں سکتی تھی اسی لیے اردشیر نے اسکی آسانی کے لیے سائن کے جگہ انگوٹھے سے کام چلانے کا اوپشن چنا تھا فروہ جو صوفے پر بیٹھی تھی۔۔۔ بریا کے نرمی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر نکاح نامے پر اس جگہ رکھنے پر جہاں اُسکے انگوٹھے سے اس جگہ کو سیاہ کرنے کی وجہ سے اپنی زندگی اُس شخص کے نام پر کرنا تھا۔۔۔۔۔۔جو شاید اب اسے ہمدردی میں اپنا رہا تھا۔۔
“گڑیا۔۔۔!!
اردشیر اُسی کی جانب دیکھ رہا تھا اسکے ہاتھوں کی لرز سے وہ بھی اچھے سے واقف تھا اسی لیے خاموشی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور بریا کے نازک ہاتھ کے اوپر اپنا ہاتھ رکھ کر اس جگہ پر فروہ کے انگوٹھے کو رکھ کر فروہ کو دیکھنے لگا۔۔۔ جسکی آنکھوں سے اب آنسو گرتے ہوئے اسکے گالوں کو بھگو رہے تھے۔۔
“ایزی فروہ گڑیا کچھ نہیں ہوتا۔۔ یہ نکاح تُم اور احمد اچھے سے جانتے ہو صرف عارضی ہے۔۔بہت جلد تم اس بندھن سے جب چاہے آزاد ہو سکتی ہو…!!!
احمد اردشیر کے لفظوں سے اپنے دل میں ایک ٹھیس اٹھتا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگا یکدم سے اُسے سانسس لینے میں دشواری محسوس ہوئی تو وہ اپنی سرخ نم آنکھوں کو اوپر اٹھا کر چھت کی طرف دیکھتے ہوئے گہری سانس لینے لگا۔۔۔اسطرح شاید وہ خود کو سنبھالنا چاہتا تھا۔۔وہ اسی پوزیشن میں اوپر دیکھ رہا تھا کہ مولوی کی آواز پر نظریں نیچے جھکا کر مولوی صاحب کے چہرے کو دیکھنے لگا جو اب اس سے پوچھ رہے تھے۔۔۔
“دلاور خان ولد احمد خان آپ کا نکاح فروہ آصف زیگن ولد آصف زیگن کے ساتھ حق مہر ایک لاکھ روپے سکہ رائج الوقت ہونا طے پایا ہے۔۔۔۔۔کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”
مولوی صاحب کے سوال پر نظریں فروہ کے گھونگھٹ میں چھپے سر کی جانب کرتا اسے دیکھنے لگا۔۔
“قبول ہے۔۔۔!!
اُسنے حق مہر اس لیے ایک لاکھ کیا تھا وہ اردشیر کو شک میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا تھا اگر اسنے حق مہر زیادہ کیا تو وہ اسے شک کی نگاہوں سے دیکھے گا جو وہ افورڈ نہیں کر سکتا تھا ۔۔وہ سچائی جان چکا تھا وہ کبھی بھی فروہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اسے نا چاہتے ہوئے بھی فروہ کو اپنانا پڑا لیکن اب کیا ہوگا اگر اس کے بابا کو پتہ چل گیا وہ کیا کرے گے یہ سوچ کر وہ بہت پریشان تھا۔۔
“دلاور خان ولد احمد خان آپ کا نکاح فروہ آصف زیگن ولد آصف زیگن کے ساتھ حق مہر ایک لاکھ روپے سکہ رائج الوقت ہونا طے پایا ہے۔۔۔۔۔کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”
مولوی صاحب کے یہی سوال دوسری مرتبہ پوچھنے پر وہ نظریں اسی طرح ہنوز فروہ کے جھکے سر پر مرکوز کیے بغور اسے دیکھتے ہوئے آنے والے وقت کے بارے میں ایک بار پھر سے سوچنے لگا۔۔
کیا مجھے اس لڑکی کو قبول کرنا چاہیے جس نے مجھے ایک سال پہلے اپنی ایک چھوٹی سی شرارت کی وجہ سے رسوا کر دیا تھا کیا۔۔۔۔کیا۔۔۔؟؟مجھے اُسے قبول کرنا چاہیے…؟؟جسکی زندگی مجھ سے جڑنے کی وجہ سے خطرے میں چلی جائے گی۔!!کیا…؟؟؟ مجھے اسے قبول کرنا چاہیے ؟؟؟دماغ میں گردش سوالوں سے لڑتے ہوئے بلاآخر اسنے اسے چننے کا فیصلہ کیا۔۔
“قبول ہے۔۔۔!!
وہ براؤن آنکھوں میں مطمئن رنگ لیے فروہ کی جانب سے نظریں ہٹا کر مولوی صاحب کے سوال کا جواب آرام سے دینے لگا۔۔۔اور پھر جب تیسری بار اُس سے مولوی صاحب نے پوچھا تو وہ دل سے جواب دینے لگا بنا کچھ سوچے سمجھے۔۔۔اور اسکے قبول ہے کہتے ہی اردشیر نے اٹھ کر اسے گلے سے لگاتے ہوئے مبارک باد دینے لگا پھر فروہ کی جانب بڑھ کر اسکے سر پر برادرانہ شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے اسے بھی مبارک باد دینے لگا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
دلاور کو جب زرنگ خان نے احمد خان کی بُری طبیعت سے آگاہ کیا تو وہ اردشیر کو ائیرپورٹ چھوڑنے بھی نہ جا سکا وہ فروہ کو اپنے ساتھ لے کر سیدھا پشاور کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔۔اور اب رات کے تین بجے وہ دونوں حویلی میں پہنچے تھے۔زرنگ خان جو انہیں کا انتظار کر رہا تھا حویلی کے بہت بڑے گیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر اسکے ساتھ فروہ کو دیکھتا وہ تعاجب سے دلاور کو دیکھنے لگا۔۔۔
“زرنگ لالہ اب کیسی طبعیت ہے بابا کی۔۔۔؟؟
دلاور اسکی نظروں کو نظر انداز کرتا اُس سے احمد خان کے بابت پوچھنے لگا۔۔۔
“دلاور خان اب وہ پہلے سے بہتر ہے ۔۔۔لیکن یہ کون ہے۔۔کیا یہ وہی لڑکی تو نہیں ہے۔۔۔؟؟
زرنگ خان کی نظریں ابھی تک فروہ کے اوپر مرکوز دیکھ کر دلاور خان فروہ کے آگے کھڑا ہوا تو زرنگ خان نے دوسری طرف نظریں گھما کر اسے پوچھا۔۔۔
“یہ بیوی ہے میری فروہ دلاور خان۔۔۔!!
اسنے سنجیدگی سے کہا۔۔تو زرنگ خان یہ نام سنتا اسے تاسف سے دیکھنے لگا۔۔۔
“دلاور خان یہ تُم نے کیا حماقت کر دی ہے۔۔۔بابا جان کو جاننے کے باوجود بھی تُم نے کیوں اس لڑکی کو خطرے میں ڈالا اگر بابا کو پتہ چلا کہ یہ زیگن خاندان سے ہے تو وہ اسکی جان لے لیں گے۔۔۔!!
احمد خان جسے زارا خان نے دلاور خان کے آنے کی بابت بتایا تو وہ زارا خان سے پورچ کی جانب انہیں لے جانے کا حکم دے کر جب وہاں پورچ پر پہنچے تو زرنگ خان کے منہ سے یہ سُن کر وہ غصے سے پاگل ہو گئے اور لرزتے ہوئے دلاور خان کے اوپر غرائے۔۔۔
“دلاور خان تُم نے اس لڑکی سے شادی کر کے اچھا نہیں کیا ہے۔۔اگر چاہتے ہو کہ ہم بغاوت نہ کرے تو ابھی اسی وقت اُسے فارغ کر دو ورنہ تُم نے اگر بغاوت کا فیصلہ کیا تو میں بھول جاؤ گا کہ تم میرے بیٹے ہو۔۔!!!
احمد خان نے نفرت سے فروہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو دلاور خان نے فروہ کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔۔
“بابا وہ سب کچھ غلط بیانی تھا عالیہ باجی کو اس کے باپ نے نہیں بلکہ چچا زاد بہن نے مارا ہے اور آصف زیگن کے ڈر سے وہ لڑکی بھاگ گئی ہے آپ سمجھ میری بات اور اس جنگ کو یہی ختم کر دے اور اپنی بہو کا استقبال خوش دلی سے کرے۔۔۔!!
دلاور خان کی بات پر زارا خان نے استہزاء نظروں سے اپنے بیٹے کی جانب دیکھا۔۔۔اور حقارت بھری نظروں سے فروہ کو جو اس وقت سیاہ گلاسز میں تھی اس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ ایک معذور لڑکی ہے۔۔۔
“دلاور خان تُم بھول رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔کہ عالیہ کی لاش اُس زیگن خاندان کی حویلی سے نکلی تھی۔۔اور قاتل بھی انہی کی خون ہے۔۔وہ اگر بھاگ گئی ہے تو اب بدلا ہمیں اسی زیگن خاندان سے لینا ہے کیوں انکی موجودگی میں وہ لڑکی بھاگی تھی اگر اسے اپنی بہو اتنی پیاری تھی تو اسی وقت اسے مار دیتے اور ہمارے دلوں میں اس انتقام کی جلتی آگ کو ٹھنڈا کر دیتے۔۔۔!!
اپنی ماں کی بات پر وہ انہیں تاسف سے دیکھنے لگا۔۔۔۔اور اچھے سے سمجھ گیا کہ فروہ کے لیے اس حویلی میں کوئی جگہ نہیں ہے تو وہ فروہ کو کندھوں سے پکڑ کر خاموشی سے واپس اپنی کار کی جانب بڑھنے لگا۔۔۔
“اس وقت کہاں جا رہے ہو بیٹا۔۔رک جاؤ۔۔۔!!
زارا خان آخر کو ماں تھی کیسے اتنی آدھی رات کو اپنے بیٹے کو در در کی ٹھوکریں کھانے دیتی تڑپ کر آگے بڑھی اور اسے پکڑتی ہوئی کہنے لگیں۔۔
“مورے جب میری بیوی کیلئے یہاں جگہ نہیں ہے تو یہاں رہ کر میں کیا کروں گا۔۔۔!!
وہ سپاٹ لہجے میں کہتا احمد خان کے اوپر نظریں گاڑے کہنے لگا جو سرد تاثرات چہرے پر سجائے دوسری طرف رخ کیے کھڑے تھے۔کہ اسکی بات پر خاموشی سے اندر کی جانب بڑھیں۔۔
“بیٹا تُم ضد مت کرو ابھی بہت رات ہو گئی ہے کل۔خدا کے لیے اس لڑکی کو جہاں سے لائیں ہو وہیں چھوڑ کر آو ورنہ یہ معذور لڑکی بہت بڑی مصیبت میں پھنس جائے گی۔۔۔!!
نحوست کی علامت لگ رہی تھی زارا خان کو فروہ اپنے بیٹے کے پہلوں میں کھڑے دیکھ کر اپنے لہجے میں اسکے لیے حقارت اور بے ہسی شامل کر کے اسے معذور کہتی اسکے دل میں ایک درد کو جگا گئی تھیں۔۔۔دلاور اپنے ہاتھ میں دبے اسکی نازک کلائی کو بُری طرح سے لرزتے ہوئے محسوس کرتا زارا خان کو تاسف سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“مورے آپ اس طرح میری بیوی کو بے عزت نہیں کر سکتی اگر آپ نے دوبارہ اسے معذوری کا طعنہ دیا تو میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔۔۔!!
وہ فروہ کو اپنی باہوں میں بھرتا انکی نظروں میں ناگواری سجا کر یہ کہتا حویلی کی جانب بڑھا یہ جانے بغیر کہ کل سے فروہ کی زندگی بہت مشکل سے دو چار ہونے والی تھی۔۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
آہہہہہہہہہہہ۔۔۔۔۔!!!
فروہ کی زور دار چیخ سے پوری خان حویلی سوگواری میں بدلتی چلی گئی سامنے کھڑی عورت کے پیر فروہ کی نازک ہاتھ کے اوپر دباؤ بڑھتی چلی جا رہی تھیں۔۔۔۔۔۔ جسکی وجہ سے نیچے گرے شیشوں کے ٹکروں سے اُسکے ہاتھ سے خون نکل کر سفید کارپٹ کو سرخ کر رہے تھے۔۔۔۔
“نہیں پلیز ایسا مت کریں مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔!!
چیخ چیخ کر اُسکے گلے میں خراشیں پڑ چکی تھی مگر وہ ظالم عورت رکنے کے بجائے اُس پر اور زیادہ تشدد کر رہی تھی۔۔دلاور کو احمد خان نے اپنی زمینوں پر بھیجا تھا اور خود یہاں بیٹھے اُسکی چیخوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
“تکلیف لڑکی تُم اِسے تکلیف کہتی ہو۔۔۔پتہ ہے تُمہاری تکلیف تو کچھ بھی نہیں ہے میری تکلیف کے آگے۔۔۔ تُم لوگوں نے تو مجھے جیتے جی موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔۔۔۔چیخو اور چیخو آج تُمہاری کوئی نہیں سُنے گا میرا بیٹا بھی نہیں۔۔۔!!
احمد خان نے نفرت سے اُسے سامنے فرش پر گرے روتے ہوئے دیکھکر سخت گیر لہجے میں گویا ہوئے۔۔۔
“احمد۔۔۔!!!
وہ سسکی لے کر احمد کا نام لیتی ہوئی چیخ چیخ کر تکلیف کے باعث رونے لگی۔۔۔وہ عورت اب گرم پانی اسکی ہتھیلیوں کو کھول کر پیھنکنے لگی۔۔جس سے وہ تکلیف سے دوہری ہو کر کراہنے لگی۔۔
“بابا۔۔۔!!
دلاور جو حویلی میں داخل ہو رہا تھا سامنے کا منظر دیکھ کر وہ غصے اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات چہرے پر قائم کیے تیزی سے فروہ کی جانب بڑھا۔۔۔ اور نیچے بیٹھ کر اسے اپنی آغوش میں لے کر اُسکی ہتھیلی کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔ جو کانچ لگنے کی وجہ سے زخم زخم تھے اور گرم پانی کی وجہ سے اسکی ہتھیلیوں پر آبلے پڑے تھے۔۔۔
“اچھا ہوا تُم آ گئے برخوردار اب جلدی سے اِس گندی نالی کے کیڑے کو فارغ کرکے اُسکا گلا دبا کر جان سے مار دو۔۔۔۔۔۔تب مجھے سکون ملے گا۔۔!!!
نفرت سے فروہ کو اپنے بیٹے کی باہوں میں دیکھتا وہ غصے سے کہنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔دلاور اُسے اپنی باہوں میں اٹھا کر اُن پر نظریں گاڑے کھڑا ہوا۔۔۔۔
“آپ جو چاہتے ہیں وہ میں اپنی زندگی میں تو کبھی نہیں کروں گا۔۔۔۔۔اگر یہ مرے گی۔تو زندہ آپکا بیٹا بھی نہیں رہے گا۔۔۔!!
سپاٹ لہجے میں کہتا وہ اُنکی غصیلی سرخ آنکھوں میں دیکھنے لگا۔فروہ اُسکی موجودگی اور لمس پاکر اُسکی شرٹ کو سختی سے دبوچ کر خود کو سنبھالنے لگی۔۔
“یہ تُم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔۔۔۔مت بھولو کہ یہ لڑکی ہماری دشمن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔تُم اس کی وجہ سے اپنا خاندان اپنے باپ دادا کی یہ جاگیر کو ٹھوکر مارنے چاہتے ہو۔۔۔۔!!
احمد خان سخت تنفر سے فروہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔دلاور اُنکی بات پر استہزاء مسکرایا۔۔۔
“آپ بھی یاد رکھے کہ یہ لڑکی میری زندگی ہے۔۔۔۔۔۔اگر مجھے اسکے لیے جینا بھی چھوڑنا پڑا نہ تو چھوڑ دو گا۔۔۔!!
اُسے باہوں کی قید میں لے کر وہ اُسکے معصوم چہرے کو نظروں کی گرفت میں لے کر اُن سے کہنے لگا تو انہوں نے سخت تیوریاں چڑھا کر ان دونوں کو گھورا۔۔۔
“یہ لڑکی میرے گھر میں نہیں رہ سکتی۔۔۔۔۔۔۔میں اُسے کبھی بھی اپنی بہو تسلیم نہیں کروں گا۔ اگر حاق نہیں ہونا چاہتے تو اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے باہر پھینکو ورنہ۔۔۔!!
احمد خان کی سُرخ غصیلی نظروں نے دلاور احمد خان کی سرد و سپاٹ نظروں سے ٹکرائیں وہ اپنے باپ کی نفرت کو اچھے سے سمجھتا تھا لیکن وہ اِس بار انکی بات نہیں ماننا چاہتا تھا وہ اُنکی انا کو بلکل بھی چننا نہیں چاہتا تھا وہ آج اپنی محبت کو چن چکا تھا۔۔۔
“بہو تو بن چکی ہے رہیں بات گھر کی تو جہاں میں رہوں گا یہ بھی وہی رہے گی بابا حضور۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر اِسے اپنانے سے مجھے یہ عیش و عشرت چھوڑنا بھی پڑا نا تو میں آرام سے چھوڑ دو گا۔۔۔۔ڈرتا نہیں ہو غریبی کی زندگی جینے سے ہاں کسی بے گناہ کو سزا دینے سے ضرور ڈرتا ہوں۔!!
براؤن آنکھوں میں سرد پن جبکہ چہرے پر سخت سنجیدگی سجائی پرسکون لہجے میں احمد خان سے مخاطب ہوا فروہ جو اُسکے ساتھ کھڑی تھی اپنے ارد گرد اتنی نفرت محسوس کرتیں لرزتی ہوئی سختی سے اُسکا ہاتھ تھام گئی تھی۔۔
“تُم نافرمانی کرنا چاہتے ہو برخوردار۔۔؟؟
احمد خان کے لہجے میں اچانک سے سخت پن چھلکنے لگیں جسے محسوس کرتیں دلاور کے عنابی لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ سج کر اُسے اور بھی وجیہہ بنا گئیں۔۔۔
“یہ نافرمانی بابا حضور آپ خود آپ مجھے کرنے پر مجبور کر رہے ہیں یہاں سب جانتے ہیں کہ گناہ کس کا ہے پھر بھی آپ اُسکی سزا کسی اور کو دے رہے ہیں جو مجھ سے بلکل بھی برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔!!
اُسکے لہجے میں بھی یکدم سے سرد پن جھلکتا نظر آنے لگا جسے احمد خان نے مٹھیوں کو کھستے ہوئے برداشت کیا وہ اپنے اس ضدی بیٹے کو اچھے سے سمجھتے تھے۔۔۔۔ جو غلط بات کے حق میں انکا کبھی بھی ساتھ نہیں دیتا تھا۔۔۔
سرفراز خان میں نے کہا تھا۔۔۔۔۔ اِسے مت بھیجو یہ پہلے سے باغی ہے اگر اُسے وہاں کچھ غلط لگا تو یہ ہم سے بغاوت پر اتر آئے گا دیکھ لیا اب یہ ایک لڑکی کے لیے ہم سے جنگ کرنا چاہتا ہے۔۔۔!!
احمد خان نے اپنے بڑے بیٹے سرفراز خان کو مخاطب کرتیں ہوئے سرد لہجے میں کہا نظریں ہنوز اُس پر مرکوز تھیں جو فروہ کے گرد سختی سے اپنی باہیں پھیلا کر اُسے اپنے ساتھ لگاتا جسے اُسکی تحفظ کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ ان سب سے جو اُسے نفرت سے گھور رہے تھے۔۔۔
“بابا اگر آپ اسی طرح مجھ پر سختی کرے گے تو میں آپکو ہمشیہ ہمشیہ کیلئے چھوڑ کر بہت دور چلا جاؤ گا۔۔صرف اس لڑکی کی خاطر۔۔۔!!
وہ نہایت ہی تعمل سے کہتا انہیں اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھنے لگا جو غصے کی زیادتی سے پاگل سے ہو رہے تھے۔۔۔
“بابا آپ تحمل سے کام لے وہ جوان خون ہے۔۔۔ اگر آپ سختی کرے گے۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ ہمیں چھوڑنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگائے گا آج صرف وہ اس لڑکی کی وجہ سے ہم سے باغیوں کی طرح بات کر رہا ہے اگر أپ نے اس لڑکی کو کچھ کیا تو وہ ہم سے اپنا رشتہ توڑنے میں ایک پل بھی نہیں لگائے گا۔۔!!
سرفراز خان نے جب اُسے سنجیدگی سے فروہ کا ہاتھ تھام کر داخلی دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا تو احمد خان کو سمجھانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔۔جو غصے سے اُسے ہی گھورنے لگے۔۔