95.6K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

وہ مرر کے آگے کھڑا ٹائی باندھ رہا تھا۔۔جبکہ نظریں مرر سے نظر آتیں اُسکے عکس پر مرکوز تھیں۔۔۔۔۔ جو کبھی بیڈ شیٹ درست کر رہی تھی۔۔۔ تو کبھی بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھے کلاک کو اُسے ایسا لگا۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے وہ کام کے بہانے وہ اُسے دیکھنے یہاں روکی تھی۔۔۔اچانک سے وہ اُسکی جانب بڑھی اور ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکی ٹائی درست کرنے لگیں۔۔
“اتنی چاہت اس وقت مجھ سے۔۔۔ڈارلنگ کہی ارادہ تو نہیں بدل گیا۔۔۔؟؟
اُسکے کبھی ٹائی درست کرنے پر تو کبھی کوٹ پر نادیدہ گرد صاف کرنے پر وہ ترچھی نگاہوں سے اُسے دیکھتا یکدم سے جھٹکے سے اُسے اپنے نزدیک کرتا بوجھل لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“نن۔۔۔نہیں مجھے آپ سے ایک بات کرنی تھی اسی لیے آپکی اتنی کئیر کر رہی ہو۔۔۔ورنہ وہ بات میں کبھی نہیں مانو جو آپ چاہتے ہیں۔۔۔!!
خود کو چھڑاتی وہ پیچھے ہٹ کر اپنی چھوٹی سی ڈائری میں لکھ کر اُسکی نظروں کے آگے کرتی اسے دیکھنے لگی۔۔ڈائری اردشیر نے ہی دیا تھا تاکہ وہ اس ڈائری کی مدد سے بنا پریشانی کے اُس سے اپنی بات شئیر کر سکے۔۔۔
“تُم بات بغیر کئیر کے بھی تو کر سکتی تھیں۔۔۔۔ بلاوجہ میں خوش فہم ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔کہ تُم بھی وہی چاہتی ہو جو میں چاہتا ہوں۔۔۔۔!!
اسکے وجیہہ چہرے پر نرمی کی جگہ یکدم سختی نے لے لیا وہ سخت نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔بریا اسکی سخت نظروں سے گھبراتی نظریں جھکا گئی۔۔۔
“کیسے بغیر کئیر کے کرتی آپ تو مجھ سے خفا ہے۔۔۔۔۔۔۔میری شکل اب شاید آپ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے ہیں۔۔۔۔۔اسی لیے تو میرے مخاطب کرنے پر مجھے اگنور کر رہے تھے۔۔۔ آپ کل سے میں یہ دیکھ رہی ہوں۔۔۔!!
بریا اُسے دیکھے بغیر ڈائری کے اوراق سیاہ کر رہی تھیں جو قریب آ کر اُسنے دیکھتے ہی اُسے اپنی طرف کھینچا اور اسے مضبوط باہوں میں بھرتے ہوئے گھمبیر آواز میں گویا ہوا۔۔۔
“میں خفا نہیں ہو سکتا اپنی جان سے کبھی بھی نہیں ہاں اس بات سے مجھے غصہ بہت آیا تھا۔۔۔اسی لیے میں نے تم سے بات نہ کر کے تمہیں اگنور کر کے اپنی ناراضگی تُم پر ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا تاکہ تُمہیں احساس ہو جائے کہ میں کیا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن تم تو ابھی تک اسی ضد کی سیڑھی پر کھڑی کی کھڑی ہو۔۔۔!!
اُسکا لہجہ اچانک سے افسردہ ہو گیا جسے بریا نے محسوس کیا تو وہ سر جھکا کر آنسو بہنانے لگی وہ بھی کیا کرتی وہ کسی کی فرمائش کو کیسے رد کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔یکدم سے اُسے اُس ڈائری پر لکھے عرف یاد آئیں تو وہ اور زیادہ روانی سے آنسو بہانے لگی۔۔۔ وہ دونوں شور سُن کر روم سے باہر نکلے اور حویلی کے داخلی دروازے کی طرف بڑھے بریا تو وہ بات بھول گئی اس شور کی وجہ سے جو وہ اردشیر سے کرنے والی تھی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ماموں جان ماموں جان۔۔۔!!!
شاہزیب جو یہاں اپنی وہ چیزیں لینے آیا تھا۔۔جو اُسنے فروہ کو ہر تہوار میں تحفے کی صورت میں دئیے تھے۔۔۔۔لیکن لان میں فروہ اور احمد کو ایک ساتھ اور وہ بھی اتنے قریب دیکھ کر وہ طنزیہ انداز میں آگے بڑھا اور زور زور سے چیخ چیخ کر آصف زیگن کو آوازیں دینے لگا۔۔
“شاہزیب تُم یہاں کیا لینے آئے ہو ہاں گھٹیا انسان۔۔۔؟؟
اردشیر اُسکی چیخ سُنتا شدید غصے سے باہر نکلا اور لان میں پہنچ کر اُسے گریبان سے پکڑ کر پوچھنے لگا۔شاہزیب اُسکی بات پر تمسخرانہ نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“لینے تو یہاں میں اپنی وہ چیزیں آیا تھا جو میں نے تُمہاری بہن کو تحفے کی صورت میں دئیے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن یہاں آکر مجھے تو ایک نئی کہانی دریافت ہوگئی ہے تُمہاری معصوم بہن اور تُمہارے نوکر احمد کی عشق کی داستان۔۔!!
شاہزیب کی تمسخر نظریں احمد کے بازوؤں کو سختی سے تھامے کھڑی فروہ پر تھی مگر گویا وہ اردشیر سے تھا جو اسکی بات پر اُسے نفرت سے سُرخ ہوتی نظروں سے اُسے گھور رہا تھا۔۔۔
“شٹ اپ زلیل کمینے انسان میری بہن کا نام اپنی اس گندی زبان سے لیا تو جان سے مار ڈالوں گا تُمہیں۔۔۔!!
غصے سے اُسکے جبڑے پر زور سے مکا مارتا وہ نفرت سے غرایا شاہزیب اُس حملے سے اپنے پھٹے ہونٹوں سے رستے خون کو صاف کرتا احمد کو نفرت سے دیکھنے لگا۔۔۔
“فروہ تُمہارا چوائس اب یہ نوکر ہیں چی چی چی۔۔ ویٹ یہ ڈراما مجھے ماموں جان کو بھی تو بتانا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر انکو بھی تو اپنی چہتی بیٹی کا پتہ چلے کہ کس کریکٹر کی ہے۔۔۔ اور اُسکا عاشق کون ہے تُمہاری کرتوتوں کا سُن کر امید ہے اِنہیں ایک منی ہارٹ اٹیک تو ضرور ہو جائے گا۔۔۔!!
وہ اردشیر کے مارنے کے باوجود بھی ڈھٹائی سے فروہ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔فروہ جو اردگرد کے منظر کو دیکھ نہیں سکتی تھیں لیکن وہ اس زلیل کمینے انسان کی باتوں پر اپنے بے حد قریب کھڑے احمد کی آستین کو سختی سے تھامتی ضبط کے باعث آنکھوں سے اشکوں کو بہنے سے روکنے لگی۔۔۔
“احمد۔۔۔!!!
اردشیر اور احمد جو شاہزیب کو سخت غصے سے غور رہے تھے۔۔۔۔۔۔ اپنے پیچھے آصف زیگن کی آواز پر پلٹے اور انہیں دیکھنے لگے۔۔۔جو سخت غصیلی نظروں سے احمد کے بازوؤں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔جو سختی سے فروہ کو اپنی آغوش میں کیے ہوئے تھے۔۔
“تُمہاری اتنی جرات میری بیٹی کو چھونے کی میں نے شروع میں تُمہیں وارن کیا تھا کہ جو میری بیٹی کو ہاتھ لگائیں گا تو میں اس ہاتھ لگانے والے انسان کے ہاتھ کاٹنا پسند کرتا ہو تو تُم کیوں بھول گئے۔۔۔۔ یہ بات اور کیسے اپنی اوقات بھول گئے کہ تم کون ہو اور کیا لگتے ہو ہمارے کیا یاد دلاؤ تُمہیں کمینے انسان ہاں بولو۔۔!!
چنگھاڑتے لہجے میں اُنہوں نے اپنے پر اعتماد خاص بندے کو آوازیں دی جو تیزی سے وہاں آیا تو اُنہوں نے اُسے اشارہ کیا جو سمجھ چکا تھا کہ اُسکا مالک اُسے کیا حکم دے رہا ہے۔۔۔وہ آگے بڑھا اور احمد کو سختی سے فروہ سے دور کرنے کے بعد اُسے اپنے ٹھوکروں پر کرتا زور زور سے مارنے لگا۔۔۔۔ اور احمد خاموشی سے اس کی مار سہنے لگا کیونکہ وہ اپنی اوقات اچھے سے جانتا تھا کہ کیا ہے اور اسنے جو غلطی کی ہے وہ خود کو اس سزا کے مستحق سمجھتا تھا۔۔۔
“بابا۔۔۔!!
اردشیر سے احمد کا یہ حال دیکھا نہیں گیا تو وہ آگے بڑھا اور آصف زیگن سے مخاطب ہوا لیکن اُنہوں نے غصے سے اسے گھورا۔۔
“اردشیر تُم بیچ میں مت کھودوں یہ میرا اور اس دو ٹکے انسان کا میٹر ہے یہ اسکا حق ہے اسنے غلطی کی ہے میری بیٹی کو چھو کر تُمہیں تو چاہیئے کہ اُسے سزا دو نہ کہ اسکی سائیڈ لوں۔۔۔!!
آصف زیگن غصیلی نظروں سے احمد کے بازوؤں کو دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔جہاں سے خون بُری طرح سے بہہ رہا تھا اور سفید شرٹ سُرخ ہوتا جا رہا تھا مگر مجال ہے جو احمد ایک ایک وار پر کراہ رہا ہوں وہ بس ضبط سے اپنی آنکھیں بند کیے یہ مار سہہ رہا تھا۔۔
“بابا پلیز آپ معاف کر دے احمد کو اُسنے بس میری ہلیپ کی تھی مجھے گرنے سے بچایا تھا پلیز۔۔۔!!!
فروہ ارباز خان کے بلیڈ کی آواز پر سخت گھبراتی ہوئی کب سے روکے گئے اشکوں کو بہاتی ہوئی اپنے ہاتھ جوڑتی ہوئی رو رو کر کہنے لگی۔۔۔
“اردشیر اپنی بہن کو لے کر جاؤ اندر۔۔!!
آصف زیگن کی سخت اور بے لچک لہجے سے کہنے پر فروہ نیچے گری اور زمین پر ہاتھوں سے ٹٹول کر احمد کے وجود کو ڈھونڈتی اُسے بے قراری سے آوازیں دینے لگی شاہزیب جو کب سے خاموشی سے کھڑا یہ سب تماشا دیکھ رہا تھا فروہ کی حرکت پر آگے بڑھا اور وہ اُسے ہاتھ لگانے ہی والا تھا کہ آصف زیگن کی نفرت انگیز آواز پر وہ وہی ٹھہر گیا۔۔۔
“خبردار جو تُم نے میری بیٹی کو چھونے کی گستاخی کی تو میں یہ بھول جاؤں گا کہ تُم میری بہن کے چشم و چراغ ہو تُمہیں موت سے بھی بد تر سزا دینے پر مجبور ہو جاؤں گا۔۔۔ ابھی کے ابھی نکل جاؤ یہاں سے ورنہ میں دیر نہیں کرو گا تُمہارا وجود مٹانے میں۔۔!!
آصف زیگن نے شاہزیب کو سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے ہاتھ سامنے بڑے سے گیٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“پلیز بھائی مجھے جانے دیں وہ خاموشی سے بابا کے دئیے گئے سزا کو سہہ رہا ہے پلیز مجھے باہر لے کر جائے وہ مر جائے گا۔۔۔!!
اردشیر نے جب اُسے اُسکے روم میں چھوڑا تو وہ تڑپتی ہوئی اردشیر کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔۔
“نہیں گڑیا بابا اس وقت بہت غصے میں ہے۔۔۔۔میں بھی بہت بے بس ہو میں خود احمد کو بچانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ لیکن میں نہیں چاہتا کہ میں ان سے بحث کروں ورنہ یہ بدتمیزی ہوگی میری نظروں میں جو میں نہیں چاہتا ہوں۔۔۔اس بے وقوف نے بہت بڑی غلطی کی ہے تُمہیں ہاتھ لگا کر اُسے ایک سال پہلے کی بات کو یاد کرنا چاہیے تھا اس وقت جب اسنے تمہیں چھوا تھا۔۔!!
اردشیر صرف اِس لیے روکا تھا تاکہ وہ اپنے باپ کے ساتھ بدتمیزی نہ کر سکے اسے پتہ تھا اب احمد کی سزا تب کم ہوگی جب انکا غصہ ٹھنڈا ہوگا۔۔۔
“بھائی وہ تکلیف سے مر جائے گا ارباز خان کی مار تو سہنا بہت مشکل ہے اس وجہ سے تو کتنے لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں پلیز آپ کچھ کریں پلیز۔۔۔!!
فروہ ارباز خان کی دہشت اچھے سے جانتی تھی کہ وہ بہت زیادہ خطرناک ہے اسکے بابا کے دشمنوں کو وہی تو تھکانے لگاتا تھا وہ ڈر رہی تھی کہ احمد بھی ان لوگوں میں شمار نہ ہو جائے جو آج مٹی میں دفن ہیں۔۔
“نہیں گڑیا وہ اتنا کمزور نہیں ہے۔۔۔۔۔۔وہ بڑی سی بڑی مصیبت سے باہر نکلنا جانتا ہے تو یہ مار بھی وہ سہہ لیں گا تم اپنی حالت خراب مت کروں ہاں میں بابا کو وہاں سے لے کر اندر آتا ہو اور تُمہیں بریا لے کر جائیں گی وہاں تو تم ارباز خان کو روک لینا۔۔۔!!
اردشیر نے اُسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا وہ جانتا تھا کہ اسکی بہن بہت احساس ہے کسی کو اپنی وجہ سے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی ہے اور احمد کے لیے تو وہ اور بھی زیادہ پریشان ہو رہی تھی کیونکہ جو ایک سال پہلے اسنے اسکے ساتھ کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ وہ روز اسے شرمندگی کے ایک گہری کھائی میں دھکیل دیتا تھا اور آج بھی یہی ہو رہا تھا وہ پریشانی کے ساتھ شرمندہ بھی تھی احمد اسکی وجہ سے آج بھی بلکل ایک سال پہلے کی طرح تکلیف میں اور مصیبت میں مبتلا ہوگیا تھا اگر آج وہ اسے اپنے پاس نہ روکتی
چلے جانے کو کہتی تو یہ سب نہ ہوتا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“بھابھی وہ کہاں ہے۔۔۔ٹھیک تو ہے ناں۔۔۔۔؟؟
بریا کے نازک بازوؤں کو سختی سے پکڑے وہ لرزتی آواز میں احمد کے حوالے سے پوچھنے لگی۔۔بریا اس کو لیے نوکروں کے کواٹر کی جانب بڑھ رہی تھیں۔۔۔ اسکی بات پر ٹھہر کر اُسے بے بسی سے دیکھنے لگی۔۔۔۔کیونکہ دونوں ایک جیسے بے بس تھے فروہ دیکھ نہیں سکتی تھی اور وہ بول نہیں سکتی تھی لیکن بریا نے پھر بھی کوشش کی اور نظریں دورہا کر احمد کو ڈھونڈنے لگی تبھی اسکی نظریں سامنے ایک ٹیبل پر ارباز خان کو اسکا خون سے بھیگے وجود کو پیھنکنے کے انداز سے پٹکنے پر وہ فروہ کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے اس طرف بھاگی ۔۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟
غصے سے لال ہوتی زور زور سے ہاتھ سے اشارہ کرتی وہ اُسے یہ بات کہنے کی کوشش کرنے لگی مگر اردشیر کے علاؤہ کوئی اسکی یہ زبان نہیں سمجھ سکتا صرف وہی تھا۔۔۔۔ جو اسکے اشاروں سے بات کرنے کو سمجھتا تھا۔۔۔
“میڈم آپ کیا کہہ رہی ہے مجھے کچھ پتہ نہیں چل رہا۔۔۔؟؟
ارباز خان نے حیرت سے اُسکے ہاتھوں کے اشاروں کو ناسمجھی سے دیکھتے ہوئے بریا سے پوچھا۔۔
“اُففففففف۔۔۔!!!
بریا اُسکی بات سُنتی غصے سے اپنا سر پکڑ کر رہ گئی فروہ جو بریا کا بازوؤں پکڑے ہوئے تھیں اپنی دوسری کلائی پر نمی محسوس کرتی وہ سٹپٹا کر پیچھے ہٹی تبھی اُسے اپنے پاس کسی کے کراہنے کی آواز سنائی دی تو وہ تڑپ کر رہ گئی۔۔
“بھابھی۔۔۔!!
بریا کی کلائی پر دونوں ہاتھ سے گرفت مضبوط کرتی وہ کانپتی ہوئی بریا کا نام پکار اٹھی۔۔۔
“ہاں فروہ کیا ہوا۔۔۔؟؟
فروہ کے کلائیوں کو سختی سے جکڑ کر پکڑنے پر وہ اسکی جانب متوجہ ہوئی جو خوف سے سفید پڑی سر ادھر ادھر ہلا رہی تھی اسکی نظریں فروہ کی دوسری کلائی پر پڑی جہاں پر احمد کا مضبوط مردانہ ہاتھ جو خون سے بھیگا ہوا تھا سختی سے اپنی گرفت اسکی سرخ و سفید کلائی کو تھامے ہوئے تھا اسکی نظریں احمد کے ہاتھ سے ہوتیں چہرے پر پڑی جو خون سے سرخ ہو رہا تھا البتہ اسکی آنکھیں بند تھیں۔۔
“بھابھی دیکھے میری کلائی پر کیا ہے پلیز۔۔۔!!
فروہ ابھی تک اپنی کلائی پر وہ نمی محسوس کر سکتی تھی اور ساتھ ہی کسی کی مضبوط پکڑ بھی بریا سے لرزتے لرزتے وہ پوچھ بیٹھی۔۔۔
“فف۔۔۔فروہ۔۔۔۔!!
احمد کی نحافت زدہ آواز پر وہ تڑپتی ہوئی اُس آواز کے تعاقب میں بڑھی جو اسکے بے حد قریب سے آ رہی تھی اُسکے بڑھتے قدم ٹھہر گئے کیونکہ احمد نے پہلے سے ہی اسکی نازک کلائی سختی سے تھامی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ سکی ۔۔
“احمد آااپ ٹھیک تو ہے ناں آپکو زیادہ چوٹ تو نہیں لگی ناں ارباز خان بہت ظالم ہے اسے میں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔!!
فروہ اندازے سے اپنے ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے خون سے بھیگے چہرے کو تھام کر بھیگے لہجے میں کہنے لگی تو فروہ کو احمد کے لیے اتنا پریشان دیکھ کر بریا کے لب مسکرا اٹھے۔۔۔
“مم۔میں بلکل ٹھیک ہو فروہ آپ پپ۔۔۔پلیز یہاں سے چلی جائیں ورنہ بڑے مالک آپکو دیکھ کر میرے ساتھ آپکو بھی ختم کر دے گے میں بھول گیا تھا خود کو کہ میں کیا ہو اور وو۔۔۔وہ بات بھی بھول چکا تھا جو ایک سال پہلے بڑے مالک نے مجھ سے کی تھیں۔۔۔!!
احمد نے اپنے نم ہاتھوں سے اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے آواز سے لرز کو کم کرتے ہوئے کہا تو فروہ اسکی نم ہاتھوں کو پیشانی سے لگا کر بُری طرح سے رونے لگی۔۔
“نن۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں میں آپکو اس حالت میں چھوڑ کر کہی نہیں جاؤ گی۔۔۔۔۔۔آپ کو اس وقت علاج کی ضرورت ہے مم۔۔میں آپکو ہاسپٹل لے کر جاؤ گی مگر اس طرح آپکو اکیلا بلکل نہیں چھوڑوں گی۔۔۔!!
فروہ نے ضدی لہجے میں کہتے ہی اپنے نازک ہاتھوں سے اسکے مضبوط ہاتھوں کو سختی سے پکڑا تو احمد نے اپنے ہاتھ اس سے الگ کیے اور یکدم سے اپنے لہجے میں بے رخی سما کر گویا ہوا۔۔۔
“آپ یہاں سے چلی جائیں مس فروہ زیگن۔۔۔۔ میں آپکا صرف ایک خادم ہو مالک نہیں اور آپ خود کو سنبھال نہیں سکتی خاک مجھے سہارا دے گی۔۔۔!!
شروع میں بے رخی سے کہتا آخر میں طنزیہ لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔ تو فروہ اسکے لہجے میں بے رخی محسوس کرتی سسکیاں لے کر رونے لگیں۔۔۔ تو اسے سسکی بھرتے ہوئے دیکھ کر احمد نے تیزی سے اپنی آنکھوں سختی سے میچ لی وہ اس وقت نرم بلکل بھی نہیں پڑنا چاہتا تھا وہ اس وقت اپنی اوقات اچھے سے جانتا تھا کہ ان کے درمیان صرف مالک اور نوکر کا رشتہ ہے وہ کبھی ایک نہیں ہوسکتے۔۔۔۔کیونکہ فروہ کا اونچا اسٹیٹس انہیں ایک ہونے نہیں دے سکتا تھا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“آ گئی آپ بیگم۔۔۔!!!
بریا احمد کو ہاسپٹل لے جانے کیلئے اردشیر سے کہنے روم میں داخل ہو رہی تھی کہ اُسکی سنجیدگی سے پوچھنے پر وہ وہی روک کر اُسے دیکھنے لگی جو سامنے صوفے پر سنجیدگی سے بیٹھا دروازے کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔
“ادھر آؤ۔۔۔۔!!
سپاٹ لہجے میں کہتا انگلی سے اُسنے اُسے اپنی طرف آنے کا کہا تو بریا ڈرتی ہوئی قدم اُسکی جانب بڑھانے لگی۔۔۔
“بیگم میں نرمی سے پیش آ رہا ہو تو اِسکا یہ مطلب نہیں کہ تُم اپنی منمانیا کرتی رہوں کیا کر رہی تھی باہر تُم اب سے تُم رات کو ٹھیک گیارہ بجے روم میں آیا کرو گی اور مجھے سارے دن کی روداد سناؤ گی کہ تم نے دن بھر کیا کیا ہے ۔۔۔؟؟
اُسے کھینچ کر اپنے اوپر گراتے ہوئیں اُسکی ٹھوڈی کو پکڑ کر اُسکا چہرہ اوپر اٹھا کر اُسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔۔۔ ظاہری طور پر وہ اُسے خوفزدہ کر رہا تھا لیکن اندر ہی اندر وہ ہنس رہا تھا اسکی صورت کو دیکھ کر تبھی وہ اپنے لبوں کو سختی سے کاٹنے لگی۔۔ تو اُسکی نظروں نے جب یہ منظر دیکھا تو تیزی سے اُسکے چہرے پر جھکا اور اُسکے لبوں کو اپنے لبوں کی قید میں کرتا شدت سے اُن کو چھونے لگا۔۔
“سسسسی۔۔۔۔!!
بریا اُسکی شدتوں بھرے لمس سے شدت سے کانپتی اُسے خود سے دور کرتیں ہانپتی ہوئی سسکی بھرتی اُسے نم ہو رہیں آنکھوں سے دیکھنے لگی۔۔
“اسطرح مت دیکھو مجھے گل بہار ورنہ میں ساری کثر آج رات پوری کر دو گا تُمہارے راضی ہونے سے پہلے ہی اور اِن لبوں پہ اتنا ظلم دہانہ صرف میرا فرض ہے تُمہارا نہیں سو اِن پر ظلم مت کروں۔۔۔!!
آہستگی سے نرم گلزار لبوں پر نرمی سے انگلی سے پھیرتے ہوئے وہ مخمور آنکھیں گلابی لبوں پر گاڑ کر بوجھل لہجے میں کہنے لگا۔۔بریا تو اُسکی گستاخیوں سے سخت کانپے جا رہی تھی احمد کو تو وہ بھول چکی تھی لیکن اُسکے دوبارہ چہرے پر جھکنے سے وہ جلدی سے اُسے سینے پر ہاتھ رکھ کر خود سے دور کرتی وہ اشارے سے کہنے لگی ۔۔
“آپ کو یہ کیا ہوگیا ہے۔۔۔؟؟ وہاں احمد کی حالت بہت نازک ہے اُسے اس وقت علاج کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔اور یہاں آپ کو رومینس سوجھ رہا ہے۔۔۔!!
وہ اُسکی ہتھیلی کو سختی سے پکڑتی غصے سے اپنی اپنی بات اس سے کہنے لگی۔اردشیر اُسکی اسی ادا سے لکھنے کا تو دیوانہ تھا وہ اسے نرم نظروں سے دیکھتا اسکی انگلی کو اپنے سینے پر رکھ کر گھمبیر آواز میں گویا ہوا۔۔۔
“یہاں لکھوں گی تو میں جلد سمجھ جاؤ گا کہ تُم مجھ سے کیا کہنا چاہتی ہو۔۔۔ہتھیلی بھی بیسٹ چوائس ہے۔۔۔۔بٹ دل کی تو الگ بات ہے۔۔۔یہاں تمہارا لکھا ہمشیہ یاد آئے گا جہاں بھی جاؤ تُمہاری انگلیوں کا لمس محسوس آتا رہے گا۔۔۔!!
لبوں سے اُسکی نازک انگلیوں کو چھو کر وہ مخمور آنکھیں اُسکے چہرے پر گاڑ کر بولا۔۔۔۔ بریا اپنا ہاتھ شرم سے اُس سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگی جو اپنا گرفت مضبوط کر کے اُسکی کوششوں کو ناکام کرنے لگا۔۔
“آپ سچ میں بہت ظالم ہے احمد کی تو آپکو پرواہ ہی نہیں ہے وہ مر رہا ہے اور اگر وہ مر گیا ناں تو آپکی بہن بھی جی نہیں سکے گی اسکے بغیر۔۔۔!!
اُسکی مضبوط گرفت سے ایک ہاتھ چھڑا کر وہ سخت غصے سے اُسکے سینے پر انگلی پھیرنے لگی تو اردشیر اپنے سینے پر اسکی انگلی پھیرنے سے سمجھ گیا کہ وہ اس سے کچھ کہنا چاہتی ہے۔۔اسنے اپنی آنکھیں بند کی اور اسکی انگلی کو اپنے سینے پر گردش کرتے ہوئیں وہ اسکے لفظ لفظ کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا اور جب اسے سمجھ میں آیا کہ وہ احمد اور فروہ کے لیے پریشان ہیں تو وہ مسکرا کر اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو اسکے بے حد قریب تھی۔۔
“دوسروں کی اتنی فکر کرتی ہو۔۔لیکن میری نہیں ظالم تو تُم ہوئی ناں پھر میں تو بہت مظلوم ہو تُمہارے سامنے جاناں۔۔!!
اسکا دوسرا ہاتھ اپنے آگے کرتا وہ اسکی ہتھیلی پر اپنا لب رکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔ بریا نے غصے سے اسکو مضبوط بازؤں پر مکا مارا۔۔۔
“یہ مزاق کرنے کا بلکل بھی وقت نہیں ہے۔۔۔ احمد کو ہاسپٹل لے کر جائیں آپ وہ آپکا وفا دار بندہ ہے اور آپ اسکے معاملے میں اتنے لاپروا کیسے ہوسکتے ہیں۔۔؟؟
اُسے مکا مارنے کے بعد سنجیدگی سے اسکے سینے پر لکھنے لگی جسے اردشیر سمجھ کر سنجیدہ ہوا اور اسکی کلائی کو پکڑ کر اسے اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے روم سے باہر نکلا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥