NaKamil By Ayesha Zulfiqar Readelle50165 Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
ناکامل
عائشہ ذوالفقار
نویں قسط
وہ 12 اگست 2014 کی ایک حبس زدہ صبح تھی, سنان رات فدک کے ساتھ ہی رکا تھا, صبح ہوتے ہی اس نے اجالا کو لیوش نائٹس کے دروازے سے پک کیا اور وہ دونوں گوجرانوالہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے, جب وہ گوجرانوالہ پہ پہنچے تو نو بج رہے تھے, سنان اسے لیکر سیدھا اپنے دوست کے چیمبر چلا آیا, اس کے نکاح کی ساری ذمہ داری اسی کی تھی, ساری کاروائی مکمل کر کہ اس نے تقریباً ساڑھے دس بجے ان دونوں کا نکاح کروا دیا, سنان نے وہ کاغذات اسی وقت اجالا کے حوالے کر دئیے, وہاں سے وہ اسے لیکر گھر آ گیا, حلیمہ گھر پر اکیلی ہی تھی
“امی… یہ اجالا ہے, ہم دونوں نے شادی کر لی ہے” سنان نے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا, وہ بس چپ چاپ بیٹھی رہ گئی
“ایک بیٹا ویسے گھر سے نکال دیا, اور ایک اپنی مرضی سے نکل گیا… ہے نا سنان؟” اسے دکھ تھا… بے تحاشا دکھ
“امی میں پیار کرتا ہوں اجالا سے… ” سنان بس نظریں جھکا گیا تھا, وہ آدھا گھنٹہ وہاں رکا, پھر وہ دونوں لاہور واپسی کے لئے نکل کھڑے ہوئے, وہ ابھی گوجرانوالہ سے دس کلومیٹر آگے ہی گیا تھا کہ اچانک شیری کی سفید کار نے اس کی کار کا راستہ روک دیا, اس نے ایک دم بریک لگائی تھی, وہ لاہور جانے والا کوئی عام راستہ نہیں تھا, رش سے بچنے کے لیے سنان نے وہ غیر معروف راستہ اختیار کر لیا تھا, شیری دروازہ کھول کر باہر نکل آیا
“اب یہ کون ہے ؟” سنان کے لئے وہ بالکل انجان تھا, وہ ایک نظر اجالا کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا, اجالا بھی باہر آ گئی, اس سے پہلے کے سنان اسے کچھ کہتا, شیری نے اپنا ایک بازو اجالا کی طرف کھول دیا, وہ دھیرے سے مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھی اور اس کے بازو میں سما گئی, شیری نے بڑے حق سے اس کے لبوں کو اپنے لبوں سے چھوا تھا, سنان حق دق کھڑا رہ گیا
“کاغذات… ؟” شیری نے اس سے پوچھا
“یہ رہے… ” اجالا نے کاغذات اس کی طرف بڑھا دئے
“میں نے تم سے محبت کی تھی… بالکل سچی” سنان اب تک بے یقین تھا
“سوری… میں نے نہیں کی” اجالا نے کہا
“چلو شیری” وہ اس کی طرف مڑتے ہوۓ بولی
“ایک منٹ… ” شیری نے اپنی پستول کا رخ سنان کی طرف کر دیا
“شیری یہ پلان کا حصہ نہیں تھا… ” اجالا نے ایک دم اس کی طرف دیکھا
“یہ ابھی پلان کا حصہ بنا ہے ” شیری نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے ٹرگر دبایا تھا
“شیری نہیں… ” اجالا زور سے چیخی تھی لیکن اس کے پستول کی دو گولیاں سنان کے جسم کے آر پار ہو گئیں , اجالا بس بے یقینی سے اسے خون میں لت پت سڑک کے کنارے گرا ہوا دیکھتی رہ گئی
“چلو… ” شیری اس کا بازو پکڑ کر کار کی طرف لے آیا اور اسے اندر بٹھاتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر دی, وہاں سے دو کلو میٹر آگے آ کر اس نے پھر کار روکی تھی
“نیچے اترو. .. ” آس نے اجالا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور خود بھی نیچے اتر آیا, ان سے کچھ فاصلے پر تقی نور اپنے دو عدد ساتھیوں کے ساتھ اس کے انتظار میں کھڑا تھا, شیری اجالا کا بازو پکڑ کر اس کے قریب آ گیا
“کیسا ہے ٹونی ؟” تقی اس سے گلے ملا تھا
“فٹ فاٹ… یہ لے, حشمت کی بیٹی… ” شیری نے اجالا کو اس کے آگے کر دیا
“یہ کیا کر رہے ہو تم ؟” اجالا کی آنکھیں پھیل گئیں… اتنی جلدی مکافات عمل
“گڈ باۓ ڈئیر… ” وہ تقی سے اپنے دس کروڑ لیکر واپس اپنی کار کی طرف چلا گیا
“اسے باندھ کر گاڑی میں لے جاؤ” تقی نے اپنے آدمیوں سے کہا تھا, وہ چیختی چلاتی اجالا کو گھسیٹتے ہوئے گاڑی کی طرف لے گئے, شیری وہاں سے سیدھا لاہور آیا, اجالا کا جعلی ڈیتھ سرٹیفیکیٹ وہ پہلے ہی بنوا چکا تھا, اسے یقین تھا کہ جب تقی کو پتہ چلے گا کہ وہ حشمت چوہدری کی بیٹی نہیں ہے تو وہ اسے اسی وقت مار دے گا, اس کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور جائیدادکے کاغذات ایک قبضہ پارٹی کے حوالے کر کہ بیس کروڑ وصول کئے اور راتوں رات امریکہ چلا گیا, جانے سے پہلے پولیس کے خبری کے طور پر لاہور پولیس سٹیشن میں سنان راۓ کے قاتل کا سراغ بھی دے گیا
فدک حسین
…………………………….
پورا دن گزر گیا لیکن سنان واپس لاہور نہیں پہنچا, اس کا نمبر بھی بند تھا, اجالا کا نمبر بھی مسلسل بند تھا, رات کے ساۓ گہرے ہونے لگے تو فدک کی پریشانی میں اضافہ ہوتا گیا, وہ لیوش نائٹس بھی آیا لیکن اجالا وہاں نہیں تھی… وہ بھی واپس نہیں پہنچی تھی, شام کے بعد رات ہو گئی لیکن سنان کا کوئی پتہ نہ ملا… صبح تقریباً سات بجے کا وقت تھا جب پولیس نے اس کے کمرے کا دروازہ دھڑدھڑایا
“تمہارا نام فدک ہے ؟” سب انسپکٹر نے پوچھا تھا
“ہاں لیکن… ” آس کی ہاں کے بعد اس نے کچھ بولنے ہی نہیں دیا اور سیدھا تھانے لے آیا, فدک کوے اوسان خطا ہو رہے تھے, اگلے ہی دن اسے گوجرانوالہ پولیس سٹیشن ٹرانسفر کر دیا گیا کیونکہ سنان کا قتل گوجرانوالہ کی حدود میں ہوا تھا, پورے تین دن وہ سلاخوں کے پیچھے بند رہا… اسے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ اس کا جرم کیا تھا
“آخر میں نے کیا کیا ہے ؟” چوتھے دن سے ایس پی نے اسے اپنے سامنے بلایا تو وہ پھٹ پڑا
“تم نے سنان راۓ کو قتل کیا ہے ” آس کے سر پر جیسے بم گرا تھا
“میں نے… ؟” وہ حیران رہ گیا
“ہاں… تم پر سنان راۓ کو قتل کا الزام ہے, تم. نے جائیداد کی خاطر اسے قتل کر دیا, کئی لوگوں نے تمہیں اس پر گولی چلاتے دیکھا ہے” اے ایس پی کہتا چلا گیا, وہ بس دم بخود کھڑا تھا
سنان قتل ہو گیا ؟؟؟ اسے کیسے یقین آتا
ابھی کل تو وہ اس سے ملا تھا… ابھی کل تو وہ اس سے باتیں کر رہا تھا, ہنس رہا تھا, اجالا سے نکاح کرنے جا رہا تھا
پھر اچانک کیا ہوا ؟
اسے کس نے قتل کر دیا ؟؟؟
اس پر کیس چل پڑا, حلیمہ اور نصیر میں سے کوئی اس سے ملنے نہیں آیا تھا
…………………
“میری بات سنو… میں حشمت چوہدری کی بیٹی نہیں ہوں” وہ رسیوں میں جکڑی بس یہ ہی کہے جا رہی تھی, تقی نے اس کی ایک بھی سنے بغیر حشمت کو کال کر دی, حشمت نے جواباً اسے کال کر کے کہا کہ وہ اسے پچاس کروڑ دینے کے لئے تیار ہے, وہ جب پیسے لینے مطلوبہ جگہ پر پہنچا… تو وہاں اس کی ملاقات اے یس پی سبین راۓ سے ہو گئی, کوشش کے باوجود وہ اسے پکڑ نہیں سکی اور تقی بچ نکلا
اسے لگا کہ حشمت چوہدری نے اس سے دھوکہ کیا ہے سو وہ غصے میں تن فن کرتا اجالا پر چڑھ دوڑا, اس کی ہڈیاں کھولیں اور اسے گھسیتتے ہوۓ نیچے تہہ خانے میں لے گیا
“میں وہ نہیں ہوں… قسم سے” وہ مسلسل رو رہی تھی, تقی نے اس کے کپڑے پھاڑ دئے, اس کے دونوں بازو جکڑتے ہوۓ اس پر حاوی ہوتا چلا گیا, اپنی ساری وحشت اور غصہ اس پر اتار دیا, اجالا کا وجود جیسے راکھ ہو گیا
“تقی… یہ حشمت کی بیٹی نہیں ہے” وہ اپنی پیاس بجھا چک تو اس کے ایک ساتھی نے آ کر بتایا
“میں نے کہا تھا نا… کہ میں وہ نہیں ہوں ” اجالا کی سانسیں ٹوٹ رہی تھیں, چہرہ پسینے سے تر تھا, وجود نڈھال ہو کر کانچ ہو رہا تھا, دونوں کلائیاں نیلی ہو رہی تھیں
لاہور کا وہ چھٹا ہوا بدمعاش اس لمحے اس پر دل ہار گیا…
…………………..
نصیر حسین نے فدک کے لئے رحم کی کوئی اپیل نہیں کی, بقول اس کے وہ ایک انتہائی بگڑے ہوئے چال چلن کا لڑکا تھا جس نے اپنی عیاشیوں کے لئے سنان کا قتل کر دیا, حلیمہ بھی اس سے ملنے نہیں آئی, اسے سرکاری وکیل دیا گیا, اس کے خلاف ہر ثبوت موجود تھا, اس غیر معروف سڑک پر لوگوں نے گولی چلتے دیکھی تھی… چلانے والا بے شک وہ نہیں تھا لیکن… اس سے کیا فرق پڑتا تھا, دو, دو, تین, تین کلومیٹر کے فاصلے سے چہرہ کہاں واضح ہوتا ہے
وہ اپنے وکیل کے سامنے کچھ نہیں بولا… بولتا بھی تو کیا, پھر ایک دن سبین اس کے پاس چلی آئی
سبین راۓ… اس کی سوتیلی بہن
وہ اس سے پوچھ پوچھ کر تھک گئی لیکن وہ چپ رہا, عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنا دی
……………….
“معاف کر دے… بس اس ایک رات کے لئے معاف کر دے, تیرے ساتھ ماضی میں کیا ہوا سب بھول جا… میں ماضی میں جو کچھ کر چکا اب بھول جاؤں گا بس… میری بن جا” تقی صبح و شام اس کی منتیں کرتا… وہ بس روۓ جاتی…روۓ چلی جاتی
“مجھے جانے دو… ” بس یہ ہی کہے جاتی
وہ منا منا کر ہار گیا… پر وہ نہیں مانی
اسے رہ رہ کر سنان کا خیال آتا, اس کی ماں… اس کا باپ… اس کا بھائی
اسے رہ رہ کر یاد آتا کہ اس کی وجہ سے کیا ہو گیا تھا
“مان جا نا ؟ وہ ضد کر رہا تھا
“مجھے چھوڑ دو” وہ بھی ضد کر رہی تھی
“کیا کرے گی واپس جا کر… ؟” وہ پوچھ رہا تھا
واقعی… وہ کیا کرتی واپس جا کر… ؟ کیا تھا اس کے پاس ؟ کچھ بھی نہیں
پورے دو ہفتے وہ تقی کے پاس رہی اور ایک دن اس کی ضد سے مجبور ہو کر تقی نے اسے چھوڑ دیا
“محبت کرنے لگا ہوں تجھ سے… ہمیشہ اپنے پیچھے کھڑا دیکھے گی مجھے, جب دل کرے پلٹ آنا, جب دل کرے بلا لینا… ہمیشہ تیرا ہی رہوں گا, جب چاہے آواز دے لینا… دوڑ کر آؤں گا” وہ اس رات ایک بار پھر اسکی قربت میں پاگل ہو گیا تھا, ایک بار پھر اپنی وحشت اسے دے چکا تھا, اجالا واپس آ گئی
دو دن کی مسلسل خواری کے بعد اسے پتہ چلا کہ فدک کو پھانسی کی سزا ہو گئی ہے, عین اس کی پھانسی والے روز اجالا نے اس کے لئے رحم کی اپیل کی تھی, اس کی پھانسی رک گئی…تب اس نے تقی کو آواز دی تھی
“تم نے کہا تھا جب ضرورت ہو آواز دے لینا… میری دو بار کی بے حرمتی کا ازالہ کر دو” اجالا نے کہا
“حکم کر… ” تقی نے کہا تھا
“اسے بچا لو.. فدک حسین” اور تقی نے اوپر تک ہاتھ ڈلوا کر اس کی پھانسی, عمر قید میں تبدیل کروا دی تھی
عمر قید… چودہ سال
چودہ سال وہ جیل میں رہا
………………
قبضہ پارٹی نے ایک ایک کر کہ نصیر حسین سے سب کچھ چھین لیا… سب سے پہلے گھر, پھر انڈسٹری, پھر مال… پھر زمین
وہ کنگال سے کنگال ہی ہوتا چلا گیا اور خدا کی قدرت کی پچاس سال روپے پیسے کی ریل پیل میں رہنے والا شخص گجرات کے ایک دو مرلہ ڈربے نما گھر تک آ گیا
خالی ہاتھ… بے آسرا
صرف اس کی بیوی اس کے ساتھ تھی
اتنی کسمپرسی سہہ نہیں سکا… اور بیمار پڑ گیا, فاقوں تک کی نوبت آ گئی, حلیمہ کوشش کے باوجود سبین کو مدد کے لئے نہ پکار سکی… بس صبر کرتی رہ گئی
………………
اجالا دوبارہ لیوش نائٹس نہیں گئی, اس کا دل اچاٹ ہو گیا تھا, فدک کی پھانسی رکوانے کے بعد اس نے سنان کے ماں, باپ کی کھوج شروع کر دی, اسے پتہ تھا شیری سب کچھ لے گیا تھا
وہ دونوں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے, کوشش کے باوجود وہ ان کے لئے کچھ نہیں کر پائی, دوبارہ حلیمہ سے ملنے بھی نہیں گئی, آخر کس منہ سے جاتی… ؟ ایک ماہ بعد اسے پتہ چلا کہ وہ امید سے تھی, جمع جتھا ختم ہو رہا تھا, مجبوراً وہ شیلا کے کوٹھے پر چلی آئی
اس رات تقی دوبارہ اس کے پاس آیا
“یوں نہ رل… میرے ساتھ چل, میں رانی بنا دوں گا تجھے” منتیں کرتا رہا
“نہیں… رل لینے دو, میں نے یہ ذلت خود چنی ہے اپنے لئے, خدا نے تو بڑی پاکیزہ زندگی رکھی تھی میرے حصے لیکن… میں نے ٹھکرا دی, یہ سب چن لیا, اب سہہ لینے دو” وہ نہیں مانی, یونہی کوٹھا, کوٹھا خوار ہوتی رہی
وہ یونہی بار بار پیچھے آتا رہا
تین ماہ گزرے تو شیلا کے توسط سے اسے ایک شخص نے لاہور کے کسی بیرسٹر مرسلین مہرا کی بارے میں بتایا, وہ کسی پریگنینٹ لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا, بدلے میں وہ جتنی رقم ڈیمانڈ کرتی… دینے کو تیار تھا
“مجھے ایک بار اس سے ملنا ہے ؟” اجالا نے کہا اور اس شخص نے اسے مرسلین سے ملوا دیا
“کیا کرو گے تم ایک ایسی لڑکی سے شادی کر کہ جس کی کوکھ میں نہ جانے کس کا بچہ پل رہا ہے ؟ اس نے پوچھا تھا
“میں کبھی باپ نہیں بن سکتا… ” اس نے کہہ دیا
“لاہور شہر کا مشہور ترین بیرسٹر جسے بظاہر کوئی کمی نہیں ہے, نہ دولت کی, نہ شہرت کی, نہ عزت کی… اس کی سب سے بڑی کمی وہ خود ہے, دنیا کی نظروں میں ایک انتہائی کامیاب وکیل اپنی یہ کمی ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتا… اسے ایک بیوی چاہئے, اسے ایک بچہ چاہئے ” مرسلین نے کہا
“آس بیوی کا ماضی بھلے کیسا ہی ہو ؟” اجالا نے پوچھا
“مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا… ” اس نے کہا
“بدلے میں کیا دو گے ؟” آجالا نے پھر پوچھا تھا
“کیا لو گی ؟” اس نے پوچھا
“پچاس لاکھ… ” اجالا نے کہا
“منظور ہے” مرسلین نے کہا اور تین دن بعد اسے پچاس لاکھ روپے دے دئیے, اجالا نے ان پیسوں سے ایک اکاؤنٹ کھلوایا اور ماہانہ کی بنیاد پر ایک لگی بندھی رقم نصیر حسین اور حلیمہ کو ملنے لگی
ایک ہفتے بعد اس نے مرسلین سے شادی کر لی
کیا نہیں تھا مرسلین کے پاس… دولت, شہرت , عزت, ایک شاندار پرسنیلٹی…سب کچھ
اور کیا نہیں تھا اجالا کے پاس… حسن, خوبصورتی, ادا…سب کچھ
بظاہر وہ دونوں ہر لحاظ سے مکمل تھے
لیکن… اپنی اپنی ذات میں دونوں ہی ادھورے
مرسلین اگر اپنی ذات کی خامی چھپا رہا تھا تو اجالا اپنے ماضی پر پردے ڈال رہی تھی
وہ مرسلین کے پہلو میں کھڑی ہوئی تو جلنے والے جلن سے مر ہی گئے , بڑی دھوم دھام سے اس نے اپنا ولیمہ کیا تھا
آس کے ولیمے والی رات وہ پھر آیا
“پچاس لاکھ تو تجھے میں بھی دے سکتا تھا… ؟” لبوں پہ نہ سہی لیکن اس کی آنکھوں میں گلہ تھا
“تم مجھے عزت دے سکتے تھے ؟ اتنی پرسکون زندگی دے سکتے تھے ؟ ” وہ کہتی چلی گئی
“اس نے کونسا عزت دی ہے تجھے… ؟ خریدا ہے تجھے پچاس لاکھ سے کر” تقی نے کہا
“نہیں… میں نے اپنی مرضی سے بیچا ہے اسے اپنا آپ… ” اجالا نے کہا
“اور میرا بچہ بھی ؟” تقی کے آنکھوں میں پھر گلہ ابھرا تھا, وہ بس چپ کر گئی, شادی کے سات ماہ بعد ثمن کی پیدائش ہو گئی
مرسلین نے سب کو یہ ہی بتایا کہ اجالا کی پری میچور ڈلیوری ہوئی ہے
اس رات وہ پھر آیا… بس چپ چاپ اپنی بچی کا ماتھا چوم کر چلا گیا
اجالا نے مرسلین کے ساتھ پورے دو سال گزارے… چپ چاپ, بنا کوئی سوال کئے, بنا کوئی خواہش کئے
وہ ان دونوں کو بہت عزیز رکھتا تھا, اس نے اجالا سے اس کے ماضی کے بارے میں کبھی کوئی سوال نہیں کیا… ثمن کو تو وہ اپنی جان کہتا تھا, اس کے علاج کے لئے وہ کہاں کہاں نہیں پھرا لیکن وہ بچی پیدائشی طور پر ہی معذور تھی, مرسلین نے اس سے پھر بھی گلہ نہیں کیا… ہمیشہ ثمن کو سینے سے لگا کر رکھا, پھر اسے اسلام آباد کے ایک ڈاکٹر کا پتہ چلا اور صرف ثمن کی خاطر وہ اور اجالا لاہور چھوڑ کر اسلام آباد شفٹ ہو گئے
ڈاکٹر آصف رضوی…
جن کے علاج سے وہ بہتر ہونے لگی تھی
جاری ہے
