Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ناکامل
عائشہ ذوالفقار
تیسری قسط
میں اپنے آفس میں تھی جب سب انسپکٹر سرمد بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا
“میڈم لیوش نائٹس کے مالک کی کال آئی ہے, وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے, کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس کوئی خاص انفارمیشن ہے” سرمد نے کہا
“کہاں ملنا چاہتا ہے؟” میں نے پوچھا
“راہوالی…گوجرانوالہ…آج رات دس بجے” سرمد نے کہا
“ٹھیک ہے… اوکے کر دو” میں نے کہا اور رات دس بجے سے پہلے میں اور سرمد دونوں راہوالی اس کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گئے, وہ وہاں پہلے سے ہمارا انتظار کر رہا تھا
“اس لڑکے کا سراغ مل گیا ہے میڈم جس سے اجالا نے نکاح کیا تھا ” وہ شخص ہمیں لیکر راہوالی کے ایک بنگلے نما گھر کی طرف آ گیا
“وہ یہاں رہتا تھا میڈم… ” اس نے کہا, میں اس گھر کو دیکھ کر دم بخود کھڑی تھی
“وہ ہفتے میں دو, تین دفعہ اجالا سے ملنے آتا تھا, اس کا اور اجالا کا نکاح گوجرانوالہ میں ہی ہوا تھا, بس پھر اس کے بعد اس لڑکے کا قتل ہو گیا” وہ کہتا جا رہا تھا
“آس گھر کے مالک کا نام نصیر حسین تھا میڈم… ” اس نے کہا
“اجالا سے نکاح اس کے بیٹے فدک حسین نے کیا تھا نا… ؟” میں نے پر یقین ہو کر پوچھا
“نہیں میڈم… وہ تو نصیر حسین کا سگا بیٹا تھا, اجالا سے نکاح اس کے سوتیلے بیٹے نے کیا تھا… اس کا نام سنان راۓ تھا” اس نے کہا اور میں ایک بار پھر حیرانی کی ساتویں منزل پر تھی, مجھے لگا جیسے ابھی اس گھر کا دروازہ کھلے گا اور امی باہر آ کر کہیں گی کہ
“سبین… باہر کیا کر رہی ہے ؟ چل اندر آ” میری آنکھیں بھیگ گئیں
اب سے سترہ سال پہلے یہ کیس بھی میرے حصے ہی آیا تھا… فدک حسین قاتل اور سنان راۓ مقتول… ایک سوتیلا بھائی اور ایک سگا…!
………………………………….
گوجرانوالہ… 2014
پورے دس سال بعد میں نے اپنے شہر کی سر زمینِ پر قدم رکھا تھا… بہت دیر تک میں آنکھیں بند کئے گوجرانوالہ شہر کی فضا میں سانس لیتی رہی, اس لمحے معلوم پڑا کہ لوگ اپنے شہر کی مٹی کے لئے کیوں ترس جاتے ہیں, کچھ ہی دنوں میں میں اس شہر کے ہر چھوٹے, بڑے غنڈے سے واقف ہو گئی, حیرت کی بات یہ تھی کہ میرا نام مجھ سے پہلے ان تک پہنچا ہوا تھا, گوجرانوالہ پولیس ڈپارٹمنٹ سے لیکر شہر کا ہر کریمینل مجھے میرے آنے سے پہلے ہی جانتا تھا
“وہ اے ایس پی میڈم جس نے تقی بھائی کا بازو چیر دیا… ” یہ میرا تعارف تھا
بعض اوقات منظر اتنی اہمیت نہیں رکھتا جتنی پس منظر رکھتا ہے, اس شہر کے لوگوں کے لئے میری انکوائری اور ٹرانسفر اتنا اہم نہیں تھا جتنی یہ بات اہم تھی کہ میں نے تقی نور پہ ہاتھ ڈالا تھا, اس پر پستول تانی تھی, اس پر گولی چلائی تھی اور اس کا بازو چیر دیا تھا, تقی نور جرم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا…جسے پہلی بار اے ایس پی سبین راۓ نے للکارا تھا
“کتنے کیسز پینڈنگ چل رہے ہیں طاہر… ” مجھے گوجرانوالہ آۓ ایک ہفتہ ہو گیا تھا
“میڈم کل چار کیسز پینڈنگ ہیں, جن میں سے دو تو پچھلے چار سال سے چل رہے ہیں اور تیسرا ابھی پچھلے دنوں ہی ختم ہو گیا… ” وہ ساری فائلیں اٹھا لایا
“اور چوتھے کیس کی پرسوں شنوائی ہے” اس نے فائل میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا
“راہوالی کینٹ کا ایک رہائشی ہے نصیر حسین… اس کے سگے بیٹے فدک حسین نے اپنے سوتیلے بھائی سنان راۓ کو قتل کر دیا ہے… ” طاہر نے میرے سر پر دھماکہ کیا تھا, میں دم بخود رہ گئی, یہ تحفہ ملا تھا مجھے دس سال بعد واپس اپنے شہر آ کر… ایک بھائی قبر کے اندر تھا اور دوسرا سلاخوں کے پیچھے…!
ایک قاتل تھا اور دوسرا مقتول…!
“نصیر حسین اور اس کے تمام رشتے داروں اور دوست احباب کے بیانات کے مطابق فدک کا چال چلن اچھا نہیں تھا, وہ شرابی اور جواری تھا, اور اس کے ناچنے والیوں کے ساتھ بھی تعلقات تھے, نصیر حسین اس کی ان حرکتوں سے سخت نالاں تھا, آۓ روز ان دونوں میں گالم گلوچ اور ہاتھا پائی ہوتی رہتی تھی, آخر ایک دن تنگ آ کر نصیر حسین نے فدک کو اپنی ساری جائیداد سے عاق کر دیا اور ہر چیز سنان کے نام کر دی, جب اسے اپنی عیاشیوں کے لئے پیسے نہ ملے تو اس نے سنان کو قتل کر دیا” یہ کل کہانی تھی, میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی, سنان کے قتل کی فائل عین میرے سامنے پڑی تھی, اس کا ہنستا مسکراتا چہرہ جس پر ایکسپائرڈ کی سرخ مہر لگی ہوئی تھی اور فدک کا سنجیدہ سا چہرہ جس پر مرڈرر لکھا ہوا تھا, میں سب سے پہلے سلاخوں کے پیچھے بیٹھے فدک سے ملی, وہ گھٹنوں میں سر دئیے, دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا
“فدک… ” میں نے ہولے سے اسے پکارا, اس نے چونک کر میری طرف دیکھا تھا
“پہچانا… ؟” میں نے پوچھا, اس نے بس ایک نظر میری طرف دیکھ کر سر جھکا لیا
“بڑے ہینڈسم ہو گئے ہو تم تو… ” میں اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی تھی, وہ یونہی چپ چاپ بیٹھا رہا
“سنان سے کوئی جھگڑا ہوا تھا تمہارا ؟” میں نے پھر پوچھا… جواب ندارد
“یا پھر اپنے باپ سے کوئی پنگا لے لیا تھا تم نے ؟” میرا اگلا سوال مگر… جواب ندارد
“اچھا بس ایک بار کہہ دو کہ سنان کو تم نے قتل کیا ہے ” میں اس سے سوال کر کر کہ تھک گئی لیکن اس کے لبوں نے جنبش تک نہ کی, اب بھی میری بات سن کر اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور دوبارہ گھٹنوں میں سر دے لیا, میں ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی, میرے پاس اسے بچانے کے لئے صرف دو دن تھے, اگلا پورا دن میں نے اس کے کیس کی تفتیش کرتے ہوۓ گزار دیا
نصیر حسین نے اس کے لئے رحم کی اپیل تک نہیں کی تھی, اس کے لئے وکیل بھی سرکار کی طرف سے تھا, میں کوشش کے باوجود فدک کا کوئی قریبی دوست نہ ڈھونڈ سکی, سنان کے ہزاروں دوست تھے اور ان سب کا یہ ہی کہنا تھا کہ فدک اور سنان ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے کہ فدک سنان کے لئے کسی کو قتل تو کر سکتا تھا لیکن اسے قتل نہیں کر سکتا… نصیر حسین, اس کے قریبی رشتے دار, دوست احباب, قریبی جاننے والے, آس پڑوس اور محلے داروں کا بھی یہ ہی کہنا تھا کہ فدک اور سنان میں کوئی جھگڑا نہیں تھا, فدک کو صرف یہ غصہ تھا کہ نصیر حسین نے ساری جائیداد سنان کے نام کیوں کی ؟ بس اس نے اسی وجہ سے سنان کو قتل کر دیا, سارے ثبوت اس کے خلاف تھے, اس کا چال چلن انتہائی غلیظ تھا, اپنے باپ کے ساتھ اس کے آۓ روز کے جھگڑے تھے, گوجرانوالہ سے لاہور جانے والے ایک نسبتاً غیر معروف رستے پر اسے کئی لوگوں نے گولی چلاتے بھی دیکھا تھا اور سب سے بڑھ کر اس کی مسلسل خاموشی اس کے کیس کو مزید کمزور کر رہی تھی, آخر کار اس کے کیس کی سماعت سے ایک روز قبل شام کو میں اپنی امی سے ملنے چلی آئی…
وہ گھر آج بھی ویسا ہی تھا…
دس سال پہلے جیسا…دروازہ کھلا ہوا تھا, میں اندر آ گئی, امی مجھے ڈرائنگ روم میں ہی مل گئیں, سنان کی تصویر کو سینے سے لگاۓ, صوفے کی پشت پر سر رکھے بے آواز آنسو بہا رہی تھیں, مجھے ان پر ٹوٹ کر ترس آیا, میں دھیرے سے ان کے پاس نیچے قالین پر بیٹھ گئی
“امی… ” میں نے ہولے سے انہیں پکارا تھا, انہوں نے چونک کر آنکھیں کھولیں
“امی میں سبین… ” مجھے ایک دم رونا آ گیا
“دس سال بعد گھر کی یاد آئی ہے تجھے…” انہوں نے میرا سر اپنی گود میں رکھا تھا
“پولیس کی وردی بڑی جچتی ہے تجھ پر… سنان نے بتایا تھا مجھے کہ تو پولیس آفیسر بن گئی ہے” وہ میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگیں
“پہلی بار جب تجھے ٹی وی پر دیکھا تو بہت دیر تک تو مجھے یقین ہی نہیں آیا کہ وہ تو تھی, پھر تو آۓ روز تیری خبریں آنے لگیں, سنان کہتا تھا کہ بہت بہادر ہو گئی ہے آپ کی بیٹی… بھرا پستول لیکر مجرموں کے پیچھے بھاگتی ہے” وہ کہتی جا رہی تھیں
“آپ کبھی مجھ سے ملنے نہیں آئیں ؟” میں نے کہا
“سنان نے کئی بار کہا کہ چلیں آپ کو سبین سے ملوا لاتا ہوں مگر میں خود ہی نہیں مانی, میں نے سوچا کہ تو کہے گی کہ جب میں تن تنہا ادھر دھر خوار ہو رہی تھی تب تو کبھی پلٹ کر پوچھا نہیں اور اب جب سے ایس پی بن گئی ہوں تو ملنے آ گئی ہیں ” انہوں نے کہا
“میں ایسا کبھی نہیں کہتی امی… ” میں نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا
“سنان بھی کبھی نہیں آیا ؟” میں نے کہا
“کہتا تھا آپ ساتھ چلیں گی تو جاؤں گا, مجھ اکیلے کو تو پہچانے گی بھی نہیں وہ… ” امی نے کہا
“ایک بات پوچھوں آپ سے ؟” میں نے کہا, وہ چپ رہیں”کیا واقعی آپ کو لگتا ہے کہ سنان کو فدک نے قتل کیا ہے ؟” میں نے پوچھا
“اس نے نہیں کیا تو اور کس نے کیا ہے سبین ؟ اور اس نے نہیں کیا تو چپ کیوں ہے ؟ بولتا کیوں نہیں…کہتا کیوں نہیں کہ میں نے سنان کو قتل نہیں کیا ؟” امی نے کہا
“وہ کس سے کہے امی ؟ اپنے باپ سے جس نے اس کے لئے رحم کی اپیل تک نہیں کی یا اپنی ماں سے جو اس سے ملنے ایک بار بھی جیل نہیں گئی ” میں نے ان کی گود سے سر اٹھایا تھا
“امی میں نے سات سال گزارے ہیں ان دونوں کے ساتھ… جہاں تک میرا خیال ہے وہ تو بہت خیال رکھتا تھا سنان کا, اس کا ہاتھ منہ دھلواتا تھا, پاؤں میں جوتا بھی پہناتا تھا… نہ جانے کتنی ہی بار اس کے حصے کی مار بھی کھائی تھی اس نے… پھر آخر ایسا کیا ہو گیا کہ اس نے ایک لمحے میں سنان کو قتل ہی کر دیا” میں کہتی چلی گئی, امی بالکل خاموش تھیں
“امی… اس سے ایک بار ملیں تو سہی ؟ پوچھیں تو سہی کہ میرے بیٹے کو قتل کیوں کیا ؟” میں نے التجا کی تھی
“تو نے پوچھا ہے نا… کچھ بولا ہے وہ ؟” انہوں نے کہا
“میرا پوچھنا ایک پولیس آفیسر کا پوچھنا ہے, آپ کا پوچھنا ایک ماں کا پوچھنا ہو گا” میں نے کہا
“آخر کو 25 سال گزارے ہیں اس نے آپ کے ساتھ, میں جانتی ہوں سنان سے زیادہ عزت کرتا تھا وہ آپ کی, کبھی آپ کے سامنے نظریں نہیں اٹھائیں اس نے… پلیز امی, ایک بار تو ملیں اس سے” میں بے بس ہو گئی
“دیکھوں گی… ” انہوں نے کہا
“کوئی جھگڑا ہوا تھا ان دونوں کا ؟” میں نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے پوچھا, انہوں نے نفی میں سر ہلا دیا
“کیا واقعی فدک کا چال چلن اتنا بگڑ گیا تھا ؟” میں نے پھر پوچھا
“پتہ نہیں ” وہ بولیں
“کیا یہ سچ ہے کہ فدک کے باپ نے اپنی ساری جائیداد سنان کے نام کر دی تھی ؟” میں پوچھے جا رہی تھی, انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا
“امی… ” میں نے آگے کو ہو کر ان کے دونوں ہاتھ تھام لئے
“خدا کے لئے… اگر آپ کچھ بھی اور جانتی ہیں تو مجھے بتا دیں, ہو سکتا ہے آپ کا دوسرا بیٹا زندہ بچ جاۓ” میں نے منت کرتے ہوئے کہا تھا
“مجھے کچھ نہیں معلوم سبین… ” انہوں نے کہا, یا تو وہ واقعی کچھ نہیں جانتی تھیں یا پھر فدک کو بچانے کے حق میں نہیں تھیں, میں بے بس سی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی
“چاۓ پئیے گی ؟” انہوں نے پوچھا
“نہیں ” میں نے کہا
“تو کھانا کھا لے پھر ؟” انہوں نے پھر کہا
“رہنے دیں… بڑی مشکلوں سے باہر کا کھانا کھانے کی عادت ڈالی ہے” میں ان سے کہتے ہوئے واپس آ گئی اور وہ اپنی بات پر قائم رہیں, رات تک میں ان کا انتظار کرتی رہی لیکن. وہ فدک سے ملنے نہیں آئیں, مجھے پورا یقین تھا کہ انہیں ان کے شوہر نے منع کر دیا ہو گا, میں تو اس باپ کی سنگدلی پر حیران تھی جو اپنے جوان بیٹے کو پھانسی لگوانے پر تلا ہوا تھا, آخر کار وہ دن آ گیا جس دن فدک کے کیس کی سماعت ہونا تھی, اس کے وکیل کے پاس کچھ بھی نہیں تھا, امی نہ جانے کیسے فیصلہ سننے آ گئیں تھیں, فدک کٹہرے میں کھڑا تھا, سارے ثبوت اس کے خلاف تھے, سرکاری وکیل دس منٹ بھی بحث نہ کر سکا
“ملزم فدک حسین…کیا تم اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہو ؟” ساری کاروائی سننے کے بعد جج نے اس سے سوال کیا تھا, اس نے ایک نظر کچھ دور بیٹھیں امی کی طرف دیکھا اور انہیں پکارا
“امی… ” میں اس سے دو قدم دور کھڑی تھی
“کیا واقعی آپ کو لگتا ہے کہ میں نے سنان کو قتل کیا ہو گا ؟” اس نے پہلی بار زبان کھولی تھی, امی یک دم آنکھیں بند کرتے ہوئے سامنے کی کرسی پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیں, فدک چند لمحے خاموش کھڑا رہا اور پھر اپنا بیان دے دیا
“میں پورے ہوش و حواس کے ساتھ قبول کرتا ہوں کہ سنان راۓ کو میں نے ہی قتل کیا ہے” میں دم بخود رہ گئی تھی, امی کی سسکیاں بلند ہو گئیں, جج نے اسے پھانسی کی سزا سنا دی, مجھ میں اسے ہتھکڑی لگانے کی بھی ہمت نہیں تھی, ایس آئی کو اشارہ کرتے ہوئے میں باہر نکل آئی, امی کے رونے کی آواز باہر تک آ رہی تھی, فدک چپ چاپ میرے پاس سے گزر کر چلا گیا
ایک بار پھر میں کچھ نہیں کر سکی, ایک اور کیس معمہ ہی بنا رہ گیا. دو دن بعد اسے لاہور سینٹرل شفٹ کر دیا گیا, اسے وہیں پھانسی ہونی تھی, ایک ہفتے بعد میں دوبارہ امی سے ملنے چلی آئی, ایک بار پھر سے وہ تن تنہا ڈرائینگ روم میں بیٹھیں بے آواز آنسو بہا رہی تھیں, کبھی سنان کی تصویر کو چومنے لگتیں تو کبھی فدک کی تصویر پر ہاتھ پھیرنے لگتیں, میری بس ہو گئی
“امی… اٹھیں, چلیں میرے ساتھ ” میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا, انہوں نے دھیرے سے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا
“یہاں رہیں گی تو رو رو کر پاگل ہو جائیں گی آپ… میرے ساتھ چل کر رہیں” میں نے کہا
“نہیں سبین… وہ شخص کیا کہے گا کہ جب بچے پالنے مشکل لگ رہے تھے تو مجھ سے شادی کر لی اور آج جب بیٹا نہیں رہا تو ہاتھ جھاڑ کر بیٹی کے ساتھ چل دی” انہوں نے کہا
“ہاں تو کہیں اس شخص سے کہ تمہارے بیٹے نے میرا اکلوتا بیٹا قتل کر دیا” میں پھٹ پڑی
“اس کا اکلوتا بیٹا کونسا پھانسی نہیں چڑھا…” انہوں نے کہا
“ایک بات کہوں آپ سے… آپ کو اس شخص سے شادی نہیں کرنی چاہئے تھی ” وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگیں
“امی میں آٹھ سال کی تھی جب اس گھر کو چھوڑ گئی تھی, بالکل اکیلی تھی میں, ایک پھوٹی کوڑی نہیں تھی میرے پاس… لیکن اللہ نے مجھے بے سہارا نہیں چھوڑا, آج میں اے ایس پی سبین رٍاۓ ہوں, آپ تو پھر پچیس سال کی تھیں جب ابو آپ کو تنہا کر گئے, آپ اکیلی بھی نہیں تھیں, میں اور سنان تھے آپ کے پاس, جاب تھی آپ کے پاس, ابو کا چھوڑا ہوا گھر تھا آپ کے پاس… آپ تھوڑی سے ہمت کرتیں تو آج زندگی کچھ اور ہوتی, زیادہ سے زیادہ کیا ہوتا ؟ اتنا بڑا گھر نہیں ہوتا, صبح و شام ڈال روٹی پر گزارا کرنا پڑتا, میں اور سنان کسی گورنمنٹ سکول میں پڑھتے… لیکن سنان آج زندہ ہوتا امی… میں نے اپنے دس سال آپ کے بغیر نہیں گزارے ہوتے اور آپ آج دو بچوں کے باوجود یوں تن تنہا یہاں بیٹھیں رو نہ رہی ہوتیں… ” میں برس ہی پڑی
“تم یہ سب اسلئے کہہ رہی ہو کیونکہ تم ایک ماں نہیں ہو, اولاد عورت کو کمزور کر دیتی ہے” انہوں نے کہا
“نہیں امی… یہ غلط ہے, آپ کمزور نہیں تھیں, آپ ڈر گئیں تھیں, آپ تن تنہا لڑ کر جینے کا فیصلہ نہ کر سکیں بلکہ لڑے بنا چپ چاپ شکست قبول کر لی” میں نے کہا
“ہر ماں ایس ہی کرتی ہے…” وہ اپنی ضد پر قائم تھیں
“اور افسوس کے آپ نے بھی وہی کیا جو ہر بزدل ماں کرتی ہے” میں نے تاسف سے کہا تھا, وہ میرے ساتھ آنے کے لئے نہیں مانیں, میں واپس آ گئی, اس کے بعد دل ہی نہیں کہا اس گھر میں جانے کے لئے… تقریباً دو ہفتے بعد ایک دن وہ خود چلی آئیں, میں دوپہر کا کھانا کھا رہی تھی
“میں اور فدک کے بابا گجرات شفٹ ہو رہے ہیں, سوچا تجھےملتی جاؤں” انہوں نے کہا
“کیوں ؟” میں حیران ہو گئی
“یہ والا گھر بیچ دیا ہے” انہوں نے کہا
“پہلے میرے اور آپ کے بیچ فاصلے بہت کم ہیں نا جو اب گجرات جا رہی ہیں” میں نے گلہ کیا تھا اور ان کے لئے بریانی پلیٹ میں ڈالی
“تجھے ہی راس ہیں یہ باہر کے کھانے… میرے تو حلق سے ہی نیچے نہیں اترتے” انہوں نے پلیٹ واپس میری طرف کھسکا دی
“تو چاۓ پی لیں… ” میں نےکہا
“تو نے پی تھی میرے گھر کی چاۓ ؟” وہ مسکرائیں, میں چپ کر گئی
“جب اتنا کچھ کر لیا ہے تو شادی بھی کر لے” انہوںنے میری دکھتی رگ پکڑ لی
“آجکل کے مرد بہت بزل ہیں امی… بھرا پستول لیکر مجرموں کے پیچھے بھاگنے والیوں سے شادیاں نہیں کرتے” میں نے کہا
“یا شائد بھرا پستول لیکر مجرموں کے پیچھے بھاگنے والیاں انہیں منہ نہیں لگاتیں ” وہ چوٹ کر گئیں تھیں, پھر کچھ دیر بعد واپس چلی گئیں, میں کوشش کے باوجود ایک بار بھی ان سے ملنے گجرات نہ جا سکی, دو ماہ بعد میرا اٹک ٹرانسفر ہو گیا اور اس کے مزید دو سال بعد فیصل آباد… وہاں میری ملاقات ایک امریکن پلٹ آدمی سے ہوئی جس کی ڈی گراؤنڈ کے قریب کافی زمین تھی, اس پر کسی مافیا نے قبضہ کیا ہوا تھا, میں نے اس کی زمین چھڑوانے میں اس کی مدد کی اور اس کے نام کروا دی, وہ اسے بیچ کر اسلام آباد چلا گیا اور وہاں جا کر ایک مشروب کی فیکٹری خرید لی, اس کا نام اسجد خان تھا, چند دن بعد اس نے مجھے پروپوز کر دیا… شادی تو کرنی ہی تھی, سو میں نے اس کا پروپوزل قبول کر لیا, شادی کے چند ماہ بعد ہی مجھے اپنے ادھورے ہونے کی خبر بھی مل گئی, میں جو بظاہر دیکھنے میں ہر لحاظ سے پرفیکٹ تھی… کبھی ماں نہیں بن سکتی تھی
اور وہ اسجد خان آج تک میرے پاؤں کا کانٹا بنا ہوا تھا
…………………
میں ابھی تک راہوالی کے اس محل نما گھر کے آگے کھڑی تھی, لیوش نائٹس کا مالک اپنی انفارمیشن دے کر چپ ہو چکا تھا, معاملہ میری سمجھ سے باہر ہو رہا تھا, سات سال پے سنان مرڈر کیس کے سلسلے میں ہر شخص کا یہ ہی بیان تھا کہ چال چلن فدک کا خراب تھا سنان کا نہیں , طوائفوں اور ناچنے والیوں سے فدک کے تعلقاتِ تھے سنان کے نہیں…
پھر آخر سنان نے کیسے ایک بار ڈانسر سے شادی کر لی ؟
ایک بار پھر سے دال میں کچھ تو کالا ضرور تھا
“سرمد… سات سال پہلے سنان مرڈر کیس کو میں نے ہی شٹ ڈاؤں کیا تھا, پہلا کام یہ کہ فوری طور پر گوجرانوالہ سے اس کیس کی فائل منگواؤ اور دوسرا یہ کہ نصیر حسین اور اس کی بیوی سنان کے قتل اور فدک کی پھانسی کے بعد گجرات چلے گئے تھے, ان دونوں کا پتہ کرواؤ… شائد وہ ابھی تک گجرات میں ہی ہوں” سب ,انسپکٹر سے کہتے ہوئے میں اسلام آباد واپس آ گئی, اجالا کا اغواء تو مجھے اب اپنا وہم ہی لگنے لگا تھا, گتھی الجھتی ہی جا رہی تھی, اگلے ہی دن سنان مرڈر کیس کی فائل میرے سامنے آ گئی
ہر بیان کے مطابق فدک کا برا چال چلن, شرابی, جواری اور گشتی عورتوں سے تعلقات تھے
ہر بیان کے مطابق سنان راۓ کا کیریکٹر بالکل شفاف تھا اور وہ فدک کو بھائیوں کی طرح عزیز رکھتا تھا
میں نے تھک ہار کر فائل بند کر دی
سنان مرڈر کیس… 12 اگست 2014…اس پر موٹا موٹا لکھا ہوا تھا
میں ایک دم چونک گئی, یہ تاریخ میرے لئے نئی نہیں تھی…میں نے جلدی سے اپنے فرسٹ انکوائری آرڈرز نکالے
13 اگست 2014…حشمت چوہدری کی کال مجھے اس سے ایک دن پہلے آئی تھی اور اس کے ٹھیک ایک ہفتے بعد میرا گوجرانوالہ ٹرانسفر ہوگیا تھا, میں نے گوجرانوالہ پولیس ڈپارٹمنٹ کو 22 اگست 2014 کو جوائن کیا تھا, یعنی تب سنان کے قتل کو دس دن ہو چکے تھے
کیا ان دونوں کیسز میں کوئی لنک تھا ؟ سنان کا مرڈر اور اجالا کا اغواء… دونوں ایک ہی دن ہوۓ تھے
تو کیا سنان کو تقی نے قتل کیا ؟ میں ایک دم چونکی تھی
حشمت چوہدری کو تقی نے 12 اگست کو دن دو بجے کے قریب کال کی تھی, یعنی اس سے پہلے وہ اجالا کو اغواء کر چکا تھا, سنان کا قتل 12 اگست کو دن بارہ بجے کے قریب ہوا تھا… میں ایک دم سیدھی ہوئی , منظر آہستہ آہستہ واضح ہوا تو تھا
سنان نے اجالا سے نکاح کیا, تقی نے اسے اغواء کیا اور سنان کو قتل کر کہ اسے لاہور لے گیا
یعنی ثمن, سنان اور اجالا کی بیٹی تھی
بس اتنی سی کہانی تھی… اور بیچارہ فدک مفت میں پھانسی چڑھ گیا
میں نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے ایک لمبی سانس بھری تھی
لیکن پہلا سوال وہیں کا وہیں کھڑا تھا… اجالا کو کس نے قتل کیا ؟
روز بروز میرے اوپر ڈی آئی جی کا پریشر بڑھتا ہی جا رہا تھا, مرسلین مہرا کا ان پر فل دباؤ تھا, دو دن بعد سرمد نے نصیر حسین اور اس کی بیوی کے ٹھکانے کا پتہ کر لیا, وہ دونوں ابھی تک گجرات میں ہی تھے, میں اگلے ہی دن شام کو گجرات چلی آئی…
سنان کے قتل اور فدک کی پھانسی کے پورے سات سال بعد…!
وہ گھر بمشکل دو مرلے کا بھی نہیں تھا, انتہائی خستہ حال دیواریں اور لکڑی کا ٹوٹا پھوٹا دروازہ… وہ شخص جو پچاس سال پیسے کی ریل پیل میں رہا, اب مفلوج ہو کر ایک چارپائی پر پڑا تھا… کھانستا ہوا, خون اگلتا ہوا… اور میری ماں…!
میری انتہائی صابر ماں بس دن رات اسے صاف کرنے میں لگی رہتی تھی, نہ جانے وہ دونوں کھانا کہاں سے کھاتے تھے, نہ جانے وہ راتوں کو سوتے کس طرح تھے, نہ جانے اس قدر بیمار شخص کی دوائیں کہاں سے آتی تھیں… ؟
“امی… ” میں اس گھر کے فرش پر گھٹنوں کے بل گری بلک بلک کر رو دی تھی, انہوں نے بہت محبت سے میرے آنسو صاف کرتے ہوئے مجھے گلے سے لگایا تھا
“میں نے آپ کو کتنا زور لگایا تھا کہ میرے ساتھ چلیں ” میں روۓ جا رہی تھی
“مجھے پچاس سال اس عیش و عشرت میں رکھنے والا بھی وہی ایک اللہ تھا سبین… اور اب اس کسمپرسی میں رکھنے والا بھی وہی پروردگار ہے, اسکی مرضی, جس حال میں بھی رکھے” انہوں نے کہا
“لیکن آزمائشیں ختم کرنے والی بھی تو اسی کی ذات ہے نا… اور آپ اس بات پر ایمان لے آئیں کہ آپ کی آزمائش اب ختم ہو چکی ہے” میں نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
“چلیں… ابھی اسی وقت میرے ساتھ چلیں ” میں بضد تھی
“اور جاتے جاتے اسے کونسا زہر دیکر جاؤں ؟” انہوں نے نصیر حسین کی طرف اشارہ کیا تھا
“امی کیا ہو گیا ہے آپ کو… میں آپ دونوں کو لیکر جاؤں گی, بس آپ جلدی اپنا سامان باندھیں ” میں نے کہا
“کہاں لیکر جاۓ گی ؟” انہوں نے پوچھا
“اپنے گھر… ” میں نے کہا
“اور تیرا شوہر… ؟” انہیں یقین تھا کہ میں نے شادی کر لی ہو گی
“امی اسے میرے کسی فعل سے کوئی سروکار نہیں ہے… آپ بس چلیں میرے ساتھ ” میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا
“ویسے تو اتنے سال بعد کس کام سے آئی تھی ؟” انہوں نے پوچھا , آخر کو وہ میری ماں تھیں
“امی…میرے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیں کہ جو کہیں گی بالکل سچ کہیں گی” میں نے کہا
“میں بس وہ کہوں گی سبین جو مجھے پتہ ہے” انہوں نے کہا
“سنان کا کسی لڑکی سے نکاح بھی ہوا تھا ؟” میں نے پوچھ ہی لیا, ایک لمحے کے لیے وہ بالکل خاموش رہ گئیں
“امی پلیز آپ جو کچھ جانتی ہیں مجھے کھل کر بتا دیں, ایک بے گناہ کا قتل ہوا ہے اور ایک پانچ سالہ بچی کی جان داؤ پر لگی ہے” میں نے کہا
“ہاں اس نے لاہور کی ایک لڑکی سے نکاح کیا تھا ” امی نے کہا
“کیا نام تھا اس کا؟” میں نے پوچھا
“اجالا… جب تک میں اسے اپنے پروں کے نیچے چھپا کر رکھ سکتی تھی… تب تک رکھا, لیکن جب اس کے اپنے پر نکل آۓ تو اونچی اونچی اڑانیں بھرنے لگا, اور نہ جانے کب ایک لمبی اڑان بھر کر لاہور جا پہنچا, وہ ایک کلب ڈانسر تھی, سنان کو پسند آ گئی, وہ اس سے شادی کرنے پر بضد تھا لیکن میں جانتی تھی کہ اس کے ایسا کرنے سے ایک طوفان آ جاۓ گا, نصیر ایک بار ڈانسر کو کسی صورت اس گھر میں آنے کی اجازت نہیں دیں گے اور… ایسا ہی ہوا, ایک طوفان آ گیا جو میرے دونوں بچوں کو نگل گیا ” امی کہتی چلی گئیں
“لیکن امی آپ کے شوہر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ فدک کا چال چلن انتہائی خراب تھا, وہ شرابی اور جواری تھا اور طوائفوں اور ڈانسرز سے ملا کرتا تھا…پھر ایک دم سنان کیسے بیچ میں آ گیا ؟” میں حیران تھی
“سبین ایک بات میں پورے وثوق سے قسم کھا کر کہہ سکتی ہوں اور وہ یہ کہ چال چلن میرے کسی بھی بیٹے کا برا نہیں تھا… نہ سنان کا, نہ فدک کا… سنان اس لڑکی کے پیچھے اس کلب میں گیا ضرور تھا لیکن اس کی انگلیوں میں انگوٹھی ڈال کر واپس آ گیا, اس کے بعد ہزاروں بار گیا… لیکن صرف اس کی منتیں کرنے, اس کے ساتھ راتیں رنگین کرنے نہیں” امی نے کہا
“اور فدک…اس نے تو کبھی مجھ سے نظر اٹھا کر بات نہیں کی تو طوائفوں اور ڈانسروں سے کیسے کر لیتا… ؟ جو لڑکا گرم گرم چاولوں سے اٹھنے والی بھاپ اور پیپسی کا گھونٹ لیکر الٹی کر دیتا تھا وہ آخر سگریٹ اور شراب کے نزدیک کیسے جا سکتا تھا ؟ وہ سنان کے ہر راز سے واقف تھا, ہر بار اس کے لاہور جانے کا گناہ وہ اپنے سر لے لیتا تھا, ہر بار اپنے باپ کے اٹھے ہوئے ہاتھ کے آگے اپنا گال کر دیتا تھا, ہر بار سنان کے حصے کی مار خود کھا لیتا تھا, وہ لڑکی شائد سنان سے شادی کے لئے راضی نہیں تھی, لیکن نہ جانے کیسے اسے بھی فدک نے ہی منایا… گھر میں ایک کہرام مچ گیا, نصیر حسین تو سنان کی بات سن کر ہی بھڑک گئے, ان کا غضب دیکھ کر فدک نے ایک بار پھر خود کو سنان کے آگے کھڑا کر دیا, کہنے لگاکہ یہ سنان کی نہیں میری خواہش ہے, نصیر نے اسے اسقدر مارا کہ ڈرائنگ روم کا فرش اس کے خون سے رنگین ہو گیا” وہ کھل کر بول رہی تھیں
“لیکن سنان اپنی ضد پر قائم رہا… بس ایک شام اس نے مجھے اپنا آخری فیصلہ سنایا اور اس لڑکی کو گوجرانوالہ لا کر اس سے نکاح کر لیا” امی نے کہا
“کس تاریخ کو نکاح کیا تھا اس نے ؟” میں نے پوچھا
“12 اگست 2014…” امی نے میرے سر پر بم پھوڑا تھا
“12 اگست کو تو سنان کا مرڈر ہوا تھا ؟” میں حیرانی کی ساتویں منزل پر تھی
“ہاں… نکاح کے بعد جب وہ اسے لاہور واپس لیکر جا رہا تھا تو اس کا قتل ہو گیا” امی دھماکے پر دھماکہ کر رہی تھیں
“تقریباً کتنے بجے نکاح ہوا تھا ان دونوں کا ؟” میں نے پوچھا
“پتہ نہیں…لیکن جب وہ اسے مجھ سے ملانے لایا تو دن کے گیارہ بج رہے تھے ” امی نے کہا
“یہ تھی وہ لڑکی ؟” میں نے اجالا کی تصویر ان کے سامنے رکھتے ہوئے پوچھا
“ہاں… یہ ہی تھی ” انہوں نے کہا
“سنان کے قتل کے بعد یہ آپ کے پاس آئی ؟” میں نے پوچھا
“نہیں… ایک بار بھی نہیں, وہ تو سنان کی لاش تک دیکھنے نہیں آئی… یا پھر شائد وہ خود ہی اسے لاش بنانے میں ملوث تھی” امی نے کہا
“اسی کا قتل ہوا ہے امی… چند روز پہلے, اسلام آباد میں” میں نے کہا, وہ بس میری طرف دیکھ کر رہ گئیں
“اس کے علاوہ اور کیا جانتی ہیں آپ ؟” میں نے پوچھا
“کچھ نہیں… ” وہ بولیں, میں ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے ان دونوں کو اپنے ساتھ اسلام آباد لے آئی, نہ جانے اسجد کب جوش میں آ کر مجھے طلاق دے دیتا… اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے اپنے لئے ایک چھوٹا سا گھر خرید رکھا تھا, میں ان دونوں کو وہیں لے آئی, نصیر حسین کو ہسپتال میں داخل کروایا اور اس کا مکمل چیک اپ کروایا… امی ضد کر کے اس کے پاس ہی رکی رہیں
اور میں… مجھے لگ رہا تھا کہ میرے پاگل ہونے میں بس تھوڑے ہی دن باقی تھے, میں نے اسی دن گوجرانوالہ سے سنان اور اجالا کا نکاح نامہ نکلوایا… ان کا نکاح 12 اگست کو دن ساڑھے دس بجے ہوا تھا, اس کے بعد وہ اسے امی سے ملوانے لے آیا, بقول امی کے وہ دونوں ان کے پاس بمشکل آدھا گھنٹہ رکے اور اس کے بعد سنان اسے لیکر لاہور کے لئے نکل کھڑا ہوا, جس جگہ سنان کا قتل ہوا وہ گوجرانوالہ شہر سے تقریباً دس کلو میٹر کے فاصلے پر تھی, انہیں وہاں پہنچنے میں پندرہ سے بیس منٹ لگے اور ٹھیک بارہ بجے سنان کا قتل ہو گیا
پہلا سوال… قتل کس نے کیا ؟ شائد تقی نور نے
دوسرا سوال… قتل کے بعد اجالا کہاں غائب ہو گئی ؟ شائد اسے تقی نور حشمت چوہدری کی بیٹی سمجھ کر اغواء کر کہ لے گیا
“تیسرا سوال… پولیس کو آخر فدک جاۓ واردات پر کیسے مل گیا ؟ سنان اور اجالا دونوں لاہور واپس جا رہے تھے یعنی وہاں ان کے رہنے کا کوئی نہ کوئی بندوبست تو ضرور تھا… اور وہ بندوبست یقیناً فدک نے کیا تھا, کیونکہ سنان کے نکاح کے وقت وہ گوجرانوالہ میں نہیں تھا… وہ گواہوں میں بھی شامل نہیں تھا, وہ گھر پر بھی نہیں تھا… وہ یقیناً لاہور میں تھا, پھر آخر وہ سنان کے قتل میں کیسے کود پڑا ؟
“چوتھا سوال… ساڑھے دس بجے سنان کا نکاح اور بارہ بجے اس کا قتل… پھر آخر ثمن اس دنیا میں کیسے آ گئی ؟
کیا یہ ممکن تھا کہ سنان اور اجالا نکاح سے پہلے ہی محبت کے کسی انتہائی کمزور لمحے میں ایک دوسرے کے بے حد قریب آ گئے ہوں ؟ لیکن بقول امی کے سنان اس سے شادی کرنے پر بضد تھا… یعنی وہ اپنی محبت کو معتبر کرنا چاہتا تھا, ویسے بھی جو لڑکے شادی سے پہلے ہی قربتوں کے نشے چکھنے کے عادی ہو جائیں ان کے لئے پھر نکاح جیسے بندھن کوئی اہمیت نہیں رکھتے
تو کیا ثمن, سنان کی بیٹی نہیں ہے ؟؟؟
کیا تقی نور نے اجالا کے ساتھ کچھ برا کیا… ؟ لیکن یہ بھی ممکن نہیں تھا, وہ اس کے لئے حشمت چوہدری کی بیٹی تھی جس کے بدلے اسے پچاس کروڑ ملنے تھے اور غنڈوں نے جس کے بدلے تاوان لینا ہو اسے زقند نہیں پہنچاتے… اور تقی نور کو کیا لڑکیوں کی کمی تھی, اسے اپنی پیاس ایک اغواء شدہ لڑکی سے ہی بجھانی تھی
سوچ سوچ کر میرا دماغ پھٹنے والا ہو گیا تھا
سچ کیا تھا یہ صرف دو لوگ بتا سکتے تھے
فدک یا اجالا… اور دونوں ہی اس دنیا میں نہیں تھے
ڈی آئی جی نے میری ناک میں دم کر رکھا تھا, میڈیا میری نا اہلی کے پرخچے اڑاۓ جا رہا تھا, اور میں بے بس ہوۓ جا رہی تھی
جاری ہے