NaKamil By Ayesha Zulfiqar Readelle50165 Last Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode 11
ناکامل
عائشہ ذوالفقار
آخری قسط
“مجھے بس اس شخص سے بدلہ لینا ہے سبین… اس کے بعد تم بخوشی مجھے ہتھکڑی لگا سکتی ہو… چاہے تو پھانسی پر لٹکا دینا” فدک نے پاس پڑا سریا اٹھایا تھا
“وہیں رک جاؤ… ” میں نے ریوالور کا رخ فدک کی طرف کر دیا, میرے موبائل کا ریکارڈر آن تھا
“اجالا کو کیوں قتل کیا ؟” میں نے اسجد سے پوچھا
“سبین میں نے کسی کو قتل نہیں کیا… یہ جھوٹ بول رہا ہے” اسجد ابھی بھی انکاری تھا
“تمہارے یا اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اجالا کو میں نے قتل کیا ہے” اس نے کہا
“مجھے اجالا کے قتل سے کوئی سروکار نہیں ہے… تم نے سنان کو گولی ماری… بس یہ ہی کافی ہے” فدک نے دو قدم آگے کو اٹھاۓ تھے
“تمہارے پاس اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے… ” اسجد نے کہا
“اسجد… میری بات سنو, مجھے اپنے دس کروڑ بڑے پیارے ہیں, بالکل ویسے جیسے تمہیں اپنی جان اور آزادی پیاری ہے, تمہارے پاس صرف دو منٹ ہیں, مجھے بتاؤ کہ اجالا کو کیوں قتل کیا اور چلے جاؤ… “میں کہتی چلی گئی
“یہ تم کیا کر رہی ہو سبین… میں نے بڑی مشکلوں سے ڈھونڈا ہے اسے” فدک میری طرف مڑا
“مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم نے ماضی میں کس کو قتل کیا… اور کس کو دھوکہ دیا, مجھے صرف اس وقت اپنی ریپوٹیشن عزیز ہے, مجھے اس وقت صرف اجالا مہرا کے قاتل کو گرفتار کرنا ہے اور وہ مجھے مل گیا ہے, میں بڑی آسانی سے اجالا کا قتل اس کے سر تھوپ سکتی ہوں… لیکن مجھے صرف یہ بتا دو کہ سچ کیا ہے ؟” میں اسجد کو پھانستی جا رہی تھی
“سبین میری بات سنو… یہ تمہارے بھائی کا قاتل ہے… سنان کا قاتل… بس مجھے اسے ختم کر لینے دو پھر بھلے ہی پھانسی لگا دینا ” فدک پگھلا جا رہا تھا
“کہو اسجد… تمہارے پاس ایک موقع ہے اپنی جان بچانے کا, صرف سچ… اور پھر چلے جانا” میں نے اپنا ریوالور فدک کے ماتھے سے لگا دیا تھا
“وعدہ کرو کہ مجھے جانے دو گی ؟” اسجد نے کہا
“وعدہ… ” میں نے کہا اور وہ ایک ایک کر کہ سب بتاتا چلا گیا, سنان کے قتل سے لیکر اجالا کے قتل تک
“جاؤ… ” میں نے اسے اشارہ کیا تھا, وہ فوراً اٹھ کھڑا ہوا
“سبین… وہ میرا دوست تھا, میں اس سے… میں اس سے محبت کرتا تھا, تم نے بھی تو کی ہے نا محبت… تمہیں بھی تو پتہ ہے نا کہ محبت میں چوٹ لگے تو کیسا لگتا ہے ؟” فدک کی جان نکل رہی تھی, اسجد باہر کی طرف جا رہا تھا, میں نے اچانک اپنا ریوالور ہتھیلی پر رکھتے ہوۓ اس کی طرف بڑھا دیا
“ہاں مجھے پتہ ہے محبت میں چوٹ لگے تو کیسا لگتا ہے” میں دھیرے سے بولی تھی, اسجد کا بیان ریکارڈ ہو چکا تھا, فدک نے میری ہتھیلی پر سے ریوالور اٹھایا اور پورا میگزین اسجد کی پشت پر خالی کر دیا
سنان کا بدلہ لے لیا…
“چلو… ” میں فیکٹری کے کاغذات اٹھا کر باہر نکل آئی, اسجد کی خون میں لت پت لاش وہیں پڑی رہ گئی, فدک میرے پیچھے ہی باہر آیا تھا
“بیٹھو… ” میں نے اسے کہتے ہوئے جیپ سٹارٹ کی تھی, وہ چپ چاپ بیٹھ گیا, میں اسے لیکر سیدھی امی کے گھر آ گئی
“جاؤ… یہ تمہارے ماں باپ کا گھر ہے, یہ لے لو… اسے بیچ کر کوئی کام شروع کر لینا” میں نے فیکٹری کے کاغذات اس کی طرف بڑھا دئے تھے
“گرفتار کرنا ہے تو کر لو” اس نے کہا
“جاؤ… ” میں ایک نظر اس کی طرف دیکھتے ہوئے گھر واپس آ گئی تھی
………………
“اے ایس پی سبین راۓ کی ایک اور جیت… اجالا مہرا کا قاتل پکڑا گیا” اگلی صبح کی بریکنگ نیوز یہ تھی
میں نے اسجد کا ریکارڈڈ بیان عدالت میں پیش کر دیا تھا, مرسلین کی عزت اور وقار پوری طرح بچاتے ہوئے سارا ملبہ اپنے اوپر گرا لیا تھا
“میڈم… کیا آپ جانتی تھیں کہ آپ کےشوہر آپ کی ناک کے نیچے اتنا گھناؤنا کھیل کھیل رہے تھے ؟”
“میڈم… آخر آپ کو اتنے سالوں میں کبھی ان پر شک کیوں نہیں ہوا ؟”
“کیا آپ بھی ان کے ساتھ ملوث تھیں ؟”
“کیا آپ ان کی پشت پناہی کر رہی تھیں ؟”
میڈیا نے سوالات کر کر کہ میری عزت کا فالودہ کر دیا, بڑی مشکل سے میں وہاں سے بچ بچا کر نکلی تھی, اسجد کی کیس فائل میں یہ ہی لکھا تھا کہ اس نے بھاگنے کی کوشش کی اور اس کا اینکاؤنٹر کر دیا گیا
“گرفتار کرنا ہے تو کر لے ؟” اس رات تقی کی کال آئی تھی
“دیکھ لو… پھانسی لگا دوں گی ” میں نے کہا
“لگا دے… ” وہ ہنسا تھا
“ایسے نہیں… تمہارا بازو چیر کر ہتھکڑی لگاؤں گی تمہیں” میں نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی تھی
میرے پاس ابھی آگے کئی سال تھے اسے پکڑنے کے لئے… کبھی نہ کبھی وہ میرے دانت کے نیچے آ ہی جانا تھا
……………………….
اجالا مہرا قتل کیس شٹ ڈاؤن ہو چکا تھا, وہ مارچ کی ایک خوشگوار شام تھی جب میں پولیس سٹیشن سے باہر نکلی… مرسلین اپنی گاڑی سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا
“تم سے بات کرنی ہے” وہ آگے کو آیا
“مجھے نہیں کرنی” میں اس کے پاس سے گزر گئی تھی
اس کے بعد بار بار آیا… کالز بھی کرتا رہا
نہ جانے اب کیا راگ سنانا تھا اسے
“بس ایک بار بات سن لو… ” یہ ہی کہتا رہتا تھا
“ہاں سناؤ… ” میں آخر تنگ آ گئی
“معاف کر دو… ” بولا بھی تو کیا
“کر دیا… ” میں نے کہا, وہ بس مجھے دیکھ کر رہ گیا
“قسم کھا کر کہتا ہوں محبت تمہیں سے کی تھی… آج بھی تمہیں سے کرتا ہوں, آگے بھی تمہیں سے کرتا رہوں گا” اس نے کہا
“تو پھر دغا کیوں کیا ؟ محبت کی تو نبھائی کیوں نہیں ؟ محبت کی تو بے وفا کیوں بن گئے ؟” مجھے اپنا دھتکارا جانا آج بھی یاد تھا
“کیونکہ میں شائد بزدل نکلا… میں ڈر گیا” اس نے کہا
“کس سے ؟” میری آواز اونچی ہو گئی
“دنیا سے… ” اس کا لحجہ دھیما ہو گیا
“تم ٹھیک کہتی ہو… مجھے اپنی عزت, شہرت, مرتبہ اور وقار زیادہ پیارے ہو گئے تھے, محبت ایک دم سے کہیں پس پشت ہی چلی گئی ” اس نے کہا
“نکاح سے ایک رات پہلے میرے گردے میں شدید درد اٹھا… ناقابل برداشت, رپورٹس کروائیں تو پتھری کے ساتھ ایک نیا انکشاف بھی ہوا… جان لیوا…میں باقیوں کی طرح نہیں تھا سبین, میں تو انجانے میں ہی تم سے محبت کر لی… وہ تو میرا حق ہی نہیں تھا, مجھے تم سے محبت کرنی ہی نہیں چاہیے تھی…” وہ کہتا جا رہا تھا
“میں اس قابل ہی نہیں تھا کہ کسی سے محبت کر پاتا…مجھے اختیار ہی نہیں تھا اپنی محبت میں ڈوبی کسی دلربا کو گلے لگانے کا, اس کی خوشبو سونگھنے کا, اس کے ہونٹ چومنے کا… تم بھی تو انسان تھیں ناں سبین, فرشتہ تو نہیں تھیں کہ تمہیں شادی کے بعد مجھ سے کچھ چاہیے ہی نہ ہوتا, تم پاس آتیں اور میں دھتکار دیتا, تم خواہش کرتیں اور میں پوری نہ کر پاتا… کیا ہوتا پھر…؟ تم آخر کیوں رہتیں ایک ایسے شخص کے ساتھ جو پورے حق سے تمہیں گلے بھی نہیں لگا سکتا تھا, چھوڑ ہی جاتیں ایک دن… سب کو پتہ چل جاتا کہ مرسلین مہرا کتنا ناکارہ انسان ہے… ادھورا, شکستہ… ناکامل” اس کا سر جھکتا جا رہا تھا
“تم نے صرف بے وفائی ہی نہیں کی مرسل… تم نے اعتبار بھی نہیں کیا, ایک بار مجھے بتاتے تو سہی ؟ ایک بار کہتے تو سہی کہ صرف ماتھا چوم سکوں گا, صرف کندھے سے لگا سکوں گا, صرف محبت سے دیکھ سکوں گا… اور کچھ نہیں کر سکوں گا” میں نے کہا
“کہا نا… ڈر گیا تھا ” وہ بولا
“میں تو نہیں ڈری مرسل… چار سال جس شخص کے ساتھ گزارے اسے ایک مجرم کی حیثیت سے دنیا کے سامنے لاتے ہوئے میں تو نہیں ڈری, لوگوں نے انگلیاں بھی اٹھائیں, آوازیں بھی کسیں, طعنے بھی دئے لیکن… میں تو نہیں ڈری, رسوائی کا کیا ہے ؟ انسانوں کی ہی ہوتی ہے, ابن آدم ہو کر بھی دامن پر داغ نہ لگیں تو ابن آدم ہی کیوں کہلائیں… ؟ میں کبھی ماں نہیں بن سکتی… کسی سے نہیں چھپا یا, سب کو بتایا, میں تو نہیں ڈری, کیا ہوا جو ہم مکمل نہیں ہیں, کیا ہوا جو ہماری ذات میں کوئی نہ کوئی خامی ہے… فرشتے تھوڑی نا ہیں… انسان ہیں نا… اسی لئے ناکامل ہیں” میں کہتی جا رہی تھی, وہ بس چپ چاپ سنتا جا رہا تھا
ختم شد
…………………….
